قومی و بین الاقوامی ایشوز

کراچی میں امن کی بحالی

یہ 2009 اور2010 کی بات ہے جب ہم آٹھ بجے کے بعد گھر میں بیٹھے ٹی وی دیکھتے ہوئے سنا کرتے تھے کہ فلاں علاقے میں اتنے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کر دی گئی یا پھر لیاری میں بھتہ نہ دینے کے جرم میں فلاں دکاندار کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ کبھی خبر آتی کہ کسی کو شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کر دیا گیا ہے تواسی دوران کہیں سے 146146 نو گو ایریا 145145  کے نام پر ریاست کے اندر ریاست چلائے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوجاتیں۔ ان دنوں اورنگی ٹاؤن میں بیٹھا سیاسی پشت پناہی والا کوئی بدمعاش ہو یا کٹی پہاڑی میں طالبان کے بھیس میں دھونس جمانے والا غنڈہ، لیاری میں دس دس سال کے معصوم ہاتھوں میں قلم کے بجائے اسلحہ تھما دینے والا ڈان ہو یا سیکڑوں لوگوں کو قتل کر کے مزے سے پھرنے والا کوئی ٹارگٹ کلر، بے چارہ کراچی سب کے ہاتھوں یرغمال بن چکا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے بے بس ہوگئے تھے یا پھر مؤثر قانون سازی نہ ہونے کی بناء پر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں کھلونا بن چکے تھے ۔

اس سارے عرصے میں کراچی کی عوام کی مثال پنجرے میں بیٹھی ان مرغیوں کی مانند تھی جوبتدریج قصائی کے ہاتھوں ذبح ہوتی جارہی تھیں۔ دن کے اختتام پر ہر شخص کے ذہن میں یہی بات گردش کر رہی ہوتی کہ  146146 چلو آج پھر زندہ گھر لوٹ آئے 145145 ۔ لیکن اگر بدقسمتی سے موبائل میں چارجنگ ختم ہوجاتی اور کسی صورت گھر والوں سے رابطہ ممکن نہ رہتا تو پیچھے صف ماتم بچھ جاتی، مائیں رونا دھونا شروع کردیتیں، باپ بھائی اسپتالوں میں تلاش شروع کردیتے ، بار بار نیوز چینل دیکھے جاتے کہ کہیں ان کا پیارا کسی ایسے علاقے میں تو نہیں پھنس گیا جہاں سے واپسی کے امکانات افریقہ کے جنگلوں سے واپسی کے برابر بھی نہیں، یا پھر ریاست کے اندر موجود ایسی جنگ زدہ ریاست کی بھینٹ تو نہیں چڑھ گیا جہاں گولی سے لے کر گولے تک سے فانی انسانوں کو فانی دنیا سے نجات دلانے کی مشق جاری ہو۔

غرض کراچی کی مثال ان انگریزی فلموں کی سی ہوگئی تھی جہاں خون پینے والے سیکڑوں ڈریکولا ہلہ بول چکے تھے ، جو ہر رات انسانوں کی بستیوں میں اتر کر لوگوں کا خون چوستے اور صبح سویرے واپس اپنے ٹھکانوں پر لوٹ جاتے ۔ ہر رات کراچی کی سڑکیں لاشوں کا خراج دیتیں، کوئی ریڑھی والا صبح سویرے پھل فروخت کرنے نکلتا تو شام تک اپنے بچوں کو یتیمی کا تحفہ دے جاتا، کہیں کوئی فیکٹری میں کام کرنے والا تھکا ماندہ مزدور گھر پہنچتا تو بڑھاپے کا آخری سہارا چھن جانے کا غم بے چارے کا منتظر ہوتا۔ لیکن قانون قدرت ہے کہ

ظلم پھر ظلم ہے ، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

ظلم کی رات چاہے جتنی طویل ہو جائے بالآخر سورج طلوع ہونے پراس کا اختتام لازم ہے ۔ جس طرح ڈریکولائی فلموں میں جب خون ناحق اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو کسی مددگار کی آمد ہوجاتی ہے جو اس شہر کے لوگوں کو ان خون آشام بلاؤں سے چھٹکارا دلاتا ہے ، ٹھیک ویسے ہی جب کراچی میں ظلم و سفاکیت پر مبنی رات طویل ہوئی تو 5 ستمبر 2013 میں رینجرز کو اختیارات سونپ دئیے گئے اور کراچی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔ ملزمان جن جن صفوں میں موجود تھے‘ اس سے کراچی کے عوام میں سخت مایوسی کی فضا پھیلی ہوئی تھی، لہٰذا شروعات میں شہر قائد کے رہائشیوں کو یہی لگا کہ آپریشن شاید ایک آدھ دن میں ہی ختم ہوجائے،مگر پھر اس وقت کے ڈی جی رینجرز کی کراچی آپریشن میں دلچسپی اور خلوص نے رینجرز کے جوانوں کو فسادیوں کے لئے گناہوں سے بھری زندگی کا آخری بھیانک خواب بنادیا۔

آپریشن شروع ہونے کے چند ہی دنوں بعد نہ صرف 146146 نوگوایریاز145145  بلکہ انگریزی گنتی پر مشتمل نام والے 146146 علاقے 145145 سے بھی چیخ و پکار سنائی دی جانے لگی۔ لیکن اللہ کے فضل و کرم سے جنرل رضوان اختر اور موجودہ ڈی جی رینجرز جنرل بلال اکبر کی ہمت میں رتی برابر فرق نہ آیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 4730 چھاپوں میں 8300 سے زائد مجرمان گرفتار کئے گئے جن میں 207 ٹارگٹ کلرز، 246 بھتہ خور اور 35 اغواہ کار بھی شامل ہیں۔ جبکہ 39 کے قریب اغواہ شدگان کو بازیاب کرایا گیا۔ اسی آپریشن میں 6000 سے زائد ہتھیار قبضے میں لئے گئے اور ڈیڑھ سو سے زائد انکاؤنٹرز (Encounters) میں تقریبا 250 کے قریب دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ بھی اتارا گیا۔ لیکن چونکہ قانون قدرت ہے کہ ہر چیز کی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے لہٰذا اسی قانون کے تحت رینجرز کے 20 بہادر سپوتوں نے کراچی کے صدقے اپنا لہو پیش کیا جبکہ 60 اہلکار زخمی بھی ہوئے ۔

منگھوپیرا ور سلطان آباد میں بیٹھے ٹی ٹی پی کے کارندے ہوں یا لیاری میں ڈیرہ جمائے گینگ وار لارڈز، بلدیہ اور لیاقت آباد میں بیٹھے بھتہ خور ہوں یا پھر اورنگی‘ کورنگی میں انسانی خون بہاتے ٹارگٹ کلرز رینجرز کے جانب سے شروع کئے گئے کراچی آپریشن کے بعد ان تمام کی صفوں میں کہرام مچ گیا، پھر آسمان نے یہ منظر بھی دیکھا کہ جو درندے شام ہوتے ہی ابن آدم کی جان اور عزت سے کھیلنے میں مصروف ہوجاتے ، اب اپنی جان بچانے کے لئے بھاگتے پھر رہے تھے اور اب ان جرائم پیشہ افراد کا یہ حال ہے کہ ان کی پشت پناہی کرنے والے ان کو پہچاننے سے انکار کر رہے ہیں۔ کراچی کے عوام سندھ رینجرز کے نہ صرف تمام افسران بلکہ اِس آپریشن میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے رینجرز کے اُن بہادر جوانوں کو بھی ہرگز نہ بھول پائیں گے جنھوں نے اپنی شہادتوں کے بدلے کراچی کی عوام پر سے ظلم واستبداد سے نجات دلائی۔

کراچی آپریشن ہو یا آپریشن ضرب عضب، دونوں کے نام تو بلاشبہ الگ ہوسکتے ہیں لیکن ان کی اہمیت قطعاً مختلف نہیں۔ اگر ایک طرف آرمی کے نوجوان اپنے لہو سے نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں تو دوسری جانب آستین کے سانپوں کے خلاف رینجرز کے جوانوں کی قربانیاں بھی ایک لازوال داستان کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح قوم نے پاکستان آرمی کو وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں سپورٹ کیا، ٹھیک ویسے ہی کراچی کی گلیوں میں کراچی کی سلامتی اور پاکستان کی بقا کی جنگ لڑنے والے رینجرز کے جوان بھی سپورٹ اورتعاون کے منتظر ہیں۔

پاکستان رینجرز کی شہر قائد کے لئے دی گئی قربانیوں کے بعد ہم بجا طور پر امید کر سکتے ہیں کہ انشاء اللہ کراچی پھر سے روشنیوں کا شہر بنے گا، یہاں پھر سے بھائی چارے اور محبت کا بول بالا ہوگا، اور کراچی سے ، جسے منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے ، لسانیت اور دہشت گردی کا ناسور ختم ہوگا اور یہ ایک بار پھر ٹھیک ویسا ہی کراچی بنے گا جس نے کبھی کسی کا نام، مذہب یا قومیت دیکھ کر پرے نہیں دھکیلا بلکہ ہر ایک کو ماں کی طرح نرم آغوش میں بسا لیا۔

[email protected]
اپنے وطن کی اس جبیں پہ چاند تارے سجائے رکھنا

عظیم پرچم کے رنگ اپنی نظر میں تم بسائے رکھنا

یہ اُمید کا علَم ہے اسے سینے سے لگائے رکھنا

نظر میں کھٹکے ہے دشمنوں کی‘ قیام اس کا‘ دوام اس کا

تم اُن کی میلی نگاہ کو ہر دم ضربِ کاری لگائے رکھنا

ہے دشمن کی یہ تمنا مٹادے اُمید اس وطن سے

ہزار طوفاں چلیں مگر تم رجا کی شمعیں جلائے رکھنا

اﷲ کی ہے امانت اور تم ہو امین اس کے

ہوشیار رہنا‘ تیار رہنا اور عدو کے شر سے بچائے رکھنا

ہم ایک ملت ہیں‘ ایسی ملت کہ جس کی ہیبت سے ڈرے دشمن

اپنے وطن کی اس جبیں پہ چاند تارے سجائے رکھنا

ہے سبز گنبد کا عکس پرچم میں‘ رب کی نصرت نصیب اپنا

قریب تر ہے اب اپنی منزل نگاہ یوں ہی جمائے رکھنا

احمد نواز

[email protected]

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP