قومی و بین الاقوامی ایشوز

کراچی ائر پورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے اصل محرکات

آٹھ جون رات 12بجے اطلاع ملی کہ کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے پیش نظر حملہ کر دیا ہے۔ حملہ آوروں نے ٹھیک اسی طرح سے حملہ کیا تھا جس طرح مہران بیس پر حملہ ہوا تھا۔ کراچی پھر سے جل رہا تھا اور پاکستان پھر سے جگ ہنسائی کا باعث بنا ہوا تھا اور پھر جب ٹی وی آن کیا تو یہ دیکھ کر اور بھی خون کھولنے لگا کہ ’’میڈیا‘‘ حسبِ معمول لائیو کوریج دے رہا تھا۔ ٹھیک اسی طرح کا رول ادا کررہا تھا جیسا رول اس نے ’’مہران بیس اٹیک‘‘ پر سرانجام دیا تھا‘ نجانے یہ عوام کو آگاہ رکھنے کی کوشش تھی یادہشت گرد سیکورٹی فورسز کی نقل و حرکت سے مستفید ہو رہے تھے بریکنگ نیوز کی دوڑ میں ایک سے بڑھ کر ایک کارکردگیاں دکھائی جارہی تھیں۔ اب بات کرتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟ اگر بات بھارتی اسلحہ کی ہے تو یہ یاد رکھیں کراچی میں بھارتی‘ جرمن‘ امریکی اور روس کا اسلحہ باآسانی دستیاب ہے اور اس وقت درجنوں ممالک کی بدنامِ زمانہ خفیہ ایجنسیاں کراچی پر اپنی گندی نظریں جمائے بیٹھی ہیں جن سے آئی ایس آئی کے جواں اﷲ کے حکم سے برسرِ پیکار ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے منظم طریقے سے حملہ آوروں نے حملہ کیسے کر لیا۔ وہ بھی اتنی سخت سکیورٹی میں جبکہ ریڈ الرٹس بھی جاری ہو چکے ہوں۔ سکیورٹی کی یہ صورت حال ہے کہ بین الاقوامی ائرپورٹ پر دس لوگ پوری طرح اسلحے سے لیس ہو کر حملہ کردیتے ہیں جسے اے ایس ایف کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر روکتے ہیں اور اور موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کرجاتے ہیں مگر ان دہشت گردوں کو ان کے مطلوبہ ٹارگٹ تک نہیں پہنچنے دیتے جس پر ان دہشت گردوں کو مایوسی ہوتی ہے اور وہ عام شہریوں کونقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ جب صورتحال گمبھیرہو جاتی ہے تو قیامِ امن کے لئے پاک آرمی کے جوانوں کو ہی حرکت میں آنا پڑتا ہے۔

اب دوسری طرف آتے ہیں کہ حملہ اس وقت ہی کیوں ہوا؟ کیا یہ پہلے سے تیار شدہ پلان تھا یا حالیہ دنوں ہونے والے واقعات کے باعث امن دشمن قوتوں کے لئے یہ حملہ کرانا ناگزیر ہوچکا تھا۔ ایک ایسا وقت جب طالبان واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ محسود قبائل و خالد سجنا کے تحریکِ طالبان ممبر امن کے خواہاں ہیں اور ملا فضل اﷲ و دیگر جنگ کے۔ جب ملافضل اﷲ اور اس کا نائب خالد حقانی افغان انٹیلی جنس کی گاڑیوں میں افغانستان میں گھومتے دیکھے گئے ہیں اور افغان حکومت بھارتی حکومت سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہی ہے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملا فضل اﷲ کس کے ایجنڈے پر کام کررہا ہے اور کیوں محسود قبائل ودیگر اس سے کنارہ کش ہوگئے ہیں۔ محسود قبائل کے بارے میں یہ بات یاد رکھیں کہ انتقام لینے کی غرض سے یا نام نہاد شریعت کے لولی پاپ کو بہانہ بنا کر کوئی سازشی انہیں پاک آرمی سے لڑوا تو سکتا تھا مگر یہ کبھی غدار نہیں ہوئے بلکہ جب بھی محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے تحریک طالبان کے سربراہ نے پسِ پردہ اور اپنے اندر موجود غیر ملکی اشاروں پر چلنے والوں کو سمجھایا اور امن کرنا چاہا تو اسے ڈرون حملے کا نشانہ بنادیا گیا۔ ماسوائے بیت اﷲ محسود کے جسے غلطی سے ڈرون حملے کا نشانہ بنایاگیا اور پھر خالد سجنا کے بطورِ امیر انتخاب ہو جانے کے باوجود ’’غیرملکی‘‘ آقاؤں کے حکم پر ایک غیرمحسود ملا فضل اﷲ کو امیر منتخب کیا گیا جس کے کام سوات میں رہنے والا ہر انسان جانتا ہے۔ ایسا انسان جو غیر ملکی طاقتوں کے لئے سب سے موزوں تھا۔ ہر کام اشارے پر کرے اور پختون بیلٹ کو آگ و شعلوں سے بھر دے۔ ملافضل اﷲ نے آتے ہی جو سب سے پہلا کام کیا وہ تھا امن سے انکار مگر محسود قبائل کے لوگ جو کہ خالد سنجنا کے پیچھے ہٹ جانے سے بدظن ہو چکے تھے۔ اب تحریکِ طالبان کی لیڈر شپ اور اس کے پیچھے خفیہ ہاتھوں کو پہچان گئے تھے۔ لہٰذا انہوں نے جنگ سے خود کو پیچھے کردیا اور پسِ پردہ حکومت سے امن کے رابطے شروع کر دیئے۔ جس میں پیش رفت ہوئی اور بالآخر مضبوط محسود لابی کے دباؤ پر باقی طالبان کو بھی سرِ تسلیم خم کرنا پڑا۔ اس دوران آرمی اور طالبان تو رک گئے مگر پسِ پردہ ’’خفیہ عناصر‘‘ کو ایک پل چین نہیں آرہا تھا۔ وہ طالبان کی صفوں میں موجود بکاؤ عناصر کے ذریعے مسلسل امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے میں لگے رہے اور ایک دو ایسے واقعات بھی رونما ہوئے کہ اگر اس دوران محسود قبائل سے رابطے نہ ہوتے تو جنگ چھڑ سکتی تھی۔ مگر اب دونوں اپنے حقیقی دشمن کو جان گئے تھے۔ لہٰذا آرمی نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے میرعلی میں موجود امن مخالف طالبان کے مرکز پر حملہ کرکے ان کی کمر توڑ دی۔ حالانکہ اس واقعے کو شرپسندقوتوں نے کیش کرانے کی کوشش کی‘ مگر ناکام رہے۔ اس دوران ایک دوبار خیرپختونخوا کو خون میں نہلادیا گیا‘مگر دونوں امن پسند فریق صبر کے دامن کو تھامے رہے اور پشاور میں پھر سے (آئی ڈی پی) کیمپ پر حملہ ہوا۔ باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں ہونے والے دھماکوں اور شمالی وزیرستان میں سیکورٹی کانوائے پر ہونے والے حملوں نے پاک فوج کو مجبور کیا کہ وہ ان شرپسند عناصر کو بھرپور جواب دے۔ ایک مضبوط اطلاع پر پاک فضائیہ نے21 مئی کی شب میران شاہ میں میرعلی دتہ خیل اور غلام خان کے علاقوں پر حملہ کیا جس میں بہت بڑی تعداد میں شرپسند مارے گئے اور پھر اس واقعہ کو اس طرح سے مسخ کیا گیا کہ اس میں معصوم بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں پھیلائی گئیں۔ وقتی طور پر بہت ہنگامہ ہوا کہ پاک فضائیہ نے معصوموں پر حملہ کیا اور اس بات کو بنیاد بنا کر شرپسند طالبان نے جنگ کا اعلان کردیا۔ محسود قبائل اب بھی ان سب واقعات سے لاتعلق رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پاک فضائیہ اتنی پروفیشنل ہے کہ اس کا نشانہ خطا نہیں ہوتا ہے اور اگر سویلین ہلاکتیں ہوئی بھی ہیں تو وہ بھی شرپسندوں کی اپنی ہی کوئی کارروائی ہوگی۔ خواہ وہ ہمدردی حاصل کرنے کی خاطر کیوں نہ ہوں تاکہ اس معاملے کو پشتونوں کے خون سے کیش کرایا جائے۔ پھر اس دوران ایک بڑا جرگہ بلایاجاتا ہے جس میں یہ طے پاتا ہے کہ وزیرستان کے علاقوں کو غیر ملکیوں سے خالی کرایا جائے گا اور اس بات پر تمام قبائل متفق ہوگئے۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ یہ غیر ملکی اب ’’غیرملکیوں‘‘ کے ہاتھوں میں ہی کھیل رہے ہیں۔ اس جرگہ میں گورنر خیبرپختونخوا مہتاب عباسی‘ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی کے ساتھ اتمانزئی قبائل کے65 رکنی وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے قبائلی علاقوں میں مجوزہ آپریشن رکوانے کی بات کی۔ جس پر اس وفد کو آگاہ کیا گیا کہ کس طرح شرپسند عناصر محسودوں کو ریاست سے لڑانا چاہتے ہیں اور دین اور شریعت کا سکہ فیل ہونے کے بعد اب اس جنگ کو پختون کے خلاف جنگ سے بدلنا چاہ رہے ہیں۔ جس پر ریاستی اداروں اور حکومتی ارکان نے محسود قبائل پر واضح کیا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ امن قائم رہے اور پختون سکون سے رہیں اور ان کی اولاد بھی سکون کی زندگی گزارے تو انہیں غیرملکیوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ کیونکہ یہ لوگ نہ پختونوں کے ساتھ وفادار ہیں نہ ہی اسلام سے کچھ لینا دینا ہے۔ یہ اب ملافضل اﷲ کی قیادت میں غیرملکیوں کا آلہ کار بن چکے ہیں جن کا مقصد پختونوں کو سامنے رکھ کر پسِ پردہ اپنے مقاصد حاصل کرنا ہیں۔ قبائلی جرگہ کو یہ بات سمجھ آگئی اور انہوں نے 15 روز کی مہلت طلب کی کہ ان پندرہ دنوں میں وزیرستان کو غیر ملکیوں سے پاک کیا جائے گا اور اس جرگہ کے فوری بعد قبائلی جرگہ نے اپنے علاقے میں ایک بڑا جرگہ بلایا جس کا مقصد ازبک اور تاجک دہشت گردوں کو اپنے علاقوں سے باہر نکالنا تھا مگر چونکہ ان غیرملکیوں کی کثیر تعداد محسود قبائل کے علاقوں میں پناہ لئے ہوئے تھی۔ اس لئے محسود قبائل کو اعتماد میں لئے بغیر غیرملکیوں کا انخلا ممکن نہ تھا اور آخری اطلاعات کے مطابق حافظ گل بہادر گروپ نے غیرملکیوں کے انخلاء کے حوالے سے مثبت اشارے دیئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی دوسری جانب خالد سجنا نے مذاکرات کے حوالے سے حکومت کو مثبت اشارے بھجوائے تھے فی الحال مذاکرات دشمن غیرملکیوں کے اشارے پر چلنے والے شہریار محسود گروپ سے لڑائی کے باعث حکومت سے کچھ وقت مانگا ہے اور ذرائع کے مطابق خالد سجنا اور ملا نذیر گروپ (جس کی قیادت اب صلاح الدین کررہے ہیں) مل کر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں کہ اب وہ مزید خون نہیں کرنا چاہتے۔

قبائل کی سرزمین پر جس کی وجہ سے انتشاری ٹولہ سیخ پا ہے اور اپنے برسوں کی محنت اور فساد کو ضائع ہوتا دیکھ رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بوکھلاہٹ میں کراچی ائیرپورٹ پر حملہ کیا گیا کہ ایک طرف حملہ ہو گا تو دوسری جانب ’’مغرب نواز‘‘ جنگ کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع ہو جائیں گے۔ جس کی وجہ سے شمالی وزیرستان آپریشن شروع ہو جائے گا او رپھر غیرملکیوں کے ہاتھوں میں پلنے والے افغانستان میں بیٹھے تحریک طالبان کمانڈروں کو اپنی گیم کھل کر کھیلنے کا موقع ملے گا اور قبائلیوں کی نظر میں امن کی بات کرنے والے قبائل مشکوک ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ آگ بہت پھیلے گی کیونکہ افغان ایجنسیاں اور بھارتی سفارت خانے مودی کے بطور وزیراعظم منتخب ہونے پر اب کھل کر پاکستان مخالف طالبان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ یہ جنگ کو پاکستانی سرحدوں کے اندر لڑنا چاہتے ہیں تاکہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد سارا ملبہ پاکستانی فوج پر گرے اور دوسری جانب بھارت پاکستان سے ملحقہ سرحدوں پر فوج جمع کرنا شروع کر دے تاکہ جواباً پاک آرمی بیک وقت دو محاذوں پر الجھ جائے۔ ایک جانب مکمل جنگ اور دوسری جانب کولڈ سٹارٹ سٹریٹجی۔

اگر صورت حال اس نہج پر آتی ہے تو یہاں ہندوستان چانکیہ کی چال چلے گا۔ چانکیہ ہندوستان کے بادشاہ چندرگپت موریا کا ایک شاطرانہ وزیر تھا۔ چندر گپت موریہ آج سے کوئی دو ہزار برس قبل ہندوستان کا بادشاہ گزرا ہے۔ یہ شاید واحد ہندو بادشاہ تھا جس نے سارے ہندوستان پر حکومت کی۔ لیکن اس کی کامیابی کا اصل مہرہ چانکیہ تھا جو انتہائی سازشی ذہنیت کا مالک تھا۔ اس نے سازشی تھیوری کے پانچ اصول بنا رکھے تھے۔ جس ہمسائے کو ہڑپ کرنا ہو پہلے اس سے دوستی کرو تاکہ آپ کو اس کے گھر کے اندر جانے کا موقع ملے۔ (امن کی آشا‘ پاک انڈیا مذاکرات کا کھیل جس کا کبھی آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ پاک انڈیا تجارت پاک انڈیا دوستی وغیرہ اسی اصول کے تحت کی جا رہی ہیں) جب آپ کو وہاں گھسنے کا موقع مل جائے تو وہاں لوگوں کو خریدو کہ بکنے والے لوگ دنیا میں ہر جگہ اور ہر قوم میں مل جاتے ہیں۔ پاکستان میں ٹی ٹی پی ‘ بی ایل اے کے بارے میں ثابت ہو چکا ہے کہ انڈین فنڈنگز پر چلتے ہیں اور افواج پاکستان پر حملہ آور ہیں۔ اسی طرح پاکستانی میڈیا کا کچھ حصہ ہمارے نظریات اور قومی شناخت پر حملہ آور ہے اور عوام اور افواج میں دوری پیدا کرنے کا کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ جماعتیں اور افراد بھی جن میں کچھ سماجی تنظیمیں اور شخصیات پاکستان اور افواج پاکستان کو بدنام کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ نظریہ پاکستان اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کا فریضہ بھی انجام دے رہی ہیں اور باقاعدگی سے انڈیا کے دورے کرتی ہیں۔ یہ سب کچھ چانکیہ کے دوسرے اصول کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اپنے خریدے گئے لوگوں کے ذریعے وہاں بغاوتیں اور جھگڑے پیدا کرو۔ تحریک طالبان پاکستان نہ صرف پاکستانی افواج کے خلاف حملے کر رہی ہے بلکہ شیعہ سنی جنگ بھی کروا رہی ہے۔ انہوں نے مزاروں کو بموں سے اڑا کر دیوبندی‘ بریلوی فسادات بھی کروانے کی کئی کوششیں کیں۔ وزیرستان بارڈر پر موجود انڈیا کے قونصل خانے ان پر اپنا سخت کنٹرول رکھے ہوئے ہیں۔ نفاذ شریعت کا نعرہ بھی ایک آڑ ہے جس کے تحت ان کو پاکستان میں جنگ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی حال بی ایل اے کا ہے جو لسانی بنیاد پر فساد برپا کئے ہوئے ہیں اور پنجابی‘ بلوچی کا نعرہ لگا کر پاکستان کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ میڈیا ان جنگوں کو روکنے کی بجائے ان کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ کبھی کچھ مخصوص صحافیوں اور این جی اوز ارکان کی باتیں غور سے سنئے۔ یہ سب چانکیہ کے تیسرے اصول کے تحت کیا جا رہا ہے۔ ’’ہمسائے کو کھانے کے لئے ہمسائے کے ہمسائے سے دوستی کرو۔‘‘ انڈیا پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے افغانستان دوسرے وسطی ایشیائی ممالک وغیرہ سے دوستی کر رہا ہے۔ بات لمبی ہو جائے گی۔ صرف افغانستان کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جس پر انڈیا آج کل صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے مہربان ہے۔ وہاں اس کے پاک افغان بارڈر پر جگہ جگہ بے شمار قونصل خانے کام کر رہے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہاں سے بہت سے لوگ انڈیا کا ویزا لگوانا چاہتے ہیں بلکہ وہ ’’را‘‘ کے دفاتر ہیں جہاں سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی انڈیا دریائے کابل پر بند باندھ کر پانی سے بھی محروم کرنا چاہتا ہے۔

’’بغاوتوں اور اندرونی خانہ جنگیوں اور اختلافات کی وجہ سے جب وہ ملک کافی کمزور ہو جائے تب اس پر پوری طاقت سے حملہ کر دینا چاہئے۔‘‘ کولڈسٹارٹ ڈاکٹرائن جس کے تحت انڈیا کی زمینی افواج سندھ کے قریب اپنی ڈویلپمنٹس(Developments)کر رہی ہیں اور سڑکوں اور اسلحہ خانوں‘ پلوں اور بنکروں وغیرہ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انڈیا اپنی ضروریات سے بہت زیادہ بڑی نیوی تیار کر رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستانی نیوی کے نگرانی کرنے والے جہازوں پر حملے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں تاکہ جب انڈیا کی باقاعدہ افواج سندھ پر حملہ آور ہوں تو ان کی نیوی فوری طور پر گوادر کو فتح کر کے اپنی باقاعدہ فوج سے مل سکے اور پاکستان کو دو ٹکڑے کیا جا سکے۔ اسی لئے یہ دو ہفتوں میں پاکستان کو دو ٹکڑے کر دینے کے دعوے کر رہے ہیں۔ اپنی فوجی برتری کو مستحکم کرنے کے لئے جنگ سے ذرا پہلے انڈیا ٹی ٹی پی کے حملے صوبہ خیبرپختونخوا میں تیز کروا دے گی تاکہ پاکستان کی وہاں پھنسی فوج کو سندھ کی طرف آنے کا موقع نہ مل سکے۔ اس طرح انڈیا کی 11لاکھ فوج سے لڑنے کے لئے ہماری صرف محدود فوج ہی دستیاب ہو گی۔ مکمل فتح کے لئے یہ چانکیہ کا آخری اصول ہے اور اس پر بھرپور کام جاری ہے۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ چانکیہ اپنے مر جانے کے ڈھائی ہزار سال بعد بھی ہمیں تکلیف دے رہا ہے۔ بنگلہ دیش کو توڑ کر الگ کر لینا چانکیہ ہی کی ایک بڑی کامیابی تھی۔ انڈیا ہمارا دشمن تھا اور رہے گا۔ وہ ہمیں ختم کرنے کے لئے سب کچھ کرے گا۔ اس کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ ہم غافل ہیں یا جاگ رہے ہیں۔ انڈیا کی یہ ساری چالیں ناکام ہو سکتی ہیں اگر ہم ان کو اچھی طرح سمجھ لیں اور متحد ہو جائیں اور اپنی شناخت اور اپنے نظریات پر ڈٹ جائیں۔ اب سکیورٹی اداروں اور حکومت وقت کا بھی امتحان ہے کہ وہ کس طرح انتشاری ٹولے اور امن پسند قبائل کو الگ الگ کرتی ہے۔ یہاں ذمے داری محسود و دیگر قبائل پر بھی آتی ہے کہ ان سازشیوں سے اسلام اور اپنے وطن کی حفاظت کرنے کے لئے کس حد تک ریاست کا ساتھ دیتے ہیں۔یہ وقت بہت نازک ہے اور شاید یہی وہ وقت ہے جب اس قوم کے روشن مستقبل کی راہ کا تعین ہونا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستانی ریاست اور دیگر اداروں کو اپنے دوست اور دشمن کو پہچاننا ہے۔ پاک آرمی ہر مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے اور اب وقت ہے کہ پھر سے اپنی آرمی کے کندھے مضبوط کئے جائیں۔ درجنوں محاذوں پر برسرپیکار اﷲ کے سپاہیوں کو اگر ضرورت ہے تو ہماری دعاؤں اور اس بھروسے کی جس پر یہ آرمی پورا اترتی ہے۔ ہم حالت جنگ میں ہیں اور وقت ثابت کرے گا کہ کتنے گمنام سپاہیوں نے اپنی جان پر کھیل کر اس پاک دھرتی کی حفاظت کی۔

(مضمون نگار مختلف مضامین پر مشتمل کتاب ’’پیچیدہ تخلیق‘‘ کے مصنف ہیں۔ اس مضمون میں پیش کئے گئے خیالات اور آراء مصنف کی ذاتی ہیں۔

یہ تحریر 19مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP