قومی و بین الاقوامی ایشوز

کراچی آپریشن

کراچی کے موجودہ حالات اور امن و امان کی صورت حال پر ایک سروے رپورٹ

تادم تحریر کراچی آپریشن پورے زور و شور سے جاری ہے، اس وقت جب میں یہ آرٹیکل لکھنے بیٹھا ہوں تو ٹی وی پر رینجرز کی جانب سے عمران فاروق کے قتل میں ملوث ایک اہم ملزم ’’معظم علی ‘‘کی گرفتاری کی خبر چل رہی ہے ۔

گزشتہ ماہ اپنے آرٹیکل میں کراچی آپریشن کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے راقم الحروف نے‘بطورِشہری کراچی میں جو تبدیلیاں دیکھیں انہیں بیان کرنے کی کوشش کی‘ پھر بھی کچھ کمی محسوس ہورہی تھی اور جلد ہی سمجھ آگئی کہ جب تک کراچی میں رہنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ان کی رائے نہیں لے لیتا‘ کراچی پر بات ادھوری ہی رہے گی، کیونکہ کراچی کی بدامنی کا خمیازہ کسی ایک شخص یا طبقے نے نہیں بلکہ معاشرے کی ہر اکائی نے بھگتا ہے۔ چاہے کوئی خوف زدہ صحافی ہو یا اپنے رزق میں سے کسی کو جبراً بھتہ دیتا ہوا تاجر، جان کی حفاظت کے لئے ملک اور کاروبار کو خیر باد کہتا ہوا کوئی صنعت کار ہو یا علم کا نور بانٹنے والا کوئی استاد ، کوئی سماجی کارکن ہو یا حصول علم کی تلاش میں سرگرداں طالب علم ، غرض یہ کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی طرح اس بدامنی کی چوٹ کھائی ہے ، لہٰذا یہ طے پایا کہ اب جہاں تک ہوسکے مختلف لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کروں گا کہ سندھ رینجرز کے کراچی آپریشن شروع کرنے سے قبل کے کراچی میں‘او ر موجودہ کراچی میں ‘ آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں۔

آپریشن کی کامیابی کے لئے سیاسی مصلحتوں کو عملاً بالائے طاق رکھنا ہوگا۔مجرموں کے خلاف بے رحم آپریشن اور ساتھ ساتھ عدالتوں کا بھی تعاون لینا ہوگا ورنہ یہ لڑائی کمرہ عدالت میں ہاری جا سکتی ہے ۔

 

اسد نثار

(ایکٹنگ چیئرمین سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری)

کراچی آپریشن شروع ہونے سے قبل یہاں انڈسٹریل ایریا کے حالات بہت خراب تھے اور آپ کو حیرانی ہوگی کہ یہاں یومیہ تین سو سے زائد صرف موبائل چھینے کی وارداتیں ہوتی تھیں، اس کے علاوہ جو جرائم تھے ان میں ایک تو یہ تھا کہ کوئی چار پانچ لوگ گاڑی میں بیٹھ کر کسی بھی کمپنی میں داخل ہوجاتے اور اپنا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے بتا کر فیکٹری مالکان سے بھتہ وصول کرتے ۔۔۔ جب کہ شارٹ ٹائم کڈ نیپنگ بھی اپنے عروج پر تھی ، حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ فیکٹری مالکان ہر جانب سے مایوس ہو کر یا تو دیگر شہروں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے لگے یا پھر پاکستان سے باہر کاروبار لے جانے لگے جو بلا شبہ ایک قومی نقصان تھا ۔۔۔ اور کرتے بھی کیا کہ کوئی فیکٹری ایسی نہیں تھی کہ جس کا یارن (yarn)یا پھر کپڑے کا ٹرک ہفتے میں ایک سے دو بار لوٹا نہ گیا ہو ، ٹرک سے سارا سامان اتروا کر کسی ویران علاقے میں ٹرک کھڑا کر دیتے اور چند لمحوں میں فیکٹری مالکان کو لاکھوں کا نقصان ہوجاتا اور وہ بھی ہر ہفتے ۔

اس کے علاوہ جو سب سے بڑا مسئلہ تھا وہ تھا جان کی حفاظت کا، ہر گلی میں ایک ناجائز چھپر ہوٹل ان ہی جرائم پیشہ عناصر نے دھونس دھمکی سے کھڑا کیا ہوتا تھا جہاں پر نہ صرف ان جرائم پیشہ عناصر نے ٹھکانے بنائے ہوتے تھے بلکہ فیکٹری مالکان کے معمولات پر بھی نظر رکھی جاتی تھی کہ کون کب کس راستے سے آتا ہے ۔۔۔ لہٰذا سب سے پہلے ہم ہمت کر کے اس وقت کے ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر کے پاس گئے جنھوں نے ہمارے مسائل اور خدشات تسلی سے سنے اور یہ ان کا کراچی کے انڈسٹری مالکان پر احسان ہی سمجھ لیں کہ جس اپنائیت سے انھوں نے ہمارا ساتھ دیا اور انڈسٹریل ایریا سے اس قبضہ و جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔۔۔ اور آج میں کہہ سکتا ہوں کہ رینجرز کے آپریشن کے بعد اب بیان کردہ تمام مسائل اگر مکمل ختم نہیں بھی ہوئے تو اتنے کم رہ گئے ہیں کہ ہم اسے صفر ہی تصور کرتے ہیں ۔۔۔ اس کے علاوہ رینجرز کے تعاون اور دلیری والے اقدام سے یہاں کی پولیس پر بھی بہت مثبت اثر پڑا ہے۔ اگر آپریشن اپنے پایۂ تکمیل کوپہنچا تو مجھے یقین ہے کراچی کو روشنیوں کا شہر بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا ۔

ظفر اقبال

(تاجر )

میں پچھلے بیس سال سے کورنگی کے علاقے میں اپنا کاروبار چلا رہا ہوں، اس دوران بہت سے آپریشن دیکھے اور اس کے بعد کی صورتحال بھی، یہ حقیقت ہے کہ جب یہ آپریشن شروع ہوا اس وقت تک آگ بہت پھیل چکی تھی تاجروں کی تو ویسے ہی کمر ٹوٹی ہوئی تھی کہ ہر دوسرا شخص کسی سیاسی جماعت کا نام لے کر بھتہ مانگنے آجاتا، رمضان کے فطرانے‘ عید کی کھالیں‘ غرض ہر تہوار میں ایک خوف کا سماں ہوتا کہ اگر ایک کو دئیے اور دوسرے کو نہ دے پائے تو ان زمینی خداؤں سے جان کی امان نہیں ملنے والی، اب تک تو بہت سکون ہے بس اللہ سے دعا ہے یہ آپریشن اپنی منزل تک پہنچے تا کہ کراچی والے سکھ کا سانس لے سکیں اور دوبارہ خوف پھیلانے والے عناصر کو سر اٹھانے کی ہمت ہی نہ ہو ۔۔۔

 

محمد طاہر

( سماجی کارکن )

کراچی آپریشن سے قبل سیاسی و سماجی صورتحال نہایت ابتری کا شکار رہی ہے ۔۔۔ لیکن جب سے رینجرز و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کیا ہے۔ حالات بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہیں۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خوف کی فضا ختم ہونے کو ہے ۔۔۔ نہ صرف کاروباری حضرات بے خوفی سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں بلکہ دیگر شہروں کے لوگوں میں جو کراچی کا ایک خوفناک امیج بن چکا تھا‘ اب اس میں بھی بہتری کی توقع ہے ۔۔۔ کراچی کی بدامنی میں جہاں غنڈہ عناصر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل کرتے تھے‘ وہیں ان کی دیکھا دیکھی نوجوان نسل بھی محنت کے بجائے ’’شارٹ کٹ‘‘ کے چکر میں تعلیم سے دور ہو کر ’’ٹی ٹی‘‘ کے قریب ہونے لگی تھی گلی محلوں میں مقامی بدمعاشوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ شریف انسان کا اس ماحول میں جینا محال ہو چکا تھا، مگر جب کراچی آپریشن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے، جرائم پیشہ لوگ قانون کی گرفت میں آنا شروع ہوئے تو ان موسمی بدمعاشوں نے بھی توبہ کرنا شروع کر دی ۔۔۔ اب امید کرتے ہیں جب تک آخری دہشتگرد ختم نہیں ہوجاتا‘ یہ آپریشن بنا رکے چلتا رہے گا ۔۔۔

 

عبدالوحید

(آئل ڈیلر و سپلائر)

ہم کتنے عرصے سے گارڈن کے علاقے میں کام کر رہے ہیں یہ تو عمر کے اس حصے میں مجھے خود بھی یاد نہیں مگر اس وقت جو آپ سفید بال دیکھ رہے ہیں تب یہ کالے ہوا کرتے تھے ۔۔۔ ہمارا کام ایسا ہے کہ کراچی کے ہر علاقے میں جانا پڑتا ہے اور پچھلے بدامنی کے ایک عشرے میں جو علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں ہمارا گارڈن کا علاقہ سرفہرست ہے ۔۔۔ اس کے علاوہ پچھلے کچھ عرصے میں ہمارے لئے بکرا منڈی ، پہاڑ گنج‘ آگرہ تاج اور مچھر کالونی نوگو ایریا بن چکے تھے کہ جہاں اگر سامان سپلائی کرنے جاتے بھی تھے تو کبھی مسلح لوگ سامان ہی راستے میں لوٹ لیتے یا واپسی میں پے منٹ سے ہاتھ دھونا پڑ جاتا تھا، یہ سمجھ لیں ہم لوگوں کے پاس ایسے کتنے ہی آرڈر آتے جسے ہم صرف اس لئے پورا نہیں کر پاتے تھے کہ اس علاقے کے حالات اس قابل نہیں ہوا کرتے تھے کہ بندہ جائے اور محفوظ واپس آ سکے۔۔۔ آپ تو رینجرز آپریشن کا پوچھ رہے ہیں‘ یقیناًکراچی آپریشن کے بعد بہت سکون ہے مگر ہمارے علاقے میں جب ایف سی والے آئے تھے تب سے ہی بہتری کی شروعات ہوگئی تھیں‘ ان کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی ، یہاں دھوبی گھاٹ کے علاقے میں کھڑے ہوتے تھے وہ لوگ اور اللہ کا شکر ہے کہ اس پوری پٹی میں امن ہوگیا تھا۔ اس کے بعد جو رینجرز نے آپریشن شروع کیا ہے تو سمجھیں کتنے سالوں بعد آج ہم کھل کر کاروبار کر رہے ہیں ۔۔۔ اور کراچی کے کسی بھی حصے میں بے فکر ہو کر جاتے ہیں۔

 

احسان کوہاٹی

(سینیئر صحافی )

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی آپریشن کے بعد سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ بہتری کب تک رہے گی؟ اس سے پہلے بھی بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ آپریشن ہوتے رہے ہیں مگر ہوتا یہ ہے کچھ عرصے بعد لولے لنگڑے‘ کن کٹے‘ پہاڑی پھر نکل آتے ہیں۔ یہ آپریشن ٹپکتی چھت تلے بالٹیاں‘ دیگچیاں اور برتن رکھنے جیسا ہے ہمیں چھت کی مرمت کرنا ہوگی نہ کہ بالٹیاں بھرجا نے کے بعد ایک کے بعد دوسری بالٹی رکھنا ہوگی۔ کراچی میں امن و امان کی ابتر صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ2013 میں پچیس سو سے زائد شہری قتل ہوئے جبکہ 2014 میں 1800،اگرچہ700 افراد کا فرق ہے بہرطور یہ ایسے اعداد و شمار ہیں کہ انسان چکرا کر رہ جائے مگر اس پر کراچی پولیس چیف اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ بہرحال آپریشن کی کامیابی کے لئے سیاسی مصلحتوں کو عملاً بالائے طاق رکھنا ہوگا۔مجرموں کے خلاف بے رحم آپریشن اور ساتھ ساتھ عدالتوں کا بھی تعاون لینا ہوگا ورنہ یہ لڑائی کمرہ عدالت میں ہاری جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ رینجرز کے کردار کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی ۔

 

عادل معروف

(سٹوڈنٹ ICAP کراچی)

آپریشن سے قبل کراچی میں ہر طبقہ ڈرا سہما رہتا تھا ان ہی میں سے ایک طبقہ ہم سٹوڈنٹس کا بھی تھا۔جہاں جانا ہوتا یا کمبائن اسٹڈی کا پروگرام بنتا تو پہلے یہی پوچھتے رہتے تھے کہ آیا وہ علاقہ ہمارے لئے ’’نوگو ایریا‘‘ تو نہیں۔ لیپ ٹاپ سمیت قیمتی سامان ساتھ رکھنے سے ویسے ہی گھبراتے تھے کہ اگر راستے میں نہ لٹے تو بس میں دوران سفر لوٹ لئے جاتے ہیں ۔ اب اللہ کا کرم ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے بعد کافی سکون آگیا ہے، چھینا جھپٹی اور ٹارگٹ کلنگ تو کم ہوئی ہی ہے ساتھ میں ہڑتالوں کے عذاب سے جو پڑھائی کا حرج ہوتا تھا‘ اس سے بھی اب تک جان چھوٹی ہوئی ہے ۔ لیکن ابھی بھی کافی جگہوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے گورنمنٹ اور کراچی آپریشن میں شامل رینجرز و دیگر حساس ادارے کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے میں کسی مصلحت سے کام لئے بغیر اس نیک کام کو اپنے انجام تک پہنچائیں۔

 

رقیہ ستار

(سٹوڈنٹ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی)

آج سے چند مہینے پہلے جہاں کراچی کے باشندے خوف و دہشت کی فضا میں جی رہے تھے تو وہیں عام عوام بالخصوص خواتین کا شام کے بعد گھروں سے نکلنا تک محال تھا، مگر آج ماشا اللہ اس رنگ و نور کے شہر کی روشنیاں پھر سے بحال ہورہی ہیں، نہ صرف عوام کے خوف میں کمی آئی ہے بلکہ مجموعی طور پر بھی شہر کی فضا میں بہتری محسوس ہورہی ہے ۔

 

محمد مزمل

(سٹوڈنٹ این‘ای ‘ڈی یونیورسٹی)

میرے خیال سے کراچی آپریشن کے فوائد سے شاید ہی کوئی انکار کرے۔ بہرکیف ہر شخص کے لئے اس کے فوائد مختلف ضرور ہوسکتے ہیں۔ایک تاجر گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میرے لئے بھی آپریشن کے فوائد کا بڑا حصّہ تاجر برادری سے ہی منسلک ہے، کچھ عرصہ پہلے تک میرے اکثر رشتے دار جہاں ہر وقت بھتے اور پرچی کے خوف سے کہیں نکل نہیں پاتے تھے‘ اب وہ لوگ ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو کر اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ قائد اعظم کے شہر کو سندھ رینجرز ضرور بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز سے پاک کر کے اس کی اصل شناخت دلائے گی ۔ یہ تو تھی ان کی رائے جنھوں نے تصویر کے ساتھ اپنا مؤقف دینا چاہا ، اس کے علاوہ بہت سے لوگ تھے جو مؤقف تو دینا چاہ رہے تھے‘ مگر تصویر بنوانے میں انہیں ایک انجانا سا خوف تھا کہ کہیں کل کو یہ آپریشن بند ہوگیا تو ہماری جان مشکل میں پڑ جانی ہے‘ لہٰذا میں نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا۔ ایک تاجر کابغیر تصویر مؤقف ضرور بیان کروں گا جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کراچی میں کاروبار کرنے والے کس خوف و اذیت سے گزرے ہیں کہ آج تک ان کی نفسیات پر خوف کا راج ہے ۔۔۔

 

اسرار عباسی صاحب شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔۔۔ شیرشاہ کباڑی مارکیٹ کے نام سے کون واقف نہ ہوگا یہ وہی مارکیٹ ہے جہاں دن دیہاڑے باپ بیٹوں سمیت 12 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔۔۔ اسرار عباسی اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے آپریشن ہو رہا ہے مگر آج بھی اگر کوئی مارکیٹ میں افواہ ہی اڑا دے کہ حالات خراب ہونے والے ہیں تو ہم لوگ دکانیں چھوڑ کر گھر کی جانب بھاگتے ہیں اور کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ گھر پہنچ کر جب معلوم کیا کہ ہوا کیا ہے تو علم ہوا کہ کسی نے مذاق میں یا شرارتاً افواہ پھیلائی تھی ، آپ اسی سے ہمارے خوف کا اندازہ لگا لیں ۔۔۔۔۔۔

اسرار عباسی صاحب بھی ٹھیک ہی کہتے ہیں واقعی دہشتگردوں کو جب تک سزا نہیں ملتی کراچی کے شہری اس نفسیاتی خوف سے کیسے آزاد ہوسکتے ہیں کہ جو ہر وقت’’ کچھ ہونے والا ہے‘‘ کے اندیشے میں ہی رہتے ہیں، یہاں کے باسی اتنا خون دیکھ چکے ہیں کہ اب انہیں ایک طویل مدتی دماغی سکون کی ضرورت ہے ورنہ ایک انجانا خوف ہمیشہ سوار رہے گا کہ کہیں پھر سے وہ خون آشام درندے لوٹ کر نہ آجائیں ۔۔۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک، کراچی آپریشن میں شریک اداروں کو کامیابی سے ہمکنار کرے تا کہ کراچی پھر سے سانس لے سکے کراچی والے پھر سے سکون کی زندگی جی سکیں ۔۔۔۔ آمین مصنف معروف تجزیہ نگار اور ہلال کے مستقل لکھاری ہیں


[email protected]

شہید ساتھیوں کی یاد میں

کیا سمجھتے ہو تم بھول جائیں گے ہم وہ دن

خون بہایا تھا جب تم نے معصوموں کا ایک دن

وہ میرے دوست تھے جن پہ بندوق کا وار تم نے کیا

ان کے پیاروں کو تکلیف اور درد تم نے دیا

ان کی ماں کی دُعا بن گئی ان کی خاطر ردا پیار کی

اور چکانی پڑے گی تمہیں اب تو قیمت ہر اک وار کی

پھول تھے نرم ونازک مگر تم نے روندا انہیں پاؤں سے

ماں کے پیارے تھے تم نے جدا کر دیاہے جنھیں ماؤں سے

تم سے وعدہ ہے میرا کہ لے گا خدا تم سے اس کا جواب

حشر تک تم پہ اترے گا ان پاک روحوں کا یوم حساب

ارمغان بن کامران

یہ تحریر 25مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP