قومی و بین الاقوامی ایشوز

کراس بارڈر ٹیررازم کا خاتمہ خطے کے امن کے لئے ناگزیر

کراس بارڈر ٹیررازم یا مسلح گروپوں کی سرحد پار تخریبی کارروائیوں سے متعلق شکایات کا دنیا کے متعدد ممالک کو سامنا ہے۔ تاہم پاکستان اور افغانستان یا پاکستان اور بھارت غالباً وہ تین ممالک ہیں جن کو اس مسئلے نے گزشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں سے کافی متاثر کیا ہے اور اس ایشو کی وجہ سے ان ممالک کے درمیان مختلف مواقع پر باقاعدہ جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں اور دہشت گردوں کا کام بھی آسان بنتا گیا۔ اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد دنیا کی چند خطرناک اور غیرمحفوظ سرحدوں یا علاقوں میں سے ایک ہے اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ سال 2001 کے بعد بھی اس سرحد کو محفوظ یا پرامن نہیں بنایا جا سکا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سرحد کے سٹیٹس کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں اور دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان اس پٹی پر 2001 کے بعدلاتعداد مسلح جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین حکام کئی بار اس بات کا اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کم یا ختم کرنے کے لئے اس پیچیدہ اور خطرناک سرحد کو محفوظ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ماضی میں اس کام سے اس لئے صرف نظر کیا جاتا رہا ہے کہ دونوں اطراف میں پشتون قبائل رہائش پذیر ہیں اور دونوں ریاستوں کا خیال تھا کہ سرحد کی بندش یا دیگر پابندیوں سے ان قبائل کے رابطے کٹ جائیں گے اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

تاہم 2002 کے بعد پاکستان کا مسلسل یہ اصرار رہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بعض دیگر اقدامات کے علاوہ سرحد کی حد بندی اور فعال نگرانی بھی لازمی ہے۔ مگر اس مطالبے یا تجویز پر افغانستان ہر بار خاموشی اختیار کرتا رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان دشوار گزار اور لمبے علاقوں کی نگرانی ممکن نہ ہو سکی اور اس کی وجہ سے دہشت گرد آسانی کے ساتھ سرحد کے دونوں اطراف میں ضرورت کے مطابق نہ صرف حرکت کرتے رہے بلکہ ریاستوں کے دباؤ کے مراحل کے دوران اہم کمانڈر اور ان کے جنگجو دوسری طرف منتقل ہو کر فوجی کارروائیوں سے خود کو بچاتے بھی رہے۔ اسی طرز عمل کا نتیجہ ہے کہ دونوں ریاستوں کی لاتعداد فوجی کارروائیوں کے باوجود دہشت گرد اور ان کے کمانڈروں کا خاتمہ ممکن نہیں بنایا جا سکا۔

پاکستان سے افغانستان اور وہاں سے یہاں دہشت گردوں کی نقل و حرکت نے اس خطے کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار کئے رکھا مگر اس کے باوجود عملی اقدامات سے گریز کیا جاتا رہا۔ ایک معتبر تھینک ٹینک کی 2014 کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان گیارہ مہینوں کے عرصے میں 250 سے زائد سرحدی خلاف ورزیاں ہوئی تھیں جن میں دوسروں کے علاوہ جھڑپوں کے نتیجے میں دونوں اطراف کے کئی سپاہی بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک المیہ یہ رہا ہے کہ دہشت گرد گروپس ماضی میں اس سرحد کو اس کی غیرمعمولی طوالت اور پیچیدگیوں کے باعث اپنے کام، سہولتوں اور پناہ گاہوں کے لئے استعمال کرتے رہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ جب تک حد بندی کرتے ہوئے اس سرحد پر نگرانی کو ممکن نہیں بنایا جاتا تب تک دہشت گردوں کا خاتمہ مشکل ہے۔ حال ہی میں جب پاکستان نے وزیرستان اور بعض دیگر علاقوں میں آپریشننز کا آغاز کیا تو اعلیٰ ترین سطح پر افغان حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ آپریشن کے دوران دوسری جانب اپنی فورسز تعینات کر کے نگرانی بڑھا دیں تاکہ دہشت گرد بھاگنے نہ پائیں۔ مگر افغانستان نے دیگر وجوہات کے علاوہ فورسز کی کمی اور وسائل کے فقدان کا جواز بنا کر ایسا کرنے سے معذرت کر لی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیکڑوں جنگجو اور ان کے کمانڈر آپریشن کے دوران یا اس کے آغاز سے پہلے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں منتقل ہو گئے۔ متعدد کے بارے میں رپورٹس ہیں کہ ان کو افغان فورسز یا حکومت نے باقاعدہ پناہ گاہیں اور سرپرستی بھی فراہم کی۔ اس رویے نے جہاں ایک طرف آپریشن کے نتائج کو متاثر کیا وہاں اس کی ایک بڑی قیمت افغانستان کو بھی ادا کرنی پڑی۔ اس قسم کے عناصر موقع پاتے ہی افغان فورسز اور عوام پر حملہ آور ہونے لگے اور وہاں کی صورت حال میں مزید ابتری واقع ہو گئی۔

ماہرین اور پاکستانی حکام کا موقف رہا ہے کہ اگر افغانستان نے بین الاقوامی سرحد کی نگرانی اور فورسز کی تعیناتی کے بارے میں پاکستان کی تجویز پر عمل کیا ہوتا تو آپریشن کے نتائج اور دونوں ممالک کی سکیورٹی صورت حال پر پڑنے والے اثرات بہت مختلف اور مثبت ہوتے۔

اس کے برعکس اس عرصے کے دوران افغان فورسز نے درجنوں بار پاکستان فورسز یا چوکیوں پر حملے کئے یا کرائے جس کے جواب میں پاکستان کو کارروائیاں کرنی پڑیں اور یوں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی بڑھتی گئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں سال کے دوران دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان 25سے زائد جھڑپیں ہوئیں جس سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور تلخیاں بھی بڑھتی گئیں۔ افغانستان عرصہ دراز سے یہ الزام لگاتا آیا ہے کہ پاکستان بعض طالبان گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں نہیں کر رہا۔ تاہم ایسی ہی شکایات پاکستان بھی کرتا آ رہا ہے اور وہ یہ کہ افغانستان اگر ایک طرف سرحد کی نگرانی کو ممکن بنانے سے گریزاں ہے تو دوسری طرف اس نے فضل اﷲ سمیت دیگر کمانڈروں اور ان کے ساتھیوں کو بھی پناہ دے رکھی ہے جو کہ پاکستان کے علاوہ پوری دنیا کو مطلوب ہیں اور جن کے نام اقوام متحدہ نے مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال رکھے ہیں۔ امریکہ سمیت دیگر بھی بار بار اعتراف کرتے آ رہے ہیں کہ حالیہ آپریشن انتہائی مؤثر اور ٹارگٹڈہے تاہم اس کے باوجود افغانستان نے کراس بارڈرٹیررازم کے خاتمے کے لئے وہ اقدامات نہیں کئے جو ہونے چاہئیں تھے اور جن کے اٹھانے سے پورے خطے کے امن اور استحکام پر مثبت اثر پڑتا۔

افغانستان کے ایک سابق صدر کے علاوہ متعدد دیگر اہم لوگ کئی بار آن دی ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستانی طالبان اور ان کے کمانڈروں کو اس لئے پناہ دیتے آئے ہیں کہ پاکستان اپنے گڈ طالبان کے ساتھ رعایت برت رہا ہے۔ حالانکہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران سیکڑوں ان لوگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن کو افغانستان اور بعض دیگر اپنی نظر میں بیڈ طالبان کہتے آئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر 100سے زائد ایسے کمانڈروں یا جنگجوؤں کو ان سرحدی علاقوں میں حملوں کا نشانہ بنایا جو کہ افغانستان میں کارروائیاں کر رہے تھے۔ مگر اس کے مقابلے میں افغانستان نے پاکستان کی تفصیلات اور نشاندہی کے باوجود کنٹر ‘ نورستان‘ ننگرہار اور خوست میں موجود بڑے دہشت گردوں کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی۔ حالانکہ پاکستانی فورسز بھی اس تمام عرصے کے دوران افغانستان کو مطلوب لوگوں یا گروپوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔

اس قسم کے پریشان کن اور افسوسناک واقعات اب ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں کہ افغان ادارے خصوصاً فورسز پاکستان کے طالبان کمانڈروں کی مالی اور فنی معاونت کرتے رہے ہیں۔ ماہ رفتہ کے دوران راقم الحروف کے ساتھ بات چیت کے دوران سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کابل میں اپنی رہائش گاہ پر کھلے عام اعتراف کیا کہ وہ اپنے دور اقتدار میں اس بات کے حامی تھے کہ ہر اس شخص یا گروپ کی سرپرستی کی جائے جس کو پاکستان کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہو۔ اس رویے نے دونوں ممالک کو بڑا نقصان پہنچایا۔ کرزئی نے دوران گفتگو یہ انکشاف بھی کر ڈالا کہ انہوں نے ایک مرحوم بلوچ لیڈر کو ان کے ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان میں پناہ دینے کا باقاعدہ فیصلہ بھی کیا تھا تاہم وہ یہاں پہنچنے سے قبل نشانہ بنا دیئے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے اس معاملے پر امریکیوں کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حامد کرزئی نے اسی خصوصی نشست میں امریکہ پر بھی الزام لگایا کہ وہ بھی افغانستان کے اندر بعض عناصر کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور انہوں نے بین السطور بعض دیگر ممالک کا بھی ذکر کیا۔ اس موقع پر جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ افغانستان ان کمانڈروں کو کیوں سپورٹ کرتا آ رہا ہے جنہوں نے پاکستان کے پشتونوں خصوصاً اے این پی کے ہزاروں لوگوں کو نشانہ بنایا تو انہوں نے اس پر مزید تبصرے سے گریز کیا۔ بہرحال اس میں کوئی دورائے نہیں کہ خطے کے استحکام کے لئے کراس بارڈر ٹیررازم کا خاتمہ انتہائی ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لئے 16 دسمبر 2014 کے بعد دونوں ممالک کا جو مشترکہ پلان بنا تھا اس کے انتہائی مثبت نتائج بھی برآمد ہو گئے تھے۔ تاہم بدقسمتی سے کابل پر کرائے گئے بعض حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کے اعلیٰ سطحی رویئے نے اس مکینزم کو نہ صرف یہ کہ بری طرح متاثر کیا بلکہ بداعتمادی اور دوریوں میں مزید اضافہ بھی ہوا۔

ماہرین کے مطابق اگر وہ انڈر سٹینڈنگ اور کوآرڈی نیشن قائم رہتی اور دونوں اطراف سے دہشت گردوں کا گھیراؤ کیا جاتا تو آج صورت حال قطعاً مختلف ہوتی اور افغانستان کو کئی ماہ سے جس مشکل صورت حال کا سامنا ہے وہ اس سے بھی بچ جاتا۔

چند روز قبل صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع دیر میں درجنوں ایسی لاشیں لائی گئیں جن کو امریکی ڈرون نے خوست میں نشانہ بنایا تھا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق ڈرون نے خوست میں ان جنگجوؤں کے ایک باقاعدہ فعال ٹریننگ کیمپ کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سرحد کے اس پار ایسے عناصر باقاعدہ کیمپس چلا رہے ہیں اب یہ افغان حکومت ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے خاتمے کے علاوہ ان کمانڈروں کے خلاف بھی مؤثر کارروائیاں کرے جن کے ہاتھ ہزاروں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

سال 2013-14 کے دوران ایسے ہی عناصر یا گروپوں نے باجوڑ، مہمند اور دیر کے متعدد علاقوں پر باقاعدہ لشکر کشی کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔ اس پر بھی پاکستان نے کئی بار شدیداحتجاج کیا مگر افغان فورسز کارروائیوں سے گریز کرتی رہیں۔ اسی عرصے کے دوران حامد کرزئی نے ایک انٹرویو میں خود اعتراف بھی کیا تھا کہ ان کی فورسز یا اداروں نے باجوڑ ایجنسی کے ایک طالب کمانڈر کے علاوہ بعض بلوچ کمانڈروں کو بھی معاونت فراہم کی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سمیت بعض دیگر ممالک بھی بوجوہ ماضی میں اس طرح کی پالیسیز استعمال کرتے آئے ہوں گے۔ تاہم حالیہ آپریشن کے بعد افغانستان کو بہرصورت کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے‘ سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے او ر پاکستانی کمانڈروں کو معاونت فراہم کرنے سے متعلق ایشوز پر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا کیونکہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف پاکستان اور عالمی امن ہی کے لئے نہیں بلکہ افغانستان کے امن اور مستقبل کے لئے بھی ناگزیر ہے۔ بلاشبہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک اور ان کے اتحادی اس ناسور کے خاتمے کے لئے ایک پیج پر آ جائیں۔

[email protected]

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP