متفرقات

کتب بینی کا اعلیٰ ذوق رکھنے والوں کے لیے

صدرِپاکستان جناب عارف علوی کی تجویز کردہ دس کتابیں
 مشہور زمانہ مصنف'چارلس چو' کی نئی تحقیق نے اقوامِ عالم میں تہلکہ مچا دیا کہ جس قدر وقت آپ ایک سال میں سوشل میڈیا پر ضائع کرتے ہیں اتنے وقت میں آپ دو سو کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔امریکی بزنس مین 'وارن بفے' جو دنیا کا امیرترین انسان ہے، کسی نے اُس سے دریافت کیا کہ آپ کی ترقی اور کامیابی کا راز کیا ہے تو اُس نے اپنی کتابوں کی الماری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا :' 'آپ کامیابی چاہتے ہیں تو روزانہ پانچ سو صفحات پڑھیں، آپ کے علم میں اضافہ ہوگا جو آپ کی کامیابی کا باعث بنے گا،لیکن میں جانتا ہوں کہ بہت کم لوگ میری اس بات پر توجہ دیں گے۔''
وسیع مطالعے کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے صدرِ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان، ڈاکٹر عارف علوی نے 13 فروری2022بروز اتوار اپنے ایک مختصر ویڈیو پیغام کے ذریعے قارئین کے لیے گزشتہ سال کی طرح امسال بھی دس کتابیں تجویز کی ہیں۔ یہ کتب اپنے دامنِ صفحات میں بے کراں و بے بہا عُلوم کے خزانے سمیٹے ہوئے ہیں۔ صدر علوی نے محدود حیاتِ فانی میں لامحدود علوم کی اہمیت ِ حصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعمیری اذہان کے لیے کتابوں کے مطالعے سے بڑھ کر کوئی تفریح نہیں۔ لہٰذا میں عمدہ ذوق ِ مطالعہ رکھنے والے اپنے محترم قارئین کے لیے اپنی سال بھر کی پڑھی ہوئی کتب سے دس کتابوں کا انتخاب پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کوئی اچھی کتاب پوری پڑھی جائے یا مصروفیت کے سبب ادھوری، بہرطور علم میں اضافے کا باعث ضرور بنتی ہے۔



صدرعلوی نے اپنی گفتگو کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ وہ کتب بینی کے انتخاب میں اول ترین خالقِ کائنات کے تخلیقِ کائنات کے احسان اور اس میں چھپے ہوئے رازوں سے پردہ اٹھانے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے  پہلی کتاب کا حوالہ شاہ بلیغ الدین کی تصنیف 'طوبیٰ 'کا دیا جس میں حضرت محمد مصطفیۖ کے اسوئہ حسنہ کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اسلامی تاریخ کے زرّیںابواب کی تب و تابانی دکھائی گئی ہے۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ میری جستجو رہی ہے کہ میں تحریکِ پاکستان اور برّصغیر کے رہنمائوں کے بارے میں بھی زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کروں تاکہ اُن کے احسانات کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ ہمیں آگاہ ہونا چاہئے کہ پاکستان حاصل کرنے کے لیے ہمارے رہنمائوں نے کیا قربانیاںدیں۔ کیا مؤثر کردار ادا کیا اور وہ کن سنہرے اصولوں پر کاربند رہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ہمایوں مرزا کی کتاب 'فرام پلاسی ٹو پاکستان'(From Plassey to Pakistan) کا تذکرہ کیا۔ یہ کتاب پاکستان کے پہلے صدرسکندر مرزا کے بیٹے ہمایوں مرزا کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں صوبہ بنگال ، موجودہ بنگلہ دیش،جو بہار اور اڑیسہ کی ریاستوں پر مشتمل تھا، کے ناظم نوابین کا خوبصورت تذکرہ ہے جو ہمایوں مرزا اور اُن کے والدسکندر مرزا کے آبائو اجداد تھے۔ تحریر میں ثابت کیا گیا ہے کہ ناظم نوابین، صوبہ بنگال کے بڑے بااثر حکمران رہے ہیں اور وہ انگریزوں کے انیسویں صدی کی ابتداء سے بیسوی صدی کے وسط تک برطانوی سامراج کے دورِ تسلط میں پاکستان بنانے کے لیے سخت جدوجہد کرتے رہے ہیں۔کتاب کے نظر ثانی شدہ ایڈیشن میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف سازشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیاہے۔ ہمایوں مرزادہشت گردی کے خلاف افواجِ پاکستان کی جنگ کا گہرائی سے تجزیہ بیان کرتے ہیں کیونکہ ملکی سالمیت کی پالیسی تشکیل دینے والوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ برّصغیر سیاسی طور پر باشعور لوگوں کا خطہ رہا ہے اور ان کا خانوادہ بھی انہیں بیدار مغز حکمرانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ تصنیف پاکستانی سالمیت کی پالیسی تشکیل دینے والوں کے لیے خصوصی طور پر اور تمام قارئین کے لیے عمومی طور پر بہت فائدہ مند دستاویز ہے۔ ہر وہ شخص جو اُن تاریخی حقائق میں دلچسپی رکھتا ہے، جن سے موجودہ پاکستانی اور بھارتی منظر نامہ عبارت ہے اور وہ اُن سے کچھ سبق حاصل کرنا چاہتا ہے، تو اس کے لیے ہمایوں مرزا کی کتاب بہت عمدہ و مفید حوالہ ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے خشونت سنگھ کی کتاب 'دی اینڈ آف انڈیا'  (The End of India)کا پڑھنا بھی باذوق قارئین کے لیے تجویزکیا ہے جس میں مصنف نے پیش گوئی کی ہے کہ بھارت آج کل ایسے بحرانی دور سے گزر رہا ہے اور ایسے اندرونی خطرناک مسائل کی آگ میں جھُلس رہا ہے جس میں جل کر اُس کا وجود خود ہی خاکستر ہو جائے گا۔ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی تباہی کی  نوبت نہیں آئے گی بلکہ اپنی اقلیتوں سے ناروا سلوک کی بنا پر خود بخود تباہ ہو جائے گا۔ مصنف لکھتا ہے کہ جو سکھ اور مسلمان نہ ہو کر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔خشونت سنگھ پیش گوئی کرتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب ہندو بالا دستی کا نظریہ لے کر پیدا ہونے والی تنظیمیں اپنے علاوہ سب کے لیے خطرہ ہوں گی۔ خشونت سنگھ عالمی شہرت یافتہ بڑے سینئر صحافی ہیں جو 1980 سے1986 تک راجیہ سبھا کے رُکن بھی رہے، بھارتی حکومت نے اُنہیں1974میں ملک کے دوسرے بڑے شہری اعزاز   'پدم بھوشن' سے نوازا تھا لیکن 1984 میں گولڈن ٹیمپل میں ہونے والے فوجی آپریشن'بلیو سٹار' پر احتجاجاً انہوں نے یہ اعزاز واپس کردیا تھا۔ مصنف بائیں بازو کے تاریخ دانوں اور مغرب سے متاثر ہ نوجوانوں کو ٹارگٹ کرتے ہوئے لکھتے ہیں اور پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی اپنے ٹویٹ میں درج ذیل پیرا گراف کا حوالہ  خشونت سنگھ کی کتاب 'دی اینڈ آف انڈیا' سے لیا ہے۔
''اب یہ بھارت، سکرٹ پہننے والی خواتین ، گوشت کھانے والے افراد، شراب پینے، مغربی فلمیں دیکھنے ، سالانہ مذہبی عبادت نہ کرنے اور مندر نہ جانے والوں، منجن کے بجائے ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے والوں، وید حکیموں کے بجائے ایلو پیتھک ڈاکٹر زکو ترجیح دینے والوں، جے شری رام کہنے کے بجائے ہاتھ ملانے یا بوسہ دینے والوں کے خلاف نفرت میں بدل جائے گا، کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔''
صدر محترم علوی نے ڈیرون ایسمو گلو اور جیمزاے رابنس کی کتاب(The Narrow Corridor) ''دی نیرو کوریڈوز '' یعنی'' تنگ راہداری''کے مطالعے کا بھی مشورہ دیا۔ دونوں کتاب لکھنے والوں نے ریاستوں، معاشروں کی آزادی کے مستقبل جیسے عنوانات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ مصنفوں نے مختلف تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ بادشاہت و آمریت کے درمیان صحیح آزادی کا راستہ بہت ہی تنگ ہے لیکن جن اقوام نے آزادی حاصل کی وہاں عوام النّاس کی آوازوں کو نہایت توجہ سے سُنا گیا۔ کیا جمہوریت کا کوئی مستقبل ہے؟ جبکہ توقع کی جارہی ہے کہ مستقبل میں، تاریخ کا اختتام ہو رہا ہوگا، آزاد جمہوریت ، آزاد معیشت قائم ہو چکی ہوگی۔ آج کل کے دور میں جب ترقی یافتہ ممالک ایک دوسرے کے مقابل برسرِ پیکار نظر آتے ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے میں آزاد جمہوریتوں کا قیام ممکن ہے، بڑھتی ہوئی دہشت گردی اس بات کی علامت ہے کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ تاریخ کا اختتام مختلف انداز میں ہو۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تحریکیں اس امر کی غماز ہیں کہ حکومتیں عوام کو جواب دہ ہوں جبکہ معاشیات کو کنٹرول کرنے والی قوتیں ایسے کسی نظام کو مسترد کرتی ہیں۔
 کتاب ''سیپئینز''(Sapiens)  میں مصنف 'یووال نوح ہراری' (Yuval Noah Harari)نے بحث کی ہے کہ تاریخِ تہذیب و تمدنِ انسانی نے اپنے کن اقدامات سے کس طرح ماحولیات کو متاثر کیا اور پھر کس انداز سے انسانی ڈی این اے میں تبدیلیاں آئیں۔ مصنف کا تعلق اسرائیل سے ہے اور ان کی کتاب Sapiens کو عالمی سطح پر کافی پزیرائی حاصل ہوئی۔ حتیٰ کہ سابق امریکی صدر باراک اُباما نے بھی اس کتاب کی بہت تعریف کی اور اسے انتہائی دلچسپ قرار دیا۔ ہراری کی یہ کتاب مطالعۂ بشریات کے حوالے سے اعلیٰ درجہ رکھتی ہے کیونکہ بنیادی طور پر نان فکشن کتابیں اور پھر اس طرح کا موضوع کا فی خشک ہوتا ہے مگر 'ہراری' نے اسے اپنے خوبصورت اندازِ تحریر سے دل پذیر بنادیا اور پڑھنے والا کسی مقام پر بھی بوریت محسوس نہیں کرتا۔ بقولِ ہراری زمین پر مادہ اور فقط توانائی موجود تھی۔ہراری کہتے ہیں کہ تقریباً ساٹھ ہزار سال پہلے ایک بن مانس نے دوبیٹیاں جنیں، ایک تمام بن مانسوں کی ماں بنی اور دوسری ہوموسیپئین یعنی ہم انسانوں کی جدی مادر بنی۔ یعنی ہراری نظریۂ ارتقاء کو ہی بیان کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں اس نظریۂ ارتقا سے انکار پایا جاتا ہے۔ ہراری کہتا ہے کہ پہلے والے انسان کا دماغ بھی چھوٹا تھا لیکن اُس میں طاقت بہت زیادہ تھی پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دماغ بڑھتاگیا اور طاقت گھٹنے لگی۔ہراری کی ہر بات مانی نہیں جاسکتی مگر جس طرح اُس نے اپنی بات بیان کی ہے وہ بہت دلچسپ ہے اور وہ انسانی عقل کو کمال اندازِ اسلوب سے حیران کرتا چلا جاتا ہے۔
صدر علوی نے ایک اور کتاب پڑھنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔(Future is faster then you Think)'' فیوچر از فاسٹر دین یو تھنک'' مستقبل آپ کی سوچ سے بھی زیادہ تیز ہے۔ اس کتاب کو 'پیٹر ایچ ڈایا مینڈس' اور' سٹوپن کا ٹلر' نے تحریر کیا ہے جس میں تخلیقِ کائنات کو موضوع بنایاگیا ہے، 'بگ بینگ تھیوری،  ٹائم سپیس اور تیز رفتار تبدیلیوں کے عنوات کو آئی ٹی انقلاب یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی کی رائے ہے کہ جس طرح آئی ٹی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے دیگر ممالک نے ترقی حاصل کی ہے بالکل اسی طرح پاکستان کو بھی ترقی کی منازل طے کرنی چاہئیں۔ صدر علوی نے اپنی گفتگو میں مصنف عظیم اظہر کی تصنیف کردہ کتاب ایکسپونینشل(Exponentiol) کا ذکربھی کیا ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ سائنسی میدان میں کس طرح مسابقتی ترقی حاصل کی گئی مگر معاشرے کی اکثریت کس طرح ترقی کے ان ثمرات سے بے خبر رہی۔ صدرمملکت نے بجا طور پر کہا کہ ہمارا معاشرہ سوشل میڈیا کے اثراتِ بد کا ادراک نہیں کرسکا، کچھ اسی طرح کی تبدیلیاں حکومتوں اور پالیسی سازوں کی جانب سے بھی محسوس کی جارہی ہیں۔ عظیم اظہرنے اپنی کتاب میں ایک خاص لفظ ''ایکسپونینشل گیپ''استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ جدید ایجادات کی وجہ سے دنیا جو ترقی کر رہی ہے انسانی ذہن اِس کا اُس تیزی سے ادراک نہیں کرپا رہا اور اس کو بقول مصنف ''ایکسپونینشل گیپ'' کہا جاتا ہے۔ اس کو وہ مثال سے سمجھاتے ہوئے کہتا ہے کہ انٹیگریٹڈچپ پر لگے ہوئے ٹرانسسٹرز، ہر دو سال کے بعد دوگنے ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے آج ہمارے ہاتھ کا یہ سمارٹ فون آج سے پچاس سال پہلے والے کمپیوٹر کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ طاقت ور ہے۔ عظیم اظہر کے خیال کے مطابق 3D پرنٹنگ ایک انقلابی ایجاد ہے جس کی وجہ سے آج ہم 'کووڈ ویکسین' کا علاج بہت جلد دریافت کرنے کے قابل ہوگئے۔ اس کتاب میں نئی ٹیکنالوجیز کے اثرات انسانی معاشرے میں کیا تبدیلیاں لے کر آئیں گے اور ان سے کس طرح فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کا گہرائی سے جائزہ لیاگیا ہے۔
 صدر محترم عارف علوی نے دیگر تین کتب کی طرف بھی رہنمائی کی ہے جس میں' ہینری اے کسنجر' کی کتاب (The Age of AI)''دی ایج آف اے آئی'' اور انسانوں کے مستقبل کا تذکرہ بڑا نمایاں نظر آتا ہے، ہینری اے کسنجر نے اس کتاب کو دیگر دو مفکرین 'ایرک سمٹ (Eiric Sehmiat)'اور' ڈانیال ہٹن لاکر'(Daniel Huten Locher)  کے ساتھ مل کر لکھا ہے ۔ دُنیاکے تین مستند مفکروں نے تحقیق کی ہے کہ کس طرح آرٹی فیشل انٹیلی جینس یعنی مصنوعی ذہانت ہم انسانوں کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتی ہے، اس مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی بھی میدان کو سرکیا جاسکتا ہے ۔ بشرطیکہ اس کا استعمال صحیح طور پر کیا جائے۔ اس کے کارناموں میں ایک یہ بھی ہے کہ بڑے سائنسدان جو خلیات کی خوبیوں کو ٹھیک طور پر نہ سمجھ سکے لیکن اس مصنوعی ذہانت نے اینٹی بائیوٹک کا تجزیہ کرکے خلیات کی ان خوبیوں کو معلوم کرلیا ۔ اب مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرون جہاز، انسانی ہوا بازوں کو ڈوگ فائٹ میں شکست دے رہے ہیں۔ اسی طرح اے آئی کے ذریعے تعلیمی طبی شعبوں میں اعلیٰ پائے کے تحقیقی کام ہو رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ غور و خوض کرنے والے اعلیٰ پائے کے  تین مدبّر سر جوڑ کر بیٹھے اور ہر زاویئے سے پرکھا کہ اے آئی کو بروئے کار لا تے ہوئے کِن کِن انسانی شعبوں میں کیاکیا ترقی کی جاسکتی ہے اورمختلف قوموں، معاشروں کو یہ مصنوعی ذہانت کس طرح متاثر کرسکتی ہے۔
وسیع مطالعہ کا شوق رکھنے والوں کے لیے صدر علوی نے نویں کتاب ''دی پینٹا گونز برین این اَن سینسرڈ ہسٹری آف ڈرپا''(Tehe Pentagon's brain'an Uncensored History of DARPA") تجویز کی ہے جسے امریکن جرنلسٹ خاتون 'اینی جیکو بسن' نے تحریر کیا ہے۔ اس میں دور ِ حاضر تک کی نیو کلیئر تحقیق، دفاعی معاملات ، سائبر سکیورٹی اور خلائی تحقیق کو موضوعات بنایاگیا ہے۔ ہو سکتا ہے اس کتاب میں کوئی چیز محیرالعقول دکھائی نہ دے لیکن بے شمار ہتھیاروں اور ان کے ٹیسٹ سے متعلق معلومات کو بے نقاب کیاگیا ہے۔ صدر نے بجا طور پر کہا کہ پاکستان کو بھی اس تناظرمیں جدیدترین دفاعی تیاریوں، خصوصی طور پر سائبروار اور سائبر سکیورٹی میں خود کو تیار کرنا چاہئے۔
صدر محترم نے دسویں اور آخری کتاب جس کا حوالہ دیا ، وہ ہے، کینتھ پائن کی ''آئی واربوٹ''(I,warbot)جس میں روبوٹک وار فیئر کے دور اور زندگی کے مختلف شعبوں میں انسانی افعال کی بتدریج روبوٹ سے تبدیلی کے موضوع کو نبھایا گیا ہے۔
اب کوئی بھی 'جنرل' مصنوعی ذہانت کو کام میں لائے بغیر جنگ نہیں جیت سکتا۔ لہٰذا اے آئی نے جنگی منصوبہ بندی میں خصوصی اہمیت اختیار کرلی ہے۔ جنگ کے میدان میں وارروبوٹس کا استعمال بڑا خطرناک اور تباہ کن بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ایک ایساخود کار مشینی آدمی  ہے جو دل نہیں رکھتا مگر کسی کو بھی جان سے مارنے کی بے پناہ قوت و صلاحیت رکھتا ہے، اگر اُسے کسی ضابطہ اور اخلاق کا پابند نہ کیا گیا تو وہ انتہائی ہولناکیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کو واربوٹس میں استعمال کرنے کے لیے کسی ضابطۂ اخلاق کا ہونا لازم ہے۔ ||


 

یہ تحریر 49مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP