متفرقات

کتاب تعلیمی ترقی کی ضامن

اسلام آباد میں نیشنل بُک فائونڈیشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ دسویں سالانہ قومی کتاب میلے کا احوال صبا زیب کے قلم سے
That's the thing about bokks.They let you travel without moving your feet. Jhumpa Lahiri

کتابوں سے محبت کرنے والوں کی ایک الگ ہی دُنیا ہوتی ہے جس سے نکلنے کو ان کا دل کم کم ہی کرتاہے۔ ان کی یہ دُنیا بہت ہی خوبصورت اور نہایت پُروقار ہوتی ہے جس میں وہ اور لوگوں کو بھی شامل ہونے کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ آج کل کے نوجوانوں میں تو کتاب پڑھنے کا رجحان ہی نہیںرہا، وہ جانتے ہی نہیں کہ کتابوں کی دُنیا کیا ہے اور کیسی ہے۔



اس کے برعکس میں ایک کتابی میلے میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دیکھ کرحیران رہ گئی یہ کتابی میلہ پاک چائنا فرینڈشپ سنٹر میں نیشنل بُک فائونڈیشن کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا تھا۔ نیشنل بُک فائونڈیشن کے زیرِ اہتمام یہ میلہ ہر سال کتاب کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میلے میں کتاب کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لئے مختلف نوعیتوں کے پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں جو کتاب کلچر کے فروغ، سماجی و ثقافتی شعور، قومی یگانگت، امن و خوشحالی اور علم کی ترویج و ترقی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس میلے میں ایک بڑی تعداد میںنوجوا نوں، خاص طور پر نوجوان طالب علموں، کو ان کے سکول اور کالج کے یونیفارم میں دیکھ کر بہت اطمینان ہوا کہ ہماری آنے والی نسل میں کتاب پڑھنے کا شوق باقاعدہ طور پر اُجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Digitalisation کے اس دور میں جہاں کتاب کی جگہ موبائل فون اور ٹیبز لینے کی کوشش کررہے ہیں وہاں کتاب کی اہمیت کو اُجاگر کرنا بہت مشکل کام ہے اور یہ کام نیشنل بک فائونڈیشن نہایت احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہے۔ ان کا یہ سالانہ قومی کتاب میلہ ایک مستقل قومی تہوار کی شکل اختیار کرچکا ہے جس کا شائقین کتب شدت سے انتظار کررہے ہوتے ہیں۔ اس میلے میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ہر عمر کے لوگ آتے ہیں اور اپنی پسند کی کتابیںخریدنے کے ساتھ ساتھ وہاں پر ہونے والے مختلف نوعیت کے ادبی پروگرامز میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ ہرسال کی طرح اس سال بھی یہ کتاب میلہ تین دن تک جاری رہا۔ اس میں مختلف پبلشرز، بُک سیلرز اور اداروں نے 180 سے زائد بُک سٹال لگائے اور یہاں سے شائقینِ کتب نے پُرکشش رعایت پر کتابیں خریدیں۔
اس کتاب میلے میںکتاب خوانی، کتابوں کی تقاریبِ رونمائی، علم و ادب سے متعلق مختلف  موضوعات پرکانفرنسیں، ورکشاپس اور مذاکرے بھی ہوئے۔ اس کے علاوہ بچوں کے لئے'گوگی شو' کوئز سیشن، تخلیقی نگارشات، اقبال شناسی وغیرہ جیسے دلچسپ پروگرامزکا انعقاد بھی کیا گیا۔ دسویں قومی کتاب میلے کا موضوع ''کتاب تعلیمی ترقی کی ضامن'' تھا جو کہ پبلسٹی، اشتہارات ، بروشرز، دعوت نامے ، بینرز، پوسٹرز، سٹیشنری اور دیگر سرگرمیوں میں ایک پیغام کے طور پر نمایاں کیا گیا۔ کتاب میلے میںکتابوں کے مختلف سٹالزکو دیکھتے ہوئے اور کتابیں خریدتے ہوئے میں ایک کمرے میں گئی جہاں پر نوید امان خان کی کتاب ''پاک چائنااکنامک کوریڈور اور علمی، ادبی اور ثقافتی روابط'' پر ایک مذاکراہ ہو رہا تھا۔ مجھے یہ موضوع بہت دلچسپ لگا۔ کیونکہ سی پیک کو پاکستانی معیشت کے لئے تو ایک گیم چینجر سمجھا جا رہا ہے لیکن علم وادب اور ثقافت کے اعتبار سے سی پیک کو دیکھنا واقعی ایک منفرد موضوع لگ رہا تھا۔ لہٰذا میں بھی اس مذاکرے کو سننے والوں میں بیٹھ گئی۔ مذاکرے میں ڈاکٹر طلعت بشیر جو کہ ڈائریکٹر چائنا پاکستان سٹڈی سنٹر انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سنٹر ہیں،کہہ رہے تھے کہ رائٹر بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کتاب کے ذریعے کیسے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے ایک رائٹر کے لئے اپنی مٹی  سے جُڑا ہونا ضروری ہے اور یہ خوبی نویدامان میں بدرجہ اتم موجودہے یعنی وہ ایک ہمدرد اور رحم دل انسان ہیں۔ ان کی لکھائی میں diversity کے ساتھ ساتھ وقار بھی ہے۔ 
ڈاکٹر صفدر علی شاہ، جو ڈائریکٹر جنرل سی پیک ایچ ای سی ہیں، بھی وہاں موجود تھے کہنے لگے کہ ہم Exchange Programeکے تحت چائنا کی یونیور سٹیز کے ساتھ اپنی یونیورسٹیز کا ایک Cluster بنا رہے ہیں۔ اس طرح ہم ان سے چائنا کے کلچر کے بارے میں جان سکیں گے اور وہ ہمارے کلچر کے بارے میں جانیں گے۔ انہوںنے بتایا کہ مجھے چائنا کی ایک یونیورسٹی سے باقاعدہ دعوت دی گئی ہے کہ میں وہاں Diversity in Pakistani Culture پر ایک لیکچر دوں۔ مذاکرے میں کچھ اورشرکاء نے بھی کتاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کتاب کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چائنا کی ثقافت کے مختلف پہلوئوں کو اُجاگر کیا۔
مذاکرہ سننے کے بعد میں جب باہر نکلی تو کچھ نامور دانشور اور ادیب ایک ساتھ خوشگوار موڈ میں کھڑے باتیں کررہے تھے۔ اُنہیں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ فوراً آگے بڑھ کر سلام کیا اور اپنا تعارف کروایا۔ کمال مہربانی سے انہوںنے اپنی توجہ میری طرف مبذول کی اور میں کتاب میلے کے حوالے سے ان کی رائے جاننے لگی۔

ڈاکٹر اجمل نیازی نے کہا کہ کتابوں سے دوستی زندہ معاشروں کی نشانی ہوتی ہے۔ کتاب شعورہے، آگہی ہے اور محبت ہے۔ کتابیں معاشرے میں باہمی اخوت اور اپنائیت کو فروغ دیتی ہیں۔ نیشنل بُک فائونڈیشن اس حوالے سے قابلِ ستائش ہے کہ یہ ہر سال قومی سطح پر کتاب میلہ منعقد کرکے کتاب کلچر کو فروغ دے رہی ہے۔




نیشنل بُک فائونڈیشن کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا راز کتاب دوستی میں پنہاں ہوتاہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور بالخصوص نوجوانوں کو کتاب کی جانب راغب کرنا ہوگا کہ حقیقی تعلیمی ترقی کا فروغ کتاب ہی کے ذریعے ممکن ہے۔
 

 


فرخ سہیل گوئندی جو کہ معروف قلم کار اور دانشور ہیں کہنے لگے کہ مغرب میں بھی اور ہمارے ملک میں پچھلے دس سالوں سے کتاب پڑھنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ نئے موضوعات پڑھنا چاہتے ہیں اور کتاب کیAuthenticity انٹر نیٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔



پنجابی اور اُردو کے منفرد لہجے کے نامور ادیب و شاعر سعداﷲ شاہ نے کہا کہ ایسے کتاب میلوں کی ایک تاریخی حیثیت ہے کہ یہ آج کی نئی نسل، جنہوںنے کل کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنا ہے، کو کتاب دوستی کے مواقع فراہم کررہے ہیں اور ان کتاب میلوں سے ہر عمر کے حضرات و خواتین اپنے ذوق کے مطابق کتابیں خریدتے اور پڑھتے ہیں۔

 


 معروف شاعر ڈاکٹر اختر شمار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جن کا کتاب کے ساتھ رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ادیب ہونے کے ساتھ چونکہ خود ایک کالج میں پڑھاتا بھی ہوں اس لئے مجھے اندازہ ہے کہ وہ بچے جو کتابیں پڑھنے کا شغف رکھتے ہیں ان کا آئی کیو لیول دیگر بچوں سے بہت بہتر ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں نئی نسل کو کتاب کی طرف راغب کرنے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔

 

ممتاز شاعر ناصر بشیر نے کہا کہ نیشنل بُک فائونڈیشن کو اس حوالے سے خراجِ تحسین پیش کرنا چاہئے کہ وہ ہرسال قومی سطح پر کتاب میلہ سجا کر عوام الناس میں شعور اور آگہی کا پرچارکرتی ہے۔

یہ تحریر 75مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP