قومی و بین الاقوامی ایشوز

کامیابیوں کا سفر سپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے پاکستان کا محکمہ ٹیلیفون و ٹیلیگراف آزادجموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی فراہمی کا ذمہ دار تھا۔ لیکن انتہائی بوسیدہ اور کمزور مواصلاتی ڈھانچے کی وجہ سے اکثر علاقوں کا رابطہ ملک کے دوسرے علاقوں سے منقطع رہتا تھا۔ اس خطے کی دفاعی اور سٹریٹجک اہمیت اور عوام کی سہولت کے پیش نظر وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر آزادجموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مواصلاتی نظام کا نظم و نسق سنبھالنے کی سہولت کے پیش نظر سروسز کی فراہمی کی ذمہ داری پاک فوج کے حوالے کر دی گئی۔ اس کے نتیجے میں 16جولائی 1976کو سپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن (ایس سی او) کا ادارہ قائم کیا گیا۔ جب ایس سی او نے مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری سنبھالی تو اس وقت پورے آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات میں صرف 5 (Exchanges) تھے جن کی لائنیں محض سینکڑوں میں تھیں۔ ایس سی او نے مشکل ترین حالات کے باوجود اس چیلنج کو قبول کیا اور قلیل عرصے میں انتہائی محنتی ورک فورس کی بدولت ان دوردراز پہاڑوں پر بسنے والوں کا پوری دنیا سے بذریعہ ٹیلیفون رابطہ شروع کر وا دیا اور جن راستوں پر عام حالات میں چلنا بھی دشوار اور کٹھن تھا وہاں ڈائریکٹ ٹیلی فون کی سہولت بہم پہنچا کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔

ابتدائی 28برس کے دوران ایس سی او نے زیادہ تر علاقوں میں لینڈ لائن ٹیلی فون کی سہولت فراہم کرنے پر توجہ دی۔ اس دوران ایس سی او نے اپنی تاروں کے نیٹ ورک اور ڈیجیٹل ٹیلی فون (Exchanges) کو وسعت دے کر ڈائریکٹ ڈائلنگ کی سہولیات آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات کے دور دراز علاقوں تک پہنچائیں۔ سال 2004میں ایس سی او کے زیرانتظام علاقوں میں آپٹیکل فائبر کیبل ‘ مائیکرویو اور سیٹلائٹ سسٹم نصب کیا گیا جس سے آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات میں رابطے کی جدید سہولیات میسر آئیں۔ اسی سال ایس سی او نے وائرلیس ٹیکنالوجی یعنی جی ایس ایم‘ موبائل ٹیلیفون سروس ایس کام (S.COM) کا بھی آغاز کر دیا تھا۔ اس وقت آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات کے تقریباٍ تمام علاقوں کے عوام اس جدید ترین مواصلاتی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ایس سی او کا وائرلیس نظام پورے خطے میں چند بڑے نیٹ ورکس میں شامل ہے۔ 2005میں ایس سی او نے آزادکشمیر میں وائرلیس لوکل لوپ ایس سی او‘ سی ڈی ایم اے (CDMA) کے نام سے شروع کی جس کو سستے پیکیجز‘ پوسٹ پیڈ‘ پری پیڈ‘ ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات کی بنا پر عوام میں بہت جلد پذیرائی حاصل ہوئی۔ اسی سال ایس سی او نے اپنا انٹرنیشنل گیٹ وے ایکسچینج اور سیٹلائٹ ارتھ اسٹیشن بھی قائم کر لیا۔ سال 2007میں ایس سی او نے آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ (DSL)اور ڈائل اپ سروس (Snet) کا آغاز کیا جو سستے ترین پیکیجز پر مشتمل ہے۔ 2009میں ایس سی او نے شمالی علاقہ جات میں ایس سی او نادرن وائرلیس WLLسروس کا آغاز کیا۔ آج ایس سی او کو آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات میں سب سے بڑا ’’لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل آپریٹر‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو کہ ان علاقوں میں ٹیلی مواصلات کی تمام جدید ترین سہولیات جن میں لینڈ لائن موبائل وائرلیس لوکل لوپ (WLL)براڈ بینڈ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل کراس کنیکٹ (DXX) سروسز شامل ہیں فراہم کر رہا ہے۔ ا ن کے اعتراف میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے بھی ایس سی او کو (Significant Market Player) کا اعزاز دیا گیا۔

سماجی خدمات کے میدان میں بھی ایس سی او نے گراں قدر کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ 2005میں آزادکشمیر میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے دوران SCOکو جانی نقصان کے ساتھ ساتھ اس کے ٹیلی کام نیٹ ورک کے شدید نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یہاں نامساعد حالات کے باوجود کمیونیکیشن کی بحالی کے لئے فوری اقدامات اٹھائے گئے اور 72گھنٹوں کے اندر اندر 80فیصد کمیونیکیشن بحال کر دیا گیا۔ متاثرہ علاقوں میں عوام کی سہولت کے لئے فری سیٹلائٹ پبلک کال آفس ‘ فری S.COM موبائل فون ‘ فری CDMA (WLL)کنکشن‘ فری لینڈ لائن ٹیلیفون کی فراہمی کے علاوہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بلوں کی مد میں چھہ ماہ کی چھوٹ دی گئی۔ آج بھی آزادکشمیر کی عوام زلزلے کی تباہی کے دوران اور بعد میں ایس سی او کی اعلیٰ عملی کارکردگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اسی طرح سیاچن کے گیاری سیکٹر میں 7اپریل 2012کو پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد پاک فوج نے لاکھوں ٹن برف تلے دبے اپنے 140شہداء کے جسد خاکی کو بحفاظت نکالنے کے لئے دنیا بھر میں اپنی نوعیت کے پہلے اور سب سے مشکل آپریشن کا آغاز کیا۔ SCOنے ان امدادی کارروائیوں میں خاطر خواہ معاونت فراہم کرتے ہوئے ایک ایسے علاقے میں جو پہلے ٹیلی کام کی سہولیات سے بالکل محروم تھا میں سیولر سروسز کی فراہمی کی غرض سے نئے جی ایس ایم بی ٹی ایس (Tower) کی تنصیب کو مکمل کیا۔ براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز کو وسعت دی اور راولپنڈی کو گیاری سے براہ راست Video Streaming کے لئے ڈائریکٹ سیٹلائٹ لنک بھی قائم کیا گیا۔ اسی طرح عطا آباد گلگت بلتستان کے سانحے میں بھی SCOنے اپنی بھرپور خدمات پیش کیں۔ ترقی اور کامیابیوں کے اس سفر میں ایس سی او نے اپنی بے شمار قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا جنہوں نے اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے فرائض کی ادائیگی کو اولین سمجھا اور تاریخ میں اپنا اور ایس سی او کا نام سنہری حروف میں رقم کیا۔

ایس سی او کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں ہر جگہ ٹیلی مواصلات کے شعبہ میں اپنی مہارت اور ذرائع سے ہر ممکن تعاون اور خدمات بہم پہنچائے۔ SCOکے ترقیاتی پروگرام اپنے علاقے میں آرمی کی دفاعی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ آج ان علاقوں میں آرمی کی یونٹوں اور دیگر دفاعی تنصیبات کو مہیا کئے گئے سول ٹیلیفون نمبرز PL Route بہت سی ٹیلیفون ایکسچینجز‘ مائیکروویو (MW) اور فائبر آپٹکس لنکس کی بدولت ٹیلی کام میڈیا کی فراہمی ان خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیراعظم پاکستان کے چین کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان کے مابین پاک چائنہ OFCپراجیکٹ کے نام سے ایک منصوبے پر دستخط کئے گئے۔یہ ایک سٹریٹجک اہمیت کا منصوبہ ہے جس کا مقصد ہمسایہ ممالک کے درمیان آپٹیکل فائبر کیبل کے ذریعے پاکستان کو متبادل انٹرنیشنل کونیکٹویٹی فراہم کرنا ہے۔ اس تاریخی میگاپراجیکٹ سے پاکستان کو بے شمار اقتصادی اور معاشی فوائد میسر آئیں گے۔ خطے میں تجارت و سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا اور آئی ٹی کے حوالے سے آگاہی بڑھے گی۔ خاص طور پر گلگت بلتستان کے عوام کے لئے اقتصادی ترقی کے مواقعوں میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ تیز ترین ترقی کے اس دور میں SCOمستقبل میں بھی اپنے صارفین کو مواصلات کی جدید ترین ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لئے SCOموبائل سروس کی 2G Networkپر منتقلی‘ Quad Play (Wireless TPS)‘ WiMAX(World Wide interoperability for microwave Access) اور (Fiber-to-the-home)FTTHجیسی سہولیات فراہم کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔

یہ تحریر 76مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP