متفرقات

کاش پاکستان کرکٹ ٹیم کو علم ہوتا

دنیائے کرکٹ کا بچہ بچہ کرکٹ ورلڈ کپ 2015 کے بخار میں مبتلا تھا۔ دنیا بھر کی نظریں پاک بھارت پُول میچ پر لگی ہوئی تھیں۔ برِصغیر پاک و ہند میں کس و نا کس اسی میچ کے تذکرے میں مشغول تھا۔ میچ کا سوچتے ہی نوجوان نسل کا دورانِ خون تیز ہونے لگتا۔ ایسے میں گلگت بلتستان بھلا کیسے پیچھے رہتا۔ یہ علاقہ ان ماؤں کا بسیراہے جن کے جواں سال بیٹے مادرِوطن پاکستان کی سرحدوں کی آبیاری اپنے گرم خون سے کرتے چلے آرہے ہیں۔

بلتستان کے ضلع سکردو میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ ایک ایسا گاؤں واقع ہے جسے بھارتی توپخانے نے 1990 کی دہائی میں بارہا نشانہِ بربریّت بنایا اور گاؤں کی مسجد شہید کرنے کے علاوہ کئی گھر بھی منہدم کر ڈالے۔ اس گاؤں کے باشندے انتہائی جذباتی پاکستانی ہیں۔ گاؤں میں بجلی وغیرہ ندارد۔ یہ فروری 2015 کا واقعہ ہے ،جب گاؤں کے نوجوانوں نے تہیہ کیاکہ اس بار پاک بھارت میچ ضرور دیکھیں گے۔ یہ وہی نوجوان تھے جو گاؤں کے ترکھان کے ہاتھوں بنے بلّے اور وکٹوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے تھے۔ پروگرام یہ بنایاگیا کہ مناسب رقم جمع کر کے سکردو سے جنریٹر، ٹی وی اور ڈِش وغیرہ کرائے پرلائے جائیں اور پاک بھارت میچ دیکھنے کا اہتمام کیا جائے۔ چند دن کی تگ و دو کے بعدوہ لوگ تقریباََ دس ہزار روپے اکٹھے کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ابھی وہ پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ سکردو روانہ ہونے ہی والے تھے کہ گاؤں کی ایک انتہائی بزرگ خاتون گھر سے باہر آئی اور اپنے دوپٹے کے کونے میں بندھے دو سو روپے نکال کر ان نوجوانوں کے حوالے کر کے گویا ہوئی " بچو! یہ میری طرف سے رکھ لو۔ میرے پاس بس یہی کچھ ہے۔ جاؤ سکردو سے جو چاہو ، لے آؤ۔ مگر یاد رکھو! جیتنا پاکستان ہی چاہیے۔"

کاش پاکستان کرکٹ ٹیم کو علم ہوتا اور کاش گاؤں کی وہ بوڑھی امّاں میچ کے نتیجے سے لا علم رہتی

کاش پاکستان کرکٹ ٹیم کو علم ہوتا اور کاش گاؤں کی وہ بوڑھی امّاں میچ کے نتیجے سے لا علم رہتی

یہ تحریر 14مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP