شعر و ادب

کار۔روائی

روڈیوز ایج بل1998

(Road Usage Bill)

کے مطابق بوڑھوں کے گاڑی چلانے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور کہا ہے کہ55 سال اور اس سے زائد عمر کے بوڑھے ڈرائیونگ نہیں کرسکیں گے۔ ہم مانتے ہیں ہمارے ہاں ناممکن کے علاوہ بھی بہت کچھ ممکن نہیں۔ ہمیں اتنا اعتراض ڈرائیونگ پر پابندی لگانے پر نہیں۔جتنا55 برس کے افراد کو بوڑھا کہنے پر ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ بوڑھا ہونا کوئی بری بات ہے ۔ بوڑھا ہونا آسان نہیں، اس پر برس ہا برس لگتے ہیں۔ ایک سیانے کے بقول بڑھاپے سے اتنا پریشان ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ کچھ لوگ اتنے خوش قسمت نہیں بھی ہوتے۔ دانشور تو کہتے ہیں زندگی40 سال کی عمر سے شروع ہوتی ہے۔ اسے حساب سے55 کی عمر تو ابھی لڑکپن ہے۔ یہ الگ بات ہے پاکستان میں یہ لڑکپن زیادہ ہو جاتا ہے۔ یاد رہے جتنے برس میں مرد55 سال کا ہوتا ہے ضروری نہیں کہ اتنے برسوں میں عورت بھی اسی عمر کی ہو۔ کیونکہ وقت کسی مرد کے لئے رُک کر انتطار نہیں کرتا لیکن35 برس کی خاتون کے لئے ایک جگہ پر ٹھہر جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو عجیب زندگی ہے۔ جب جا کے بندہ اس قابل ہوتا ہے کہ پیٹ بھر کر کھاسکے ڈاکٹر منع کردیتے ہیں، جس عمر میں بندہ گاڑی خریدنے جوگا ہوتا ہے اس عمر میں اس کے لئے گاڑی چلانا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ ویسے تو جن کے پاس پہلے سے گاڑی ہے اُنہیںکون سا ڈرائیوکرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہم نے ایک 55 سالہ شخص سے پوچھا ''یہ کار آپ کی ہے''؟ بولے ''کبھی کبھی''۔ پوچھا ''کیا مطلب'' کہا ''جب یہ سروس ہوکر آتی ہے تو بیوی کی ہوتی ہے، جب کہیں پارٹی ہو تو بیٹے کی، جب مینابازار یا شاپنگ پر جانا ہو تو بیٹی کی اور جب ٹینکی خالی ہو تو میری۔

 (ڈاکٹر محمد یونس بٹ ۔بٹ پارے)

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP