متفرقات

کاروانِ عزم کا رہبرحسینؓ ہے

عفت وعصمت اور طہارت کا مجسمہ ، راکب دوش نبی ﷺامام حسینؓ ابن علیؓ سلسلۂ امامت کے تیسرے فرد ہیں۔آپؓ کی عبادت، زہد، سخاوت اور کمال‘ اخلاق کے دوست ، دشمن سب ہی قائل تھے، امام حسینؓ زندہ دل اور قوت و جذبے سے بھرپور شخصیت تھے۔ آپ کے مزاج میں شجاعت اور دلیری اپنے والد حضرت علیؓ سے آئی تھی جبکہ لہجے کی شیرینی و حلاوت اپنے نانا جناب رسول خداﷺسے نسبت کا مظہر تھی۔آپؓ بہترین جنگجو تھے‘ جن کا بابا حیدر کرارؓ جیسا شجاع ہو وہ سپوت دلیری کی مجسم تصویر تھے۔ سخی ایسے تھے کہ آپ کے دروازے پر حاجتمندوں کا ہجوم رہتا، کمال یہ کہ کوئی سائل خالی واپس نہیں جاتا اسی لئے آپ کا لقب ابوالمساکین ٹھہرا۔آپ کا ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی حاجت روائی کرتے، جناب حْرؓ لشکر یزید کے اہم رکن تھے، جناب حُرؓ کو کربلا کے میدان میں بھیجا تو گیا تھا امام حسینؓ کے قافلے کو راستے میں ہی روکنے اور گرفتار کرنے کے لئے، مگر حْرؓ کے لشکر میں پانی کا ذخیرہ ختم ہوگیا، یہ حسینؓ کا ہی ظرف تھا کہ آپؓ نے اپنے دشمن کی فوج کو بھی سیراب کردیا۔ یہی وہ رویہ تھا جسے دیکھ کر جناب حرؓ نے امام عالی مقامؓ کی منزلت و معرفت کو پا لیا اور تڑپ کے صدائے حسینؓ پہ لبیک کہا اور فوج حق کا حصہ بن گئے۔ امیر معاویہؓ کے وصال کے بعد جب ان کا بیٹا یزید جانشین ہوا تو اس نے تخت سنبھالنے کے لئے تمام مسلمانوں سے بیعت لینا شروع کردی۔ یزید اپنے ذاتی کردار میں نہایت قبیح اوصاف کا مالک تھا،اسے سیروشکار اور شراب و شباب سے شغف تھا۔ لہٰذا ایسے فاسق و فاجر کو امیر المومنین تسلیم کرنا فرزند رسولؓ کے لئے ممکن نہ تھا۔ اپنے نانا کے دین کی سر بلندی اور اسلام کا اصل چہرہ مسخ ہونے سے بچانے کے لئے امام حسینؓ نے بیعتِ یزید سے انکار کردیااور یہی انکار آج بھی ہمت حسینی کا عَلَم بردار ہے۔ آپؓ کی شخصیت میں امن پسندی کا یہ عالم تھا کہ آپ میدان کربلا میں بھی اپنے دشمن کو راستی کی دعوت دیتے رہے ، اپنے خون کے پیاسوں کو قتال سے روکنے کے لئے صلح کی کوشش کرتے رہے۔ مگر آپ کا ایک فیصلہ تھا، ایک عزم تھا کہ کسی باطل قوت کے آگے سر نہیں جھکانا‘ یہی وہ عزم تھا جس پہ آپؓ آخری سانس تک ڈٹے رہے۔
پانی سے تین روز ہوئے جس کے لب نہ تر

تیغ و تبر کو سونپ دیا جس نے گھر کا گھر

جو مر گیا ضمیر کی عزت کے نام پر

ذلت کے آستان پہ جھکایا مگر نہ سر

(جوش ملیح آبادی)

امام حسینؓ نے انکار بیعت کیا تھا اور اس انکار سے آپؓ ایک انچ نہ ہٹے۔ایک جانب تمام تر ترغیبات کے باوجود امام حسینؓ اپنے فیصلے اور راہ حق پر قائم رہے تو دوسری جانب یزیدی ٹولہ امام حسینؓ سے بزور طاقت بیعت لینے پہ بضد تھا۔ لشکر یزید کو حکم تھا کہ اگر حسینؓ اور ان کے ساتھی اپنے آپ کو حوالے کر دیں تو بہتر ہے ورنہ جنگ کی راہ لو۔ واقعہ کربلا عراق کے دشتِ نینوا میں سن 61 ہجری میں رونما ہوا، آپؓ کے 72 ساتھیوں میں 18 مجاہد خاندان رسالت کے سپوت تھے جبکہ قافلہ حسینی میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔جہاں ذکر قیام حسینی آتا ہے وہیں ان کے جانباز ساتھیوں کا نام بھی تاریخ وفا میں رقم ہے۔ میدان کربلا میں ایک طرف یزیدی لشکر چالیس ہزار فوجیوں اور بھاری جنگی ساز و سامان پر مشتمل تھا تو دوسری جانب امام عالی مقامؓ کے 72 جاں نثار تھے، آپؓ تعداد میں مختصر مگر عزم و حوصلے میں ایک لاجواب لشکر کے امیر تھے۔ آپؓ کے مختصر لشکر نے دشمنوں کی یلغار کا پوری قوت ایمانی سے ڈٹ کر مقابلہ کیا ،جانثار ایک ایک کرکے کٹ مرے لیکن میدان جنگ سے منہ نہ پھیرا۔ کیا وجہ ہے کہ امام حسینؓ کا قیام اور دلیرانہ اقدام آج بھی جرأت و بہادری کا استعارہ ہے۔ دراصل اسلامی تاریخ میں واقعہ کربلا نے قطع استبداد کی ایک نئی بنا ڈالی۔ اسلام‘ جس کا اصل مشن بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی ، فکری حریت، انسان دوستی ، مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا، امام حسینؓ اور آپؓ کے ساتھیوں نے اپنے سر کٹا کے اْس دین برحق کو بچا لیا۔ امامؓ حسین محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقا و بحالی کے لئے میدان عمل میں اترے ، امام حسینؓ نواسہ رسول ﷺ تھے چاہتے تو گوشہ نشینی اختیار کرتے اور پرسکون زندگی گزارتے مگر آپؓ نے حق کے پُر خار رستے کو اپنایااور راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور جفا ، بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔ امام حسینؓ نے باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کرحق کے اصولوں کی بالادستی ، حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی۔ آج عالمی سطح پر مسلمانوں کے دگرگوں حالات کسی سے مخفی نہیں بحیثیت امت ہماری کمزوریاں بھی عیاں ہیں۔ ایسے میں امت محمدی کو حسینؓ ابن علیؓ جیسے بلند کردار راہبر کی ضرورت ہے۔ حسینؓ حق کو پہچانتے تھے اسی لئے انہوں نے لشکرباطل کو کبھی حق نہیں گردانا ، سر بریدہ ہو کے ، صَرفِ زنداں ہوکے ، پا بجولاں ہوکے بھی اعلان حق کرتے رہے ، حسینؓ انسانیت کو اس کی منزل کا پتا تا ابد دیتے رہیں گے۔ امام حسینؓ کے اسی انقلابِ حق کی ضو افشانی پہ جوش ملیح آبادی نے خوب کہا:
یہ صبحِ انقلاب کی جو آج کل ہے ضَو

یہ جو مچل رہی ہے صبا، پھٹ رہی ہے پَو

یہ جو چراغِ ظلم کی تھرا رہی ہے لَو

در پردہ یہ حسینؓکے انفاس کی ہے رَو

حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستو

یہ بھی اُسی جَری کی ہے آواز دوستو

(مضمون نگار نجی ٹی وی چینل میں رپورٹر، اور ایک کتاب کی مصنفہ ہیں)

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP