قومی و بین الاقوامی ایشوز

ڈومیسائل لاء کشمیر

 یہ وہ وقت ہے جب ایک صدی بعد دنیاکسی وبا کا سامناکررہی ہے ۔ہر سو انسان اپنی کوتاہیوں کارونارورہاہے۔باشعورعوام وحکمران یہ سوچنے پرمجبورہیں کہ اربوں ڈالرلگاکراسلحہ کے ڈھیرلگادیئے لیکن آج بھی ہم غیر محفوظ ہیں۔ دوسری جانب برصغیرکی بدقسمتی دیکھئے کہ ایسے المناک لمحات میں جب اخباراٹھاتے ہی قاری کی مایوس نظریں گزشتہ دن کی لاشوں کی تعداد جاننا چاہتی ہیں، ایسی کربناک ساعت میں کشمیری اپنی زمین پر ہونے والی پے درپے زیادتیوں کی نئی داستان ِمزاحمت میں کھو ئے ہوئے ہیں۔آٹھ ماہ سے گھروں  میں مقید کشمیریوں پر ڈومیسائل لاء کا نیا بم گرادیاگیاہے۔



تاریخی تناظر میں اگردیکھاجائے تو انڈیا کے دستورکی دفعہ 370کے تحت کشمیر بھارت کی آئین ساز اسمبلی،سپریم کورٹ اور پبلک سروس کمیشن کی حدود سے باہرتھا۔اس دفعہ کا نفاذ بھارت کی جانب سے نہرودورِحکومت کے دوران1954میں کیاگیاتھا جسے بی جے پی حکومت نے 5اگست کومکمل طورپر ختم کردیا۔کشمیرکااپناپرچم تھا، ترانہ تھا اورلسانی اعتبارسے تو ویسے ہی وہ پورے بھارت سے مختلف ٹھہرا۔دفعہ 370کی منسوخی سے قبل جموں وکشمیر میں تمام سرکاری ملازمتوں پرصرف کشمیری ہی اپلائی کرسکتے تھے اورغیرکشمیری اِدھرزمین بھی نہیں خرید سکتے تھے۔ نیز ڈومیسائل کا اجراء بھی کشمیری ہی کوکیاجاتاتھا۔یکم اپریل 2020کو بھارت نے ڈومیسائل لاء کی منظوری دی جس کی رو سے غیر کشمیری کو کشمیر ی بننے کے لئے قانون میں حددرجہ نرمی کردی گئی۔محض نان گزیٹڈ نوکریاں ہی جموں وکشمیرکے ڈومیسائل حقوق رکھنے والوں تک محدودرہیں گی۔ اس قانون کے مطابق کشمیر میں پندرہ سال سے رہائش پذیر افراد یا وہ طالب علم جو گزشتہ سات برس سے وادی میں رہ رہاہو یاپھر دسویں اوربارہویں جماعت کے امتحانات اس نے جموں وکشمیر میں دیئے ہوں ،یا Rehabiliation Commission  یا ریلیف کمشنر کے دفتر میں بطور مہاجر رجسٹرڈ افراد باآسانی کشمیر کے مستقل رہائشی بن سکتے ہیں۔اس نئے متنازعہ قانون کے تحت مرکز کے ملازمین،آل انڈیاسروس آفیسرز،PSUs کے عہدیداران،مرکزی حکومت کے بااختیارادارے،مرکزی جامعات، مجالس آئینی اورمرکزکے مسلمہ تحقیقی اداروں کے عہدیداروں جنھوں نے گزشتہ دس برسوں میں جموں وکشمیر میں اپنے سرکاری فرائض انجام دیئے ہیں، ان کو اوران کی اولاد کوجموں وکشمیرکے ڈومیسائل کے حقوق حاصل ہوں گے۔مذکورہ شرائط کے تحت جموں وکشمیر میں آنے والے والدین کے بچے اگر اپنے کاروباراوردیگر مجبوریوں کی وجہ سے ریاست سے باہر رہنے پرمجبورہیں توان کوبھی جموں وکشمیرکے ڈومیسائل کے حقوق حاصل ہوں گے اورغیرکشمیری زمین بھی خرید سکیں گے۔اس نئے قانون کے تحت اب ڈومیسائل دینے کا اختیار ڈپٹی کمشنر کے بجائے تحصیل دارکے پاس ہوگا۔اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی طرف سے مقررکردہ آفیسرکوبھی یہ اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ ڈومیسائل کا اجراء کرسکے۔
پاکستان جوکہ ہرقدم پرکشمیریوں کی سفارتی واخلاقی مددکرتاآیاہے اس نازک موڑ پر بھی کشمیریوں کاہم آوازبن کرکھڑاہے اوراقوام عالم کے سامنے ان کامقدمہ احسن اندازمیں پیش کررہاہے۔تین اپریل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ The New Jammu and Kashmir Reorganization Order 2020فورتھ جینیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ قانون دنیا کی کرونا وائرس سے توجہ ہٹانے کی ایک مذموم کوشش ہے کیونکہ بی جے پی کو محض ہندوتوا کی بالادستی کے ایجنڈے کو آگے بڑھاناہے۔عمران خان نے کشمیری عوام کی حق تلفی پر کہاکہ اس  متنازعہ قانو ن کے ذریعے جموں وکشمیر کا بنیادی ڈھانچہ یکسر بدل کررہ جائے گا اور انسانوں کا ایک سیلاب وادی میں امڈ آئے گا۔انہوں نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ پر زوردیتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اورجموں وکشمیر میں ہونے والی بین الاقوامی خلاف ورزیوں کوروکنے میں اہم کرداراداکریں۔مزید ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ہم جموں وکشمیر کی ڈیموگرافی کوبدلنے والے قانون کی مخالفت میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔فارن آفس کی ترجمان عائشہ فاروقی نے  کہا کہ پاکستان نہ صرف اس غیرقانونی ایکٹ کی مذمت کرتاہے بلکہ اسے مسترد کرتاہے ۔وہ مزید کہتی ہیں کہReogranization Order 2020دراصل 5اگست کو ہونے والے غیرانسانی وغیرقانونی اقدام کاتسلسل ہے جس میں ہندوستان نے یکطرفہ فیصلہ لیتے ہوئے اپنا فیصلہ کشمیریوں پرنافذ کیاتھا،اوریہ نیا متنازعہ قانون نہ صرف دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ معاہدوں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اورانسان دوستی کے اصولوں کی دھجیاں اُڑانے کے مترادف ہے۔انھوں نے کہاکہ پاکستان جموں وکشمیر کی عوام کے حق خودارادیت اور خواہشات کااحترام کرتاہے اوران کی مرضی کے برخلاف ہندوستان کے جموں وکشمیرپرقبضے اورکشمیری آبادی کوبدلنے کی  مذموم کوشش کی جانب مسلسل عالمی برادری کومتوجہ کررہاہے۔دوسری جانب جموں وکشمیر کے عوام نے اس کالے قانون کویکسرمسترد کردیاہے اوروہ کسی بھی ایسے نئے قانون کو ماننے کوتیارنہیں کہ جو ان کی زمین پر غیرکشمیریوں کے تناسب میں اضافے کاموجب بن کران کے ہی گھر میں ان کو اقلیت میں بدل دے اوراس مزاحمت میں مسلم وغیرمسلم کشمیری دونوں ہم آوازہیں۔
یوں توکشمیریوں کے حق میں آوازجنوبی ایشیا سمیت پوری دنیاسے بلند ہورہی ہے لیکن اس نئے ڈومیسائل قانون کے خلاف مزاحمتی آوازوں میں ہندوستان کی بانی جماعت کانگریس بھی پیش پیش ہے جوکہ کشمیریوں کے لئے خوش آئند خبرہے۔اس کے ساتھ ساتھ جموںوکشمیرکی مقامی جماعتیں بھی پوری قوت سے 370کی منسوخی اورڈومیسائل لاء کے خلاف صف آراء ہیں ۔جموں وکشمیر کانگریس کے ترجمان رویندرشرماکاکہناتھاکہ بی جے پی نے  تمام کشمیریوں اورخاص طورپر کشمیری نوجوانوں کابہت نقصان کیاہے۔انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے کشمیریوں کویقین دلایاتھاکہ ان کی نوکریاں ان تک محدودرہیں گی لیکن ایسانہیں ہوا۔انھوں نے مزید یہ بھی کہاکہ بھارتی جنتاپارٹی کشمیری نوجوانوں کوکہتی تھی کہ دفعہ 370کے منسوخ ہونے سے باہرکی مزید نوکریاں ملیں گی، انڈسٹری آئے گی اب یہ چیزیں کب آتی ہیں یا آتی بھی ہیں یانہیں یہ وقت بتائے گالیکن یہ توطے ہوگیاکہ کشمیریوں کی جوسرکاری نوکریاں دفعہ 370کے تحت محفوظ تھیں وہ اب نہیں رہیں گی۔جموں کشمیراپنی پارٹی کے لیڈررفیع احمد میر نے کہا کہ پہلی بات تویہ ہے کہ یہ آرڈربہت غلط وقت پر پاس کیاگیاہے،انھوں نے کہاکہ یہ وہ وقت ہے کہ پوری دنیا جام ہے اورایسے دکھی وقت میں کشمیریوں کوان کے بنیادی وآئینی حقوق سے محروم کرناانتہائی افسوسناک ہے۔انھوں نے کہا کہ 35-Aہٹانے کے بعدہماری توقعات تو یہ تھیں کہ ہماری نوکریوں اورزمینوں کاتحفظ کیاجائے گالیکن بی جے پی نے پارلیمنٹ اورملاقات میں ہمارے ساتھ کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس متنازعہ قانون کو پاس کیاجوکہ ہمارے لئے ناقابل قبول ہے اوراب نوکریوں سمیت ہماری زمینوں کوبھی خطرات لاحق ہیں۔
6 اپریل بروز سوموار( اے اے نیوز)کو اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے  جموں وکشمیرکے سرکردہ مزاحمتی رہنماء سید علی گیلانی کاکہناتھا کہ انٹرنیشنل کمیونٹی اورپاکستان کوچاہئے کہ وہ ہندوستان کی ان مذموم کاوشوں کی راہ میں رکاوٹ بنیں جس سے جموں وکشمیرکی ڈیموگرافی تبدیل ہونے کاخطرہ ہے۔سیدعلی گیلانی کشمیرکے دارلحکومت سرینگرمیں اپنے ہی گھر میں نظر بندہیں۔انھوں نے وہاں سے بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیرتنازعہ کا واحد حل کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کرناہے اورکشمیریوں کا یہ حق ان سے دنیا کی کوئی طاقت نہیںچھین سکتی۔فلسطینی امورکے ماہر اوراستنبول میں قائم سنٹرفاراسلام اینڈ گلوبل افئیرزکے ڈائریکٹر سمیع العرین نے مڈل ایسٹ آئی سے اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ بھارت کا نیاڈومیسائل لاء درحقیقت اسرائیل کے اس نسل پرست قوانین اورمنصوبوں کاچربہ ہے جوکہ وہ فلسطین کی سرزمین پرفلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لئے اپنا چکاہے۔اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے کشمیری صحافی نجیب المبارک نے مڈل ایسٹ آئی کوکہاکہ ہندوستان اسرائیل کے طرز پر آبادیاتی تبدیلیوں اورزمینی حقائق بدلنے کی کوشش کوہی حتمی حل سمجھ رہاہے جبکہ اس کے ایساکرنے سے علاقے کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہوجاتی۔اوآئی سی دنیامیں موجودمسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے اس نے بھی کشمیریوں کی حق تلفی پر صدابلندکی ہے۔اوآئی سی نے بھارتی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ڈومیسائل لا ء کی شدت سے مذمت کی۔ایک ٹویٹ میںاوآئی سی کے آزادمستقل انسانی حقوق کمیشن نے کہاکہ ایجنسی بھارت کی جانب سے جاری کردہ ڈومیسائل لاء 2020کی مذمت کرتی ہے جوکہ جموں وکشمیرکی آبادی اورجغرافیہ تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
پرویز امروز جو کہ جموں وکشمیرکولیشن آف سول سوسائٹی میں انسانی حقوق کے وکیل ہیں ان کاکہناتھاکہ اس قانون کولانے کا وقت بہت اہم ہے جب وادی سمیت پوری دنیاگھروں میں دب چکی ہے اورمزاحمت کی کوئی علامت نظرنہیں آرہی تویہ قانون آج نہیں توکل جموں وکشمیرکی آبادی کاتناسب بدل دے گا۔وقت کی اہمیت سے متعلق پرویزامروز کابیان یہ واضح کرتاہے کہ بھارتی جنتاپارٹی نے وباکی لپیٹ میں آئے ان کربناک لمحات کوسوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے مذموم مقاصدکے لئے استعمال کیاہے۔ریٹائرڈ ائیروائس مارشل کپل کاک جنہوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں دفعہ 370کی منسوخی کو چیلنج کررکھاہے کہتے ہیں ڈومیسائل کے نئے قانون سے جموں وکشمیر کے رہائشیوں کوتشویش ہوگی۔یکم اپریل کوانھوں نے الجزیرہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ڈومیسائل لاء کااثرجموں کے علاقے میں دیکھنے کوملے گاکیونکہ پچھلے پندرہ سالوں میں ادھرکوئی خاص تعداد سیٹل نہیں ہوئی۔
دوسری طرف اگر ڈھٹائی دیکھی جائے تودائیں بازوکی جماعت بی جے پی کے رہنماء اورسینئر ممبرآف اپرہائوس راکیش سنہاکہتے ہیں کہ اس قانون سے جموں وکشمیرکے آبادیاتی نظام میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوگی۔حالانکہ اس قانون کے تحت ایک اچھی خاصی تعدادکشمیرکی رہائشی بن جائے گی اورغیرکشمیری ادھر زمین بھی خرید سکیں گے۔جہاں تک اس سوال کاجواب ہے کہ ہندوستان کے مسلمان جموں وکشمیرمیں زمین خرید کراس کم ہوتے تناسب کو maintainکرسکیں گے تویہ خام خیالی ہے کیونکہ ہندکے مسلم انتہائی پسماندہ وغریب ہیں۔اس ظلم کو کن لفظوں میں بیان کیاجائے کہ کشمیریوں کے دردکامداواممکن ہو ایسے الفاظ ہماری لغت میں تلاش کرنے سے بھی میسرنہیں آئے۔آٹھ ماہ سے گھروں میں محصور،اپنی ریاست کاخاص سٹیٹس چھن جانے کے دکھ میں مبتلا،  اورصحت کی ناکافی سہولیات میں جان لیواوباکا مقابلہ کرتے کشمیریوںپر ڈومیسائل لاء کااطلاق کشمیریوں کے رستے زخموں کوادھیڑ ادھیڑ کرنمک کے دھاگے سے سینے کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کی طرف سے پوری دنیامیں جنگ بندی کی اپیل کی گئی ہے جس پر عمل بھی کیاجارہاہے لیکن دوسری جانب بھارت ہے جس نے ان پرسوز لمحات کافائدہ اٹھایاہے کہ دنیاکی توجہ کرونااوراس سے ہونے والی اموات کی طرف ہے اورکشمیری بھی اس خوف میں مبتلاہیں توکیوں نہ نیاقانون نافذکرکے جموں وکشمیرکی مسلم آبادی کے تناسب کوہی بدل دیاجائے تاکہ حق خودارادیت اپنی حیثیت خودہی کھودے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتاہے تومٹ جاتاہے۔
بھارت اگراس خام خیالی میں ہے کہ وہ اسرائیل کی طرز Colonialism جموں وکشمیرپر نافذکرکے کامیابی حاصل کرلے گاتواسے یادرکھناچاہئے کہ کشمیر کابچہ بچہ اپنی دھرتی کے لئے اپنی جان کانذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہیں کرے گا اور بھارت کے ان گھنائونے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔


مضمون نگار لاھور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

 [email protected]

یہ تحریر 50مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP