قومی و بین الاقوامی ایشوز

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور محنت کش

اقلیمِ ادب،عروسِ فکر، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو اللہ کریم نے فصیح اللساں ، پاسبان حرمتِ قرطاس و قلم ، جولانیٔ طبع اور کلامِ بلاغت نظام کی خوبیوں سے سرفرازکیا۔ مختلف علوم و فنون پر دسترس کی وجہ سے اُنھوں نے زندگی کے مسائل کا ناصرف تجزیہ کیا بلکہ اُن کے مسائل کاحل بھی سپردِ قرطاس کیا۔ اُنھوںنے انسانی عظمت کا پرچار کرتے ہوئے حضرتِ انسان کو تسخیرِ کائنات کی دعوت بھی دی۔ عالمِ اسلام کے لیے اُن کے افکار مینارۂ نور کاد رجہ رکھتے ہیں۔ مشرق و مغرب کے مختلف نظام ہائے زیست اُن کی نوکِ قلم سے ایک نقشے کی صورت آج بھی عالمِ انسانیت کے لیے باعثِ تقلید ہیں۔ 
ترجمانِ حقیقت ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال  خوب سے خوب تر کی دعوت دیتے رہے۔ سفرِ یورپ نے اُن کے خیالات میں انقلاب برپا کیا۔ اُنھوںنے مغرب کے علوم و فنون کو حالات کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دی۔ محنت ، جدوجہد ، تازہ بستیاں آباد کرنے کی دعوت، آنے والے کل کو درخشندہ بنانے ، کی کوشش اقبال کے اہم پیغا مات ہیں۔وہ فلسفی اور مفکر تھے۔ اُنھوں نے 1903میں اپنے معاشی نظریات اپنی کتاب'' علم الاقتصاد'' میں پیش کیے۔ اس کتاب کے عمیق مطالعہ سے پتا چلتاہے کہ انسان کی اہم ترین ضرورت معاشی خوشحالی ہے ۔ زمین سے کندن تلاش کر کے وہ اپنی گزر اوقات بہتر کر سکتاہے۔ زمین کی پیدا وار میں اضافہ اُس کی محنت سے ہی ممکن ہے ۔ اگر ہم اسلام کے معاشی نظام کا جائزہ لیں تو آج بھی محنت' مزدوری اور مشقت کا چارٹر پوری دنیا میں زندہ ہے۔روشن خیالی کا نعرہ لگاتے ہوئے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم ایک ضابطۂ حیات کے گرد گھومتے ہیں۔قومیں اپنے نظریات سے ہی پروان چڑھتی ہیں۔ جنگ و جدل سے صرف جغرافیہ فتح ہوتاہے جب کہ نظریات سے دل تسخیر ہوتے ہیں۔ 
معاشرتی زندگی میں یوں تو ہر شخص مزدور ہے لیکن خون پسینہ بہا کر زلفِ روزگار سلجھانے والا' اپنی محنت سے جوئے شیر لانے والا' سنگلاخ چٹانیں توڑنے والا' قافلے لٹا کر منزل کو سینے سے لگانے والا اور دھوپ میں جل کر دوسروں کو چھائوں بخشنے والا، اپنی خوشیاں دوسروں پر قربان کرنے والا حقیقی مزدور کہلاتا ہے۔ اس کی اہمیت مسلمہ حقیقت ہے۔ کوئی بھی معاشرہ دست کار کے تعاون کے بغیر خوش حال نہیں ہوسکتا۔ دنیا کے تمام مذاہب میں محنت کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن اسلام نے مزدور کی عظمت کا اعتراف جس انداز سے کیا ہے، وہ عالمگیر حقیقت ہے۔ قرآن و حدیث سے ظاہر ہوتاہے '' محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ '' مزید کہا گیا ہے '' اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو رائیگاں جانے نہیںدیتا۔ ''
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ محنت کا پھل ضرور ملتاہے ۔ اسلام دولت کمانے کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ مادیت میں گم ہوکر روحانیت کو بھول جانے کا مخالف ہے۔ اسلام میں مادی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی اقدار کی ترقی اور احیاء لازم و ملزوم ہیں۔ تاجدار فخر عرب و عجمۖ غرباء کے ماحول میں رہے اوراللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے کہ آپ ۖ قیامت کے دن بھی غریبوں کی صف میں کھڑے ہوں۔
مغربی مفکرین کایہ خیال بالکل غلط ہے کہ مغرب نے مزدور کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ اسلام واحد مذہب ہے جو مزدور اور آجر کے حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے ۔ شہنشاہِ کائنات ،حضرت محمد مصطفی ۖ فرمایا'' مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو اور کسی کو کام پر لگا نے سے پہلے اس کی اجرت طے کر لو۔ '' قرآن و حدیث میں محنت کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ محبوبِ عالم ، وجۂ حُسن تقویم روزگار ،حضرت محمد مصطفی ۖ خود محنت کیا کرتے تھے اور دوسروں کو محنت کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر آپ ۖنے خود بھی خندق کی کھدائی میں حصہ لیا۔ سفر کے دوران اپنی باری کے مطابق سواری کے وقت سواری کی ا ور پیدل چلنے کے وقت پیدل چلے۔ایک مفلوک الحال صحابی جب دربارِ رسالت ۖ میں حاضر ہوا تو آپ ۖ نے اُسے رسی اور کلہاڑی عطا کرکے محنت کرنے کی تلقین فرمائی، چند دنوں بعد ہی اُس کی محنت رنگ لائی اور کامیابی اُس کے سامنے مسکرائی۔ صبحِ بہاراں اور رشکِ فردوس، نبی معظم ، حضرت محمد مصطفی ۖ کردار وعمل کے پیکر تھے۔ آپ ۖ کی زندگی کا ایک اک لمحہ عالم انسانیت کے لیے قابل تقلید و عمل ہے۔ تاجر ہو یا مزدور' حاکم ہو یا محکوم' سپہ سالار ہو یا سپاہی' استاد ہو یا طالب علم گویا زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو ' فخر دو جہاںۖ کی سیرت کی پیروی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ 
اقبال سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دار مزدوروں کی محنت سے پلتاہے۔ مزدور کے آنسوئوں سے سرمایہ دار کے گھر میں چراغاں ہوتاہے۔ مزدور کے ناتواں کندھوں پر اینٹوں کا بوجھ ہوتاہے تو امیر کا محل تیار ہوتاہے۔ محلاتِ شاہی، تاریخی مقامات، آسمان سے باتیں کرتی عمارات ، عجائباتِ عالم، بل کھاتی طویل شاہرائیں ، بلند و بالا مینار اور اِسی طرح کی تعمیرات دیکھ کر مزدور کی محنت کا احساس دامن گیر ہوتاہے۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ معمولی اجرت پر غریب کا خون پسینہ بہایا جاتاہے۔ بازارِ محنت میں غریب کو دل کھول کر لوٹا جاتاہے۔مزدور دن بھرکلفت برداشت کرتاہے۔ اقبال مزدور کو دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ 
آشنا اپنی حقیقت سے ہو  اے دہقاں ذرا
دانہ تو کھیتی بھی تو باراں بھی تو حاصل بھی تو
شعلہ بن کر پھونک دے خاشاک غیر اللہ کو
خوف باطل کیا ہے کہ غارت گر باطل بھی تو
ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال مغربی جمہوریت کے بجائے اسلامی نظام کو فوقیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست دین کے تابع ہو نی چاہیے۔ ایک ایسا اسلامی معاشرہ ہو نا چاہیے جس میں روا داری ، محبت ، صبر و تحمل ، برداشت اور سماجی انصاف ہو ۔ جہاں امیر کو غریب پر اور گورے کو کالے پر فوقیت حاصل نہ ہو۔ ایک عام آدمی بھی حاکم وقت سے پوچھ سکے کہ اس نے قیمتی لباس کہاں سے زیب تن کیا ہے؟
 نسل، قومیت کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
 خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے مسکرات
ڈاکٹر علامہ محمد قبال کے شعری مجموعہ ''بانگِ درا''کی دو طویل نظمیں ''خضرراہ '' اور '' طلوع اسلام '' ان کی شاعری کا اہم ترین سنگ میل ہیں۔  ''خضرراہ '' انجمن حمایت اسلام لاہور کے 37ویں سالانہ اجلاس منعقدہ 16اپریل 1922ء کو علامہ اقبال نے ترنم سے پڑھی ۔ یہ نظم 11بندوں پر مشتمل ہے جب کہ '' طلوعِ  اسلام ''، '' بانگ درا'' کی آخری نظم ہے ۔ اقبال نے یہ نظم انجمن حمایت اسلام کے38 ویں سالانہ اجلاس مارچ1923میں سنائی ۔
فکری وفنی اعتبار سے دونوں نظمیں اس عہد کی سوہانِ روح، حالت اور مسلمانوں کی حالت زار کی عکاسی کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال چوں کہ حساس طبیعت کے حامل تھے، اس لیے وہ گردو پیش سے کسی طور بھی غافل نہیں رہ سکتے تھے۔ ان دونوں نظموں میں مغربی تصورِجمہوریت ، مزدوروں کی مشکلات او ر مغربی تمدنی و سیاسی یلغار کی ملت اسلامیہ پر اثرات کی بھر پور نشاندہی ہوتی ہے۔ اگر حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشّمس ہو جاتی ہے کہ یہ دونوں نظمیں حالات کے تناظر کی عکاسی کرتی ہیں۔ڈاکٹر علامہ اقبال  کائنا ت کے سر بستہ راز جاننے کو مسلمان کی زندگی کا مقصد تصور کرتے ہیں۔ زندگی اس بات سے عبارت ہے کہ انسان اپنی زندگی کے نصب العین کا ادراک کر لے ۔ کوئی فرہاد کے دل سے پوچھے کہ پتھروں کا دامن تیشۂ عشق سے کیسے کاٹا جاسکتا ہے اور وہ اپنی محنت اور ولولہ سے دودھ کی نہر بہا نے کو تیار ہو جاتا ہے۔ غلامی اور آزادی صرف دو لفظ نہیں ہیں بلکہ زندگی کی حقیقتوں کی ایک کہانی ہے۔غلامی کی زندگی ایک چھوٹی سی ندی کی مانند ہے جب کہ آزاد زندگی ایک وسیع سمندر ہے، جو بے کراں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ئنات یعنی اس زندگی کو مٹی کے ایک چھوٹے سے پیکرمیں بند کردیا ہے۔ مگر یہ مٹی کا پتلا قوت تسخیر رکھتا ہے۔ یہ سارے کمالات ،یہ سب رعنائیِ زندگی اس پیکرِ خاکی میں چھپی ہوئی ہے ۔ یہ انسان ،زندگی کے سمندر سے ایک بلبلے کی طرح پیدا ہوا ہے ۔ زندگی ایک امتحان ہے۔ قدم قدم پر رکاوٹیں ، پریشانیاں ، آلام اور چیلنج ہیں جنھیں چشمِ نم اور تحمل و برداشت سے عبور کیا جاتاہے کہ اس کی خودی ایک تلوار کا روپ دھار لیتی ہے ۔ مغربی سرمایہ داری نے ملو کیت اور شہنشاہیت کے بل بوتے پر غریبوں کا خون پسینہ بہا یا ہے۔ سرمایہ دار ایک عرصہ سے مزدور کا استحصال کر ر ہا ہے۔
ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن دراصل اُن مزدوروں اور محنت کشوں کی یاد دلاتا ہے جنھوں نے شگاگو میں1886ء کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ دیا۔ چند کارکنوں نے اپنی جانیں قربان کرکے مزدوروں کی عالمی تحریک کو بقائے دوام بخشا۔ اُنھوں نے اپنے خون سے تاریخ کا ایک نیا باب شروع کیا۔ گویا یکم مئی ایک تاریخ ساز دن ہے یہ دن تمام دنیا کے محنت کشوں کے لیے جدو جہد کی فتح کا دن ہے۔یہ دن منا کرمزدور اپنے شکاگو کے ساتھیوں کے ساتھ یکجہتی اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔مزدور اپنے اپنے ملکوں میں مختلف مظاہروں کے ذریعے تجدید عہد کرتے ہیں کہ وہ ظلم و استبداد ' ناانصافی اور استحصال کے خاتمہ کے لیے جدو جہد تیز کریں گے اوردنیا میں سماجی انصاف اور معاشی خوش حالی قائم کرنے کے لیے کوشاں رہیں گے۔
شکا گو کے محنت کشوں کی قربانیوں کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ انھوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے جو شمع روشن کی وہ ہمیشہ منور رہے گی۔مزدور خون پسینہ بہاتا ہے تو معاشرہ خوش حال ہوتا ہے۔ مزدور کے بچوں کے آنسوؤں سے امیر کے زیورِ اسپ کا ایک موتی بنتا ہے۔ کلیساء اسی کے خون سے پلتا ہے۔ مزدور دراصل چمن کے ڈاکوؤں سے خونِ لالہ کا انتقام لینا چاہتا ہے۔ظلم کی ایک حد ہوتی ہے۔ صدا دبائی جائے تو انقلاب برپا ہوتا ہے۔گھپ اندھیرے کے بعد اُجالا فطری امر ہے۔ مفکر ِاسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنے کلام میں مزدور کی قدر و منزلت بہت احسن انداز میں بیان کی ہے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال شاعر انقلاب ہیں' وہ لفظوں سے عروقِ مردہ میں خونِ زندگی دوڑانے کا فن جانتے ہیں۔ وہ انصاف اور مساوات کے علمبردارہیں۔ اُن کے نزدیک انسانی رفعت محنت میں مضمر ہے۔ محنت کی قدر اور معاشی خوشحالی کے پیغامات کی وجہ سے کئی ناقدین انھیں اشتراکیت پسند شاعر بھی گردانتے ہیں لیکن وہ معاشی خوش حالی کی خاطر ''خودی'' فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ فرماتے ہیں:
بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا ، ہے یہ پیام کائنات 
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار حیلہ گر 
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
علامہ اقبال اشتراکیت کے حامی نہ تھے۔وہ دولت جمع کرنے ' جاگیر داری ' سرمایہ داری اور استحصال کے خلاف تھے۔
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے 
تاریخ عالم گواہ ہے کہ وہی معاشرہ خوش حال اور ترقی کی منازل احسن طریقے سے طے کرسکتا ہے جہاں کے مزدورکومحنت کے عوض محبت حاصل ہو۔ محبت کی خاطر یہی مزدورپہاڑوں سے جوئے شیر بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ مزدوروں کی مختلف اقسام ہیں ایک وہ جو دفاتر میں کام کرتے ہیں' کچھ وہ جو کارخانوں میں فیکٹریوں اور ملوں میں کام کرتے ہیں اور ایک وہ طبقہ جو عمارات اور کھدائی کا کام کرتے ہیں۔ اگر مزدور اپنے کام دلجمعی اور لگن سے کریں تو صنعتی ترقی میں میں چار چاند لگ جائیں ۔ڈاکٹر علامہ محمد اقبال مزدوروں کو اپنے دست و بازو پر بھروسہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ 
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں 
ہیں تلخ بہت  بندہ  مزدور کے اوقات 
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تیری منتظر روز مکافات
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے اپنی کتاب'' اقبال کی طویل نظمیں'' میں نظم '' خضرِ راہ'' کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے : 
'' اقبال کا اشارہ1917ء کے روسی انقلاب کی طرف ہے۔چوں کہ دعویٰ یہ کیا جارہا تھا کہ اب روس میں مزدوروں کی حکومت قائم ہوگئی ہے، اس لیے اقبال مزدورسے مخاطب ہوتے ہیں کہ''تیرے دور '' کا آغاز ہو چکا ہے۔ بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں دنیا پر سرمایہ دار انہ نظام مسلط تھا اور ہر جگہ مزدورں کا استحصال ہو رہا تھا اس لیے روس میں ''مزدوروں کی حکومت '' قائم ہونے کا تاثر پھیلا اور سرمایہ داری اور مغربی سا مراج کے جبر و استبداد کے مقابلے میں روسی انقلاب کو با لعموم سراہا گیا۔ اقبال نے بھی اسی تاثر کے تحت مزدور کو '' آفتابِ تازہ '' کی نوید سنائی ، تاہم ابھی روسی اشراکیت کے حقیقی خدوخال سامنے نہیں آئے تھے اور بعد میں جب اس کے بھیانک چہرے سے نقاب ہٹی تو اقبال یہ کہنے پر مجبور ہوئے۔''
زمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا!
طریقِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
اقبال مسلمانوں کو دعوت فکر دیتے ہیں کہ وہ ظاہری حسن کے بجائے باطن کی پاکیزگی پر نظر رکھیں۔ سائنسی قوت ،مہلک ہتھیاروں کی وجہ سے اہل مغر ب اپنے منفی رویوں سے دنیا مسخر کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ نظام پائیدار نہیں ہے ۔ اقبال نے مغربی مادہ پرستی کو اخلاقیات کی موت قرار دیا ہے ۔ اُن کے نزدیک حقیقی زندگی کا دار و مدار سکونِ قلب اور ظاہر و باطن کی یک سوئی میں مضمر ہے ۔ اقبال اس بات کے متمنی تھے کہ شاخ ہاشمی از سر نو پھل پھول لائے گی اور یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوگا کہ ہم دنیاوالوں کے لیے ایک مثال بن جائیں ۔ خوشی و راحت اور امن و سکون کا پیغام ،ہمار اکردار فلاحی معاشرے کا عکاس بن جائے ۔ مغربی طاغوتی طاقتوں کو شکست دینے کے لیے اسلام کا عالمگیر پیغام ہماری فلاح و بہبود کے لیے اکیسر کا درجہ رکھتاہے۔ دونوں نظمیں ایک دوسرے سے منطبق ہیں۔ دونوں نظموں میں مزدور کی محنت اور عظمت کا ادراک ملتاہے۔ تعمیرِپاکستان کے لیے محنت کے جذبہ کی اشد ضرورت ہے ۔ ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے ۔ فرد ہی سے قوم بنتی ہے ۔ مصورِ پاکستان ہمیں یقینِ محکم سے محنت کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ 
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے 
یقین پیدا کر اے غافل ! کہ مغلوب گماں تُو ہے


مضمون نگار ممتاز ماہرِ تعلیم ہیں اور مختلف اخبارات کے لئے لکھتے ہیں

[email protected]
 

یہ تحریر 26مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP