متفرقات

ڈاکٹر علامہ اقبال کے خطوط قائداعظم محمد علی جناح کے نام

ترجمانِ حقیقت ، مصورِ پاکستان اور شاعر مشرق ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال  کی شاعرانہ عظمت اورفکر و فن کے حوالے سے دنیا بھر میں بہت سے مقالات اور کتب منظرِ عا م پر آچکی ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ اُنھوں نے اپنی شاعری میں لفظوں کو وقار بخشا۔ شعری آہنگ کے علاوہ وہ انگریزی اور اُردو نثر میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ بہت سے محققین ، ناقدین اور مفکرین نے اُن کی نثر کو ''زندہ نثر'' کا نام دیا۔ اُردو ، انگریزی مقالات ، مضامین ، ملفوظات ،شذرات، نگارشات، مخطوطات اور خطوط میں اُن کا نثری سرمایہ عالمی ادب میں مقبول ہے۔  ڈاکٹر علامہ محمد اقبالانسان دوست تھے۔ اُن کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔ وہ شمعٔ محفل ہوتے اور احباب پروانہ وار اُن کے گرد شامِ دوستاں میں شریک ہوتے ۔ وہ ہر ملاقاتی کو توجہ سے سنتے ۔ موصولہ خطوط کا جواب دیتے۔ محبانِ اقبال نے اُن کے خطوط بڑی عقیدت کے ساتھ سنبھال رکھے ۔ وقت استعجاب کی کیفیت میں ہے کہ خطوط کا یہ خزینہ رقم کرتے ہوئے اقبال کتنا وقت صرف کرتے ہوں گے۔ اقبالیاتی خطوط میں کلیات مکاتیبِ اقبال  (مرتبہ : سید مظفر حسین برنی،ص:1280 )۔شاد اقبال (مرتبہ: سید محی الدین قادری زور)۔اقبال نامہ اوّل( مرتبہ : شیخ عطاء اللہ )۔اقبال  نامہ دوم (مرتبہ: شیخ عطاء اللہ )۔مکاتیب اقبال  بنام خان محمد نیازالدین خاں(مرتبہ : عبداللہ شاہ ہاشمی)۔مکتوبات اقبال  (مرتبہ : سید نذیر نیازی )۔انوار اقبال  (مرتبہ : بشیر احمد ڈار )۔مکاتیب اقبال  بنام گرامی (مرتبہ :محمد عبداللہ قریشی )۔خطوط اقبال  بنام بیگم گرامی (مرتبہ :حمید اللہ شاہ ہاشمی )۔Letters of Iqbal to Jinnah(مرتبہ :محمد شریف طوسی/ مترجم: محمد جہانگیر عالم )۔Iqbals letters to Attiya Begum(مرتبہ : عطیہ بیگم ) اشاریۂ مکاتیب اقبال (مرتبہ : ڈاکٹر صابر کلوروی )
ڈاکٹر علامہ محمدا قبال  نے ١٩٣٠ء میں خطبۂ الہٰ آباد میں ایک الگ مسلم ریاست کا خاکہ پیش کیا تو برعظیم پاک و ہند کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ۔ چودھری رحمت علی نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے پیش کردہ خاکے کو ''پاکستان '' کا نام دیا۔ ١٩٣٥ء کے انڈین نیشنل ایکٹ نے ہندو ذہنیت کی عکاسی کر ڈالی۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ، حساس طبیعت کے مالک تھے۔ مسلمانوں کی پسماندگی پر اُنھیں بہت دکھ تھا۔ اُن کی بصیرت نے محسوس کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح ہی واحد شخصیت ہیں جو مسلمانوں کی ڈگمگاتی نائو،بھنور سے نکال سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے اُنھوںنے محمد علی جناح کو خطوط تحریر کئے۔ یہ خطوط انگریزی میں ہیں لیکن ماہرین اقبال نے اِن خطوط کو اُردو سانچے میں ڈھال کر قومی خدمت انجام دی ہے۔ بطور خاص ''Letters of Iqbal to Jinnah(مرتبہ :محمد شریف طوسی/ مترجم: محمد جہانگیر عالم )'' نے اقبالیاتی ادب میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ کئی اداروں نے اِن خطوط کو الگ ، الگ کتابی صورت میں پیش کیا ہے۔  یہ خطوط:… پہلا خط محررہ 23مئی 1936ئ۔ دوسرا خط محررہ 9جون 1936ئ۔ تیسرا خط محررہ 25جون 1936ئ۔ چوتھا خط محررہ3اگست1936ئ۔ پانچواں خط محررہ8دسمبر1936ئ۔ چھٹا خط محررہ20مارچ 1937ئ۔ ساتواں خط محررہ22اپریل 1937ئ۔آٹھواں خط محررہ28مئی 1937ئ۔ نواں خط محررہ 21جون 1937ئ۔دسواں خط محررہ11اگست 1937ئ۔ گیارہواں خط محررہ13اگست 1937ئ۔ بارہواں خط محررہ 7اکتوبر 1937ئ۔ تیرہواں خط محررہ30اکتوبر1937ئ۔ چودہواں خط محررہ یکم نومبر1937ئ۔ پندرہواں خط محررہ10نومبر1937ئ۔ علامہ اقبال کی طرف سے غلام رسول خاں کے لکھے ہوئے خطوط ،خط محررہ8نومبر1937ئ۔ خط محررہ 17فروری 1938ئ۔خط محررہ7مارچ 1938ء تواریخ میں تحریر کئے گئے ہیں۔ 
یاد رہے کہ ''خط'' پیغام رسانی کا بہترین ذریعہ ہے اور خصوصاًعظیم رہنماؤں کے خطوط افراد کی اقلیم زندگی میں انقلاب پیدا کر دیتے ہیں اورتحریکوں کے دھارے موڑ دیتے ہیں ۔اس ضمن میں شیخ احمد سرہندی نے نہ صرف اپنی تنظیمی و تقریری صلاحیتوں سے تجدیدِ دین کی بلکہ ان کی تحریروں نے اہم کردار ادا کیا ۔ان میں سے زیادہ تر تحریر یں ان کے مکتوبات ہیں جو کہ تین دفاتر پر مشتمل ہیں اور ''مکتوبات امام ربانی   کے نام سے چھپ چکے ہیں ۔ اسی طرح علامہ اقبال کے وہ خطوط جو انھوں نے قائد اعظم محمد علی جناح   کو لکھے تحریک پاکستان میں ایک اہمیت رکھتے ہیں ۔ یہ خطوط نہ صرف اقبالیات کا بیش قیمت سرمایہ ہیں بلکہ تحریک پاکستان او ر اس کے پس منظر کی عظیم دستاویز بھی ہیں ۔ ان خطوط سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ علامہ محمد اقبال، علالت کے باوجود تحریک پاکستان میں کس قدر انہماک سے کام کر رہے تھے۔انہی خطوط میں اُن حالات و واقعات کی ترجمانی ملتی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کس طرح اقبال کے خطوط سے متاثر ہوئے اور مسلمانوں کی حالت زارکو خوشیوں میں بدلنے کے لئے برعظیم پاک وہند لوٹ آئے۔ ان خطوط میں ڈاکٹر علامہ اقبال کا پر خلوص جذبہ قائد اعظم محمد علی جناح کومائل کر گیا ۔ اقبال نے واضح کر دیا تھا کہ محمد علی جناح ہی مسلمانوں کو آزادی کا راستہ دکھا سکتے ہیں ۔ اقبال کی بصیرت اورجذبوں سے بھرپور لفظوں نے محمد علی جناح کو مجبور کر دیا کہ وہ مسلمانوں کی بھنور میں گھری ہوئی کشتی کو منزل مراد تک پہنچائیں ۔ قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت نے اقبال کے لفظوں کو عملی جامہ پہنایا۔ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال میں نہ صرف خیالات کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے بلکہ کام کرنے کا جذبہ بھی مشترک ہے۔ پیدائش میں بھی صرف ایک سال کا وقفہ ہے ۔ 
''علامہ اقبال کے خطوط، اُن کی سیاسی بصیرت قائداعظم محمد علی جناح سے ان کے تعلقات اور فکری ہم آہنگی کا بھی ثبوت دیتے ہیںاور ساتھ ساتھ نظریۂ پاکستان اورا ساسِ پاکستان کا تعین بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ اقبال کے زاویۂ نظر کی وضاحت بھی اُن کے خطوط سے ہوتی ہے یہ خطوط ایسے وقت لکھے گئے تھے جب ہندوستانی مسلمان اپنی تاریخ کے ایک نازک دور سے گزر رہے تھے ۔ مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ اس فکری انتشار کے زمانے میں علامہ اقبال کی سیاسی بصیرت نے منزلِ پاکستان کی نشاندہی کی اور اس کے ساتھ ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کو حصولِ پاکستان کے لئے تیار بھی کیا۔ 
جب قائداعظم محمد علی جناح کانگریس کے رویے سے تنگ آگئے اور اُنھوںنے یہ محسوس کیا کہ کانگریس دراصل ہندومسلم اتحاد کی خواہاں نہیں بلکہ وہ تو بتدریج مسلمانوں کا سیاسی ، سماجی، معاشرتی اور معاشی قتلِ عام کر رہی ہے تو قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تاکہ وہ عظمتِ رفتہ مسلمانوں کو واپس دلوائی جا ئے جو اُن کا گمشدہ خزانہ ہے۔ اس سلسلے میں برعظیم پاک وہند کی سیاسی تاریخ میں قانون ہند 1935ء سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس سے پہلے کبھی مسلمانوں کو شدھی تحریک سے کچلنے کی کوشش کی جاتی تو کبھی بدنام زمانہ رولٹ ایکٹ نافذ کر دیا جاتا لیکن قائداعظم کسی ایسی تحریک، ایسے قانون کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے جس کا مقصد مسلمانوں کا استحصال ہو۔ 
مسلم لیگ کی تنظیم نوکی خاطر قائداعظم محمد علی جناح نے ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کیا مسلمانوں کو متحدو متفق کرنے کے لئے انھیں مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع کرنے کی جدوجہد شروع کی۔ اس سلسلے میں 29اپریل 1936ء کو قائداعظم محمد علی جناح پنجاب میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کے لئے لاہور تشریف لائے اپنے قیام لاہور کے دوران آپ نے علامہ اقبال سے تعاون کی درخواست کی۔ اُنھوں نے بیماری کے باوجود امداد و اعانت کا وعدہ کیا اور پنجاب میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کے کام کا آغاز کیا علامہ اقبال پنجاب مسلم لیگ کی سرگرمیوں اور پنجاب کی سیاسی صورتِ حال سے قائداعظم محمد علی جناح کو خطوط کے ذریعے مطلع کرتے تھے۔ علامہ اقبال کی وفات سے کچھ عرصہ قبل تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔ ان دنوں علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی وہ ہماری تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے ۔ اس سے اُس زمانے کے سیاسی حالات و واقعات کا علم ہوتاہے اور دونوں رہنمائوں کے خیالات سے آگاہی ہوتی ہے ۔ 
علامہ اقبال بانیٔ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے دستِ راست ثابت ہوئے۔اُن کے خیالات کی سوچ کا پنچھی اُڑتا رہا۔ جذبات و احساسات ایک ہی سمت محو سفر ہوئے ۔آپ دونوںاپنے خیالات و افکار کے ذریعے مسلمانوں کی پسماندگی کے خاتمے کے لئے شب و روز کام کرتے رہے۔ غور کیا جائے تو یہ بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ محمد علی جناح نے وکالت کی ڈگری کے لئے لنکن اِن میں داخلہ اس لئے لیا کہ وہاں رسولِ عربی ۖ کا نامِ مبارک بڑے اور عظیم قانون دانوں میں سرِ فہرست تھا اور ایک اور شخصیت محمد اقبال جب انگلستان میں اِسی مقصد کے لئے یعنی بار ایٹ لاء کے لئے جاتی ہے تو اس کی سوچ اور کردار میں وہی پختگی نظر آتی ہے جو قائداعظم کی بصیرت اور کردار میں نظر آتی ہے ۔ 
اقبال کو بھی اسلامی تہذیب کے مقابلے میں مغربی تہذیب ہیچ نظر آتی ہے اور سوچ کا یہ انداز اُن کے خطوط میں بھی موجودہے ۔ اِن خطوط کے مباحث میں مسلم لیگ کی تنظیم، اس کا دیگر مسلم جماعتوں سے اتحاد و تعاون، اسے عوامی جماعت بنانے کے لئے اس کے منشور اور پروگرام میں تبدیلی کی اہم ضرورت۔ آل انڈیا نیشنل کنونشن کے انعقاد کی تجویز ، قانون ہند 1935ء اورکمیونل ایوارڈ کے بارے میں مسلم پالیسی 'ہندو مسلم فسادات ، جناح سکندر معاہدہ مسئلہ فلسطین اور برعظیم پاک و ہند میں امن وامان کے قیام اور اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے شمال مغربی ہندوستان میں ایک مسلم ریاست کے قیام کی ضرورت اور اہمیت وغیرہ شامل ہیں۔ علامہ اقبال نے ان خطوط میں اپنے خیالات کا واضح اظہار کیا ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناح ملک کے دستوری مسائل اور حالات کے مطالعے اور تجربے کے بعد پورے طور پر ان کے خیالات سے ہم آہنگ تھے اور یہی خیالات ہندوستان کے مسلمانوں کی اس متحدہ خواہش کی صورت میں جلوہ گر ہوئے۔ 
قائداعظم کے نام اِن خطوط سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ علامہ محمد اقبال کے ساتھ اُن کے کتنے گہرے اور قریبی مراسم تھے اور علامہ اقبال کی خواہشوں کا احترام قائداعظم محمد علی جناح کے دل میں کس قدر زیادہ تھا اور قائداعظم بھی کتنے مردم شناس تھے کہ اُنھوں نے علامہ اقبال کے خطوط سے نہ صرف علامہ اقبال کی شخصیت کو اُجاگر کیا بلکہ اِن خطوط کی روشنی میں برعظیم پاک وہند کا مستقبل بھی دیکھنے لگے۔ اس خطے کے تڑپتے، سسکتے، اور استحصال زدہ مسلمانوں کا مستقبل ، انگریزوں کی پالیسیاں اور ہندوئوں کی عیاریاں اور چالبازیاں بھی انہی خطوطِ اقبال و قائد کے ذریعے ناکام ہوئیں کہ ایک طرف اقتدار کی ہوس اور دولت کے نشے میں چُور انگریز تھا تو دوسری طرف شاطر و چالباز ہندو تھا لیکن اُن کے مقابلے میں مسلمانوں کے دو بڑے پالیسی ساز، جو مستقبل شناس بھی تھے اور ایک دوسرے کے نبض شناس بھی، اُنھوں نے ہر چال ناکام بنا دی ہر بُری آنکھ کو نکال دیا۔ ہر بُرے ارادے کا گلا گھونٹ دیا۔ 
دونوں قائدین مسلمانوں کے خلاف ہر سیلاب میں ایک مضبوط بند ثابت ہوئے کیوںکہ وہ ہر طرح کے لالچ سے پاک اور مبرا تھے اُن کا مقصد صرف یہی تھا کہ مسلمانوں کو کسی طرح انگریزوں اور ہندوئوں کے اُن آہنی جبڑوں سے نجات دلائی جائے تاکہ اُن کے سجدوں میں ڈر اور خوف کی آمیزش نہ ہو۔ اُن کی مسجدیں محفوظ ہوں اُن کی روایات زندہ رہیںاور اُن کی ثقافت پھلے پھولے اور یہ سب کچھ ایک علیٰحدہ خطۂ زمین کے بغیر ممکن نہ تھا۔ 
علامہ اقبال کے قائداعظم محمد علی جناح کے نام خطوط کی مدت گو کہ مئی 1936ء سے نومبر 1937ء تک ہے لیکن اِن خطوط میں جن کی تعداد تیرہ ہے کروڑوں مسلمانوں کے لئے نویدِ حیات تھی ، نویدِ صبح تھی۔ اس لئے اِن خطوط کی اہمیت کے پیشِ نظر یہ بہت ضروری تھا کہ ان کو افادۂ عام کے لئے شائع کیاجائے۔ حضرت علامہ اقبال کی نظر میں قائداعظم ہی وہ واحد چٹان تھے جن کے عزم و حوصلے سے بڑی سے بڑی تندو تیز موجیں بھی ٹکرا کر پاش پاش ہوسکتی تھیں۔ علامہ اقبال اپنی پیش رفت اور کام کے متعلق قائداعظم کو ہمیشہ باخبر رکھتے تھے ، اس سلسلے میں دوسری مختلف مسلمان تنظیموں کے ساتھ مذاکرات اوررابطوں میں بھی مصروف رہتے تھے۔ نہ صرف اُن کی تمام مسلم تنظیموں پر گہری نظر تھی بلکہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کو بھی تازہ صورتِ حال سے ہمیشہ باخبر رکھتے تھے۔ اُن کا ایک مکتوب جو اُنھوں نے 23 مئی 1936 ء کو قائداعظم محمد علی جناح کے نام لکھا ۔ اُس خط میں فرماتے ہیں: '' مجھے پوری توقع ہے کہ پنجاب کی جماعتیں بالخصوص احرار اور اتحادِ ملت تھوڑی بہت نزاع و کش مکش کے بعد آخر کار آپ کے ساتھ شریک ہو جائیں گی۔ اتحادِ ملت کے ایک سرگرم اور فعال رکن نے چند روز ہوئے مجھے یہی بتایا ہے اگرچہ مولانا ظفر علی خان کے رویے کے بارے میں خود اتحادِ ملت والے یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ رائے وہندگان اسمبلی میں اپنی نمائندگی اتحادِ ملت والوں کے سپرد کرنے کے متعلق کیا خیال کرتے ہیں۔ ''
اقبال اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جہاںقائداعظم کو برعظیم پاک وہند کے مسلمانوں کی حالت زار سے واقف رکھتے رہے وہاں پر رائج انگریزی پالیسیوں کا منہ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔ علامہ اقبال کو اس بات کا ادراک تھا کہ قائداعظم مسلمانوں کے لئے نجات دہندہ ہیں ۔ اقبال کی نظر میں قائداعظم سے بہتر کوئی لیڈر نہ تھا۔ مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کا خاکہ اقبال کی سوچ کا مرکز رہا۔ قائداعظم کے نام ایک خط 9 جون 1936ء میں اقبال لکھتے ہیں: 
''ہندوستان کے مسلمانوں کی موجودہ حیثیت کا ہندوئوں اور حکومت دونوں سے متعلق اس میں برملا اور واضح ذکر ہونا چاہئے اس بیان میں یہ انتباہ بھی ہو کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں نے موجودہ سکیم کو اختیار نہ کیا تو نہ صرف یہ کہ جو کچھ گزشتہ برسوں میں اُنھوںنے حاصل کیا ہے ۔ ضائع کر بیٹھیں گے بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے قومی شیرازے کو پارہ پارہ کر کے اپنے نقصان کا باعث ہوںگے۔''
اس خط سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ علامہ مرکزی اسمبلی میں خالص اُن نمائندوں کو بھیجنا چاہتے تھے جو صرف اور صرف مسلمانوں کے مسائل کو حل کر سکیں اور  مسلمانوں کو ہندوستان میں ایک اقلیت کی نظر سے نہیں بلکہ ایک قوم کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ علامہ نے اپنے اس خط میں قائداعظم کی توجہ اسلامی اوقاف کے قانون، اسلامی ثقافت، زبان ، مساجد اور قانونِ شریعت سے متعلق مسائل پر بھی دلائی ہے۔ حضرت علامہ اقبال نے بعض خطوط میں قائداعظم محمد علی جناح کو دوسری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ تعلق کے اثرات اور فوائد و نقصانات سے بھی آگاہ کیا ہے ۔ 
ایک بہت اہم خط جو علامہ اقبال نے آشوبِ چشم کی وجہ سے اپنے ایک دوست سے لکھوایا اُس میں قائداعظم کو پنڈت جواہر لال نہرو کے اُس خطاب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں جو اُنھوں نے آل انڈیا مسلم کنونشن میں کیا اور اُسے مسلمانوں کے متعلق نئی ہندو حکمتِ عملی کے زاویۂ نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں اور آل انڈیا نیشنل کنونشن کے سیاسی اثرات کا تجزیہ بھی کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں قائداعظم کو لکھتے ہیں۔ 
'' میراخیال ہے کہ آپ نے پنڈت جواہر لال نہروکا وہ خطبہ جو اُنھوںنے آل انڈیا نیشنل کنونشن میں دیا ہے، پڑھا ہوگا جہاں تک اس کا تعلق مسلمانوں سے ہے ۔ میں سمجھتا ہوں آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ نئے دستور نے ہندوستان کے مسلمانوں کو کم از کم اس بات کا ایک نادر موقع دیا ہے کہ وہ ہندوستان اور مسلم ایشیا کی آئندہ سیاسی ترقی کے پیش نظر اپنی قومی تنظیم کر سکیں اگرچہ ہم ملک کی دیگر ترقی پسند جماعتوں کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں تاہم ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ ایشیا میں اسلام کی اخلاقی اور سیاسی طاقت کے مستقبل کا انحصار بہت حد تک ہندوستان کے مسلمانوں کی مکمل تنظیم پر ہے ۔ اس لئے آپ آل انڈیا نیشنل کنونشن کا جواب دینے کے لئے آل انڈیا مسلم کنونشن منعقد کریں اور پوری قوت اور قطعی وضاحت کے ساتھ بیان کردیں کہ سیاسی مطمع نظر کی حیثیت سے مسلمانانِ ہند ملک میں جداگانہ سیاسی وجود رکھتے ہیں۔ دنیا کو یہ بتانا ضروری ہے کہ مسلمانانِ ہند کا اقتصادی سے زیادہ اہم مسئلہ ثقافتی ہے ۔ اس کنونشن سے ہندوئوں پر یہ عیاں ہوجائے گا کہ کوئی سیاسی حربہ خواہ کیساہی عیارانہ کیوں نہ ہو پھر بھی مسلمانانِ ہند اپنے ثقافتی وجود کو کسی طور پر نظر انداز نہیں کر سکتے۔''
علامہ اقبال نے مسلم تنظیم کے لئے اس بات کو ضروری قرار دیا کہ مسلم لیگ کو بالائی طبقوں کی جماعت بننے کے بجائے عام مسلمانوں کی صفوں میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کرنی چاہئیں ۔ آپ نے مسلمانوں کی تنزلی، ملازمتوں، غربت اور اسلامی قوانین کی اس موقع پر ضرورت و اہمیت پر بھی زور دیا ہے لیکن اُنھوںنے اسلامی شریعت اور قانون کے لئے اس بات کو بھی ضروری قرار دیا کہ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست ہو ورنہ مسلمانوں کی تنزلی ، غربت امن و امان اور روٹی کا مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا اگر ان مسائل کو حل نہ کیا گیا تو خانہ جنگی ہی متبادل راستہ ہے لیکن اس سے ہندوستان میں فلسطین کی داستان دہرائی جائی گی۔ 
علامہ ، ہندو ذہنیت کا ادراک رکھتے تھے نیز اُن کی ذہنی استعداد کو بہت اچھی طرح پرکھ چکے تھے ۔ ایک طرف تو ہندو، مسلمانوں کے لئے تعلیم، ملازمتوں اور ترقی کے تمام دروازے بند کرنا اور دوسری طرف اُنھیں سود کے پھندے میں بُری طرح جکڑ کر اُن کی تمام صلاحیتیں سلب کرلینا مقصد تھا۔
 ہندولیڈروں کی یہ کوشش تھی کہ کس طرح ہندو اور مسلمان اکٹھے رہیں تاکہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو مسلمانوں کو اپنے جبر و استبداد کے آہنی پنجوں میں جکڑ لیں اور صدیوں سے حکمران قوم ان کی غلام بن جائے۔ 
علامہ اقبال ہندوستان اور ایشیا میں اسلام اور اس کے حوالے سے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے مشروط تصور کرتے تھے ۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی سیاسی تنظیم کو ترازو کے دو پلڑوں میں رکھتے تھے ۔ علامہ نے اسلام کو محض رکوع و سجود کے مترادف نہ جانا یہی نہیں جب پاکستان کا مطلب لاالہٰ الا اللہ کا نعرہ بلند ہوا تو ایک لحاظ سے وہ علامہ کے انہی افکار کا عطیہ تھا ۔ اس نعرے کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے دل و دماغ میں علامہ کے ایسے ہی افکار کی بازگشت ہوگی اس نعرہ نے بالآخر مسلمانوں کو متحد اور منظم کر کے ملتِ بیضا کی تشکیل کی۔ علامہ اقبال کو اسلام اورخاتم النبییّن، حضرت محمد مصطفی ۖ کی ذات گرامی سے عشق تھا ۔ آپ یاد ِ خدا میں اور یادِ مصطفی ۖ میں بہت دیر تک روتے رہتے، اِسی لئے اگر کوئی شخص توہینِ رسالت کا مرتکب ہوتا تو اقبال تڑپ اُٹھتے۔ ہندو اکثر مسلمانوں میں فرقہ واریت پھیلانے کے لئے توہین رسالت کے مرتکب ہوتے اور پھر مسلمانوں کا قتل عام کرتے ۔ علامہ اقبال اِسی سلسلہ میں قائداعظم محمد علی جناح کو اپنے ایک خط مورخہ 21 جون 1937ء میں لکھتے ہیں: 
'' اس وقت ہندوستان خانہ جنگی کی حالت میں ہے اور گزشتہ چند ماہ سے ہندومسلم فسادات کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔صرف شمال مغربی ہندوستان میں گزشتہ تین ماہ میں کم از کم تین فرقہ وارانہ فسادات ہوچکے ہیں۔ چار موقعوں پر سکھوں اور ہندؤوں کی طرف سے توہینِ رسالت کی وارداتیں ہو چکی ہیں لیکن اُن کو قتل کر دیا گیا ۔ سندھ میں قرآن مجید کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات بھی پیش آئے اور ان حالات کے اسباب نہ مذہبی ہیں نہ اقتصادی بلکہ خالص سیاسی ہیںیعنی مسلم اکثریتی صوبوں میں بھی ہندئووں اور سکھوں کا مقصد مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے اور اس بے چینی کا حل صرف یہی ہے کہ ملک کی ازسرِ نو تقسیم کی جائے جس کی بنیاد نسلی ، مذہبی اور لسانی اشتراک پرہو۔ ''
علامہ اقبال کا دل و دماغ مسلمانوں کے رنج والم کا اثر فوراًقبول کرتا تھا اور پھراُس کے حل کے لئے کوشاں ہو جاتا تھا۔ پوری دنیا میں جہاں بھی کسی مسلمان کو تکلیف پہنچتی اقبال اُس پر رنجیدہ ہوجاتے ۔ مسئلہ فلسطین کے بارے میں ایک خط مورخہ 7اکتوبر 1937ء میں لکھتے ہیں: 
''مسئلہ فلسطین نے مسلمانوں کو مضطرب کر رکھا ہے مسلم لیگ کے مقاصد کے لئے عوام سے رابطہ پیدا کرنے کا ہمارے لئے یہ نادر موقع ہے مجھے اُمید ہے کہ مسلم لیگ اس مسئلے پر ایک زور دار قرار داد ہی منظور نہیں کرے گی بلکہ لیڈروں کی ایک غیر رسمی کانفرنس میں کوئی ایسا لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے گا جس میں مسلمان عوام بڑی تعداد میں شریک ہوسکیں۔ ذاتی طور پر اس امر کے لئے جس کا اثر ہندوستان اور اسلام دونوں پر پڑتاہو میں جیل جانے کے لئے بھی تیار ہوں۔ ''
جناح کے نام یہ خطوط برعظیم پاک وہند کے حالات اور سیاسی تحریکوں کا آئینہ ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح اِن خطوط کی روشنی میں سُوئے منزل چلے اور آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ||


مضمون نگار ممتاز ماہرِ تعلیم ہیں اور مختلف اخبارات کے لئے لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 119مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP