انٹرویو

ڈاکٹر اجمل نیازی

سوالات انٹرویو۔ ڈاکٹر اجمل نیازی

شعر وادب کاجو زمانہ تھا اب وہ ختم ہوگیا ہے۔

ایٹمی پاکستان کئی ممالک کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔

آج بھی امن قائم کرنے کے لیے جنگی صلاحیت اور تیاری کی ضرورت ہے۔کوئی کمزور امن قائم نہیں کرسکتا۔

نظریہ پاکستان اوروطن سے محبت پر میرا ایمان ہے۔وطن کے بغیر میری اورآپ کی کیا حیثیت ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جوپاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔

نظریہ پاکستان ختم ہوگیا تو پاکستان بھی ختم ہوجائے گا۔

قائداعظم نے جن اصولوں کی بنیاد پرپاکستان بنایا تھا ہم نے انھیں بھلا دیاہے۔

پاکستان کامستقبل روشن ہے،پاکستان ایک چمکتا ہوا قطبی ستارہ ہے۔جوروشن رہے گا‘انشاء اللہ ضروررہے گا۔

معروف دانشور،ادیب اورکالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی سے خصوصی گفتگو

 

سوال : ڈاکٹراجمل نیازی صاحب ،آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے خرابی صحت کے باوجود قارئین ہلال کے لئے وقت نکالا،آپ سے بہت سی باتیں ہوں گی۔ سب سے پہلے تویہ بتائیے کہ کیا اُردوادب اپنی ارتقائی منازل طے کرکے اس قابل ہوچکا ہے کہ ہمارے معاشرے کی ترقی اورترویج میں اپنا حصہ ڈال سکے ؟

جواب :آپ کابھی بہت شکریہ ،میں آپ کے سوال کے جواب سے پہلے کچھ عرض کرناچاہوں گا،ہلال میگزین بہت خوبصورت اورمعیاری ہے۔میں اس کاباقاعدہ قاری ہوں۔ ہلال کے ایڈیٹوریل بورڈ سے وابستہ تمام دوستوں کوبہت مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ وہ محنت سے کام کررہے ہیں ۔اب آئیے آپ کے سوال کی جانب،میں سمجھتا ہوں کہ شعر وادب کاجو زمانہ تھا اب وہ ختم ہوگیا ہے۔شاعری کتابوں میں یا موسیقی کی حد تک رہ گئی ہے۔ یا بعض لیڈر اپنی تقریروں میں شعر سناتے ہیں۔شاعری کاایک وقت تھا جب میڈیا مضبوط نہیں تھا،اظہار کاذریعہ شاعری تھی ۔اب زندگی کے مقاصد بدل گئے ہیں۔رجحانات بدل گئے ہیں۔ضرورتیں بدل گئی ہیں۔زندگی کے مسائل بدل گئے ہیں۔ اس لئے شاید ادب اب اس طرح کردار ادا نہیں کررہا۔ معاشرے میں ادب اورادیب کاکردار بھی محدود ہوگیا ہے۔ اس میں بہت سا قصور خود ادیبوں کابھی ہے۔ ہمارے بعض ادیب بھی مصلحتوں اورضرورتوں کاشکار ہوگئے۔

سوال :پاکستان گزشتہ گیارہ سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کاسامنا کررہاہے۔ہزاروں پاکستانی شہریوں اورافواج پاکستان کے سپوتوں نے اپنی جانیں قربان کیں ۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات نے اردو ادب پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں ؟

جواب :اس دہشت گردی نے ہمیں تباہ کردیا ہے۔یہ دہشت گردی باہر والوں نے ہی ہمیں عطا کی ہے۔ دہشت گردی ہم پر مسلط کی گئی ہے تاکہ پاکستان کونقصان پہنچایا جائے۔ کمزور کیاجائے،ایٹمی پاکستان‘ انڈیا‘ امریکہ اوراسرائیل کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ دہشت گردی نے لوگوں کودہشت زدگی میں مبتلا کردیا ہے۔ادیب بھی ان حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ادیب دہشت گردوں اوردہشت گردی کے خلاف پُرعزم ہے،یہ چیز اس کی تحریروں میں بھی نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں آج کے ادیب کو اپنا رول ادا کرنا پڑے گا۔ ادب روح اور دماغ دونوں کی بالیدگی کرتا ہے۔ لیکن نہ میں مایوس ہوں نہ ہمارا ادیب اورشاعر مایوس ہے۔ حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے ۔

سوال:کیا ادیب اوردانشور قوم کویکجا رکھنے میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں؟

جواب:بالکل کرسکتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایک لیڈر کی ضرورت ہے اسلامی تاریخ میں پیغمبراعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بے مثال ہے ‘وہ پوری دنیا کے لئے روشنی لے کر آئے اور ایک آفاقی پیغام کے ذریعے جہالت کے اندھیروں کو شعور اور آگاہی میں بدل دیا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں قائداعظم ایسی شخصیت تھے جو پاکستان کو بہترین ریاست بنا سکتے تھے۔ دیکھیں میں تو یہ کہتاہوں مسلمانوں کی تاریخ ،مسلمان سپہ سالاروں کی تاریخ ہے۔آج بھی امن قائم کرنے کے لئے طاقت کی ضرورت ہے۔کوئی کمزور آدمی امن قائم نہیں کرسکتا۔ امریکہ جنگ کے ساتھ امن قائم کرتاہے۔جس طرح اس نے عراق میں قائم کیا۔ویت نام میں قائم کیا ۔امن کی آشا،دوستی اورامن کی باتیں ،کوئی امن کی بات نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ امن قائم کرنے کے لئے طاقت کی ضرورت ہے۔ہمیں پاک فوج کی عزت کرنی چاہئے۔ پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔پاک فوج ہماری عزت‘ و قار ‘ طاقت اور تحفظ کی علامت ہے۔

سوال:نظریہ پاکستان ،وطن سے محبت اوراس دھرتی پرمرمٹنے کاجذبہ آپ کے اندر موجزن دکھائی دیتاہے،آپ کے اندر یہ جذبہ کیسے پیداہوا؟

جواب:نظریہ پاکستان اوروطن سے محبت یہ میرا ایمان ہے۔وطن کے بغیر میری اورآپ کی کیا حیثیت ہے۔یہ وطن میری اورآپ کی پہچان ہے۔یہ جذبہ میرا ایمان ہے۔ بعض لوگ مسلمان کہلواتے ہوئے شرماتے ہیں۔ہمیں ڈٹ کربات کرنی چاہیے۔روس افغانستان سے شکست کھا کرنکل گیا ،لیکن اسلام باقی ہے۔ڈرا ہوا آدمی ظالم اوربزدل ہوتاہے۔

سوال : آپ کی نثر میں ایک خاص قسم کی نغمگی اورترنمیت پائی جاتی ہے۔کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی نثر میں بھی نظم ہے۔آپ کویہ اسلوب کہاں سے ملا؟

جواب:دراصل شاعری میری پہلی محبت ہے۔تواس کااثر نثر پرتوآئے گا۔محبت میری اب بھی قائم ہے۔ساری زندگی ہی محبت پرقائم ہے۔ اچھی چیزیں آپ کوبھلی لگتی ہیں۔مجھے اب بھی محبت ہوتی ہے۔محبت کاجذبہ مر نہیں سکتا، محبت کایہ عکس میری تحریروں میں بھی ہوتاہے۔

سوال:آپ کن شاعروں اورادیبوں سے متاثر ہیں؟

جواب :میں منیر نیازی کوپسند کرتا ہوں،اپنے قبیلے کاشاعر سمجھتا ہوں،وہ بہت انوکھا شاعر تھا۔نثر نگاروں میں مستنصر حسین تارڑ پسند ہے،وہ سفرنامہ نگار بھی ہے۔مستنصر نے پاکستان کاسفر نامہ لکھا ہے۔اس نے اپنے سفرناموں میں پاکستان کومتعارف کروایا ہے۔اس نے پلاؤ سفرنامے نہیں لکھے ہمارے کئی دوست پلاؤ سفرنامے اورکالم لکھتے ہیں۔میں وہاں گیا وہاں بھابھی نے پلا�ؤ کھلایا۔ مستنصر حسین تارڑ نے شمالی علاقوں کے سفرنامے لکھے ہیں۔پاکستان کے شمالی علاقے جنت نظیر ہیں۔ وہ مغربی دنیا سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ناروے ،سویڈن خوبصورت ہوں گے،لیکن ہمارے شمالی علاقے جنت ہیں۔ہمارے دشمن اس جنت کوجہنم بنانے پرتلے ہوئے ہیں۔ ادیب اورشاعرہمیشہ اپنے ملک کے ساتھ ہوتا ہے‘ وہ کسی غیر ملک کے ساتھ نہیں ہوتا۔آج بھی ہمارا شاعراورادیب پاکستان کے ساتھ ہے۔شہید ہونے والواں کے لئے ترانے کون لکھتا ہے۔شاعر ،ادیب لکھتا ہے۔شاعر اورادیب پاکستان کے ساتھ ہے،پاکستانی فوج کے ساتھ ہے۔ اردو دنیا بھرمیں بولی جانیوالی چوتھی یاپانچویں بڑی زبان ہے۔لیکن اب اردو کے خلاف بھی سازش ہورہی ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے،اردو پاکستانیوں کی زبان ہے۔ہمارے حکمران جنہیں انگریزی نہیں آتی‘ وہ بھی باہر جاکرانگریزی بولتے ہیں۔لیکن وہ غیر ملکی جنہیں انگریزی آتی ہے وہ پاکستان آکراپنی مادری اورقومی زبان میں بات کرتے ہیں۔ یہ سب ہماری بیوروکریسی نے کیا ہے،جسے میں ’’براکریسی‘‘ کہتا ہوں۔ ہمارے کچھ حکمرانوں کے زیادہ پیسے باہر کے ملکوں میں ہیں۔ان کی اولادیں پاکستان سے باہر پڑھتی ہیں۔یہ کیسے پاکستانی ہیں جن کے زیادہ اثاثے ملک سے باہر ہیں۔

سوال:مئی کے مہینے میں مدرڈے منایا جاتاہے۔ایک تووہ ماں ہے جس کادنیا بھر میں دن منایاجاتا ہے،دوسری طرف پاکستانی ماں ہے، جواپنے جگر گوشوں کے لاشے اٹھا رہی ہے۔آپ قوم کے ان شہدا ،غازیوں اوران کی بہادرماؤں کے جذبات کوکیسے محسوس کرتے ہیں؟

جواب:پاکستانی ماؤں کی قربانیوں کی دنیا میں مثال نہیں ملتی ۔جنہوں نے مادر وطن کے لئے اپنے جوان بچوں کوپیش کیا اوراب بھی کہتی ہیں کہ وہ اپنے مزید بیٹے وطن پرقربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔شہید مرتا نہیں‘ شہید زندہ رہتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جوپاکستان کے لئے خطرہ ہیں۔ پاکستان ان حالات میں بھی ایٹمی قوت ہے۔کوئی اورملک ان حالات میں سروائیو بھی نہیں کرسکتا۔بہت سے ممالک ہمارے خلاف ہیں اور پاکستان کوختم کرنا چاہتے ہیں۔نظریہ پاکستان ختم ہوگیا تو پاکستان بھی ختم ہوجائے گا۔

سوال:آپ میڈیا کی آزادی کوکس طرح دیکھتے ہیں۔

جواب :نقوی بھا ئی آپ خود سینئرصحافی ہیں۔صحافتی تنظیموں کے عہدیدار بھی رہ چکے ہیں۔ان با توں کوسمجھتے ہیں ۔ بعض لوگ میڈیا کی آزادی کے نام پرفوج اورآئی ایس آئی کوبدنام کررہے ہیں۔میڈیا کے لئے ضابطۂ اخلاق ہوناچاہئے۔ مجھے چھڑی گھمانے کاحق ہے لیکن اتنی جس سے آپ کونقصان نہ ہو۔میڈیا ذمہ داری کاثبوت دے۔ ایسا توکسی ملک میں بھی نہیں ہوتا کہ اپنی فوج اوراپنی ہی خفیہ ایجنسی کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جائے۔ پاک فوج پر آئینی اور قانونی طور پرملکی سلامتی کے حوالے سے جو ذمہ داریاں ہیں وہ ضرور پوری کرنی چاہئیں۔آئی ایس آئی کاکام کیا ہے،یہ کہ وہ سرحدوں کے پار دشمنوں کودیکھے اورسرحدوں کے اندردشمنوں پرنظر رکھے۔آئی ایس آئی ملک کے اندرموجود دشمنوں پرنظر رکھتی ہے کہ وہ کیاکررہے ہیں۔یہاں دہشت گردی کیسے ہوسکتی ہے جب تک گھر کاآدمی دہشت گردوں کے ساتھ شامل نہیں ہوجاتا اس وقت تک دہشت گردی نہیں ہوسکتی ۔میڈیا کی آزادی کے نام پر بعض لوگ ملک کے اندر بیٹھ کرملک کے ساتھ دشمنی کررہے ہیں۔کیا آزادئ صحافت کے نام پر بھارتی صحافی بھارتی فوج کو کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔دنیا کایہ واحد ملک ہے جہاں ایسے لوگ موجود ہیں اورملک کے اندر ہی فوج کے خلاف بات کرتے ہیں۔یہ بڑاظلم اورزیادتی ہے۔میراخون کھول رہا ہے۔ یہ کیا لوگ ہیں جوروٹی یہاں کھاتے ہیں ۔اگر یہ پاکستانی نہ ہوتے تو انہیں عزت نہ ملتی جتنی یہاں ملی ہے۔انہیں یہ محسوس کرناچاہیے ،بھارت میں مسلمانوں کی عزت نہیں ہوتی ۔

سوال:بعض حلقے جو اس وقت فوج اورآئی ایس آئی کوتنقید کانشانہ بنارہے ہیں،جس کاآپ نے اشارہ بھی کیا ۔اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں؟

جواب:اس کے پیچھے مقاصد وہی ہیں جو پاکستان کے دشمنوں کے ہیں۔ بیرونی طاقتیں آئی ایس آئی کی طاقت کوجانتی ہیں۔ آئی ایس آئی نہ ہوتی توپاکستا ن اب تک بکھر چکا ہوتا۔ یہ آئی ایس آئی ہے جس نے پاکستان کوقائم رکھا ہوا ہے۔ اس لئے میرے خیال میں ہمارے سیاست دانوں، ہماری حکومتوں کوبھی سوچناچاہیے۔ بھئی فوج نہیں ہوگی توتم کیا کروگے؟ تم کس طرح حکومت کرو گے۔ یہ پاکستان توخدانخواستہ بھارت کے زیرِاثر آجائے گا۔جس طرح نیپال ہے،جس طرح بھوٹان ہے،مالدیپ ہے۔کیا اس طرح کاپاکستان چاہتے ہو۔آج بھی انڈیا کہتاہے کہ میں برصغیر کالیڈر نہیں بن سکتا جب تک پاکستان طاقتور ہے۔یہ پاکستان کی طاقت کوکمزور کرناچاہتے ہیں اورپاکستان کی طاقت کانام پاکستان کی فوج ہے۔پاکستان کاایٹم بم بھی پاکستان کی طاقت نہیں ہے۔پاکستان کی فوج پاکستان کی طاقت ہے۔اس طاقت کی حفاظت کرنے کے لئے ہمیں اپنی فوج کی عزت کرنی چاہئے۔ہم نے ایٹمی دھماکے کیوں کئے تھے۔ یہ ایٹمی دھماکے ہم نے چین یا ایران کے خلاف نہیں کئے تھے۔یہ ایٹمی دھماکے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کئے تھے۔بھارت نے اب تک ہمیں قبول نہیں کیا ہے۔

سوال :برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک الگ وطن حاصل کیا ،لیکن قائداعظم کی وفات کے بعد یوں محسوس ہوتاہے جیسے قوم ان کے افکار کوفراموش کربیٹھی ہے۔آپ اس بارے میں کیا سمجھتے ہیں ؟ ْ

جواب:قائداعظم محمد علی جناح بیسویں صدی کے سب سے بڑے آدمی تھے۔دنیاکے سب سے بڑے آدمی پیغمبر اعظمﷺ ہیں۔ہمارے لئے سیاسی طور پرسب سے بڑے آدمی قائداعظم محمد علی جناح تھے۔ہمارے دو لیڈر ہیں‘ ایک ہمارے لیڈر،ہمارے پیارے نبی ﷺ، پیغمبراعظم ؐ،رسول اعظمؐ ہیں ۔آپ ﷺ رحمت اللعالمینؐ تھے، صرف رحمت المسلمین نہیں تھے۔پوری دنیا کے لئے رحمت تھے۔جوکشادگی ،جواعلیٰ ظرفی ،جووضع داری ان میں تھی وہ کسی اور میں نہیں تھی۔ قائداعظم نے جن اصولوں کی بنیاد پرپاکستان بنایا تھا ہم نے انہیں بھلا دیا ہے۔قائداعظم نے توپاکستان کسی اورمقصد کے لئے بنایاتھا۔قائداعظم پاکستان میں عدل و مساوات پر قائم ایک مثالی معاشرہ چاہتے تھے۔ وہ قانون کی حکمرانی چاہتے تھے۔ قائداعظم پاکستان کو تمام دنیا میں ایک مثالی ملک دیکھنا چاہتے تھے جہاں عوام عزت و وقار اور خوشی سے زندگی گزار سکیں۔ میں بتاؤں آپ کو، یہ وہ خطہ ہے جہاں سے اصل اسلام اُٹھے گا‘ یہاں سے نعرہ بلند ہوگا جو پوری دنیا پر چھا جائے گا۔

سوال :علامہ اقبال کاایک نظریہ تھا ان کی شاعری پسی ہوئی قوم کے لئے ایک روشنی اوراعتماد کاباعث بن کرسامنے آئی ۔کیا قوم آج بھی اقبال کی تعلیمات پرعمل پیر اہے؟

جواب : ہم تو علامہ اقبال اورقائداعظم دونوں کے راستے سے بھٹک گئے ہیں ، ہم اس راستے سے ہٹ گئے ہیں جس پر وہ قوم کو عمل پیرادیکھنا چاہتے تھے۔ ہم توسچے پاکستانی بھی نہیں رہے بھئی۔اگر ہم سچے پاکستانی بنے ہوتے تومیں سمجھتاہوں کہ اس وقت یہ ملک دنیا کابہترین ملک ہوتا۔1947ء میں ہم ایک قوم تھے اورہمیں ایک ملک کی تلاش تھی ۔اب ہمارے پاس ایک ملک ہے اورہمیں ایک قوم کی تلاش ہے۔ سوال :آپ بھی سمجھتے ہیں جیسا کہ منیر نیازی کہا کرتے تھے کہ ہم ایک قوم نہیں ہجوم ہیں؟ جواب :بالکل ایک ہجوم ہیں۔بلکہ ہجوم بھی نہیں ہیں۔لیکن جتنے بڑے لوگ ہیں ، بزرگ ہیں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان قائم رہنے کے لئے بناہے۔انشاء اللہ قائم ودائم رہے گا۔پاکستان ایک زمانے میں ایسا ملک ہوگا جس کی دنیا مثالیں دے گی۔

سوال:پاکستان جوایک بھرپورقوم تھی، آج مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں ادیب اوردانشور ان کویکجا کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں ؟

جواب:پاکستانیوں کوفرقوں میں ہمارے دشمن نے بانٹا ہے۔ مسلمانوں کو مسلمانوں کے ساتھ لڑادیا ۔شیعہ ،سنی توپہلے بھی تھے۔ان میں کوئی فرق تھا؟کبھی کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔اکٹھے رہتے تھے۔یہ فرقہ واریت ان لوگوں کی پیداکردہ ہے جومسلمانوں کوآپس میں لڑاناچاہتے ہیں۔ہمیں اس بات کومحسوس کرناچاہئے کہ ہم آپس میں نہیں لڑیں گے۔صرف مسلمان کی حیثیت سے پوری دنیا میں رہیں گے۔ سوال : آپ نے مختلف مسائل اورچیلنجز کی نشاندہی کی ہے۔ملک کوان مسائل سے کیسے نکالا جاسکتاہے؟ جواب:میں سمجھتا ہوں کہ اپنے اندروہ جذبہ پیدا کریں کہ کیاسچ ہے اورکیا جھوٹ ہے۔ ہمیں کیاکہنا چاہیے اورکیانہیں کہنا چاہیے اورپاکستان کومضبوط کیسے بناناچاہیے۔تب ہی ہم ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں ورنہ ان سے چھٹکارا ممکن نہیں۔

سوال:ڈاکٹراجمل نیازی صاحب آپ کے خیال میں پاکستان کامستقبل کیسا ہے؟

جواب:پاکستان کامستقبل روشن ہے،پاکستان ایک چمکتا ہوا قطبی ستارہ ہے۔جوروشن رہے گا،انشاء اللہ ضرور رہے گا،یہ ہماری امید ہے،ہماری دلی تمنا ہے،اوریہ ہوگا ۔میں پاکستان کو قریہ عشق محمد ﷺکہتاہوں۔دنیا والوں کے لئے‘ بیرونی قوتوں کے لئے اگر کوئی مقابلے کی قوت ہے تووہ عشق رسول ہے۔وہ مسلمانوں کے دلوں سے عشق رسول ﷺ نہیں نکال سکتے ۔جب تک عشق رسولﷺ مسلمانوں کے دلوں میں ہے،عالم اسلام کوکوئی خطرہ نہیں ہے اورپاکستان کوبھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔

سوال:ڈاکٹر صاحب ہمارے جو فوجی جوان سیاچن کے بلند وبالا اوربرف سے ڈھکے پہاڑوں سے لے کر بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں،صحراؤں اور میدانوں میں وطن عزیز کے دفاع کافرض اداکررہے ہیں ،اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں ،آپ ان کو کیا پیغام دیں گے؟

جواب:پاکستان کے شاعروں اورادیبوں کی طرف سے اور میری جانب سے بھی انہیں سلام ہے۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ انہیں کس طرح خراج تحسین پیش کروں۔ میں کچھ لوگوں سے کہتاہوں،تم کہیں دن اوررات کواپنے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے اتنے خوف زدہ ہو۔مگر وہ لوگ پہاڑوں کی چوٹیوں پربیٹھے ہیں۔اکیلے ریگزاروں میں کھڑے ہیں۔وطن عزیز کادفاع کررہے ہیں۔گولیوں کے سامنے سینہ تان کرکھڑے ہیں تم ان لوگوں کے خلاف بات کرتے ہو۔وہ ہیں تو ہم ہیں۔پاکستانی ہونے کی وجہ سے ہماری عزت ہے،ہم پاکستانی ہیں،پاکستانی کی حیثیت سے پیدا ہوئے تھے اورپاکستانی کے طور پرہی مریں گے۔میری تو صرف اتنی خواہش ہے،ملک پاکستان ہواوریہاں مجھے دوگز زمین مل جائے ،میری قبر پاکستان میں ہونی چاہیے۔

یہ تحریر 98مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP