قومی و بین الاقوامی ایشوز

چینی وزیرِدفاع کا دورہ پاکستان

نومبر2020 کے آخری ہفتے میں چین کے وزیرِدفاع اور چینی مسلح افواج کے سب سے اہم ادارے ''سنٹر ل ملٹری کمیشن'' (سی ایم سی) کے ڈپٹی چیئرمین جنرل ووئی فنگائی (Wei  Fenghe) نے پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران چینی وزیرِ دفاع نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں جن میں صدرِ مملکت عارف علوی، وزیرِاعظم عمران خان  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کے علاوہ دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعلقات ، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی صورتِ حال سے متعلقہ اُمور بھی زیرِ بحث آئے۔ اس دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے ایک ایم او یو پر دستخط بھی کئے گئے۔ 



گزشتہ چار دہائیوں پر محیط عرصے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان لازوال دوستی کے رشتوں نے ہر شعبے میں ترقی کی ہے۔ دفاع کے علاوہ تجارت، معاشی تعاون، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی تعمیر، توانائی، صنعت، زراعت، تعلیم، ثقافت، علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی کاری، غرضیکہ قومی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے چین اور پاکستان کے درمیان تعاون میں برابر اضافہ ہوتا چلا آیاہے۔ مگر دفاعی شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو ''پاک چین تعلقات میں 'ریڑھ کی ہڈی' کی حیثیت حاصل ہے۔'' یہ حقیقت آج سے تقریباً اڑھائی سال قبل چین کے ایک سینیئر جرنیل، جنرل ژانگ یوشیا  (Zhang Youxia) نے بیجنگ میںپاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورئہ چین کے موقع پر بیان کی تھی۔ جنرل باجوہ موجودہ یعنی وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت کے قیام کے بعد چین کا پہلا دورہ کررہے تھے اور اس دورے کاایک مقصد چینی حکام کو یقین دلانا تھا کہ نہ صرف دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات بدستور دوستانہ رہیں گے بلکہ ان میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہوگی اور یہ کہ پاکستان کی مسلح افواج سی پیک کے تحفظ کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گی۔ جنرل ژانگ بھی چین کے اعلیٰ ترین عسکری ادارے سنٹرل ملٹری کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ہیں۔ یاد رہے کہ چین کے سنٹرل ملٹری کمشن کے چیئرمین ، صدر شی جِن پنگ ہیں۔ جنرل ژانگ نے اس موقع پر اپنے بیان میں پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک پارٹنر شپ کو لازوال قرار دیتے ہوئے  چند تجاویز بھی پیش کی تھیں جو کہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کے لئے ایک اہم فریم ورک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو دفاع کے تمام شعبوں میںعملی تعاون پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔دوم :باہمی سلامتی کو درپیش مختلف خطرات کا خاتمہ کرنے کے لئے استعداد میں برابر اضافہ کرتے رہنا چاہئے ۔ سوم: مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لئے دونوں ملکوں کو شانہ بشانہ کارروائی کرنی چاہئے۔ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو برقرار رکھنے اور اسے فروغ دینے کے لئے دونوں ملکوں کی اعلیٰ سطح کی عسکری قیادت کے مابین باہمی دوروں کے ذریعے اور مختلف سطحوں پر روابط جاری رہتے ہیں۔ صلاح مشورہ اور تبادلۂ خیالات کے لئے روابط کا یہ سلسلہ دوطرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر بھی جاری رہتا ہے۔ پاکستان اور چین کی مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت کے درمیان متواتر روابط کے علاوہ، دونوں ملک افغانستان اور تاجکستان کی مسلح افواج کے ساتھ ایک چہار فریقی میکانزم کے تحت علاقائی اور عالمی سکیورٹی کے مسائل پر صلاح ومشورہ اور تبادلۂ خیال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دو طرفہ بنیادوں پر پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کا دائرہ دونوں ملکوں کی عسکری قیادت کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر تبادلۂ خیال اور مشوروں، مشترکہ قومی مشقوں ، دفاعی ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری اور ہتھیاروں کی خریدو فروخت ، فوجی افسروں کی تر بیت، دفاع اور سلامتی کے اُمور پر مذاکرات ، ڈیفنس پارٹنر شپ، مشترکہ منصوبوں،خصوصاً ہوائی جہازوں، آبدوزوں اور دیگر ہتھیاروں کی پیداوار تک پھیلا ہوا ہے۔ چین پاکستان اکنامک کاریڈور(CPEC)  نے پاکستان اور چین کے درمیان  دفاعی تعاون میں ایک نئی جہت کا اضافہ کردیا ہے۔ چین کے بیلٹ  اینڈروڈ انیشی ایٹو (BRI)کایہ ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے اور پاکستان میں معاشی ترقی میں اسے بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی سکیورٹی پاکستان اور چین کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور پاکستان نے اس کی حفاظت کے لئے دو سپیشل ڈویژن قائم کررکھے ہیں۔ چند ہمسایہ ممالک کے معاندانہ منفی رویے کی وجہ سے پاکستان اور چین نے اس کی حفاظت کے لئے خصوصی اقدامات کئے ہیں اور دفاعی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان لداخ کے علاقے میں فوجوں کا آمنا سامنا ، جھڑپیں اور ان کے نتیجے میں لگاتار کشیدگی نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور خصوصاًسی پیک کی سکیورٹی کے لئے ایک نیا خطرہ پیدا کردیا ہے۔ پاکستان اور چین اس خطرے کا مشترکہ مقابلے کرنے کے لئے دفاعی تعاون میں اضافہ کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان نے گزشتہ ستمبر میں بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن  راوت کے دھمکی آمیز بیانات کا خصوصی طور پر نوٹس لیا تھا اور بھارت کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ چین کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک حالیہ بیان میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ علاقے میں کچھ قوتیں سی پیک کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں لیکن اُن کے عزائم ناکام ہو ں گے اور اُنہیں سخت مایوسی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے پاکستان اور چین پر الزام تراشیوں کا ایک لگاتار سلسلہ شروع کردیا ہے کہ اگر لداخ میں چین اور بھارت کی جنگ ہوئی تووہ ماضی کے برعکس اس دفعہ مل کر بھارتی فوجیوں کا مقابلہ کریں گے۔ بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن  تو دعویٰ کرچکے ہیں کہ پاکستان اور چین لداخ میں بھارت کی چوکیوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ جنرل بپن کے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیزبیانات اسی سیاق و سباق میں جاری کئے گئے تھے اور ان کا مقصد نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے خلاف بھارت کے جارحانہ عزائم پر پردہ ڈالنا ہے۔ لداخ میں چین اور بھارت کی مشترکہ مگر متنازع سرحد جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (Line of Actual Control (LAC)کہا جاتا ہے، پر رواں سال کے موسمِ سرما سے جاری دونوں ملکوں کے درمیاں محاذ آرائی نے پاکستان اور چین کو دفاعی شعبے میں مزید تعاون پر مجبور کردیا ہے۔ ایسا ہونا بالکل قدرتی بلکہ ناگزیر ہے۔ کیونکہ یہ خطہ پاکستان اور چین دونوں کے بنیادی سٹریٹجک مفادات کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت نے اس علاقے میں پیش قدمی کرکے چین اور اس کے صوبہ سنکیانگ کے درمیان رابطہ منقطع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح اگر بھارت کے ان اقدامات کے آگے بند نہ باندھا گیا تو سی پیک خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسی مشترکہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان اور چین کے لئے مؤثر اقدامات کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ چینی وزیرِدفاع کا حالیہ دورئہ پاکستان اس تناظر میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ لداخ کی خطرناک اور سنگین صورتِ حال سے پہلے کشمیر میں گزشتہ سال5 اگست کو بھارت کی جانب سے یک طرفہ اور اشتعال انگیز اقدامات یعنی مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارتی آئین کے آرٹیکل370کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور لداخ کو یونین ٹیرٹری (Union territory)قرار دے کر براہِ راست مرکزی حکومت کے ماتحت لانے پر بھی چین نے احتجاج کیاتھا۔ دراصل ایک سال بعد یعنی2020 کے موسمِ سرما میں لداخ میں چین اور بھارت کی فوجوں میں تصادم اور کشیدگی کشمیر میں5 اگست کے بھارتی اقدامات کا شاخسانہ اور منطقی نتیجہ ہے۔ نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے لداخ میں پیش قدمی کرکے چین کو ریاست جموں و کشمیر کے تنازعے میں ایک فریق بنا دیا ہے۔ اب چین کے لئے بھارت کے ساتھ صرف لداخ میں اپنی مشترکہ سرحد پر بھارت کی اشتعال انگیز کا رروائیاں باعث تشویش نہیں رہیں۔ بلکہ ریاست جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی صورت حال بھی چین کے لئے تشویش کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی نہ صرف خلاف ورزیوں میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ بھارت کی طرف سے اب چھوٹے خودکار ہتھیاروں کے بجائے بھاری ہتھیارجن میں بھاری مارٹرگن اور دور مار توپیں بھی شامل ہیں، استعمال ہورہے ہیں۔ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کے اُس پار سے فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ تو 2012 کے اوائل سے ہی شروع ہوگیا تھا مگر جب سے نریندر مودی کی سربراہی میں بی جے پی کی حکومت بھارت میں برسرِاقتدار آئی ہے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی صریح خلاف ورزیوں اور پاکستانی علاقے میں شہری علاقوں کو گولہ باری کا نشانہ بنانے والی کارروائیوںمیں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ 5 اگست2019 کے اقدام کے بعد لائن آف کنٹرول پر بھارت کی فوجی کارروائیوں نے مزید جارحانہ انداز اختیار کرلیا ہے اور ان کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کو ایک ایسے خطرے کا سامنا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔ اس کے پیش نظر  پاکستان کو متعدد بار اپنی افواج کو ہائی الرٹ کی پوزیشن میں مستعد کرنا پڑا۔ کیونکہ یہ خدشہ برابر موجود ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میںعوام کے بنیادی انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں سے پیدا ہونے والی صورت حال سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کے خلاف ایک دفعہ پھر بالاکوٹ جیسی مہم جویانہ کارروائی کرسکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی سلامتی اور امن کو کوئی بھی خطرہ ہو پاکستان اور چین کے لئے برابر باعث تشویش معاملہ ہے۔ کیونکہ اس سے دونوں کے بنیادی قومی مفادات متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان اور چین کی اعلیٰ عسکری قیادت کے درمیان صلاح مشورے کے لئے ایک باقاعدہ میکانزم موجود ہے۔ چین کے وزیربرائے قومی دفاع نے پاکستان کا دورہ اسی میکانزم کے تحت کیا ہے اور اس کا مقصد نہ صرف لداخ اور کشمیرمیں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیشِ نظر دو دوست ملکوں میں صلاح مشورہ کرنا ہے، بلکہ جنوبی ایشیا اور اس کے ارد گرد علاقوں کی صورت حال کو بھی زیرِ بحث لانا ہے۔ ان علاقوں میں بحرِ ہند جنوب مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل کے علاقے بھی شامل ہیں چین کی صنعتی اور معاشی ترقی کا درآمدی توانائی (تیل اور گیس) پر بہت زیادہ انحصار ہے اور چونکہ چین اس کا بیشتر حصہ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے حاصل کرتا ہے اور تیل اور گیس کے ٹینکر مشرقی چین کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بحرِ ہند سے گزرتے ہیں۔ اس لئے بحرِ ہند میںدفاع اور سکیورٹی کے معاملات چین کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ سی پیک کی تعمیرکے بعد بحرِ ہند خصوصاً اس کے شمال مغربی حصے (بحیرہ عرب اورخلیج اومان) میں سکیورٹی کے معاملات چین کے لئے اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ کیونکہ سی پیک کا جنوبی ٹرمینل (گوادر کی بندرگاہ) بحرِ ہند کے اسی حصے میں واقع ہے اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں بھارت کی بحریہ نے اپنی قوت اور سرگرمیوں میں گزشتہ چند برسوں میںنمایاں اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ سال فروری میں جب پلوامہ کے واقعے کے بعد اور بالاکوٹ پر بھارتی حملے کی روشنی پاکستان اور بھارت میں مسلح تصادم کا امکان تشویش ناک حد تک بڑھ گیا تھا، بھارت کی بحریہ ان علاقوں میں اپنے طیارہ بردار جہاز اور ایٹمی آبدوز کے ساتھ جنگی مشقوں میں مصروف تھی۔آئندہ اس قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان چین کی مدد سے بحریہ کی استعدادمیں اضافہ کررہا ہے لیکن پاکستان اور چین کو بحرِ ہند کے ان علاقوں سے وابستہ اپنے بنیادی معاشی سٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لئے باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کے وزیرِ دفاع نے اس ضرورت کے تحت پاکستان کا حالیہ دورہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل ووئی فِنگائی(Wei  Fenghe)نہ صرف چین کے وزیربرائے قومی دفا ع ہیں بلکہ سٹیٹ کونسلر بھی ہیں جو چین کی مرکزی قیادت میں ان کی اعلیٰ ترین پوزیشن کا آئینہ دار ہے۔ اس لحاظ سے 2015 کے بعد شی جن پنگ کے بعد پاکستان کے دورے پر آنے والے چینی رہنمائوں میںجنرل وی وئوئی فنگائی سب سے سینیئر اور بااختیار رہنما ہیں۔ اس سے چینی وزیرِ دفاع کے دورے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


مضمون نگار معروف تجزیہ کار اور کالم نویس ہیں۔
  [email protected]
 

یہ تحریر 7مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP