قومی و بین الاقوامی ایشوز

چین، بھارت لداخ بارڈر تنازع

بھارت کا خطے میں من مانی کرنے کا خواب چکنا چورہو گیا.
برادر ملک چین کرونا جیسے موذی مرض کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے بعد اب بھارت کے ساتھ سرحدی کشمکش کا شکار ہے۔ جس کی بناء پر دونوں ممالک کی افواج مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ یہ معاملہ اس قدر سنجیدہ ہے کہ اسے 1999 کی کارگل کے محاذ پرہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد خطے کی سب سے بڑی عسکری کشیدگی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ بھارت  اپنی جارحانہ سوچ، مذموم مقاصد، سرحدی تنازعات اور روائتی تنگ نظری کے باعث نہ صرف عالمی سطح پر تنہا ہوتا جا رہا ہے بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک جیسے کہ پاکستان، چین، نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی سالمیت کے ساتھ اس کا من مانی کرنے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا ہے۔ 



بھارت اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز 5 مئی 2020 کوہوا جو تاحال جاری ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق چین لداخ میں وادی گلوان اور پینگانگ وانگ جھیل سیکٹر پر دس ہزار فوجی اہلکار تعینات کرنے کے بعد لداخ کے 40 فیصد علاقے پر قبضہ کرچکا ہے اوراب وہاں ائیر بیس اور زیر زمین بنکرز کی تعمیر میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ وہ بڑی تعداد میں جنگی سازو سامان وہاں پہنچا رہا ہے جس سے لگتا ہے کہ چین اب اس علاقے کو کسی صورت خالی نہیں کرے گا۔
بھارت اور چین کے مابین سرحدی تنازع کافی پرانا ہے۔ 1962 میں بھارت نے لداخ پراپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کی تو چین نے فوجی کارروائی کرتے ہوئے لداخ کے 11754 مربع  کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ حالیہ صورت حال کے مطابق بھارتی حکومت مغربی سیکٹر میں اکسائی چن پر ملکیت کی دعوے دار ہے حالانکہ یہ علاقہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے۔ چین نے اکسائی چن سے متعلق انڈیا کے دعوے کو کبھی قبول نہیں کیا۔ جبکہ دوسری جانب چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پراپنا دعوی کرتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے۔ چین تبت اوراروناچل پردیش کے مابین 'میک موہن لائن'کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ 


لداخ میں چین کے ساتھ تنازع بڑھانے کے پیچھے بھارت کے بے شمار مذموم مقاصد ہیں۔ جن میں سے ایک سی پیک کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان کے لئے گیم چینجر کے طور پردیکھا جانے والا سی پیک منصوبہ پاکستان میں گلگت بلتستان سے ہو کر گزرتا ہے۔ اور لداخ کا علاقہ بھارت کے لئے مختصر ترین اور واحد کوریڈور ہے جہاں سے بھارت گلگت بلتستان اور سی پیک پر حملہ کرسکتا ہے۔


دونوں ممالک کے درمیان واقع مشترکہ سرحد کی لمبائی 3488کلومیٹر ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اوراروناچل پردیش میں انڈیا سے جا ملتی ہے جسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مغربی سیکٹرجموں و کشمیر، مڈل سیکٹر ہماچل پردیش اوراتراکھنڈ جبکہ مشرقی سیکٹر سکم اور اروناچل پردیش پر مشتمل ہے۔ اس تنازعے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تاحال سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہو سکی۔ لہٰذا جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے وہ اسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول( ایل اے سی) کی وساطت سے اپنا علاقہ گردانتا ہے۔ یہی بنیادی نقطہ ان کے مابین کشیدگی کا باعث بنتا رہا ہے۔
چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ بھارتی آئین میں کی جانے والی ترمیم ہے۔ جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے ان کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا تو چین نے اس پر سخت تنقید کی تھی اور اسے ناقابل قبول اور چین کی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا تھا یہاں تک کہ اس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بھی اس معاملے کو اٹھایا تھا۔
اسی ترمیم کو بنیاد بنا کر بھارت نے پہلے پہل لداخ میں بھارتی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں دیگرمتنازع علاقوں میں تعمیرات شروع کردیں۔ بھارت کے اس رویہ پرجب چینی فوج حرکت میں آئی تو بھارتی فوجیوں کو اپنی جان بچانے کے لئے بینراٹھا کرمعافی مانگنی پڑی۔ بھارتی فوجیوں کی چینیوں کے ہاتھوں ہلاکتوں، پٹائی اوردرگت بننے کے بعد ان کی بہادری دنیا بھر میں سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ وہ جس 'دیدہ دلیری' کے ساتھ اپنے مورچے چھوڑکربھاگے، کچھ گرفتار بھی ہوئے،ان کے لئے عالمی سطح پر کسی ہزیمت سے کم نہیں ہے۔ 
یہ سب واقعات ایک طرف، جس بھارتی اقدام نے جلتی پہ تیل کا کام کیا وہ بھارتی آرمی چیف کا 14 مئی کا لیہہ کا خفیہ دورہ تھا جو انھوں 14ویں کور کے مقامی کمانڈروں سے ملاقات کی خاطر کیا۔ اس ملاقات میں بھارتی آرمی چیف نے ان کمانڈروں کو واضح احکامات دئیے کہ چین کے ساتھ محدود لڑائی لڑی جائے اور اس دوران متنازع علاقے میں مزید پیش قدمی کی جائے۔اس خفیہ ملاقات اور منصوبے کا علم چینی حکام کو بروقت ہو گیا اور اس سے پہلے کہ بھارتی افواج کوئی کارروائی کرتیں چینی فوجیوں نے ان کو آ لیا۔
اس معاملے میں چین کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ بھارتی قیادت نے متنازع علاقوں میں دراندازی کرتے ہوئے سکم اور لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی حیثیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ لہٰذا بھارتیوں سے کسی قسم کی رعائت نہیں برتی جائے گی۔ 
ایک طرف چین تو دوسری جانب نیپال۔ بھارت سکم سیکٹر میں نیپال کے ہاتھوں بھی خاصا پریشان ہے۔ نیپالی حکومت نے حال ہی میں ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے۔ جس میں کالا پانی، لمپیا دھورا اور لیپو لیکھ کے علاقوں کو نیپال کا حصہ قراردیا گیا ہے۔ ایک وقت تھا جب نیپال کے باسی بھارتی تعصب کے سامنے خاموشی اختیار کرنے میں عافیت سمجھتے تھے مگر وقت کا بہائو بدل چکا ہے اور اب معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بھارتی دراندازی کے سامنے اب نیپالی بھی سینہ سپر ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے حقوق کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں جس کا خمیازہ بہرحال بھارت کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ 
بھارت کا ایک اور ہمسایہ ملک سری لنکا بھی طویل عرصے سے بھارت سے ناخوش ہے کیونکہ بھارت نے سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کے ذریعے وہاں علیحدگی کی تحریک شروع کرائی تھی ۔جسے سری لنکا نے پاکستان کی مدد سے کچل دیا تھا۔ پاکستانی حکومت اورا فواج کی اس مدد پر وہ آج بھی ان کے معترف ہیں۔ 
اگرچہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت بھارت کی حامی ہے مگر وہ کچھ عرصے سے بھارت سے ناراض بھی ہے۔ جب سے بھارت میں شہریت قانون نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے بنگلہ دیشی حکومت پر مغربی بنگال اور آسام کے لوگوں کا دبائوبڑھا ہے لہٰذا اب وہ چاہتے ہوئے بھی بھارت کی مدد نہیں کر سکتی۔
بھارت کے سامنے خالصتان کی صورت میں ایک اور اژدھا پھن پھیلائے کھڑا ہے۔ خالصتان کی تحریک آئے روز زور پکڑتی جا رہی ہے۔ اس تحریک کے سرگرم رہنمائوں نے حال ہی میں جو نقشہ جاری کیا ہے اس کے مطابق ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش، راجستھان کے علاوہ گجرات اور اوتار کھنڈ کے کچھ علاقے بھی خالصتان میں شامل ہیں۔ اس نقشے کے مطابق بھارتی فوج کی مشہور اکیڈمی ڈیرہ دون بھی خالصتان میں شامل ہے۔ اگر اس وقت سکھوں کو مطمئن نہ کیا گیا تو خالصتان کی علیحدگی کی صورت میں بھارت کا ایک بہت بڑا حصہ ہندوستان سے کٹ سکتا ہے۔
لداخ میں چین کے ساتھ تنازع بڑھانے کے پیچھے بھارت کے بے شمار مذموم مقاصد ہیں۔ جن میں سے ایک سی پیک کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان کے لئے گیم چینجر کے طور پردیکھا جانے والا سی پیک منصوبہ پاکستان میں گلگت بلتستان سے ہو کر گزرتا ہے۔ اور لداخ کا علاقہ بھارت کے لئے مختصر ترین اور واحد کوریڈور ہے جہاں سے بھارت گلگت بلتستان اور سی پیک پر حملہ کرسکتا ہے۔ چین کی بروقت کارروائی نے اگرچہ بھارت کو وہیں روک دیا ہے مگر یہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ بھارت کافی عرصے سے گلگت بلتستان پر ملکیت کا دعوے دار بنا ہوا ہے۔ وہ آبی دہشت گردی کے ذریعے دریائے سندھ کے علاوہ پاکستان میں آنے والے تمام دریائوں پر متنازع ڈیم تعمیرکرکے پاکستان کے حصے کا پانی روک چکا ہے۔ اب جبکہ گلگت بلتستان میں دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے تویہ بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا۔  
بھارت پاکستان کے ساتھ بھی انتشار کی اسی پالیسی پر گامزن ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئی ماہ سے جاری کرفیو اور لاک ڈائون کے علاوہ معصوم نہتے کشمیریوں پر آئے روز نت نئے مظالم اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ آئے روز لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں اور معصوم شہریوں کی جانیں لے کر بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو ان مسائل میں الجھا کر گلگت بلتستان، دیامیر بھاشا ڈیم یا سی پیک کو کوئی نقصان پہنچائے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔
مودی حکومت نے جس برق رفتاری سے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بگاڑے ہیں اس سے'ہندوتوا' کے خلاف اکثریتی آبادی کے باشعور لوگوں کے اندر بھی نفرت کے جذبات ابھرے ہیں۔ ایسے اقدامات کر کے بھارت اپنی مخالفت میں اضافہ اور ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کو اپنا دشمن بنا چکا ہے۔ بھارت بری طرح کرونا کی لپیٹ میں ہے۔ وہاں بھوک اور افلاس بھی بدستور قائم ہے۔ پہلے ہی دس کروڑ بھارتیوں کو صرف ایک وقت کا کھانا ملتا تھا اب حالات کہیں زیادہ برے ہیں۔ حالیہ بحران میں بھارت کے بیس بینک دیوالیہ ہو چکے ہیں جبکہ مغربی ملکوں نے اپنا سرمایہ نکال کر بھارت کو سرمایہ کاری کے سولہ ارب ڈالرز سے بھی محروم کر دیا ہے۔
بھارتی حکومت پاکستان، چین اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ محاذ آرائی کی آڑ میں ہندوتوا کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اس کو چاہئے کہ وہ انتشار کی پالیسی ترک کرکے امن کا راستہ اپنائے کیونکہ اسی سے خطے کے پائیدار اور دائمی امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ بھارتی حکومت اور نریندر مودی نے اگر اس سارے منظر نامے کا باریک بینی سے جائزہ نہ لیا اور اپنا قبلہ درست نہ کیا تو جان لیجئے کہ آنے والا وقت بھارت کے لئے کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں ہو گا۔

یہ تحریر 85مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP