قومی و بین الاقوامی ایشوز

چودہ اِگست - تجدید عہد کا دن

‘آج کے اس تاریخی اور مبارک دن ہم اور ہمارے بعدآنے والی نسلوں کو آزاد مملکت میںآزاد سانس لیتے رہنے کی ضمانت دی گئی تھی۔ یہ دن اُس وقت کی یاد ہے جب حق کو فتح نصیب ہوئی اس مبارک دن دو قوموں کی سمتوں کا تعین کیا گیا۔ اُن قوموں کا جو صدیوں سے اکٹھا رہنے کے باوجود بھی دریا کے کناروں کی طرح اکٹھی چلتی تو رہیں‘ لیکن باہم مل نہ سکیں۔ ایک قوم کے ہیرو دوسرے کے مجرم اوردوسری کے مجرم پہلی کے ہیرو ٹھہرے۔ اگر خدا نخواستہ پاکستان نہ بنتا تومسلم اقلیت ہندو اکثریت اور ذہنیت کے پاٹوں میں ہمیشہ پستی رہتی۔ تقسیم ہندوستان توہونا ہی تھی۔ آج نہیں تو کل جتنا جلدی ہوگیا اتنا ہی بہتر ہوا۔ 
اس دیئے کو مختلف لوگ مختلف ادوار میں جِلا بخشتے رہے۔ کبھی سید احمد شہید پشاور کو ظلم سے نجات دلاتے سر بکف نظر آتے ہیں اور کبھی سر سید احمد خان علی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کی بنیاد رکھ کر مسلمانوں کو ہندوؤں کے ہم پلہ بنانے کی کوشش میں محو نظر آتے ہیں۔ کہیں ٹیپو سلطان اپنی اور مسلمانوں کی بقا کی جنگ لڑتے نظر آتا ہے‘علامہ اقبالؒ ایک خواب، ایک خیال پیش کرتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں۔
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں۔
ایسے میں جسمانی طور پر انتہائی کمزور مگر انتہائی قوی کردار آدمی اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کمر بستہ ہوجاتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمان اُس کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ کئی لوگ اُس کی زبان کو نہیں سمجھ سکتے لیکن وُہ اس مثلث جس کا عنوان اسلام ، پاکستان اور قائداعظم ہے‘ بخوبی سمجھ جاتے ہیں اور پھر صدیوں پہلے جب 27 رمضان کو قرآن پاک اُترا تھا‘ اُسی شب اُسکی تعبیر سے ایک ملک معرض وجود میں آتا ہے۔ جس کا نام پاکستان قرار پایا۔
جو محرکات تحریک پاکستان کاسبب بنے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ بِلآخر14 اگست 1947ء کو قرار دادِ پاکستان اپنے منطقی انجام کو پہنچی اور پاکستان دنیا کے نقشے پر معرضِ وجود میں آیا۔ اس وقت یہ دنیا کی واحد مملکت تھی جو صر ف اورصرف نظریاتی تفریق کی وجہ سے معرضِ وجود میں آئی۔
آج کا دن جہاں اپنے قومی ہیروز کو یاد کرنے کا دن ہے وہیں یہ محاسبے کا دن بھی ہے‘ جہاں ہمیں آج اپنے کارناموں کو یاد کرنے اور اُن پر فخر کرنے کا حق ہے‘ وہاں آج کے دن سیاہ ابواب پر نظر دو ڑانے کا فرض بھی ہے‘ جن کی وجہ سے صوبائی تعصب کی آگ پھیلی اور ملک دشمن عناصر کو تخریبی کاروائیاں کرنے کا موقع ملا۔ اگر ہم 1940ء سے لے کر آج تک پاکستان کی تاریخ بغور جائزہ لیں تو ہمیں جہاں عظیم ہستیاں اور ان کے کارنامے نظر آئیں گے‘ وہیں ایسے لوگ بھی نظر آئیں گے جنہوں نے اس ملک کو کہ جس کے باشندے ایک آزاد اسلامی مملکت میں سُکھ کا سانس لینے کاخواب لے کر سرحد پار ہوئے تھے‘ اپنی ذاتی ملکیت تصور کیا۔
اپنی ذاتی حیثیت میں ہم میں سے ہر ایک اگر اپنے گریبان میں جھانکے تو اُسے سچائی نظر آئے گی ایسی سچائی کہ جس کا سامنا کرنا آسان نہیں بلکہ بہت مشکل ہے۔ ہم میں سے کتنے ایسے محبِ وطن ہیں‘جو ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ جو اپنی بساط میں اس ملک کی خدمت کرتے ہیں۔ قصہ مختصر! اس ملک کو بنانے والے بھی ہم ہیں اور خدا نخواستہ اس کو نقصان پہنچانے والے بھی ہم ہی ہوں گے ۔ ہم ہی اس کی ترقی کازینہ ہیں اور ہمیں اس کا وقار بلند کرنا ہے۔ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ملک و قوم کی عزت و نا موس کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں جانِ آفرین کے سُپرد کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اور میں فخر سے یہ بات کہتا ہوں کہ ہم اراکینِ پاک افواج انہیں بہادروں میں شامل ہیں۔ چھور کا سُلگتا ہو ا صحرا ہو یا گیاری کی بر ف پوش پہاڑیاں‘ کشمیر کے گھنے جنگلات اور پہاڑیاں ہوں یا بلوچستان کے دور افتادہ خشک و بنجر پربت‘ مسلح افواج ہمہ وقت اس دھرتی کی حفاظت کے لئے چوکس رہتی ہیں۔آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ اسلام کے اس قلعے کی حفاظت کے لئے ایک نئے ولولے اور عزم کے ساتھ اس ملک کی خدمت بجا لائیں گے اور نہ صرف خود بلکہ اپنے گردونواح میں رہنے والے اَفراد کو بھی ملک و ملت کی خدمت کی تلقین کریں گے تاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو سکے اور اسلام کا بول بالا ہو۔ میری دعا ہے کہ ربّ ذوالجلال اس پاک دھرتی کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے ۔
 


[email protected]

اے میرے وطن عظیم ہے تو

کٹتے ہیں روز جسم کئی 
نثار ہوتی ہیں وطن پہ جانیں کئی 
پھر بھی صف بھری کی بھری ہے جوانوں سے 
عظیم ہو تو اور تیری ہیں شانیں کئی

اے میرے وطن عظیم ہے تو

مرتے ہیں اٹھتے ہیں پر جھکتے نہیں 
اے میرے وطن تیرے یہ لال کبھی بکتے نہیں 
کرتی ہیں میرے وطن کی مائیں کمال کئی 
جو جنتی ہیں یہ شیر دل لال کئی

اے میرے وطن عظیم ہے تو

وعدہ ہے تجھ سے اے وطن 
تیری عظمت تیری عزت کی قسم
مر جائے گا مٹ جائے گا 
وعدہ ہے اے وطن تیری شان پہ کبھی حرف نہ آئے گا
میرے وطن عظیم ہے تو میرے وطن عظیم ہے تو
(ارمغان ارشد)
[email protected]

یہ تحریر 36مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP