متفرقات

چلتے ہو تو آئی ایس ایس بی کوہاٹ کو چلئیے

ہمارا فوج کا سفر شروع ہوا توگوجرانوالہ میں آئی ایس ایس بی ٹیسٹ دیا ۔ 12دسمبر 1994کو گھر پر Recommendation Letter ملا۔ کہتے ہیں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ 23مارچ 2009کو یونٹ میں بڑے کھانے پر پہنچے تو خبر ملی کہ آئی ایس ایس بی میں بطور گروپ ٹیسٹنگ آفیسر (جی ٹی او) ’Suitability‘ کے لئے جاناہے۔ایئرڈیفنس کے ایک پرانے جی ٹی او سے تفصیلی معلومات کے لئے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا لالے بس ٹائم پر پہنچ جا اور ٹریک سوٹ ضرور لے کر آنا۔ شام کو گیمز فال اِن ہوتا ہے اور یہی ان کی ابتدائی اور تفصیلی بریفنگ تھی۔ پہلے سائیک ڈے (First Psych Day)پر دوبارہ وہی ٹیسٹ لئے گئے جو 15سال پہلے لئے گئے تھے۔ 166م نے بھی وہی پرانی کہانیوں کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کا شکر کیا کہ انٹیلی جنس ٹیسٹ دوبارہ نہیں ہوئے۔ (یہ نہ ہوتا کہ اب کی بار سکرین آؤٹ ہو جاتے)۔ ایس او پی (SOP) کے مطابق دو بیچز(Batches) فالو کئے اور جی ٹی او ڈائمنشن میں پریزنٹیشن (Presentation)دی۔ پریزنٹیشن کے بعد سوالوں کی ایک بھرمار تھی مگر ہم ڈٹے رہے۔ اچانک نگاہ کرنل صاحب کے رینکس کی طرف گئی جو اُلٹے تھے۔ دل ناتواں میں خیال آیا کہ Suitable ہوں یا نہ ہوں کرنل صاحب کو بتا دینا چاہئے۔ یہ نہ ہو ان کی اس بات پر بے عزتی ہو جائے۔ جاتے ہوئے معذرتانہ رویے کے ساتھ ہلکی آواز میں ان کے کان میں ڈال دیا۔ پینل انٹرویو دیا۔ Suitabilityختم ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ Suity/UTکیا ہوتا ہے ورنہ تو تمام عمر ہم یہی سمجھتے کہ سُوٹے لگانے والے کو سُوٹی کہتے ہیں۔ یونٹ واپسی کے کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ ہم Suitable ہو گئے اور اب ٹریننگ کرنی پڑے گی۔ ٹریننگ یا پوسٹنگ کے بعد کے تمام واقعات تو یہاں قلم بند کرنا ممکن ہی نہیں مگر قارئین کی طبع لطافت کے لئے چند ایک بیان کروں گا۔ ٹریننگ کا پانچواں بیچ شروع ہونے میں ایک دن تھا اور ہر شخص پرجوش نظر آ رہا تھا۔ ٹاسکوں کی مرمت‘ نیارنگ و روغن‘ گھاس کی کٹائی‘ صفائی ستھرائی‘ حتیٰ کہ کیوبرانچ جو کبھی نظر نہ آئی تھی‘ وہ بھی بڑے زور و شور سے کاموں میں مصروف۔ استاد مکرم سے پوچھا کہ سر! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ گرلز بیچ آ رہا ہے بھئی۔ میں نے پوچھا گرلز اور بوائز کی سلیکشن میں کیا فرق ہے تو بولے لڑکوں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون بنتا ہے اور لڑکیوں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون نہیں بنتی۔ ایک جی ٹی او جو اس وقت انڈرٹریننگ تھے۔ اس بات پر بہت پیچ و تاب کھاتے کہ ان کے استاد ہر Female Candidate سے یہ پوچھتے تھے کہ میری تین خوبیاں بتاؤ۔ اور اس کی تین خامیاں۔ ایک Female Candidate سے جب یہ سوال پوچھا گیا تو اس نے استاد جی ٹی او کو اوپر سے نیچے اور پھر نیچے سے اوپر دیکھا اور جھجک کر بولی۔ ’’سر مجھے تو آپ میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔‘‘یہ سنتے ہی انڈرٹریننگ جی ٹی او کا ہنسی کا فوارہ پھوٹ پڑا اور ساتھ ہی فائل زمین پر۔ بعد میں استاد نے ان کے ساتھ کیا کیا یہ صیغہ راز ہے۔ بندہ ناچیز کو ایک عدد بیچ باقی دو ڈائمنشنز میں فالو کرنے کا موقع بھی میسر آیا۔ جی ٹو سلیکشن نے بتایا کہ فلاں سائیکالوجسٹ کے پاس جاؤ۔ سارا دن قبلہ سائیکالوجسٹ گپیں لگاتے رہے۔ جب باتیں اور ٹی بریکیں کر کر کے تھک گئے تو سوچا ڈوزیئرز (Dossiers)کو بھی کچھ وقت عنائت فرمایا جائے۔ پہلا ڈوزیئر کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔ تین چار لائنوں کے بعد ایک جملے پر ٹھہر گئے اور مجھ سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ میں نے لاچارگی سے کہا کہ سر میں کیا عرض کروں تو وہ معنی خیز انداز میں بولے: اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے‘ یہ بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ تین چار جملے مزید پڑھے اور پھر مجھ سے گویا ہوئے کہ اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔میں نے ڈرتے ڈرتے ایک توضیح پیش کی تو بولے ہوووں!!!۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتاہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اب تو ناچیز کا کانفیڈنس لیول
ہو گیا۔ اگلی بار انہوں نے ایک او ر جملے پر بریک لگائی کہ اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ جملہ یہ تھا ‘ میں نے سرخ رنگ کی کار میں بیٹھ کر سفر کیا تو میں نے کہا سر! یہ Integrity کیس ہے۔ کار تو صنف نازک کی طرف اشارہ ہے۔ ضرور یہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ چھپ چھپ کے ملتا ہو گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے میں Hiding Tendency بھی ہے اور سرخ رنگ سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں Aggressionبھی ہے اور Materialism بھی۔ اس بات پر انہوں نے مجھے شاباش دی کہ واقعی ایسا ہو سکتا ہے۔ اتنا Detailed Analysis تو انہوں نے سوچا ہی نہ تھا۔پورے دن میں ایک ڈوزیئر پڑھا اور چھٹی ہو گئی۔ دوسرا دن بھی پہلے دن سے یکسر مختلف نہ تھا۔ کانفرنس میں میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب سائیکالوجسٹ صاحب نے بڑے طمطراق سے اپنی Observation بتائیں۔ مجھے تو خیر سمجھ نہیں آئی کہ ان کو یہ سب باتیں کیسے پتا چلیں اور کیسے انہوں نے اپنے کیش میمو ٹائپ پیڈ پر درج کیں۔ بس اپنا آپ ایک تربوز کے گاہک کی طرح محسوس ہوا۔ جس طرح تربوز بیچنے والا تربوز دینے سے پہلے اس کو ہلاتا ہے۔ اس پر چھری کا دستہ مارتا ہے اور پھر اس میں سے کچھ سنتا ہے۔ جس کا گاہک کو کچھ پتہ نہیں چلتا۔ پوسٹنگ کے بعد بھی کافی تجربات ہوئے۔ ایک کانفرنس کے دوران ایک ڈپٹی پریذیڈنٹ جن کا اپنا رنگ کالا اور بالوں کا رنگ سفید تھا‘ نے بڑے فخر سے بتایا کہ یہ لڑکا تو Integrity Case ہے۔ میں نے پوچھا: سر آپ کو کیسے پتا چلا؟ وہ بولے: میں نے اس سے پوچھا کہ What is your favourite colour? تو اس نے جواب دیا۔ Sir Black Colour بعض ڈپٹی تو ایسے بھی ہیں جو ہیرے کو کھیرا اور کھیرے کو ہیرا بنانے میں صرف دو منٹ لیتے ہیں۔ ایک ڈپٹی پریذیڈنٹ نے ایک کانفرنس میں کہا: یہ لڑکا بالکل فارغ ہے۔ سوال پوچھنے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا’’ Sorry Sir‘‘۔ ہم نے یہ سننے کے بعد بہت دیر تک سوچا کہ سین یوں ہو گا کہ ڈپٹی صاحب اپنے کمرے میں تشریف فرما ہیں اور ایک لڑکا کمرے میں داخل ہوا اور بولا ’’Sorry Sir‘‘ڈپٹی صاحب نے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو پھر بولا: ’’Sorry Sir‘‘۔ اب ڈپٹی صاحب نے سوال پوچھنے کے لئے منہ کھولنا چاہا تو وہ پھر بولا ’’Sorry Sir‘‘ یعنی سوال بعد میں اور ’’Sorry Sir‘‘ پہلے واہ! کیا بات ہے۔ ہر ڈائمنشن میں چند مخصوص یادوں کے ساتھ ساتھ اگر اس مضمون میں آراینڈڈی(R&D) یعنی Research and Development کا تذکرہ نہ ہو تو یہ آر اینڈ ڈیR&D کی حق تلفی ہو گی۔ آج کلR&D کا نام R&Eہے۔ اگرچہ خاکسار عرصہ دراز سے بذات خود اس مایہ ناز تنظیم کا حصہ ہے مگر قسم ہے کہ ان کے اجلاس اور ممبروں کی ملاقات پچھلے دو سال میں صرف تین دفعہ سے زیادہ ہوئی ہو۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریسرچ کتنی زیادہ کی جاتی ہے۔ مجھے تو بس یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک OC R&D کے پاس ایک نارمل ڈپٹی سے تین چیزیں زیادہ ہوتی ہیں۔ الف: 50سال کے فالو اپ فارم ب:فوٹو کاپی مشین ج: رضوان صاحب آئی ایس ایس بی آنے کے بعد عزیزواقارب خاص طور پر آرمی افسران نے رابطہ کیا کہ ان کے بچوں کی آبزرویشن بتائی جائیں۔ ہم نے بھی کہہ دیا کہ بچہ Hastyہے۔ Immatureہے۔ Self Centredہے۔ Casualہے۔ Limited Mental Horizonہے۔ Effortful نہیں وغیرہ۔ اور تمام والدین نے تعریفاً یہی کہا کہ ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کمال ہے یار تم تو نجومی ہو۔ اور ہمارا سینہ فخر سے چار انچ اور بھی چوڑا ہو گیا۔ باتیں تو اور بھی ہیں مگر اب مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے کوزے میں دریا کو بند کر دیا ہے اور ملک میں ویسے بھی پانی کی کمی ہے۔ لہٰذا اسی کوزے کو ڈیم سمجھیں‘ بجلی بھی پیدا کریں‘ زمینیں بھی سیراب کریں اور اگر جی چاہے تو نہا بھی لیں۔ خبردار کوزہ ٹوٹنے یا لڑکنے نہ پائے!

یہ تحریر 26مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP