قومی و بین الاقوامی ایشوز

پیٹرول کی کم قیمت سے جڑے چند معاشی حقائق

بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں نمایاں کمی پاکستان میں لاتعدادمعاشی اور سماجی مسائل کے حالات میں رحمت ثابت ہوئی لیکن اس کے بعد حکومتی اداروں میں عدم اعتماد اور باہمی مشاورت کے فقدان کے باعث عوام کو ریلیف کے ساتھ ساتھ پٹرول اور ڈیزل وغیرہ کے حصول میں دس پندرہ روزبڑی پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم بعد میں حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہو ااور پٹرول وغیرہ کی سپلائی کی صورتحال بتدریج بہتر ہونا شروع ہوئی ۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے حکومت کے درآمدی اخراجات میں 6ارب ڈالر سے زائد کی کمی تو ضرور ہوئی مگر اس کے ساتھ ہی FBR نے اعلانیہ طور پر دو تین مرحلوں میں مختلف اشیائے ضرورت اور پٹرولیم مصنوعات پر ڈیوٹیاں اور ٹیکس لگادئیے جس کو سیاسی حلقوں میں منی بجٹ کا نام دیا جا رہا ہے۔ اگر حکومتی اقدامات کو منی بجٹ کا نام دے دیا جائے توعملاََ یہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے سامنے سوالیہ نشان ہے کہ جس پارلیمنٹ سے موجودہ مالی سال کا بجٹ منظور کرایا گیا تھا کیا اس کے بعد مختلف SRO کے ذریعے مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں اضافہ آئینی اقدام ہے یا غیر آئینی۔ دوسرا یہ کہ عوام کو تو پٹرول کے نرخوں میں کمی کا فائدہ 30 فیصد کے آس پاس ملا لیکن باقی25 سے30 فیصد کا فائدہ کہاں گیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں پہلے ہی بجلی اور گیس کی قلت اور پھر پٹرول کی قلت نے تو گورننس اور خاص کر اکنامک گورننس کی ناکامی کو اوپن کرایاحالانکہ حکومتی سطح اور خاص کر وزیراعظم کی سطح پر گورننس کے حالات بہتر بنانے کے لئے ہر روز سوچ بچار ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت سارے اقتصادی اور سماجی مسائل محض اس وجہ سے حل نہیں ہو پا ر ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان کئی ایشوزکو حل کرنے کے حوالے سے وہ ہم آہنگی نہیں ہے جو ہونی چاہئے ۔یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ قومی سلامتی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے وفاق‘ صوبے اور زندگی کا ہر شعبہ ایک ہی سوچ رکھتا ہے یہ چیز وقت اور حالات کا بھی تقاضا ہے‘ ورنہ دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل ہونے کی صورت میں ہماری اقتصادی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں جس کا ہمارا ملک مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔

موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں انرجی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے قومی سلامتی اور انرجی سکیورٹی دونوں ہماری بقاء کے لئے لازم و ملزوم ہیں اس سلسلے میں حکومت اور پاک فوج کو مل کر ایک جامع حکمتِ عملی اپناناہو گی تا کہ ملک میں نہ تو کسی بھی چیز کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن پیدا ہو اور نہ ہی بد امنی کے حالات مزید خراب ہوں کیونکہ اس سے معیشت پر ہر لحاظ سے منفی اثرات مرتب ہو تے ہیں‘ جس کے نتیجے میں بے روزگاری غربت اور معاشی نا انصافی بڑھتی ہے۔

ملک میں امن و امان کی افسوسناک صورتحال میں جن دنوں پٹرول کی قلت کے لئے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھ کر ڈر لگتا تھا کہ اگر یہ بحران طویل ہو تا گیا تو اس سے ہماری سلامتی کے لئے بھی خطرات بڑھ سکتے ہیں ۔ جس سے ہماری مسلح افواج کی ذمہ داریوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے تاہم بعد میں حکمرانوں کو احساس ہوا کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے اور پھر انہوں نے ایساکیا بھی ۔ اس دوران مختلف محکموں پر ذمہ داری ڈالنے کی سابقہ روایات بھی جاری رہیں۔ اب آئندہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی بیوروکریٹ یا پالیسی ساز افسر بڑا اقدام کرنے سے گریز کرے گا جس سے اکنامک گورننس کے تقاضے پورے کرنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔

موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں انرجی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے قومی سلامتی اور انرجی سکیورٹی دونوں ہماری بقاء کے لئے لازم و ملزوم ہیں اس سلسلے میں حکومت اور پاک فوج کو مل کر ایک جامع حکمتِ عملی اپناناہو گی تا کہ ملک میں نہ تو کسی بھی چیز کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن پیدا ہو اور نہ ہی بد امنی کے حالات مزید خراب ہوں کیونکہ اس سے معیشت پر ہر لحاظ سے منفی اثرات مرتب ہو تے ہیں‘ جس کے نتیجے میں بے روزگاری غربت اور معاشی نا انصافی بڑھتی ہے۔ پٹرول کے حالیہ بحران کے قابل ذکر اسباب کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہو گا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود اس کی درآمدجاری رہی جو ہماری پٹرول وغیرہ کی بچت کا 52 فیصد ہیں۔ پٹرول وغیرہ کے نرخوں میں کمی کا سلسلہ ماہ ستمبر2014 سے شروع ہو ا جنوری 2015 کے آغاز تک پٹرول کے عالمی نرخوں میں کمی 51 فیصد تک ہو چکی تھی جبکہ اس سے پہلے یہ کمی 28 فیصد تک تھی۔

دنیا کے کئی ممالک میں پٹرول وغیرہ کے نرخوں میں 10 فیصدکے برعکس اس کی ڈیمانڈ میں 2 فیصد سے 3 فیصد اضافہ ہو ا ۔اس سال جنوری کے آغاز میں مجموعی طورپر تیل کی قیمتوں میں اوسطاََ 28 فیصد کمی کے مقابلے میں ہمارے ہاں ڈیمانڈ میں 6 فیصد سے 8 فیصد اضافہ ہوا جس میں زیادہ حصہ افراتفری اور خوف کی وجہ سے زائد خریداری کا تھا۔ ویسے تو عالمی اداروں کے قرضوں کے بوجھ تلے پوری قوم ہی دبی ہوئی ہے اس لحاظ سے پوری قوم ہی کمزور گورننس کی وجہ سے گداگر بنی ہوئی ہے۔ پٹرول کے ساتھ ساتھ فرنس آئل کی درآمدمیں بھی نمایاں کمی ہوئی جو پہلے3سے 4ماہ کی امپورٹ کے مقابلے میں 50 فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں عوام کو توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں بجلی کے نرخوں میں کچھ کمی کر دی جائے گی لیکن عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے ہوتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں اضافہ تو ممکن ہے مگرکمی ہوتی نظر نہیں آتی۔ موجودہ معاشی حالات میں عوام کو مطمئن کرنے کے لئے حکومت اور حکومتی اداروں کو اپنے روزمراہ اخراجات میں کمی کر کے عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف دینا ہو گا ‘انہیں ریلیف کے نام پر تکلیف دینا سراسر زیادتی ہے۔

[email protected]

یہ تحریر 45مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP