انٹرویو

پینسٹھ کی جنگ میں پوری قوم یکجاں ہو کر لڑی

کرنل ریٹائرڈ ظفر اقبال فرخ  مختلف فوجی معرکوں اور آپریشنز میں پاک فوج کا حصہ رہے ہیں۔ان کی دوکتابیں  ''انقلاب پاکستان''  اور''بچھڑگئے''  شائع ہوچکی ہیں۔ اپنی کتاب'' بچھڑگئے''  میں انہوں نے ستمبر1970 ء سے مارچ 1975 ء تک کی کہانی بیان کی ہے۔ کتاب پڑھ کراُن سے ملاقات کا اشتیاق پیدا ھوا۔ ان سے ملاقات کے دوران جوباتیں ہوئیں، قارئینِ کی نذر ہیں۔



کرنل ظفر اقبال فرخ صاحب کی کتاب ''بچھڑگئے'' پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں ان کا جو تأثراُبھرا، بالمشافہ ملاقات میں وہ اُس سے بڑھ کر پاکستان سے بے پناہ محبت کرنے والے دلیر، خوبصورت اور ہنس مُکھ آفیسر کے روپ میں ملے۔ کتاب ''بچھڑ گئے'' جہاں بنگلہ دیش کے قیام ، ہماری ہندوستان سے لڑائی اور مکتی باہنی کے ظلم کی داستانوں کا ایک مرقع ہے وہاں اُس وقت کے کیپٹن ظفر کی بے پناہ اورپُرخلوص محبت کی داستان بھی ہے۔  پاکستان کا یہ بہادر بیٹا آج بھی گئے دنوں کی بات پوری سچائی، خلوص اور محبت سے کرتا ہے۔ بات بات پر قہقہے لگانے والا یہ شخص ، اچانک درمیان میں کوئی ایسی بات کرجاتا ہے کہ سننے والے کی آنکھوں کے گوشے بے اختیار نم ہو جاتے ہیں۔ مجھے ''بچھڑ گئے'' کے اس ہیرو سے ملنے کا اشتیاق تھا کہ جو فرض کی پکار اور محبت کے لازوال لمحوں کی حسین مگر دُکھ بھری یادوں سمیت آج بھی ہمارے درمیان پوری آب وتاب سے اور وطن کی محبت سے سرشار زندگی گزار رہا ہے۔
سب سے پہلے تو میںنے اُن سے1965کی جنگ کے حوالے سے سوال کیا کہ 1965 ء کی جنگ شروع ہوئی تو یقینا آپ طالب علم ہوں گے۔ اس وقت قوم کا مورال کیساتھا اور نوجوانوں کے کیا جذبات تھے ،کچھ اس وقت کے احوال بتایئے۔انہوںنے بتایا کہ اُس وقت قوم کاجذبہ اس وقت بے مثال تھا،قوم تیار تھی، میںیہ کہوں گااگرچہ جنگ ستمبر پرانے طریقوں سے اورپرانے ہتھیاروں سے لڑی گئی تھی ،دشمن سامنے تھا،یہ آسان جنگ تھی،لیکن اس میں جس طریقے سے ہماری عوام نے اورہمارے سپاہیوں نے اپناسینہ پیش کیااس کی مثال کم کم ملتی ہے۔میں کہتاہوں اس جیساجذبہ کبھی ہوناہی نہیں،اگرچہ آج بھی ہے اس وقت پہلا چیلنج تھااس لحاظ سے جذبہ بہت زیادہ تھا۔لوگ جنگ کے اثرات اوراس کے رزلٹ پربھی بات کرتے ہیں،آپ کویہ نہیں بھولناچاہئے کہ اپنے سے پانچ چھ گنابڑے دشمن کوروک لینابذات خود ایک بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ہم نے ان کے علاقے میں جوماردھاڑ کی ،ان کے دانت کھٹے کئے اورانھیں دوڑنے پرمجبورکردیا۔65ء کی جنگ پرکسی سے بھی بات کریں آپ کویہ جواب ملے گایہ جنگ ہم نے جیتی۔ جذبات بہت زیادہ اورپرفارمنس بہت خوبصورت تھی۔
میرے اس سوال کے جواب میں کہ جب1971کی جنگ ہوئی تو آپ خود بھی بطورِ آفیسر پاک فوج کا حصہ بن چکے تھے۔ اس وقت آپ کہاں تعینات تھے اور عمومی حالات کیا تھے؟انہوںنے کہا ،جی۔۔ بطورنوجوان افسر میں مشرقی پاکستان رائفلزڈھاکہ میں تھا،جیسے یہ پہلے بارڈر پولیس تھی،جیسے رینجرز ہے آپ کی،اس میں نوے فیصد سے زیادہ بنگالی تھے،اس میںآٹھ یا دس فیصد ٹیکنیشن،افسر وغیرہ مغربی پاکستان سے تھے۔مجھے وہاں جنرل سٹاف افسر تھری انٹیلی جنس میں تعینات کردیا گیا۔ مجھے یاد ہے یہ 30ستمبر1970ء کی تاریخ تھی۔میں وہاں پوسٹ ہوا،اس وقت حالات یہ تھے کہ اندرہی اندرمعاملہ بہت دور تک جاچکاتھا۔وہ لوگ جوپاکستان کے ساتھ بھی رہناچاہتے تھے وہ بھی دوچیزوں پر1948ء سے پکے تھے ایک یہ کہ ان کی زبان ان کی اپنی ہونی چاہئے دوسرایہ کہ کافی خودمختاری ہونی چاہئے کیونکہ مشرقی پاکستان ایک علیحدہ ریجن ہے۔
میں نے پوچھاکہ جو فوجی افسرا ورجوان ہوتاہے اس کاتوسیاسی جماعتوں اوران کے مقاصدسے کوئی تعلق نہیں ہوتا،بغاوت کرنیوالوں کامقامی سیاسی لیڈروں سے رابطہ کیسے ہوگیا؟انہوںنے کہا رابطے پہلے بن چکے تھے، چٹاگانگ میں ایسٹ بنگال رجمنٹ کاایک بریگیڈئیرموجمدار تھا،ایک کرنل ریٹائرڈ عثمانی تھاجس کوبعدمیں جنرل عثمانی لکھتے تھے،جنرل عثمانی سمیت ان سب کے آپس میں رابطے تھے،یہ ہرجگہ پہنچ چکے تھے،تمام فورسز میں پولیس میں ہرجگہ۔پاکستان میں یہ توسوچاگیا کہ اگرطاقت کااستعمال کیاجائے گاتوبنگالی ٹروپس شاید سپورٹ نہ کریں،لیکن یہ نہیں سوچاگیاتھاکہ اگروہ الٹے ہوگئے توکیاہوگا؟
کیا مکتی باہنی کے لوگ باقاعدہ تربیت یافتہ تھے اوران کے پاس اسلحہ بھی تھا؟ میرے اس سوال پر وہ کہنے لگے ۔جی بالکل ،ایسٹ بنگال رجمنٹ کے جوباغی تھے چٹاگانگ میں،ان کے پاس مارٹرگنیں بھی تھیں،سب کچھ تھا،پوری آرمی رجمنٹ تھی۔پولیس کے پاس گنیں تھیں،ایسٹ پاکستان رائفلز،پولیس کوسپورٹ کرنے کے لئے ایک جانثارفورس بنی ہوئی تھی وہ ان کے ساتھ تھی۔ہمارے خلاف لڑنے کے لئے ان کے پاس کافی بندوقیں اور گنیں تھیں، لیکن30اپریل تک ایک مہینے کے اندراندرمشرقی پاکستان میں کسی جگہ کوئی مزاحمت نہیں رہی تھی۔سب باغی بارڈر کی دوسری طرف بھاگ گئے تھے۔ اب چاروں طرف بارڈر ہے،انڈیامیں کوئی پچیس تیس کیمپ بن گئے، وہاں پرمہاجرکیمپ بنے،وہاں ان کی تربیت شروع کردی گئی کہ تربیت لواورواپس جاکرلڑو۔اس کے بعد اپریل سے لے کرنومبر تک مختلف جگہوں پرچھاپہ مارکارروائیاں ہوئیں،مکتی باہنی پہلے بارڈر کے علاقے میں کارروائیاں کرتی تھی،اس کے بعدوہ اندرکی طرف بڑھے اورنومبرمیںوہ ڈھاکہ سمیت ہرجگہ موجود تھے۔
اس سوال پہ کہ انڈیا نے باقاعدہ حملہ کب کیا۔ انہوںنے کہاپہلے زمینی حملہ کیاگیا،پھرجہاز لے آئے ۔ہم نے بھی جہاز بلائے۔21نومبرکوانْڈین آرمی عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کے اندرتقریبا پانچ سو مربع کلومیٹر گھس آئی ۔اس حملے کے باوجود پاکستان نے جنگ کااعلان نہیں کیا۔پاکستان نے 3دسمبرکوجنگ کااعلان کیا۔دشمن کی فوجیں چاروں طرف سے آگے بڑھ رہی تھیں۔وہ علاقوں کوصاف کرتے آرہے تھے اوراپنابیس بنارہے تھے۔کوئی ایساموقع نہیں تھاکہ جنگ کونظراندازکیاجاسکے۔جنگ کوٹالاجاسکتاتھااگرکوئی سیاسی حل نکلتا ورنہ نہیں۔مانک شاہ جو ان کااس وقت کمانڈرانچیف تھااس نے اعتراف کیا کہ جب انڈیا نے مشرقی پاکستان پرحملہ کیاتوایک اورپندرہ کاتناسب تھا۔ایک پاکستانی فوجی کے خلاف وہ پندرہ فوجی لے کرآیاتھا۔یہ بھی اس نے کہاکہ جب اس فورس کوکہیں سے کسی قسم کی کوئی چیز نہیں پہنچ رہی تھی نہ ایمونیشن،نہ کمک۔ ایسی حالت میں جنگ ہوہی نہیں سکتی تھی۔آج لوگ طعنے دیتے ہیںکہ جی یہاں 65ء میں توہم بہت شیر تھے ، ادھر کیاہوگیا۔میں ان ناسمجھ لوگوں کے لئے کہناچاہوں گاکہ آپ آج گوگل پرچلے جائیں اورسرچ کریں کہ مشرقی پاکستان میں انڈین ہلاکتیںکتنی تھیں۔ آٹھ ہزار انڈین فوجی مارے گئے تھے اورسات ہزارزخمی ہوئے۔یہ بتائیں اس سے زیادہ اور آپ کے سپاہی کیاکرتے؟ان پندرہ ہزار کوکس نے مارا ،انڈین یابنگالیوں نے تونہیں مارا۔ایک پندرہ کاتناسب ہے ،پورے بنگال کے لوگ ان کے ساتھ تھے۔
جب میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ نے ان حالات میں پاکستانی آفیسرز اور سپاہیوں کو جنگی کارکردگی میں کیسا پایا؟توانہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ سلام ہے ان لوگوں پرجنہوں نے وطن کی لاج رکھی۔بے کفن، بے وطن،بے نام لوگ گئے،افسوس ان کانام کسی کویاد نہیں ہے،سپاہیوں نے،جوانوں نے افسروں نے مادر وطن کی خاطر کیسے اپناخون پیش کیا۔مغربی پاکستان کاانڈیا کے ساتھ تیرہ سو کلومیٹر بارڈر ہے۔پوری آرمی اورائیرفورس یہاں پرتھی،وہاں مشرقی پاکستان کاانڈیا کے ساتھ بارڈر چارہزار چھیانوے کلومیٹرتھا،مغربی پاکستان سے تین گنا زیادہ ۔اتنے بڑے بارڈرکے لئے پہلے ایک ڈویژن اورپھردوڈویژن اورڈالیں اس کے لئے بھی آپ نے بھاری ہتھیار، ٹینک نہیں دیے۔ دوسری بات یہ کہ لڑنے کے لئے سپاہ کومل جل کرلڑنا ہوتاہے،میرے بھائی اپنے دانشوروں سے پوچھیںکسی کومعلوم نہیں وہاں 35 دریاتھے،ان دریاؤں کے مقابلے میں یہاں چھوٹی چھوٹی نالیاں ہیں جن کے گرد ہم ڈیفنس بناتے ہیں۔ندیاںاور نالے ان دریاؤں کے علاوہ تھے۔چارسپاہی دریا کے اس طرف بیٹھے ہیں ،چارسپاہی دریاکے دوسری طرف بیٹھے ہیں،آپ ان کوکیسے فورس بناسکتے ہیں۔ہواکیایہ چارسپاہی آخری دن تک لڑتے رہے اور شہید ہوگئے اوروہ دریاکے اس طرف لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اپنی تاریخ میں ان کویادکریں۔جذبہ شاید یہاں لوگوں کونظرنہیں آیااس لئے کہ بلیک آؤٹ کیاہواتھا۔یہاں پرصحیح حالات نہیں بتائے جارہے تھے۔ 65ء کی جنگ کاجذبہ 71 ئ  میںبھی تھا۔میں اس لئے ذکرکررہاہوں کہ میری قوم 48 ء میں بھی اسی جذبے سے لڑی ،65ء کی جنگ بھی اسی بے جگری سے لڑی،71 ء کی جنگ میں بھی اسی طرح لڑی کہیں کمزورنہ تھی،ہمارے نوجوانوںکو فخر ہونا چاہئے۔اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جواتنی لمبی لڑی ہے،اس میں بھی اسی بے جگری سے لڑی،آپ کی فورس میںکبھی کمزوری نہیں آئی۔یہ لوگوں کوپتہ ہوناچاہئے۔
آپ کی 1971 کے حوالے سے ایک کتاب''بچھڑ گئے'' بھی شائع ہوچکی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے محرکات کیاہیں؟ اس پر انہوںنے کہامیں نے اپنی کتاب''بچھڑگئے '' میں بہت سے سوالات کے جوابات دیئے ہیں۔جوآج تک کسی نے نہیں دیئے،قوم کے سامنے مشرقی پاکستان کی درست تصویررکھی ہے۔اس پرحمودالرحمن کمیشن بنایاگیا کہ دیکھیں 1970-71ء میں کیاہوا۔اس وقت خاک ہوناتھا،اصل تو ہو چکا تھا پہلے، اصل توپہلے ہی آپ علیحدہ کرچکے تھے۔ستراکہترمیں کیاہوناتھا،حقائق بتائے ہی نہیں گئے۔
 جنگ میں ہمارے فوجیوں اور جرنیلوں کے مورال کے بارے انہوںنے بتایا کہ ہمارے فوجی افسر اور جوان دلیر ترین تھے۔ ان سب کاجذبہ دیکھنے والا تھا۔ جذبات جنگ کا جزہوتے ہیں،کُل نہیں ہوتے۔ ملک کے عمومی حالات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دیکھیں65ء کی جنگ میں جہاں سے سپاہی گزرتا تھا ، لوگ پھول پھینکتے تھے، سپاہی دیکھتا ہے پیچھے میری عزت ہے۔ وہاں مشرقی پاکستان میں سپا ہی گزرتاتھااس پرپھول نہیں پھینکے جاتے تھے،گولیاں ماری جاتی تھیں۔ وہ پیچھے دیکھتاہے تو سوچتا ہے کہ میں کس قوم کادفاع کر رہا ہوں۔ پیچھے بھی دشمن ہے، سامنے بھی دشمن ہے۔یہاں کے سپاہی کاجذبہ اور وہاں کے سپاہی کاجذبہ مختلف ہوناچاہئے تھاناں،نہیں ہوا۔جذبہ پاکستان کاہی رہا۔ چاہے وہاں تھاچاہے یہاں پرتھا۔ یہ جذبہ جنگ کشمیر میں تھااوراب وارآن ٹیررمیں ہے۔ کارگل میں تھا، سیاچن میں تھا۔آپ نے کہیں سپاہی کے جذبے میں فرق نہیں دیکھااوریہ ہی ہمارابہت بڑااثاثہ ہے۔ان کے اس جواب پر میںنے تائید کرتے ہوئے کہا کہ جی بالکل یہ جذبہ آج بھی اسی طرح موجود ہے۔پور ی قوم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
 مکتی باہنی کی تربیت اور اسلحے کی فراہمی میں بھارت کے کردار کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوںنے کہادیکھیں مکتی باہنی کیاتھی،وہ یہاں سے لوگو ں کوبھرتی کرتے تھے۔انڈیا میں تیس پینتیس کیمپ بنے ہوئے تھے انھیں وہاں لے جاتے تھے۔ ایک میلاگڑھ تھاجو کمیلا کے پاس تھا،وہاں ان کاایک بہت بڑا سنٹر تھا۔ وہاں انھیں تربیت دی جاتی تھی۔ایک بات یاد  رکھیں ایک بندہ جب تک ہتھیار لے کر نہیں پھررہاہم اس پرشک نہیں کرسکتے تھے کہ وہ مکتی باہنی کاہے۔نہ ہم ان کی زبان سمجھتے تھے نہ ہماری انٹیلی جنس وہاں کام کرتی تھی۔میں شہرکی بات نہیں کررہا،شہرہم کنٹرول کرلیتے تھے۔میں نے اس میں خود بہت کام کیاہے۔ لیکن جب شہرسے باہرنکلتے تھے توہماراکوئی بھی نہیں تھا۔مکتی باہنی والے وہاں آتے بھی تھے رہتے بھی تھے۔کئی دفعہ ایسابھی ہواہم جب آپریشن کرنے جاتے تھے ہمیں چائے پانی بھی پلارہے ہوتے تھے۔کیونکہ جس کے پاس ہتھیارنہیں ہم اس پرشک نہیں کرسکتے تھے۔جب تک بغاوت نہیں ہوئی تھی وہ سب آپ کے خلاف کام کررہے تھے لیکن آ پ انھیں محب وطن سمجھتے تھے۔25 مارچ کے آپریشن کی بات میں آپ کوبتاؤں،ہمیں آرڈرملاآج رات باغیوں نے ہمیں مارناہے،تین بجے ان کاارادہ ہے ہم پرحملہ کرنے کا،ایک بجے ہم ان پرحملہ کریں گے جوجیت گیا وہ صبح دیکھے گا۔ جہاں میں رہتاتھاوہاں پچیس سو بنگالی جوان تیارتھے،ڈیڑھ سوکے قریب مغربی پاکستان کے لوگ تھے بمعہ عورتیں اوربچے۔باغیوں نے پلان کے مطابق بچوں اورعورتوں کوبھی قتل کرنا تھا۔ باغیوں کوغیر مسلح کرنے کی ذمہ داری مجھے دی گئی ،چاربندوں کے ساتھ میں نے رات کووہ آپریشن کیا،ڈیڑھ گھنٹے کی لڑائی کے بعدہم کامیاب ہوگئے اور وہ صبح ہم نے دیکھی۔ آنکھیں بند کرتے ہیں توسارے کے سارے واقعات امڈآتے ہیں۔
 زیادہ ترافسروں اورجوانوں کاتعلق مغربی پاکستان کے ساتھ تھایہاں اوروہاں کے موسم کابھی بہت فرق تھا،یہ بتائیے مشرقی پاکستان کے موسمی اور جغرافیائی حالات جنگ پر کیسے اثر انداز ہوئے؟کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ گویا ہوئے۔ہمارے افسر اورفوجی ہرجگہ کام کرتے ہیں،آپ اندازہ نہیں کرسکتے ہمارے جوانوں کی پانی میں چل چل کرکیاحالت ہوگئی تھی،انگلیوں کے درمیان فنگس اور جسم کے پوشیدہ حصوںمیں فنگس لگ چکی تھی ۔پانیوں میں ہم کہاں رہنے کے عادی ہیں اس کے باوجود ہم وہاں لڑتے رہے۔وہاں مرطوب قسم کاموسم تھا،گواتنابرانہیں تھا،بارش آئی اور چلی گئی ،میں زیادہ ڈھاکہ میں رہاہوں،باہربھی نکلاہوں توہیلی کاپٹرپرجنرل صاحب کے ساتھ گیا۔ میںٹوٹل ایک سال چارمہینے وہاںمشرقی پاکستان میں رہا اور پھر دوسال چارمہینے بارہ دن جنگی قیدی رہا۔ہمیں مدھیہ پردیش میں رکھا گیا تھا وہاں ایک  کیمپ تھا۔
  ملاقات طویل ہوتی جارہی تھی میںنے اُن سے آخری سوال پوچھا کہ ستمبر2019 کا یومِ دفاع ان حالات میں آیا ہے کہ ہندوستان نے آرٹیکل370 اور آرٹیکل35-A کا خاتمہ کرکے کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے کی قبیح حرکت کی ہے۔ آپ اس بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟ انہوں نے کہاحقیقت یہ ہے کہ مودی نے اپنا کام دکھا دیا ہے اور یہ آغازہے کشمیر کی آزادی اورہندوستان کی بربادی کا۔ اب کشمیری بھی اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں جب بھارتیوں کی لاشیں گرنا شروع ہوجائیں گی یہ زیادہ دیر نہیں لڑ سکیں گے۔ اگرہماری فوج کے ساتھ انہوں نے پنگالیا،توہماری آرمی توپہلے ہی ان پہاڑوں میں پندرہ سال سے لڑرہی ہے ۔یہ ہم سے نہیں لڑسکتے،دوسرے کشمیر کے اندرسے جولاوا ابھررہا ہے ،وہ ان کوبہا لے جائے گا۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 0مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP