صحت

پھیپھڑوں کے کینسر سے آگاہی کا مہینہ   

پھیپھڑوں کا سرطان سب سے زیادہ مہلک اور جان لیوا سرطان ہے اوردنیا میں ہر سال تقریباََ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں اور دنیا بھر میں ہر سال کینسر سے ہونے والی اموات میں سے ہر پانچ میں سے ایک موت پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
ہر سال نو مبر کے مہینے کو پھیپھڑوں کے سرطان کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ 
ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر کے جن اٹھائیس ممالک میں خواتین کی سب سے زیادہ اموات پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہو رہی ہے ، ان میں امریکہ، ہنگری، ڈنمارک، چین اور نیوزی لینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ پوری دنیا میں پھیپھڑوں کے سرطان کا تناسب آٹھ سے بارہ فیصد جبکہ  اس سے ہو نے والی اموات کا تناسب آٹھ سے سترہ فیصدہے۔ 
پھیپھڑوں کے کینسر میں پھیپھڑوں کے بافتوں یا ٹشوز کی غیر نارمل یا غیر طبعی طریقے سے تعدادمیں اضافہ ہو جاتا ہے اور اردگرد کے ٹشوز تباہ ہو جاتے ہیں۔سرطان کے پیدا ہونے کی حتمٰی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہیں ۔ لیکن پھیپھڑوں کا سرطان زیادہ تر سگریٹ نوشی اورآلودگی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق 94 فیصد پھیپھڑوں کے سرطان میں بنیادی وجہ تمبا کو نوشی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق تمبا کو نوشی کرنے والے 24 سے 36 فیصد افراد میں پھیپھڑوں  کے سرطان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔
اس کے علاوہ کیڑے مار ادویات ، ڈیزل کا دھواں ، گو شت کا زیادہ استعمال، سیمنٹ کے ذرات اور کان کنی کے شعبے سے متعلق افراد کو بھی پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے ۔ تاب کاری ، صنعتی اداروں کے کچرے ، فضائی آلودگی اور چند دیگر عوامل بھی اس سرطان کو پروان چڑھانے میں نمایا ں کردار ادا کرتے ہیں ۔
تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے سرطان میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والے افرادبلکہ وہ لوگ جو سگریٹ نہیں پیتے ہیں مگر سگریٹ پینے والوں کے نزدیک رہتے ہیں ،یعنی جو بالواسطہ تمباکونوشی یا اس کے دھوئیں کا نشانہ بن رہے ہیں ،ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ تین سے پانچ فیصد تک موجود ہوتا ہے۔ 
ایک حالیہ ریسرچ کے مطابق خالی پیٹ یا نہارمنہ سگریٹ نوشی کرنے والوں میں پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔ تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں نکوٹین کی ایک ذیلی پیداوار کو نٹائن کی مقدار کی پیمائش سے پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کا اندازہ ہوتا ہے اور تجربے کے بعد یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ناشتہ کرنے کے بعد سگریٹ پینے سے اس مادے کی مقدار کم ہو جاتی ہے ۔
پھیپھڑوں  کے سرطان میں سب سے خطرناک چیز یہ ہوتی ہے کہ اس کی علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب یہ مرض اپنے دوسرے یا تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہوتا ہے ۔ کھانسی مسلسل دو ہفتوں سے زیادہ رہے اور علاج اور دوائیوں کے باوجود بھی کھانسی میں افاقہ نہ ہو تو یہ پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک علامت ہوسکتی ہے اور اگر کھانسی کی آواز میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ کھانسنے کے دوران درد ہو اور کھانسی میں خون یا سرخ اور سبز رنگ کا بلغم (Sputum) نظر آئے تو فوری طورپر چیک اپ کرواناچاہئے ۔ اس کے علاوہ متاثرہ مریضوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کا ٹیومر ہوا کے دبائو کو محدود کرنے کی وجہ سے مریض کے پھیپھڑوں کے چاروں طرف ایک سیال جمع ہونے کا سبب ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو سانس لینے میں بھی بہت دشواری پیش آتی ہے ۔پھیپھڑوں کے کینسر میںمریض کو سانس لینے میں خرخراہٹ کی آواز بھی آتی ہے جو ٹیومر کی افزائش اورسوزش کی وجہ سے ہوسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ مریض کے وزن میںکمی بھی ایک نمایاںتبدیلی اور پھیپھڑوں کے سرطان کی علامت ہوتی ہے۔ کینسر کے خلیات توانائی حاصل کرنے کے لئے متاثر فرد کے میٹابولزم سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کینسر میں مبتلا شخص عام طور پر ریڑھ کی ہڈی ، ران کی ہڈی ، پسلیوں کی بڑی ہڈیوں کے ساتھ ساتھ کندھے کے درد میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اگر جسم میں ان جگہوں پر مسلسل درد کی شکایت رہے تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے ۔ 



پھیپھڑوں کے سرطان کی ابتدائی حالت میں اگر تشخیص ہو جائے تو ستر فیصد امکانات ہوتے ہیں کہ مریض علاج کے سہارے  اپنی زندگی گزارسکتا ہے۔ جبکہ اگر یہ مرض آخری مرحلے پر ہوتو علاج کے امکانات پانچ فیصد سے بھی کم ہو جاتے ہیں جبکہ سگریٹ نوشی سے ہونے والی بیماریوں کے شکار افراد میں پھیپھڑوں کے سرطان کا آپریشن یا علاج مفید ثابت نہیں ہوتاہے۔
ہم صحت مندطرزندگی کو اپنا کر اور تمباکونوشی سے پرہیز کر کے پھیپھڑوں کے سرطان سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق نوے فیصد پھیپھڑوں کے کینسر کو صرف تمباکو نوشی ترک کر کے روکا جا سکتا ہے۔ پھیپھڑوں کے کینسر کا علاج جس میں کیموتھراپی بھی شامل ہے، اس علاج میں مریض کی قوت مدافعت میں بہت کمی آجاتی ہے اور وہ بہت کمزوری محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا صحت بخش پھلوں ،سبزیوں اور مشروبات کو لازمی طور پر استعمال میں رکھنا چاہئے۔ اور کھانے پینے کی چیزوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہاتھوں کو ا چھے طر یقے سے دھولینا چاہئے ۔ پھلوں اور سبزیوں کو بھی استعمال کرنے سے پہلے ، پکانے اور کھانے سے پہلے اچھی طرح سے دھولینا چاہئے تاکہ ان کے اوپر سے مٹی اور دیگر جراثیم وغیرہ صاف ہو جائیں ۔ کچا پکا یا بالکل کچا گوشت ، انڈہ ،مچھلی اور مرغی وغیرہ نہیں کھانا چاہئے اور انڈے سے بنی ہوئی بیکری اور دیگر چیزیں بھی استعمال نہیں کرنی چاہئے ۔ 
ایک تحقیق کے مطابق سیب میں پائے جانے والے ایک مادے فلے وونائیڈ (Flavonoids) کے باعث اس کے استعمال سے پھیپھڑوں کے سرطان کے خطرات میں کمی واقع ہو سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ Cancer Prevention Research جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تازہ لہسن کو اپنی روزمرہ کی خوراک میں استعمال کرنے سے پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کے امکانات کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے ۔ تحقیق کے مطابق لہسن میں موجود ایلی سِن ( Allicin ) انسانی جسم کے لئے بے حد فائدہ مند ہوتا ہے جو جسم میں سوزش کو کم کرکے مختلف انفیکشنز کو کنٹرول میں رکھتا ہے ، جبکہ زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لئے لہسن کو کچا کھانا چاہئے ۔
 بندگوبھی میں سلفورفین (Sulforaphane) نامی مادہ پھیپھڑوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے ۔اور یہ انسانی جسم میں انزائمز کی پیدا وار کو بڑھا کر سرطان  پیدا کرنے والے مادے کی پیداوار کو کم کر دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ شملہ مرچ اور سرخ مرچوں میں موجو د فائٹو کیمیکل کی موجودگی پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔ ہری سبزیوں خصوصاََپالک میں موجود آئرن ، وٹامن اور لوٹین کی وافر مقدار کی موجودگی بھی پھیپھڑوں کے سرطان سے محفوظ رکھتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق گریپ فروٹ کا اینٹی آکسیڈنٹ  ، لائکوپین پر مشتمل ہوتا ہے جو پھیپھڑوں میں موجود نقصان دہ ٹاکسنزکو ختم کر دیتا ہے اور خون کے سفید خلیات کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے ۔



ایک طبی جریدےCancer Epidemiology, Biomarkers & Prevention کی ایک تحقیق کے مطابق نشاستہ دار غذا یا کاربوہائیڈ ریٹ کے زیادہ استعمال سے  پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ 49 فیصد تک بڑھ جاتا ہے ۔
ایک انداز ے کے مطابق پھیپھڑوں کے کینسر کو صرف تمباکو نوشی کو ترک کر کے90 فیصد تک روکا جاسکتا ہے ۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر تمباکونوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کی اشد ضرورت ہے ۔ آج کل مختلف مختلف ناموں سے لوگ تمباکو نوشی کر رہے ہیں۔ جس میں ایک نشہ شیشہ بھی ہے جو تمباکو نوشی کی ایک بے حد خطرناک صورت ہے ۔ کارخانوں کے مضر صحت دھوئیں سے ممکنہ حد تک بچنا چاہئے اور اپنے اردگرد اورگھر کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا چاہئے ۔ باقاعدگی سے اپنے قریبی معالج یا فزیشن سے مکمل چیک اپ کرواتے رہنا چاہئے ۔ تاکہ کینسر یا دیگر کسی بھی بیماری کی موجودگی کا ابتدائی مرحلے سے ہی پتہ چلایاجا سکے اور اس کا بروقت علاج کیا جاسکے ۔ خاص طور پر ایسے افراد جن میں پھیپھڑوں  کے سرطان کا خطرہ زیادہ ہو، جیسے تمباکو نوشی کرنے والے افراد، جن کی عمر پچپن سال سے زیادہ ہو ۔ ایسے لوگوں کو سال میں ایک بار لازمی اپنا چیک اپ کروا لینا چاہئے ۔ برطانیہ کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ہزاروں افراد سرطان کی ابتدائی علامات اپنے معالج کے سامنے خوف کی وجہ سے بیان نہیں کرپاتے ہیں ۔ سرطان کے علاج کے لئے ابتدائی مرحلے میں ہی اس کی تشخیص ضروری ہے ۔ اگر مریضوں میں کینسر کی اپنے ابتدائی مرحلے میں اس وقت تشخیص ہو جائے جب یہ موذی مرض جسم کے دوسرے حصوں تک نہ پھیلا ہو توا س کے کامیاب علاج اور صحت مندی کے امکانات بے حد بڑھ جاتے ہیں ۔ ||


   مضمون نگارمائیکرو بیالوجسٹ ہیں اورمختلف اخبارات میں کالم لکھتی ہیں ۔
[email protected]

یہ تحریر 94مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP