ہمارے غازی وشہداء

پھر کسی بچھڑے مسافر کی کہانی لکھنا

فرخ مرزا شہید کو جب لحد میں اُتارا گیا تو وہ پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا‘ اس کی زندگی کا مقصد اور آخری آرزو یہی تھی۔ عجیب وجدانی نوجوان تھا‘ شہادت سے چند دن پہلے سارے بہن بھائیوں‘ عزیز و اقرباء سے ملنے شہروں‘ شہروں اُن کے گھروں کو گیا۔
لاہور میں چھوٹے بھائی کے دوستوں نے پوچھا، ’’آپ نے فوجی زندگی کا انتخاب کیوں کیا؟‘‘ فرخ مرزا نے جواب دیا،’’میں اعزاز کے ساتھ فوجی پرچم میں لپٹا ہوا دنیا سے جانا چاہتا ہوں۔‘‘ تمنائیں کس قدر بر آتی ہیں، ہم اور آپ اس خدائی بھید کو کیا جانیں۔26 دسمبر1995کو واہ کینٹ کا لالہ زار بقۂ نور بنا ہوا تھا۔ ہر گھر روشن تھا، ہر سر فخر سے بلند تھا، واہ اور گردو پیش کی بستیوں کے مقیم سخت سردی میں جوق در جوق فرخ شہید کو خراجِ تحسین پیش کرنے پہنچے ہوئے تھے۔ لالہ رُخ کے مرکزی قبرستان میں جب مٹی کی امانت پورے فوجی اعزاز کے ساتھ مٹی کے حوالے کی گئی تو علاقہ عنبر و عود میں ڈوب گیا۔ گارڈ آف آنر،چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے بھجوائے گئے پھول، 12 سندھ بٹالین اور بٹالین کمانڈر کی طرف سے پھولوں کی چادریں، پی ایم اے کاکول کے پھول، چیئرمین واہ فیکٹر ی کا اظہارِ عقیدت، بہاولپور کے

GOC

کے پھول، کیڈٹ کالج حسن ابدال کے پھول، دوست احباب، خاندان، گھر اور اہلِ علاقہ کے پھول الغرض! فرخ مرزا شہید کی لحد خوشبوؤں میں ڈوب گئی یہ وہی خوشبو تھی، جس کی آرزو فرخ مرزا نے کی تھی یہ اسی خواب کی تعبیر تھی جو شہید نے وردی پہنتے وقت دیکھا تھا۔


فرخ مرزا ابھی فوج کے ابتدائی عہدوں پر تھا مگر تدفین کے اگلے روز اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ، شہید کی تربت کو سلیوٹ پیش کرنے لالہ رخ پہنچے ہوئے تھے، ماحول میں ہرُ سو پھول ہی پھول پھیلے ہوئے تھے۔ یہ وہی اعزاز تھا، وہی پھول اور خوشبو تھی جس کی تمنا لے کر فرخ نے دفاعِ وطن کے راستے کا انتخاب کیا تھا۔ وہ فوج میں لیفٹین تھا، کپتانی کی وردی سل کے آچکی تھی مگر فرخ مرزا نے شہادت کا کفن پہن لیا، بھلا اس سے خوبصورت پیراہن اور کیا ہوسکتا تھا۔ جس طرح ہیرو بنائے نہیں جاتے وہ پیدائشی ہیرو ہوتے ہیں، بعض خاندان اور گھرانے بھی ایسے ہوتے ہیں جہاں سے شہیدوں اور غازیوں کا انتخاب ہوتا رہتاہے۔

 

فرخ شہید کا گھرانہ علاقے میں’’کپتاناں والا خاندان‘‘ کے نام سے جاناجاتا ہے۔ شہید کے دادا فضل حسین مرزا فوج میں تھے دوسری جنگِ عظیم میں اعلیٰ سپہ گری کی بنا پر دینہ ضلع جہلم کے قصبے ٹاہلیاں والا میں انعام میں اُن کو زمین ملی تھی۔ فرخ شہید کے والد محمد خلیل مرزا جن کی وفات 18جون 2004 میں ہوئی وہ بھی افواجِ پاکستان کے ادارے پاک فضائیہ میں تھے‘ خلیل مرزا کے چچا اور بڑے بھائی محمدرفیق مرزا بھی فوج میں تھے اور کپتان تھے۔
فرخ مرزا شہید کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ اُن کے خاندان کی ہر شاخ میں حافظ قرآن موجود ہیں فرخ بھی اپنے گھریلو ماحول سے خاصا متاثر تھا باجماعت نماز کے لئے مسجد جانا‘ باقاعدگی سے روزے رکھنا بلکہ دوستوں کے ساتھ سحری میں لوگوں کو جگانا بھی معمول اور نعتیں پڑھنا پسندیدہ عمل تھا۔ روحانیت اس خانوادے کی شناخت ہے ۔ فرخ مرزا کو گھر میں سبھی چھوٹے بڑے ٹیپو کہا کرتے تھے۔ اتفاق دیکھئے کہ 87 لانگ کورس میں کمشن کے بعد پی ایم اے کاکول میں جو کمپنی ملی اس کا نام بھی ٹیپو ہی تھا۔16 اپریل1993 کو گریجویشن کی تکمیل ہوئی، پاسنگ آؤٹ پریڈ میں فرخ مرزا کے والد محمدخلیل مرزا اور والدہ نسیم اختر دونوں گئے ہوئے تھے۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر پہلی تقرری فرخ مرزا کی انفنٹری کی سندھ رجمنٹ کی بارہ بٹالین میں ہوئی جواُن دنوں خیبرپختون خوا کے علاقے ’ٹل‘ میں تھی۔ فرخ مرزا تین بھائی اور سات بہنیں ہیں۔


ان کی والدہ کا خاندان تجارت پیشہ تھا، فرخ مرزا کے پڑنانا نے افغانستان سے کشمیر ہجرت کی تھی وہ آئے تو کاروباری سلسلے میں تھے مگر پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے اور قیامِ پاکستان سے تھوڑا پہلے اس خاندان نے جہلم کو اپنا مسکن بنایا فرخ مرزا کے نانا مرزا علم دین 105 برس کی عمر میں جہلم میں بقیدِ حیات ہیں۔ ان دنوں اس خاندان کا قیام واہ فیکٹری کے نمبر20 ایریا میں تھا۔ فرخ مرزا کی ولادت سے علاقے میں شاد کامی پھیل گئی گردوپیش کے لوگوں میں لڈو بانٹے گئے۔ فرخ مرزا اوئل عمری سے ہی چاق چوبند، ہوشیار، چست، صحت مند، خوبصورت اور انوکھا تھا۔


فرخ مرزا کسی بات پر پریشان یا مایوس کبھی نہیں ہوتا البتہ جب پہلی مرتبہ یعنی پہلے سال فوج میں کمیشن نہ ملا تو وہ پریشان ہوا اور کافی دنوں بعد نارمل ہوا اور شدت سے اگلے سال کی سلیکشن کا انتظار کرنے لگ گیا۔یوں پھر اگلے سال کمیشن کے لئے منتخب ہو کر کاکول چلا گیا۔ فرخ مرزا جب پہلی بار مورچے میں اترا تو اس وقت وہ پونے تین سال کا تھا اور شہادت کے وقت پونے ستائیس سال کا تھا درمیان کے برسوں میں ابتدائی تعلیم ایف جی گرلز ہائی سکول نمبر2 واہ کینٹ سے، میٹرک ایف جی بوائز ماڈل ہائی سکول واہ کینٹ اور فیڈرل بورڈ سے جبکہ ایف ایس سی حسن ابدال کیڈٹ کالج راولپنڈی بورڈ سے کی۔ فرخ مرزا پونے تین سال کی عمر میں مورچے میں تب اترے جب 1971 کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تھی۔ ایک رات خطرے کا سائرن بجنے پر گھر میں بنائے گئے مورچے میں گھر کے سارے افراد اترے تو فرخ مرزا اپنے سے ساڑھے تین سال بڑی بہن ثمینہ مرزا کی گود میں تھے۔ اسی اثنا میں بھارتی طیارے نے بم گرایا۔ بظاہر وہ پاکستان کی اسلحہ فیکٹری واہ کا نشانہ لینے کی غرض سے آیا تھا۔ مگر اس کا نشانہ خطا گیا۔ اور وہ بم واہ اور حسن ابدال کے درمیان کھلی زمین میں گرا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ بھارت کے اس طیارے کو راولپنڈی چکلالہ کے قریب گرا دیا گیا تھا۔ اسی روز بھارت کے ایک طیارے نے لاہور کے محلہ مصری شاہ پر بم گرائے تھے جس سے 8شہری شہید اور 28زخمی ہوئے تھے۔ انسانی آبادیوں پر بم گرانا بھارت کی اخلاقی پستی کی غماز اور بین الاقوامی ضابطوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل فرخ مرزا کی بڑی بہن ثمینہ مرزا کی کتاب ’پرچم میں لپٹا بھائی‘ میں پڑھنے کو ملے گی جو زیرطبع ہے۔


فرخ مرزا نے اپنی شہادت سے ایک دن پہلے ثمینہ مرزا کے خواب میں آ کر انہیں ایک لفافہ دیا۔ بہن نے پوچھا اس میں کیا ہے۔ فرخ نے کہا تمہارا کینیڈا کا ٹکٹ۔ اور تم؟ بہن نے پھر پوچھا ‘فرخ نے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں اوپر جا رہا ہوں اور پھر بہاولپور میں فوجی مشقوں سے واپسی پر 25دسمبر 1995 بروز پیر مطابق 2شعبان1416 ہجری زیرزمین گولہ
(Un exploded bomb) 
پھٹنے سے 5فوجی افسر شہید ہوئے جن میں ایک فرخ مرزا بھی تھے۔ فرخ مرزا کی بڑی بہن جو عمروں میں بہت کم فرق ہونے کی وجہ سے ہمیشہ فرخ مرزا کے ساتھ ساتھ ہی رہی جنہیں اسلام آباد کے تعلیمی ادارے پروفیسر ثمینہ فرخ مرزا کے نام سے جانتے ہیں اور پاکستان کے ادبی علمی اور سماجی حلقے ثمینہ تبسم کے نام سے شناسا ہیں جو تین کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ شاعرہ، ادیبہ پروفیسر ثمینہ تبسم نے بتایا کہ ماؤں کے سوچنے کا انداز گھر کے دیگر لوگوں سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔ ایک روز امی کہہ رہی تھیں کہ سب بچے آباد ہیں گھر بار والے اور بچوں والے ہیں مگر میرا ٹیپو تو ایسے ہی چلا گیا۔ تو میں نے کہا کہ امی ہم سب نے مر جانا ہے فنا ہو جانا ہے۔ مگر ٹیپو شہید ہے، وہ زندہ ہے۔ اسے جب قبر میں اتارا تو پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا وہ جب شہید ہوا تو وردی میں تھا۔ اماں! ٹیپو نے وردی پہنتے وقت اس ملک کے دفاع کی قسم کھائی تھی جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا شہید زندہ ہوتا ہے ماں۔ یہ تو اﷲ کا وعدہ ہے کہ ہم اگر ٹیپو کو بھول بھی جائیں تو تاریخ اسے یاد رکھے گی۔ اس لئے کہ وہ زندہ ہے۔ وہ مقیم ہے، ہم مسافر ہیں۔ ہمارا قیام، شہرت اور دنیا سب عارضی ہے۔ وہ ہمیشہ رہے گا جب تک کائنات ہے وہ زندہ ہے۔


ثمینہ تبسم جب فرخ مرزا کے حوالے سے بتا رہی تھیں تو ان کے لفظوں میں تمکنت تھی، حوصلہ ، جذبہ اور اظہار میں دبدبہ تھا لیکن وہ اس بات پر حیران تھیں کہ ہمارے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں کینیڈا پہنچ جاؤں گی۔ پھر بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ میں شہید بھائی کا دیا ہوا پردیس کاٹ رہی ہوں۔ ڈھیروں باتیں ہیں جو میں اس سے کیا کرتی تھی۔ اب وہ ساری باتیں میں اس سے کتاب میں کروں گی۔ ممتاز مصنفہ اور شاعرہ محترمہ تسنیم کوثر نے شائد کسی ایسے لمحے کے لئے ہی کہا تھا کہ


کھولنا جب کبھی گزرے ہوئے لمحوں کے کواڑ
صبح ارمان بھری، شام سہانی لکھنا
پہلے رکھ دینا چراغوں کو سرِ راہ گزر
پھر کسی بچھڑے مسافر کی کہانی لکھنا


جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 159مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP