شعر و ادب

پکار

(آپریشن ردالفساد کی کامرانی پر)
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
سرفروش بیٹوں کو، صف شکن جوانوں کو
گونجتے ہوئے نکلے، شیر اب کچھاروں سے
موت منہ چھپاتی ہے، پاک شہسواروں سے
سینچتے لہو سے ہیں، وقت کو، زمانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
رکھ کے سر ہتھیلی پر، قرض کو نبھاتے ہیں
کودتے ہیں شعلوں میں، دیس کو بچاتے ہیں
زیرِپا، یہ رکھتے ہیں، ظلم کے جہانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
ناز ہر کسی کو ہے، اپنے جانثاروں پر
نعرہ زن دلیروں پر، آہنی حصاروں پر
قوم کا سلام آیا، عزم کی چٹانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
ہو رہی ہے سرکوبی، شرپسند عناصر کی
مژدہ کامرانی ہے، ضرب یہ عساکر کی
بے نشان کر دیں گے، سارے بدگُمانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
پروفیسر اکرم باجوہ

یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP