متفرقات

پڑھے لکھے لوگوں کا المیہ

کسی حسین شام کو اچھے سے غیر ملکی ریستوران میں کھانا تناول کرنے کے بعد کافی پینے کا اپنا ہی مزا ہے۔ ایسے میں اگر آپ سموکنگ ایریا میں بیٹھے ہوں تو کیا کہنے۔ سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے ملکی حالات پر پڑھے لکھے لوگوں کی گفتگو ایمان تازہ کردیتی ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں کی گفتگومجھے اس لئے پسند ہے کیونکہ وہ دلیل سے بات کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ ایسی ہی شام تھی‘ ایک صاحب جو تازہ تازہ جنوبی افریقہ سے وارد ہوئے تھے‘ کہہ رہے تھے ’’دوستو‘ کیپ ٹاؤن کے ساحلوں کی ریت پر تنہا چھتری تلے بیٹھ کر میں نے پاکستانی غریب عوام کے بارے میں بہت سوچا!‘‘ یہ سن کر میرے ایک ستم ظریف دوست نے پوچھا ’’پھر آپ کس نتیجے پر پہنچے ؟‘‘ کیپ ٹاؤن نے جواب دیا ’’میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جب تک اس ملک میں تعلیم عام نہیں ہوگی اس عوام کا کچھ نہیں بنے گا۔‘‘ یہ جملہ چونکہ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں اس لئے میرے دوست سے رہا نہیں گیا اور وہ دوبارہ بولا ’’ اگر یہ بات درست ہے تو کیا وجہ ہے کہ انتخابات میں جاہل عوام نے ہمیشہ انتہا پسند مذہبی جماعتوں کو مسترد کرتے ہوئے روشن خیال جماعتوں کو ووٹ دیئے‘ اس سے زیادہ بالغ نظری اور کیا ہوگی؟‘‘ اس کے بعد بحث 1970کے انتخابات سے شروع ہوئی اور11 مئی2013 کے انتخابات تک آئی‘ درمیان میں ماؤزے تنگ‘ مسولینی‘ ہٹلر‘ چرچل‘ اوبامہ‘ اسامہ بن لادن اور کیپ ٹاؤن کی لڑکیوں کے حسن پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور اس کے بعد جس بات پر سب نے اتفاق رائے کیا وہ یہ تھی کہ ٹیبل نمبر تین پر بیٹھی ہوئی خاتون جو بار بار ایک خاص انداز سے اپنے بالوں کو جھٹک رہی تھی‘ کیپ ٹاؤن کی تمام لڑکیوں سے زیادہ حسین تھی۔

 

غیر ملکی ڈگری ‘ اعلیٰ نوکری‘ احساسِ تحفظ‘ بھرے ہوئے پیٹ اور محفوظ مستقبل کے احساس کے ساتھ لاہور‘ کراچی یا اسلام آباد کے کسی پوش علاقے میں بیٹھ کر ملکی حالات کا تجزیہ کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر زندگی کی جنگ لڑنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک لمحے کے لئے تصور کریں کہ آپ اس ملک میں کسی ایسی کمیونٹی کا حصہ ہیں جسے ہر لمحے اپنی جان کا خوف لاحق ہو‘ جسے یہ ڈر ہو کہ اس پر کوئی بھی الزام لگا کر عقیدے کی بنیاد پر زندہ جلا دیا جاسکتا ہے‘ اس کمزور عورت کی طرح سوچیں جو اس سفاک اور بے رحم معاشرے کے رحم و کرم پر ہے‘ اس اقلیتی فرد کی طرح سوچیں جس کے نومولود بچے سے بھی جینے کا حق چھین لیا گیا ہے‘ وہ مزدور بن کر سوچیں جس نے روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر کا چولہا گرم کرنا ہے اور اس کے پاس بیمار ہونے یا چھٹی کرنے کا بھی کوئی آپش نہیں یا اس عام آدمی کی طرح سوچیں جس نے تن تنہا ظلم کے اس نظام کو شکست دے کر آگے بڑھنا ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے جیسے کسی کے جوتوں میں پیر گھسا کر بآسانی سوچا جاسکتا ہے مگر ایسا نہیں ہے‘ جیسے پانچ سو روپے دیہاڑی کمانے والا شخص اندازہ ہی نہیں کرسکتا کہ کیسے برطانیہ کے کلبوں میں عرب شہزادے پانچ پانچ سو پاؤنڈز کی ’’ویلیں‘‘ کرواتے ہیں‘ اسی طرح پڑھے لکھوں کو بھی اندازہ نہیں ہوسکتا کہ وہ ہر لمحہ زندگی کی گاڑی کھینچنے والا ’’جاہل‘‘ شخص اس خوفناک دنیا میں زندہ رہنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے۔


پڑھے لکھے لوگوں کا دوسرا المیہ وہ قطعیت ہے جس کے ساتھ یہ سوچتے ہیں‘ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے ڈگری حاصل کرلی ہے لہٰذا ان کی بات ہمیشہ درست ہوگی‘ ان کی گفتگو میں اس قدر تیقن ہوتا ہے کہ بعض اوقات آپ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کوئی شخص کسی بھی معاملے میں اس قدر حتمی رائے کیسے رکھ سکتا ہے‘ اپنی رائے تبدیل کرنے یا اس کے بارے میں تشکیک کا اظہار کرنے کو وہ سُبکی سمجھتے ہیں۔ ان کی باتوں میں حد سے زیادہ بڑھا ہوا اعتماد دیکھ کر خوف آتا ہے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو نجی اور سرکاری شعبوں میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں بندہ سوچتا ہے کہ اگر ایسے لوگ ہماری تقدیر کے فیصلے کرتے ہیں تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ ہم ابھی تک تنزلی کا شکار ہیں۔ اپنی تمام تر ڈگریوں کے کرّو فر کے باوجود یہ پڑھے لکھے لوگ ہی ہیں جو انواع و اقسام کی سازشی تھیوریوں میں یقین رکھتے ہیں‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیر بھی انہی کی وجہ سے ہوئی۔ ایسا نہیں کہ رسمی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں اور ہمیں اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھا لینا چاہئے‘ سکولوں اور کالجوں میں جو الف ب پڑھائی جاتی ہے وہ صرف زندگی کی ابتدا ہے‘ اسے انتہا نہیں سمجھ لینا چاہئے‘ وہ لوگ جو یہ الف ب نہیں پڑھ پاتے وہ نصابی علم سے محروم رہ جاتے ہیں مگر ان کا اکتسابی علم ہم سے کہیں زیادہ ہوتا ہے‘ ان لوگوں کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھنا حماقت سے زیادہ کچھ نہیں اگر ہمارے پاس کسی مستند یونیورسٹی کی ڈگری ہے تو بہت اچھی بات ہے مگر اس سے بھی ضروری یہ بات ہے کہ ہم اور آپ سوچتے کیسے ہیں‘ کیا ہم سچائی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں‘ کیا وہ باتیں جو سالہا سال سے ہمیں رٹائی جاتی رہی ہیں کیا ہم ان پر سوال اٹھانے کی جرأت کرتے ہیں‘ کیا ہمیں کبھی لگا ہے کہ اکثر اوقات سچ بالکل سامنے کی بات ہوتی ہے مگر کوئی اسے کہنے کی ہمت نہیں کرتا‘ کیا ہم نے کبھی اس سچ کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو نصابی کتابوں کے باہر پایا جاتا ہے! اگر ان میں سے کسی ایک بات کا بھی جواب ہاں میں ہے تو ہمیں اپنی ڈگریوں پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں‘ البتہ اگر ہم نے یہ ڈگریاں فقط اس لئے حاصل کی تھی کہ ایک اچھی نوکری ملے‘ اچھی جگہ شادی ہو جائے‘ بڑا سا گھر اور محفوظ مستقبل ہو تو پھر ہم میں اور کسی اَن پڑھ میں کوئی خاص فرق نہیں بلکہ اس کے نمبر زیادہ ہیں جو بغیر کسی ڈگری کے زندگی کی گاڑی کھینچتا ہے


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 81مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP