اداریہ

پُر عزم پاکستان 

وطنِ عزیز پاکستان ایک نظریئے اور عظیم مقصد کے تحت معرضِ وجود میں آیا جس کے لئے قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے انتھک جدو جہد کو اپنا شعار بنایا اور چند برسوں کی کاوش سے اپنے لئے ایک الگ وطن حاصل کرلیا۔ 17 اگست1947 کو اپنے ایک خطاب میں بانیٔ پاکستان نے فرمایا : '' پاکستان کی سرزمین میں زبردست خزانے چھپے ہوئے ہیں مگر اس کو ایک ایسا ملک بنانے کے لئے جو ایک مسلمان قوم کے رہنے کے قابل ہو، ہمیں اپنی قوت اور اپنی محنت کے زبردست ذخیرے کا ایک ایک ذرہ صرف کرنا پڑے گا اور مجھے اُمید ہے کہ تمام لوگ اس کی تعمیر میں دل و جان سے حصہ لیں گے۔''
بلاشبہ پاکستان قدرت کی نعمتوں سے مالامال ایک ملک ہے اور اس میں بہت توانائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیائی خطے کے بعض ممالک اور بین الاقوامی سطح پرکچھ طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا چلا آرہا ہے۔ پاکستان دشمن عناصر پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر کمزور کرنے کے لئے  ہر لمحہ مصروف رہتے ہیں۔وہ پاکستان پر وار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنے قیام کے اوائل ہی سے دشمن کی جانب سے جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کا ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا جاتا رہا ہے۔1971 میں پاکستان کا ایک بازو الگ ہوگیا۔ اُس کے بعد بھی دشمن مختلف ہتھکنڈے استعمال میں لاتے ہوئے پاکستان کو زد پہنچانے کی کوشش میں مگن رہتا ہے ۔
 پاکستان کے خلاف دشمن روائتی انداز سے تونبرد آزما تھا ہی گزشتہ کچھ سالوں سے اس نے ہائبرڈ وار فیئر  کا بھی بخوبی استعمال کیا ہے۔ حال ہی میں یورپین یونین ڈس انفو لیب کی رپورٹ نے ہوشربا انکشافات کئے ہیں کہ کس طرح بھارت  نے انٹرنیٹ ، سوشل اور آن لائن میڈیا کو پاکستان کو بدنام اور کمزور کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ ای یو ڈس انفو لیب کی رپورٹ دیکھ کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر لوگ اور ادارے دنگ رہ گئے ہیں کہ بھارت نے کس طرح جعلی اکائونٹس اور جعلی این جی اوز کے ذریعے پاکستان کے اندر اقلیتوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے اُن معاملات کو اچھالا جو اس طرح سے ہیں ہی نہیں اور یورپین یونین اور اقوامِ متحدہ کے سامنے پاکستان کا ایک پراگندہ امیج پیش کیا۔ اب انڈین کرانیکلز  کا بھانڈا پھوٹا ہے تو بھارت کے قبیح عزائم سامنے آئے ہیں کہ کس طرح بھارت علاقائی اور عالمی سطح پر جھوٹ اور فریب کے ذریعے بین الاقوامی امن اور حالات کو تہہ و بالا کررہا ہے۔
یوں سال 2021 ایسے حالات میں آیا ہے کہ ایک طرف پاکستان دیگر  دنیا کی طرح کووڈ19 سے نبردآزما ہے تودوسری جانب اُسے بھارت جیسے متعصبانہ اور جارحانہ فکر کے حامل دشمن ملک کا سامنا ہے۔ اس طرح پاکستان میں بسنے والے بائیس کروڑ عوام نئے سال میں اس عزم کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں کہ وہ اپنے ازلی دشمن کی خفیہ اور علانیہ دونوں قسم کی سازشوں سے نہ صرف آگاہ ہو چکے ہیں بلکہ وہ اس کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔ افواج اور عوام باہم مل کر وطنِ عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے اور پاکستان کو مضبوط، باوقار ، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان بنائیں گے۔  ان شاء اﷲ
 

یہ تحریر 17مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP