قومی و بین الاقوامی ایشوز

پُرامن بلوچستان

دلکش وادیوں، سنگلاخ پہاڑوں، گرم چشموں،خوبصورت جھیلوں،تپتے صحراؤں اور قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ بلوچستان کا جب کبھی بھی ذکر ہوا تو ذہن میں لاوارث لاشیں، بغاوت کی تحریکیں، سر کٹے انسانی جسم اور زائرین کے بہتے خون کی ہیبت ناک تصویریں گردش کرنا شروع کر دیتی تھیں۔ کچھ دن پہلے یونیورسٹی سے فون آیا کہ حکومت بلوچستان اور پاکستان آرمی کی کمانڈ کے اشتراک سے یوتھ موبالائزیشن کمپین کا آغاز ہوا ہے جس کے تحت پنجاب کے پوزیشن ہولڈر طلباوطالبات کو بلوچستان کے پانچ روزہ نصابی و غیر نصابی دورے کی دعوت دی گئی ہے اور اس ناچیز کا نام بھی ان ڈیڑھ سو افراد میں شامل ہے۔ دعوت نامہ سن کر پہلے تو کچھ لمحوں کے لئے بہت خوشی ہوئی لیکن ساتھ ہی ان کٹی پھٹی تصاویر نے ان خوبصورت وادیوں کی جگہ لے لی اور خوف کا احساس خوشی پر غالب آگیا۔ لیکن، چونکہ پاک فوج نے حفاظت کی ضمانت دی تھی، اس لئے میں نے ہامی بھر لی۔ سوموار کی صبح پاک فضائیہ کے لاہور میں موجود ہوائی اڈے سے سی130- طیارے پر کوئٹہ کے لئے روانہ ہوئے اور یہ فضائی سفر بذات خود ایک ایڈونچر تھا۔ دوگھنٹے کی فلائٹ کے بعد جب بلوچستان کی سرزمین پر پہلا قدم رکھا تو دل کی دھڑکن کانوں تک سنائی دے رہی تھی اور جب کوئٹہ ائر بیس کے آس پاس موجود خوبصورت پہاڑوں پر نظر پڑی تو خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا ۔


ہمیں فوری طور پر بسوں میں بٹھا کر پاک فوج اور ایف سی کے جوانوں کی حفاظت میں ہوٹل کی جانب روانہ کر دیا گیا او رجب ہماری بسیں کوئٹہ شہر میں داخل ہوئیں تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ یہ شہر بھی پاکستان کے دوسرے عام شہروں کی طرح ہی ہے۔ وہی عام بازار، ویسی ہی سڑکیں، بچے، جوان،عورتیں ، مرد اور بوڑھے سب کھلے عام روز مرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ وہ ہماری بسوں کی جانب دیکھ کر چہروں پر مسکراہٹ لئے ہاتھ ہلا رہے تھے اور مہمانوں کا کھلے دل کے ساتھ استقبال کر رہے تھے۔ ہوٹل پہنچنے پر ہمیں کمرے الاٹ کئے گئے جن میں اگلے پانچ دن ہم نے رہنا تھا۔خیر، پہلا دن آرام کرنے اور بلوچستان کے میزبان طلباء کے ساتھ گپ شپ کرتے گزرا۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ ان طلباء میں پاکستان کے لئے کس قدر محبت اور پاک فوج کے لئے کس قدر احترام ہے اور ہمیں میڈیا کچھ اور کہانیاں ہی سناتا رہا ہے جب کہ حقیقت قدرے مختلف ہے۔

 

ان طلباء نے ہمیں بتایا کہ کچھ سال قبل ایک مخصوص لابی پاکستان اور پاکستانیت کے خلاف سرگرم تھی اور ہمسایہ ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی پشت پناہی سے بلوچستان میں امن نہیں ہونے دے رہی تھی۔ وہ عام بلوچوں کے دلوں میں پاکستان کے لئے زہر بھر رہی تھی اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہی تھی۔ ان طلباء نے مزید بتایا کہ کس طرح پاک فوج نے اتنے کم عرصے میں ان ملک دشمن عناصر کی نہ صرف کمر توڑ دی بلکہ بلوچستان میں جنگی بنیادوں پر امن واماں کو بحال بھی کیا۔ ان سب اقدامات کی تعریف میں سابق کمانڈر سدرن کمانڈ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصرخان جنجوعہ کا نام سرفہرست تھا جنہوں نے بلوچ عوام اور حکومت پاکستان کے درمیان فاصلوں کو کم کیا اور مختلف اقدامات کے ذریعے بلوچستان کی رونقیں بحال کیں۔ دوسرے دن ہمیں سدرن کمانڈ ہیڈکوارٹرز کا دورہ کروایا گیا جہاں موجودہ کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے طلباء سے خطاب کیا اور بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی اور طلباء کے تمام تر سوالات کے جوابات دئیے۔ اس کے بعد ہمیں گورنر ہاؤس اور بلوچستان اسمبلی کا دورہ کروایا گیا اور شام میں کوئٹہ کلب میں ایک تقریب کا انعقاد کیاگیا جس میں تمام مہمان طلباء وطالبات میں وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کی جانب سے لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے اور اعلان کیا گیا کہ اس سال پورے بلوچستان میں پنجاب یوتھ فیسٹیول کی طرز پر ثقافتی میلوں کا انعقاد کیا جائے گا جس میں قدیم سبی ثقافتی میلہ سرفہرست ہوگا۔


تیسرے دن ہمیں زیارت میں موجود قائداعظم ریذیڈنسی کا دورہ کروایا گیا اور یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ اس کی تزئین و آرائش کا کام انتہائی تسلی بخش ہوا۔ ریذیڈنسی میں جب پرچم کشائی کی تقریب ہوئی تو ہمارے اندر موجود حب الوطنی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہروں کی طرح دل سے ہوتی ہوئی آنکھوں کے راستے باہر کو بہنا شروع ہو گئی اور دماغ 1947ء کے اس دور کے سفر پر چلا گیا جب ہمارے بزرگوں نے جانوں کے نذرانے دے کر یہ پاک دھرتی ہمارے لئے حاصل کی تھی اس امید سے کہ ہم اس کا اپنی جانوں سے بڑھ کر خیال رکھیں گے اور آج ہم پاکستانی ہونے سے زیادہ پنجابی ، سندھی، بلوچی، پختون ، کشمیری اور گلگتی ہیں لیکن اس سب کے باوجود جب پاک فوج کی جانب نگاہ جاتی ہے تو اطمینان ہوتا ہے کہ اب بھی ایک زنجیر ہے جس نے ہمیں پاکستانیت کے دھاگے میں پرویا ہوا ہے اور اپنی جانیں دیں کر اس بین الصوبائی دھاگے کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ بلاشبہ ہمارے اس ادارے کی حب الوطنی پر کسی کو بھی رتی برابر شک نہیں کیونکہ اگر آج بلوچستان میں امن ہے اور ہم پنجابی طلباء کھلی فضاء میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا سکتے ہیں تو اس کا سہرا صرف پاک فوج کے سر ہے۔


چوتھے دن پاک فوج کی جانب سے جدید جنگی قوت کا مظاہرہ کیا گیا اور طلباء کو جدید طرز کے اینٹی ٹینک میزائل اور جنگی مشقیں دکھائی گئی جس کو دیکھ کر ہمارے سینے ایک بار فخر سے چوڑے ہوگئے۔ آخری رات کوئٹہ یونیورسٹی کے طلباء کی جانب سے کلچرل نائٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان کے تمام صوبوں کی ثقافتوں کو اجاگر کیا گیا اور ہر خطے کا روایتی ڈانس اور میوزک پرفارمنسز بھی کی گئیں اور پوری رات کوئٹہ کی پر امن ٖفضاء پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی اور محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ہم اس زمین پر موجود ہیں جہاں کچھ سال پہلے پاکستانی ہونا جرم تھا، پاکستان زندہ باد کہنے کی سزا موت تھی۔

 

اس دورے پر سب سے زیادہ خوشی ہزارہ کمیونٹی کے طلباء سے مل کر ہوئی جن کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کی بدولت آج وہ اپنے آپ کو پہلے سے کئی زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر بھی خوشی ہوئی کہ پاک فوج اور بلوچستان حکومت کی مشترکہ کوششوں سے پورے بلوچستان میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا جال بچھایا جا رہا ہے اور سی پیک منصوبے کے تحت پورے بلوچستان میں بجلی ، گیس اور صاف پانی کی سہولتیں عوام تک پہنچائی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ پورے بلوچستان کو سڑکوں کے ذریعے آپس میں ملا دیا گیا ہے اور کوئی بھی نو گو ایریا باقی نہیں رہا اور پورے صوبے میں حکومتی رٹ بحال کر دی گئی ہے۔


گوادر بندرگاہ کے بننے سے پورے بلوچستان میں معاشی انقلاب آئے گا اور لوگوں کی محرومیوں کا جلد از جلد ازالہ ممکن ہوگا اور مجھے تو یہ لگ رہا ہے کہ جس رفتار سے بلوچستان ترقی کر رہا ہے آئندہ چند سالوں میں یہ پاکستان کے باقی صوبوں کو پیچھے چھوڑ دے گا۔


اس پورے دورے کے بعد افسوس مجھے صرف میڈیا پر ہوا ہے جس نے بلوچستان کے حوالے سے انتہائی منفی کردارادا کیا ہے۔ میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت بلوچستان میں امن و اماں کے حالات ویسے ہی ہیں جیسے باقی صوبوں کے ہیں۔ بلوچستان کے حالات اتنے زیادہ خراب نہیں ہیں جتنے میڈیا دکھا رہا ہوتا ہے اور ان خراب حالات کی بیشتر وجوہات سیاسی ہوتی ہیں۔ وہاں پر ہم نے پانچ دن انتہائی امن کے ساتھ گزارے ہیں اور بلوچ عوام نے جو مہمان نوازی کی خوبصورت یادیں ہمارے ذہنوں پر نقش کی ہیں وہ ہم کبھی نہیں بھلا پائیں گے اور انشاء اللہ میں یہ سردیاں اپنی پوری فیملی کے ساتھ کوئٹہ اور زیارت میں گزارنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
اللہ پاک بلوچستان سمیت پورے ملک کی حفاظت کرے اور ان ملک دشمن عناصر کو ہدایت دے۔آمین


[email protected]

یہ تحریر 82مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP