قومی و بین الاقوامی ایشوز

پولیو مہم اور عالمی ادارۂ صحت

پاکستان بہت سے تشویشناک مسائل میں گھرا ہوا ملک ہے جن میں ایک سنگین مسئلہ پولیو بھی ہے۔ پولیو ایک انفیکشن والی وائرل بیماری جو اکثر مفلوج کردیتی ہے یہ خاص طور سے بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے 95 فیصد کیسز میں پولیو کسی واضح بیماری کے بغیر ختم ہوجاتی ہے کیونکہ جسم کا مدافعتی نظام حملہ آور وائرس کا توڑ کرتا ہے اور آئندہ انفیکشن سے بچاتا ہے۔ اگر پولیو کا وائرس مرکزی اعصابی نظام میں داخل ہوجائے تو پٹھوں کو کنٹرول کرنے والے خلیوں کو متاثر کرتا ہے اس قسم کے انفیکشن اعضاء کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناکارہ کردیتے ہیں۔ زیادہ سنگین صورتوں میں انفیکشن دماغ پر حملہ آور ہوتا ہے جو موت کا باعث بن جاتا ہے۔

پولیو ایک ایسا وبائی اور متعدی مرض ہے جو آلودگی اور تعفن سے پھیلتا ہے۔ ماہر ڈاکٹر اورحکماء کے مطابق پولیو ایک ایسا ناقابلِ علاج مرض ہے کہ اگر بچپن میں اس کے قطرے پلا کر اس کا سدباب نہ کیا جائے تو پھر یہ مرض عمر بھر کے لئے انسانوں کو معذور کردیتا ہے۔ اس وقت پاکستان‘ افغانستان اور نائجیریا کے علاوہ دنیا بھر سے پولیو قریب قریب ختم ہوچکا ہے۔ بھارت تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی والا ملک ہے مگر اس میں پولیو کا ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا جبکہ پاکستان میں 2011ء میں سب سے زیادہ 198 پولیو کیسز پائے گئے۔ 2012ء میں 56‘ 2013ء میں 58 اور 2014ء کے صرف جنوری میں 91 کیس سامنے آچکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس مرض کے پھیلنے کی بڑی وجہ افلاس ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں لوگ خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں لیکن وہاں پولیو بالکل بھی نہیں ہے اس کا مطلب ہے پولیو غربت یا بیروزگاری سے نہیں بلکہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی‘ سیوریج سسٹم کی خرابیوں اور نکاسی آب کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے پھیلتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے پشاور میں پانی کے 86 نمونے لئے تھے جن میں سے 72 نمونوں میں پولیو کا خطرناک وائرس پایا گیا۔ اس واقعے سے یہ بات طے کرلی گئی ہے کہ نوے فیصد پولیو کیسز کا تعلق پشاور سے ہے حالانکہ ایسا ممکن نہیں اگر اسلام آباد سے پانی کے نمونے لئے جاتے تو ہوسکتا ہے پشاور جیسا ہی نتیجہ ملتا۔ حکومتوں کو چاہیئے خواہ وہ پاکستان کی صوبائی حکومتیں ہوں یا وفاقی ‘ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور سیوریج کے نظام کی درستگی کریں۔ کیونکہ پولیو ایک مہلک مرض ہے۔ یہ تین قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے انہیں ’’وائیلڈ پولیو وائرس‘‘ ڈبلیو پی وی ون‘ ڈبلیو پی وی ٹو اور ڈبلیو پی وی تھری کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک وائرس بھی پانی یا ہماری غذا کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔ وہاں سے یہ نظام انہضام میں داخل ہو کر خون میں شامل ہو جاتا ہے پھر خون سے ان اعصاب تک رسائی حاصل کرتا ہے جو انسانی جسم کو کنٹرول کرتے ہیں۔ پولیو وائرس ان اعصاب کو تباہ کردیتا ہے‘ نتیجتاً جسم کا وہ حصہ مفلوج ہوجاتا ہے اور مریض عمر بھر کے لئے ناکارہ ہوجاتا ہے۔ یہ وائرس مریض کے فضلے سے خارج ہوتا ہے۔ اگر فضلے کو صحیح طریقے سے تلف نہ کیا جائے تو اس سے غذاء اور پانی آلودہ ہوجاتے ہیں‘ یوں ہر وہ بچہ پولیو کے حملے کا شکار ہوسکتا ہے جو ان اشیاء کو استعمال کرتا ہے‘ اگر مریض واش روم کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح سے نہ دھوئے تو ہاتھوں میں لگے ہوئے جراثیم بھی مرض پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

چیچک‘ خناق‘ کالی کھانسی اور تشنج کی طرح یہ بھی ایک متعدی مرض ہے ‘ اسے خوش بختی ہی کہنا چاہیئے کہ ویکسینیشن کے ذریعے پولیو کی بیماری کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں پولیو کے خاتمے کے لئے دنیا بھرمیں مہم چلائی گئی ہے۔ ایک ارب ڈالر سالانہ خرچ ہو رہے ہیں۔ اس میں امریکی کانگریس کے تعاون کے علاوہ سافٹ ویئر انڈسٹری کے سب سے بڑے ادارے مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس جنہوں نے نہ صرف پولیو ویکسین کی فراہمی کیلئے اپنی دولت کا خطیر حصہ دیا تھا بلکہ اپنے دوستوں سے بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈالنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی تھی‘ ان کے ادارے ’’بل گیٹس اورمیلنڈا گیٹس‘‘ نے 2013 سے اگلے چھے برسوں میں یعنی 2018 تک دنیا بھر سے پولیو کے خاتمے کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے تمام سرکاری اور نجی متعلقہ حلقوں اور عوام پر زور دیا ہے کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے ملک گیر انسداد پولیو مہم 2014 میں فعال شرکت کریں جبکہ 2 فروری 2014 سے صوبہ خیبر پختوانخوا میں پولیو کے خلاف ’’ انصاف صحت مہم‘‘ شروع کی گئی ہے جو تین ماہ تک جاری رہے گی۔ اس مہم کا آغاز پشاور میں صوبائی وزیر صحت شوکت یوسفزئی نے پولیو قطرے پلا کر کیا۔ اس مہم میں 1992 ٹیموں نے حصہ لیا۔ صوبائی وزیر صحت نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے والدین اور عوام کا شکریہ اداکیا جنہوں نے گھروں سے نکل کر بچوں کو ویکسین پلائی۔ انہوں نے کہا کہ رضا کاروں نے گھر گھر جا کر ڈینگی بخار سمیت جہاں دیگر موذی امراض کے حوالے سے لوگوں میں شعور پیدا کیا‘ آگاہی دی‘ وہاں بچوں کے امراض سے متعلق ڈیٹا بھی جمع کیا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کے اس عرصے میں ہر اتوار کو گاؤں گاؤں‘ بستی بستی 12500 پولیو کٹس تقسیم کی جایا کریں گی۔ پہلے پہل پولیو ویکسین کے متعلق پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا کہ ایک امریکی دوائی ہے جسے پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے بنایا گیا ہے لیکن بعد میں وہ دعویٰ غلط ثابت ہوا کیونکہ پاکستان کی آبادی گزشتہ برسوں میں جس تیزی سے بڑھی ہے اس سے ظاہر ہوا پولیو ویکسین میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی قسم کے بعض منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے پولیو رضا کاروں پر حملے کئے گئے۔ حکومت کو چاہیے کہ ورکرز کے لئے سکیورٹی کو یقینی بنائے۔ تخریب کار عناصر قوم کو معذور ہونے سے بچانے میں رخنہ اندازی نہ کریں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ گزشتہ 18‘ 19 ماہ کے دوران پولیو کے خاتمے کی مہم پرنکلے ہوئے 31 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جن میں 21 پولیو ورکرز اوردس پولیس اہلکار شامل ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں پولیو مہم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں بل گیٹس نے اے ایف پی کو اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی طالبان اور شمالی نائجیریا میں ایک اسلامی باغی گروہ کی جانب سے پولیو ویکسین کی مخالفت بہت زیادہ سخت ہوچکی ہے۔ یوں پاکستان اورنائجیریا حقیقی معنوں میں زوال کی طرف جارہے ہیں۔ 2013 کے اعدادو شمار کے مطابق پولیو کے عارضے میں پاکستان میں 35 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس کی بڑی وجہ پولیو ورکرز پر حملے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیو وائرس کو بعض علاقوں تک محدود کردیا گیا ہے خاص کر قبائلی علاقوں میں جہاں بچوں تک رسائی نہیں ہے کچھ عرصہ پہلے تک یہ وائرس ملک بھر میں پھیلا ہوا تھا۔ کراچی کے کچھ علاقوں میں بھی پشاور سے ملتے جلتے حالات ہیں کیونکہ وہاں بھی والدین قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں اور سکیورٹی بھی ایک مسئلہ ہے۔ امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور پولیو ٹیموں کو کام کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقریباً ڈیڑھ سال سے پولیو کے خلاف مہم نہ چلائی جاسکی جس کی وجہ سے ان علاقوں کے بچوں کی ایک بڑی تعداد پولیو میں مبتلا ہے۔ پولیو ورکرز کے خلاف مہم خیبرپختوانخوا یا اندرون سندھ ہی میں نہیں بلکہ ملک کے دیگر علاقوں سے بھی اس قسم کے جاہلانہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں مثلاً کراچی جیسے شہر جہاں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے‘ وہاں تین پولیو ورکرز کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ مانسہرہ میں بھی ایک رضا کار قتل ہوا۔ گوجرانوالہ میں ڈنڈا برداروں نے رکاوٹیں ڈالیں اور پولیو ورکرز کو ویکسین پلانے سے روکا۔ فیصل آباد میں بھی رضا کاروں پر تشدد کیا گیا۔ چارسدہ میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی کے لئے جانے والی پولیس وین کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ پولیو ٹیموں پر حملے تو گزشتہ دو سالوں سے ہوتے آئے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ پوری دنیا پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت تو پشاور کو پولیو کا گڑھ کہہ چکا ہے گزشتہ دنوں میں سندھ میں پولیو مہم کا آغاز کیا گیا تھا جس میں 76 لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھا جن میں سے 22 لاکھ بچوں کا تعلق کراچی سے تھا۔ صرف کراچی میں ساڑھے چھے ہزار ٹیمیں شریک تھیں۔ ہر ٹیم دو افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ کراچی میں تین ورکرز کی ہلاکت کے بعد آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن سندھ کی چیئرپرسن خیرالنساء نے پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے۔ حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی فراہمی تک وہ لوگ مہم چلانے سے قاصر ہیں۔

یہ تحریر 112مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP