قومی و بین الاقوامی ایشوز

پناہ گزینوں کی دستک، اور عالمی ضمیر

جنگیں اپنی قیمت ہمیشہ انسانی زندگیوں کی صورت میں وصول کرتی ہیں۔ کہیں تو یہ زندگی تورا بورا کی پہاڑیوں کے نوکیلے پتھروں کے نیچے دفن ہوتی ہے، تو کہیں بغداد،تکریت اور موصل میں گولہ بارود کی بھینٹ چڑھتی ہے۔ یہی زندگی کبھی فاسفورس بموں کا نشانہ بنتی ہے، تو کبھی کیمیائی ہتھیاروں کا۔ یہ زندگی ہی ہے جو کبھی لہو رنگ دجلہ و فرات میں بہتی ہے، تو کبھی بحیرہ روم کے ساحلوں پر ایلان کُردی اور اس جیسے سیکڑوں بچوں کی صورت میں بکھری دکھائی دیتی ہے۔ سامراجی طاقتوں کے سیاسی، جغرافیائی، تزویراتی اور مادی وسائل کی جمع تفریق کے اعدادوشمار سے بالاتر نائن الیون کے بعد مسلط کردہ جنگوں نے لاکھوں جانوں کا خراج وصول کیا ہے۔

 

کروڑوں انسان ان جنگوں سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ لاکھوں دیار غیر میں شرمند ہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں پرامن فضا کی تلاش میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ سیکڑوں محض ایک لقمۂ خوراک کی آس میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک سے زندگی ہار چکے ہیں۔ کروڑوں انسانوں کی محرومیوں کا بوجھ شاید عالمی ضمیر اٹھانے کی تاب نہیں رکھتا تھا، جبھی تو مفادات کی اتھاہ گہرائیوں میں خو دکو دفن کرچکا ہے۔ جو اگر زندہ ہوتا تو ایلان کُردی کے بعد ساحلوں پر بچوں کی لاشوں کے ملنے کا سلسلہ تھم چکا ہوتا ، مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ایلان کُردی ایک علامت ہے، ان لاکھوں افراد کی جواپنی زندگی کی ڈور سلامت رکھنے کے لئے عراق، شام ، اردن، لیبیا سے یورپ کی جانب انتہائی غیر محفوظ سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

 

سمندر کنارے مردہ ایلان کی اس تصویر کو پوری دنیا نے دیکھا جس پر تحریر تھا کہ انسانیت ساحل پر بہہ کے آگئی ہے۔ یہ بچہ اس ربڑ کی کشتی پر سوار تھا جو ترکی سے یونان جانے کی غیر قانونی کوشش میں راستے میں ڈوب گئی تھی اور ایلان اپنی والدہ اور 5 سالہ بھائی سمیت سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ کچھ افراد جن میں ایلان کے والد عبداللہ کُردی بھی شامل تھے، اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔ عبداللہ کے بقول انہوں نے اپنی بیوی بچوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن سمندری لہروں کے سامنے وہ بے بس ہوکر رہ گئے۔ بدقسمت خاندان نے موت کے سفر سے قبل کینیڈا میں سیاسی پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی، جبکہ کینیڈا میں مقیم عبداللہ کی بہن نے بھی خاندان کو سپانسر کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن کینیڈین حکومت نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ایلان کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد کینیڈا نے عبداللہ کو شہریت کی پیش کش کی، تاہم عبداللہ نے یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ میرے پاس اب بچا ہی کیا ہے۔

 

ذرائع ابلاغ نے ایلان کی موت کے بعد بڑی طاقتوں کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک نے بحیرہ روم کو پناہ گزینوں کا قبرستان بنا دیا ہے۔ایلان کی درد ناک موت کے بعد غیر ملکی میڈیا اور عالمی دباؤ کے نتیجے میں یورپی یونین نے پناہ گزینوں کے لئے اپنی پابندیوں میں نرمی اختیار کی، جس کے بعد جرمنی، فرانس، آسٹریا اور برطانیہ نے پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر رضا مندی ظاہر کی، تاہم ایلان کی موت کے محض دو ہفتے بعد ہی اسی ساحل پرمزید 80 بچوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ قبل ازیں ولید اور احمد نامی دوبھائیوں نے جب شام سے رخت سفر باندھا تو ہنگری کی سرحد پر پہنچنے تک ایک بھائی کی لاش درختوں پر لٹک رہی تھی ، جبکہ دوسرابھائی راستے کی صعوبتیں برداشت کرتے کرتے اتنا نڈھال ہوچکا تھا کہ ہنگری پہنچنے کے محض دو دن بعد ہی دم توڑ گیا۔ بحیرہ روم میں ڈوبنے والے یا یورپ کی راہوں میں مرنے والے گمنام مسافر وں کی داستانیں قدم قدم پر بکھری پڑی ہیں۔ انہیں خوش قسمت کہیں یا بدقسمت ، کیونکہ یہ یورپی راہوں میں نہ مارے جاتے تو شام یا عراق میں داعش کے ظلم کی بھینٹ ضرور چڑھ جاتے ۔انسانی آبادی کا جو سیلاب آج یورپی دروازوں پر دستک دے رہا ہے، اس کے کیا محرکا ت ہیں؟ کیا ان افراد کو یہ معلوم نہیں کہ راستے میں قدم قدم پر موت کے مہیب سائے ان پر منڈلاتے ہیں۔ یقیناًیہ مسافر ان خطرنا ک حقائق سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ یورپ میں زندہ سلامت داخل ہونا نصیب کی بات ہے، جبکہ راستے کی مشکلات اٹل ہیں۔ تاہم ان کی اپنی سرزمین یعنی شام، عراق، لیبیا اور اردن میں آگ و خون کا جو وحشت ناک کھیل جاری ہے، وہ انہیں نقل مکانی یاہجرت جیسے انتہائی اقدام پر مجبور کرتا ہے۔

 

آج یورپی ممالک پناہ کے متلاشی افراد کے سیلاب کی وجہ سے پریشان ہیں، اسے اپنی معیشت، زمین اور وسائل پر اضافی بوجھ سمجھ رہے ہیں۔ کاش کہ کبھی وہ ممالک ان شہریوں کی مشکلات کا بھی اندازہ کرپائیں جن پر جنگیں مسلط کی گئی ہیں۔ یورپی ممالک صرف دھوئیں سے پریشان ہیں، جو جلتے ہوئے عراق، شام، لیبیا، مصراور اردن سے اٹھ رہا ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ ان جلتے ہوئے ممالک کی آگ بجھانے سے زیادہ خود کو دھوئیں سے محفوظ رکھنے کے لئے فکر مند ہیں۔ مہاجرین کو پناہ دینے والے ممالک کی فہرست پر نظر دوڑائیں توافغان مہاجرین کا سب سے زیادہ بوجھ پاکستان اورایران نے کھلے دل سے قبول کیا اور پاکستان ابھی تک یہ بوجھ سہہ رہا ہے۔ شامی پناہ گزینوں کا بڑا حصہ ترکی و لبنان میں موجود ہے۔ ایران، پاکستان، ترکی، لبنان پناہ گزینوں کو جگہ دینے میں سرفہرست ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے مرتب کردہ اس فہرست کے پہلے دس ممالک میں کوئی ایک بھی یورپی یا

مغربی ملک نہیں ہے۔ دوسری جانب جس سرزمین سے انسانی آبادی کے بڑے حصے نے نقل مکانی یا ہجرت کی، ان ممالک کے عدم استحکام میں مغربی قوتوں کا کلیدی کردار ہے۔

 

افغانستان، عراق، شام، لیبیا،مصر، اردن،فلسطین مثال ہیں۔ نائن الیون سے پہلے امریکہ نے روس کے خلاف جن افراد کو ہتھیار دے کر اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا، نائن الیون کے بعد انہیں ہی دشمن قراردے کرانہی پر جنگ مسلط کردی۔ جس میں مغربی و یورپی ممالک نے اپنا حصہ شامل کیا۔ پاکستان نے روس کے خلاف جس امریکہ کا ساتھ دیا،وہی امریکہ آج پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے بھارت کا سیاسی اور جگری دوست ہے۔کیا امریکہ پاکستان کے وزیراعظم کے دورے کے دوران بھارت کے خلاف دہشت گردی کے ثبوت حاصل کرکے اس خطے کے امن کے لئے کوئی کردار ادا کرنے پر رضامند ہوگا؟ صدام حسین جو امریکہ کا ہی پروردہ تھا،اور اسی کے ذریعے ایران پر دس سالہ جنگ مسلط کی گئی۔ اسی صدام حسین پرلامتناہی تباہی پھیلانے والے ایٹمی و کیمیائی ہتھیاروں کا الزام عائد کرکے عراق پر خوفناک جنگ مسلط کردی گئی، دونوں ممالک میں لاکھوں افراد ان مسلط کردہ جنگوں میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے۔ القاعدہ جس پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس کو امریکی اداروں کی مدد حاصل تھی، اسے ختم کرنے کاعزم امریکہ اور اس کے دوست ممالک نے ظاہر کیا، تاہم اسی دوران القاعدہ کی ہی طرز پر ایک نیا دہشت گرد گروہ متعارف ہوا ،جسے داعش کا نام دیا گیا۔

 

داعش نے عراق، شام سمیت ان تمام اسلامی ممالک کو نشانہ بنایا، جن کی سرحدیں شام یا عراق سے جڑی ہوئی تھیں۔ تاہم داعش نے اس پورے قضیئے میں کہیں بھی اسرائیل یا اسرائیلی مفادات کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ ایسی رپورٹس منظر عام پر آئیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش کے ذریعے عراق اور شام کے تیل کا سب سے بڑا خریدار اسرائیل ہی ہے۔ لیبیامیں معمر قذافی، مصرمیں حسنی مبارک کے بعدامریکہ اور اس کے دوست ممالک کی جانب سے دو طاقتوں کی حوصلہ افزائی کی گئی، ایک آمریت اور دوسری غیر ریاستی عناصر۔ شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے لئے غیر ریاستی عناصر کو ہر طرح کے وسائل سے نوازا گیا، تاہم اس کی حکومت کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا۔ شام میں خانہ جنگی کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا گیا۔

 

خطے کے ان تمام ممالک میں بدامنی، دہشت گردی اور عدم استحکام کا جن جب بے قابو ہوگیا تو سامراجی قوتوں نے پھر یہاں سے دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کا نعرہ بلند کیا ، اور وہی جنگی پالیسی اپنائی۔ داعش کے خلاف امریکہ اور مغرب کے اتحاد کو کتنی کامیابی حاصل ہوئی ، اس کا ہلکا سا عکس گزشتہ دنوں امریکی صدر باراک اوبامہ کے اس بیان سے اخذ کیا جاسکتا ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ تنہا داعش سے نہیں نمٹ سکتا۔ اس سے قبل 17ستمبر کو امریکی سینٹ کمیٹی کے سامنے عراق و شام میں فوجی مہم کے سربراہ جنرل آسٹن نے یہ بیان دیا کہ ہم نے کانگریس سے منظور شدہ 500ملین ڈالر کے بجٹ سے جن 5400عسکریت پسندوں کی ٹریننگ کرنی تھی، وہ منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔ کمیٹی کے استفسار پر جنرل آسٹن نے بتایا کہ بشارالاسد کی فوجوں کے خلاف لڑنے والے عسکریت پسندوں کی تعداد بہت محدود ہے۔ اس کے علاوہ انہی دنوں عالمی میڈیا نے یہ خبر بھی جاری کی کہ امریکہ نے جن لوگوں کو بشار حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے اسلحہ فراہم کیا تھا‘ ان تمام افراد نے اپنا اسلحہ النصرہ فرنٹ نامی گروہ کو دے دیا ہے، یعنی باالفاظ دیگر جن افراد کو امریکہ نے 52ارب پاکستانی روپے خرچ کرکے شام کی حکومت کے خلاف لڑنے کی تربیت فراہم کی ، وہ افراد بھی داعش سے جاملے اور جن گروہوں کو امریکہ نے اسلحہ فراہم کیا، انہوں نے وہ اسلحہ بھی داعش یا اس سے ملتے جلتے گروہ کے حوالے کردیا۔ یہ امربہرحال قابل غور ہے کہ اقوام متحدہ کا قانون کسی بھی ملک میں حکومت کے خلاف کسی گروہ کو مسلح کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اس سے قبل ماضی میں جب امریکی جہاز فضا سے جنگ زدہ علاقوں میں اسلحہ گرا رہے تھے ، اور میڈیا میں یہ کہا جارہا تھا کہ یہ اسلحہ شام کے لوگوں کو اس لئے دیا جارہا ہے ، تاکہ وہ داعش سے مقابلہ کرسکیں ، اس وقت عالمی میڈیا نے یہ بھانڈا بھی پھوڑ دیا کہ امریکی جہازوں نے جتنا بھی اسلحہ گرایا ہے‘ وہ داعش کے زیرِقبضہ علاقوں میں گرایا ہے۔ جب یہ سوال امریکی ایوان میں اٹھا تو اس کے جواب میں اتنا ہی کہا گیا کہ پائلٹس نے غلطی سے یہ اسلحہ داعش کے علاقوں میں گرادیا ہے۔

 

مندرجہ بالا ان چند نکات سے اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ آج شام و عراق میں اگر دہشت گرد گروہ داعش وحشت و دہشت کا بازار اگر گرم کئے ہوئے ہے تو امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مدد انہیں حاصل ہے اور اسی داعش کے ظالمانہ رویے سے عاجز شہری نقل مکانی پر مجبورہیں۔ اگر صرف شام سے ہجرت کرنے والوں کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو کل آباد ی کا نصف حصہ اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ، جبکہ چالیس لاکھ سے زائد افراد شام سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر ترکی، لبنان، اردن ، عراق اور مصر میں ہیں اور انہی کا کچھ حصہ اب یورپی دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔ جس سے بچنے کے لئے یورپی یونین کے بڑے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں۔ا گرچہ جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکل نے جرمنی کے دروازے پناہ گزینوں کے لئے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم جرمنی تک شامی پناہ گزینوں کی رسائی آسان نہیں ہے، بلکہ درمیان میں کئی ممالک حائل ہیں۔پناہ گزین خطرنا ک سمندری راستہ عبور کرکے پہلے یونان، پھر یونان سے سربیا، سربیا سے آسٹریا اور پھر آسٹریا سے جرمنی میں داخل ہوسکتے ہیں۔

 

دوسری صور ت میں پناہ گزیں یونان سے کروشیا، کروشیا سے اٹلی، اٹلی سے آسٹریا اور پھر آسٹریا سے جرمنی تک پہنچ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی آسان سفر نہیں ہے۔ پناہ گزینوں کی راستوں میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار اکٹھے کرنے والے ادارے کے مطابق صرف ایک سال میں دس ہزار افراد بحیرہ روم کے پانیوں میں زندگیا ں گنوا چکے ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا پناہ گزینوں کی مٹھی بھر تعداد کو اپنی سرزمین پر جگہ دینے سے مسائل حل ہوجائیں گے۔تو اس کا جواب نفی میں ہے ۔جب تک سامراجی طاقتوں کے مفادات کی تابع جنگی پالیسیاں خطے میں کارفرما رہیں گی ، اس وقت تک مختلف علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی یا ہجرت کا سلسلہ جاری رہے گا، جس کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ انسانی بنیادوں پر بحالئ امن کو ترجیح دے کر نان سٹیٹ ایکٹرز کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ان مفادات کے حصول کی جانب قدم بڑھانے سے اجتناب کیا جائے جن کی قیمت کروڑوں انسانوں کو اپنی جان، مال یا سرزمین کی صورت میں چکانی پڑے۔جیسا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے داعش کے خاتمے کو ہی اپنی ترجیح بتایا ہے تو پھر یہ روس کی داعش کے خلاف کارروائیوں پر مغربی ممالک کا شور کا کیا مقصد ہے۔ امریکہ سمیت دیگر مغربی اداروں نے جو رپورٹس مرتب کی ہیں ، ان کے مطابق داعش کے دہشت گردوں کی تعداد محض چالیس سے پچاس ہزار کے درمیان ہے۔ تو ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب عراق، افغانستان، شام کی سرکاری افواج کے مقابلے میں لاکھوں کی تعداد میں امریکی ومغربی افواج متحرک ہوسکتی ہیں ،تو قیام امن کے لئے داعش کے محض چالیس ہزار دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کیوں نہیں ہو سکتی۔ پھر جب امریکہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اگلے بیس سال تک داعش کا خاتمہ ممکن نہیں تو اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے بیس سال تک امریکہ کو داعش کے خاتمے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

 

اب جبکہ روس نے داعش کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا ہے اور کئی علاقوں سے عملاً داعش کی عملداری کا خاتمہ کردیا ہے تو اس پر سب سے زیادہ تنقید مغرب اور امریکہ کی جانب سے کی جارہی ہے۔کچھ انتہا پسند روس کے جہازوں کو میزائل سے گرانے کے مشورے دے رہے ہیں، جس سے پوری دنیا تیسری عالمگیر جنگ کا شکار ہو سکتی ہے، کیونکہ روس ،یوکرائن کے معاملے میں بہت کچھ برداشت کرنے کے بعد اب پرعزم دکھائی دیتا ہے۔ یورپ کے دروازوں پر موجود پناہ گزین صرف ایک علامت ہیں، جبکہ شام اور اس کے ملحقہ اسلامی ممالک کے حالات کہیں زیادہ دگرگوں ہیں۔ اگر چالیس لاکھ افراد فقط شام سے نقل مکانی کررہے ہیں، جبکہ نصف آبادی شام کے اندر ہی بے گھر ہو چکی ہے اور شام میں پچھلے چارسال سے خانہ جنگی شروع ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ صرف ایک ملک میں لاکھوں افراد تعلیم سمیت دیگر ضرویات و سہولیات سے یکسر محروم ہیں۔ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو آئندہ چند برسوں میں دنیا کی آباد ی میں کتنے ناخواندہ، بیمار، اپاہج، مفلوج افراد کا اضافہ ہوجائے گا یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے کہ سامراجی و طاغوتی قوتیں دنیا کے مستقبل کا جو نقشہ ترتیب دے رہی ہیں ، اس میں تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ۔ شامی مہاجرین کے کیمپوں میں 75فیصد تعداد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ پچھلے چارسال میں مہاجرین کے کیمپوں کے اندر 21لاکھ بچوں نے جنم لیا ہے ۔ امریکہ اگر 52ارب روپے شام میں حکومت کے خلاف دہشت گردوں کی ٹریننگ پر صرف کرنے کے بجائے بحالی یا قیام امن پر خرچ کرتا تو شائد حالات کچھ مختلف ہوتے۔ اگر امریکہ اور اہل مغرب داعش کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہیں تو وہ روس کے ساتھ شراکت کیوں نہیں کرلیتے، جیسے کہ انہوں نے ہٹلر کے نازی ازم کے خلاف جنگ عظیم میں کی تھی۔

[email protected]

یورپی ممالک صرف دھوئیں سے پریشان ہیں، جو جلتے ہوئے عراق، شام، لیبیا، مصراور اردن سے اٹھ رہا ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ ان جلتے ہوئے ممالک کی آگ بجھانے سے زیادہ خود کو دھوئیں سے محفوظ رکھنے کے لئے فکر مند ہیں۔ مہاجرین کو پناہ دینے والے ممالک کی فہرست پر نظر دوڑائیں توافغان مہاجرین کا سب سے زیادہ بوجھ پاکستان اورایران نے کھلے دل سے قبول کیا اور پاکستان ابھی تک یہ بوجھ سہہ رہا ہے۔

*****

پاکستان نے روس کے خلاف جس امریکہ کا ساتھ دیا،وہی امریکہ آج پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے بھارت کا سیاسی اور جگری دوست ہے۔کیا امریکہ پاکستان کے وزیراعظم کے دورے کے دوران بھارت کے خلاف دہشت گردی کے ثبوت حاصل کرکے اس خطے کے امن کے لئے کوئی کردار ادا کرنے پر رضامند ہوگا؟

*****

یہ تحریر 50مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP