قومی و بین الاقوامی ایشوز

پشتون قبائل کو ایک بار پھر ڈھونڈنے اور سمجھنے کی ضرورت

سات قبائلی ایجنسیوں میں رہائش پذیر تقریباً نصف کروڑ قبائلی عوام اور بندوبستی علاقوں میں مقیم ڈھائی سے تین کروڑ عوام پاکستانی پشتون اپنی جغرافیائی اہمیت‘ قبائلی معاشرت اور ’’مارشل ریس‘‘ کے پس منظر کے باعث آج بھی دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ برصغیر کی آزادی‘ قیام پاکستان کی جدوجہد اور تعمیر پاکستان کی کوششوں میں بلامبالغہ ان کا بہت بڑا اور نمایاں کردار رہا ہے۔ اگر عالمی طاقتوں کے مفادات اور سرد جنگ کے اثرات نے اس قومیت کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہوتا اور ملک کے اندر یہ قوم سیاسی اور اقتصادی امتیاز کا شکار نہ ہو جاتی تو آج نہ صرف اِس کی اپنی حالت بلکہ پاکستان اور خطے کی مجموعی صورت حال بھی یکسر مختلف اور نسبتاً بہت بہتر ہوتی ۔ بدقسمتی سے پشتون قبائل کے امیج اور شناخت کو خطے میں موجود طالبانائزیشن کے باعث ایک منفی تاثر اور پروپیگنڈے کا سامنا ہے۔ حالانکہ ان کا ماضی دوسری مہذب قومیتوں کی طرح کافی مثبت اور شاندار رہا ہے۔ لگ یہ رہا ہے کہ اب نئے حقائق ڈھونڈنے اور ماننے پڑیں گے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد ان کی حالت اور ان کے حالات زندگی میں بہتری نہیں آئی اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ پشتون بیلٹ خصوصاً فاٹا‘ عسکریت پسندی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ اس تاثر کو کلی طور پر رد نہیں کیا جا سکتا تاہم اس حقیقت کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ قبائل کی پسماندگی اور طرز معاشرت میں ریاستی کوتاہیوں اور عالمی اثرات کے علاوہ قبائلی عوام کے اپنے مخصوص طرز عمل کا بھی بنیادی ہاتھ رہا ہے۔ صدیوں سے جس طرز معاشرت میں وہ زندگی بسر کرتے چلے آئے ہیں‘ وہ ان کی نفسیات کا حصہ ہے اور وہ چاہتے ہوئے بھی اس سے باہر نہیں نکل پا رہے۔ ایک تاثر یہ ہے کہ برٹش انڈیا اور افغانستان کے درمیان معاہدہ گندمک اور معاہدہ ڈیورنڈ رلائن کے فیصلوں یا ایسے دیگر واقعات نے ان کو معاشرتی‘ معاشی اور نفسیاتی طور پر تقسیم کر کے رکھ دیا ور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پاکستان کی مین سٹریم پالیٹکس میں آنے سے کتراتے رہے اور اس طرح یہ زندگی اور جدید سیاست کی دوڑ میں دوسروں سے پیچھے رہ گئے۔ (یا یہ کہ ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا) قیام پاکستان کے دوران 90فیصد قبائلی عمائدین اور عوام پاکستان کی تحریک کا حصہ بنے رہے اور انہوں نے کسی دوسرے آپشن پر سرے سے غور ہی نہیں کیا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو فاٹا کی جغرافیائی اہمیت اور قبائلی عوام کے مزاج کا پورا ادراک تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے تحریک پاکستان کے دوران بے شمار قبائلی جرگوں میں بذات خود شرکت کی اور قبائل کی رائے ‘ تجاویز اور کردار کو غیر معمولی اہمیت دی۔ ان رابطوں کے دوران بانئ پاکستان نے یہی روش اپنائی کہ قبائلی عوام کو نئے ملک کے اندر ان کی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے۔ ان کی کوشش رہی کہ ایسا کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے جس سے قبائل کا روائتی معاشرتی ڈھانچہ متاثر ہو۔ یہی طرز عمل تھا جس کے باعث قبائل نے بعض دوسرے حلقوں کے برعکس کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا اور یہ لوگ کسی لالچ کے بغیر لمبے عرصے تک نہ صرف یہ کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہے بلکہ1948سے لے کر 1971 تک کی پاک بھارت جنگوں کے دوران بھی یہ پاکستانی ریاست کے ساتھ مل کر لڑتے رہے۔ تاہم بعض عناصر کے باعث آج یہ خود حالت جنگ میں ہیں۔ انہوں نے پاک افغان سرحد کو محفوظ بنائے رکھا اور پاکستان کی مجموعی ترقی میں بھی ان کا بہت نمایاں کردار رہا تاہم افغان جنگ کے بعد ان کا نسبتاً محفوظ معاشرتی ڈھانچہ متاثر ہونے لگا جبکہ رہی سہی کسر 1996کے افغانستان میں طالبان کے ظہور اور 2001کے امریکہ پر ہونے والے حملے جیسے واقعات اور تبدیلیوں نے پوری کر دی۔ 1996سے قبل فاٹا تمام تر انتظامی نقائص کے باوجود کافی پرامن تھا۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ سال 1989کے دوران کرائے گئے ایک سروے کے دوران پورے فاٹا میں جرائم کے جتنے واقعات ہوئے تھے وہ تعداد کے لحاظ سے صرف پشاور کے تھانہ چمکنی کے واقعات سے کم تھے۔ کچھ سال قبل تک فاٹا میں ہمارے بندوبستی علاقوں کے برعکس دیگر جرائم تو ایک طرف‘ کھلے عام ہوائی فائرنگ پر بھی پابندی تھی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو جرگے کے ذریعے باقاعدہ سزائیں دی جاتی تھیں تاہم افغانستان میں طالبان کے ظہور نے صورت حال کو چند ہی برسوں کے اندر یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا اور آج بدقسمتی سے پشتونوں‘ بالخصوص فاٹا کے عوام‘ کا نام دہشت گردوں یا ان کے ہمدردوں کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ حالانکہ ان کو یرغمال بنایا گیا اور وہ بے بس رہے۔ ان کی اسلام پسندی اور حب الوطنی بعض قوتوں کی پالیسیوں کے باعث ایک طعنے اور الزام کی شکل اختیار کر گئی ہیں اور ان کا اپنا چہرہ اور تعارف اس تمام گیم میں یا تو نظر نہیں آ رہا یا بوجوہ بہت مشکوک ہو کر رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار پھر ان کو ڈھونڈنے اور پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ قبائلی عوام کے اپنے پڑوسی ملکوں اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کار کس نوعیت کے رہے ہیں۔ حقائق معلوم کئے بغیر اور غلطیوں کی نشاندہی کے بغیر شائد حالات اور اس کے پس منظر کی صحیح تصویر اور اجتماعی خاکہ نظر نہ آ سکے۔ پشتون قبائل مزاج کے لحاظ سے بہت جمہوریت پسند واقع ہوئے ہیں۔ پاکستان کا حصہ بنے رہنے کا فیصلہ بھی کسی مخصوص گروہ یا افراد کا نہیں تھا بلکہ یہ جرگوں کے ذریعے کرائے گئے فیصلے کا نتیجہ تھا۔ چند برس قبل تک یہ جرگہ سسٹم بعض بنیادی نقائص کے باوجود نہ صرف بہت فعال تھا بلکہ موثر ترین اور قابل عمل پلیٹ فارم بھی تھا۔ (یہ الگ بات ہے کہ 2004کے بعد عسکریت پسندوں نے 2000سے زائد جرگہ عمائدین کو شہید کر کے یہ ڈھانچہ زمین بوس کر دیا۔) مذہبی رواداری کا یہ عالم تھا کہ آزادی کے دوران پشاور کے بعد فاٹا ہی وہ علاقہ تھا جہاں کبھی بھی ہندوؤں یا سکھوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ حالانکہ فاٹا کی تمام ایجنسیوں میںیہ لوگ بہت بڑی تعداد میں صدیوں سے رہائش پذیر ہیں۔ حالت یہ رہی کہ وزیرستان جیسی ایجنسی میں بھی ایک تاریخی مندر اور ایک چرچ اب بھی نہ صرف محفوظ حالت میں ہیں بلکہ طالبان کے دور میں بھی ان عبادت گاہوں کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عام قبائلی‘ مذہبی فرق کے باوجود‘ اقلیتوں کی انتہائی قدر کرتے تھے اور وہ اُن کے محافظ بنے ہوئے تھے۔ اس وقت بھی خیبر ایجنسی کے باڑہ اور جمرود تحصیل میں ہندوؤں اور سکھوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ بلکہ وہ دوسروں کے برعکس محفوظ بھی ہیں اور سیکڑوں لوگ اپنا کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ رہی بات ان کے رویوں کی تو ان میں بلا کی نفسیاتی لچک اور رواداری کا جذبہ موجود ہے۔ فاٹا کے اندر ان کے قوانین یا تو بہت ظالمانہ اور پسماندہ ہیں یا وہ دور جدید کے تقاضوں سے بالکل ہم آہنگ نہیں تاہم ان کا کمال دیکھئے کہ یہ بندوبستی علاقوں اور دیگر ممالک میں خود کو انتہائی آسانی کے ساتھ ایڈجسٹ کر لیتے ہیں اور قوانین کے فرق کے باوجود ان کو کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بہت لچک موجود ہے اور اگر ان کے لئے مؤثر اور مناسب قوانین بنائے جائیں تو ان پر عمل درآمد کروانا ریاست کے لئے زیادہ مشکل ثابت نہیں ہو گا۔ فاٹا کے عوام کی جمہوریت پسندی کا یہ عالم ہے کہ سال 1997کے دوران جب ان کو پہلی بار بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا تو ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ کسی شہر کی بجائے باجوڑ ایجنسی کے ایک حلقے میں سامنے آیا جبکہ ایک ایک حلقے پر سب سے زیادہ امیدوار بھی فاٹا کے حلقوں سے کھڑے ہوئے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ فاٹا اور پورے پشتون بیلٹ کے تعلیم یافتہ لوگ بہت بڑی تعداد میں پاکستان کے ریاستی اداروں کا حصہ رہے ہیں اور یہاں بھی انہوں نے شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ پنجاب اگر بیوروکریسی میں سب سے زیادہ حصہ وصول کرتا آیا ہے تو اس کی آبادی باقی تین صوبوں سے زائد ہے تاہم فاٹا اور پختونخوا کا حصہ پنجاب کے بعد دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ اس لئے اس کو بجا طور پر ایک بڑا سٹیک ہولڈرکہا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ تاثر شاید زیادہ درست نہیں ہے کہ پاکستان میں ان کے ساتھ کوئی بڑی زیادتی کی جاتی رہی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ بدلتے حالات کے تناظر میں مین سٹریم پالیٹکس اور لائف میں ان کو مزید شامل کرنے کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ان حلقوں کی بھی کوئی کمی نہیں جن کا کہنا ہے کہ ہمارے قائدین نے فاٹا کی اجتماعی تعمیر اور ترقی پر سنجیدہ توجہ کبھی نہیں دی۔ ان کو قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا رہا کہ وہ پاکستان کے اندر تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ حالانکہ یہ سیاسی قائدین اور منتخب حکمرانوں ہی کا کام تھا‘ یا ہے‘ کہ وہ ایسے جنگ زدہ علاقوں کے لئے مؤثر قانون سازی کریں اور ان اسباب کے خاتمے کے لئے امکانات ڈھونڈیں جن کے باعث ایسے اہم جغرافیائی علاقے بوجوہ ان عناصر کے ہاتھو ں میں چلے جاتے ہیں جو ریاستی اور معاشرتی رِٹ اور اہمیت کو نہیں مانتے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فاٹا اور پورے پشتون بیلٹ کے عوام بنیادی طرز زندگی کے تناظر میں دوسروں سے مختلف نہیں۔ المیہ صرف یہ ہے کہ ان کے ساتھ وہ رویہ نہیں رکھا گیا جس کے وہ مستحق تھے یا جن کی ان کو ضرورت تھی۔ اگر ان علاقوں کو پرامن‘ ترقی پسند اور خوشحال بنانا ہے تو اس کے لئے لازمی ہے کہ ماضی کی غلطیوں کی تکرارکے بجائے ٹھوس‘ فوری اور قابل عمل اقدامات کئے جائیں۔ ماہرین اور خود قبائلی عوام اس ضمن میں جن چند ایک اقدامات کا مطالبہ کرتے آئے ہیں‘ ان کے خاص نکات یہ ہیں: سیاسی اصلاحات: فاٹا کو موجودہ جغرافیائی سٹیٹس کے اندر مزید نہیں چلایا جا سکتا۔ توڑ پھوڑ اور معاشرتی بے چینی کے بعد لازمی ہے کہ سیاسی عمل اور سرگرمیوں کو فعال بنایا جائے اور عوام کو جمہوریت پسند سیاسی قوتوں کے قریب لایا جائے تاکہ عسکریت پسندی کا غلبہ ختم ہو۔ اس ضمن میں اس بات پر قبائلی عوام اور ماہرین کی رائے کے تناظر میں غور کیا جائے کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جا سکتا ہے اس کو صوبہ پختونخوا میں شامل کیاجانا چاہئے یا اس کے لئے کوئی اور انتظامی تبدیلی لائی جا سکے۔ فاٹا کے اکثر معاملات اسلام آباد سے چلائے جا رے ہیں۔ مرکز کے اس کنٹرول کو کیسے ختم کیا جائے کہ عوام کی پہنچ اور سہولتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ اپنی سرگرمیاں تیز کریں اور سیاسی آگہی کو بڑھایا جائے۔ اقتصادی و مالی اقدامات: یہ بہت بڑا لمیہ ہے کہ فاٹا کا این ایف سی ایوارڈ میں حصہ نہیں ہے اور ان کو گلگت بلتستان سے بھی کم بجٹ ملتا آیا ہے۔ فاٹا کو مخصوص مگر انتہائی کم بجٹ پر ٹرخایا جاتا ہے اس میں سے بھی 50فیصد ایلیٹ کلاس اور بیورکریسی مستفید ہوتی ہے۔ اکثر اوقات پولیٹیکل ایجنٹ کا شمار دنیا کے کرپٹ ترین اور بااختیار بیوروکریٹس میں ہوتا ہے۔ ان کا آڈٹ اور محاسبہ ہونا چاہئے اور اس علاقے کو نہ صرف این ایف سی ایوارڈ کا حصہ بنایا جائے بلکہ اس کے لئے بلوچستان کے طرز پر خصوصی اقتصادی پیکیج کا اعلان بھی کیا جائے تاکہ معاشی ترقی کا پہیہ چل نکلے اور غیرریاستی عناصر کا ہولڈ ختم کیا جا سکے۔ کیونکہ وہ معاشی کمزوریوں کا بھی فائدہ اٹھاتے آئے ہیں۔ تعلیمی اصلاحات:فاٹا ہزاروں مربع میل پر محیط دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں پر اکیسویں صدی میں بھی کوئی یونیورسٹی موجود نہیں ہے۔ سال 2002تک پورے فاٹا میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں تھا جہاں خواتین کی سرجری کرائی جا سکتی ہو۔ اس وقت بھی یہ دنیا کے ان چند ایک پسماندہ ترین علاقوں میں شامل ہے جہاں لاکھوں بچیاں اور بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ مدارس کی بھرمار اور سکولوں کی قلت نے نئی نسل کے حال اور مستقبل کو بڑے خطرے سے دوچار کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عام شہری کی سستی اور معیاری تعلیم تک رسائی کو یقینی بنایا جائے اور صحت کے سنگین مسئلے کا بھی حل نکالا جائے۔ تعمیر نو پر توجہ: فاٹا میں اب تک اندازاً 12سے 16تک بڑے فوجی آپریشن کئے جا چکے ہیں جبکہ طالبان وغیرہ نے بھی بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی ہے۔ پہلے ہی سے پسماندہ اس علاقے کو ان اسباب کی وجہ سے بہت نقصان پہنچا ہے۔ عوام کو سہولیات تو دور کی بات‘ عام ضروریات بھی میسر نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سول اداروں کو فعال‘ شفاف اور چست بنا کر متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو پر خصوصی بجٹ کے ذریعے فوری توجہ دی جائے تاکہ عوام کے احساس محرومی اور نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔ مخصوص کوٹوں میں اضافہ: لاکھوں بچے اور بچیاں اگر ایک طرف بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم ہیں تو لاکھوں پڑھے لکھے جوان ملازمتوں اور روزگار کو بھی ترس رہے ہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر ان کو سرکاری اور نجی اداروں میں کھپایا جائے تاکہ ان سے ملک و معاشرے کی تعمیر و ترقی کا کام لیا جائے اور ان کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے۔ اس سے نئی نسل کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی اور غربت اور پسماندگی میں بھی کمی واقع ہو گی۔ اس ضمن میں کوٹہ سسٹم کی شرح بڑھائی جائے۔ امیج سازی کی ضرورت: دانشورانہ بددیانتی کے بجائے میرٹ‘ حقائق اور ہمدردی جیسے عوامل کی بنیاد پر فاٹا اور پورے خطے کے عوام کے اوپر لگائے گئے اس ’’لیبل‘‘ کو اتارنے کی کوشش کی جائے جس کے باعث ہرقبائلی کو انتہاپسند یا تشدد پسند کی نظر سے عموماً دیکھا اور پکارا جاتا ہے۔ ان کو یہ احساس دلایا جائے کہ پاکستان اور دنیا میں ان کو بھی وہ حقوق اور عزت حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل ہے۔ ان کو یہ بھی یقین دلایا جائے کہ ان کی حفاظت کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ریاست اور سوسائٹی کی نظروں میں اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دوسرے شہریوں کی ہے۔ ایسا کرنے سے ان کی عزتِ نفس بحال ہو گی۔ پوری پشتون آبادی کو بدلتے حالات اور عالمی علاقائی مفادات اور قوتوں کے عزائم کے تناظر میں یہ باور کرانا ضروری‘ مگر بہت آسان‘ ہے کہ پاکستان کے اندر ان کے سٹیٹس اور سٹیک دونوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بعض ریاستی اور سیاسی غلطیوں اور بعض قوتوں کے ہاتھوں یہ باصلاحیت لوگ خود کو غیرمحفوظ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ بعض حلقے مذہب کے نام پر‘ تو بعض قوم پرستی کے نام پر‘ ان کو یہ احساس دلانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ پاکستان کے اندر ان کے مندرجہ بالا دونوں ’’سٹیٹس‘‘ یا تو ہیں ہی نہیں اگر ہیں تو وہ انتہائی محدود ہیں‘ یہ تاثر وفاق پاکستان کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے‘ اور اس کا خاتمہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران بھی قبائل کا بھرپور دفاع کیا جائے۔ ان کا خیال رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ریاست ان کی سلامتی‘ حقوق اور مستقبل سے غافل نہیں ہے۔

یہ تحریر 130مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP