متفرقات

پرہیز میں کامیابی کا راز مضمر ہے

بیماریاں ، زلزلے ، سیلاب ، سونامیاں، آندھیاں، طوفان، جنگیں، حادثات، موسموں کی شدتیں، بدامنی ، قحط اور دوسری قدرتی آفات ہماری زندگی کا حصہ ہوتی ہیں ۔ ان مشکل گھڑیوں میں عزم راسخ ، ہمت ، حوصلے اور جرأت کے ساتھ ساتھ قابلِ عمل احتیاطی تدابیراور حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندہ قومیں ان سب پریشانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہیں اور بڑے بڑے بحرانوں پر قابو پالیتی ہیں۔
عزم راسخ ہو تو دیتی ہے صدا خود منزل
حوصلہ ہو تو کوئی راہ بھی دشوار نہیں
ان حالات میں قوموں کو اتفاق اور اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے۔حکومت، عوام اور پاک فوج کا ایک پیج پر ہونا بہت ضروری ہوتا ہے کرونا کے دوران قوم نے زندہ دلی کا ثبوت دیا اور بروقت اقدامات سے قوم کو بڑے نقصان سے بچالیا۔ طبی ماہرین کے مشورے بروئے کار لائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں دنیا کے تمام ملکوں سے کم جانی نقصان ہوا۔ قوم نے طبی ماہرین اور انتظامیہ سے بھرپور تعاون کیا۔ ملک کو افراتفری کا شکار نہیں ہونے دیا۔ تجارتی ادارے مارکیٹیں، بازار ہوٹل، شادی ہال، سینما ،تھیٹر، تعلیمی ادارے ، ٹرانسپورٹ بند کردی گئی۔ دفتر عارضی طور پر بند کردیئے گئے۔ طبی عملے کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا۔ انتظامیہ کے فیصلے بھی کارگر ثابت ہوئے پاک فوج نے بھی بہترین کارکردگی دکھائی۔ ہر مرحلے پر عوام کی مدد اور رہنمائی کی۔
 خدا کا شکر ہے پاکستان میں شرح اموات میں بہت کمی رہی۔ اﷲ کی مدد شامل حال رہی بر وقت احتیاطی تدابیر نے حالات کو مزید بگڑنے نہ دیا۔ ہر شہری نے ذمہ داری کا ثبوت دیا جو ہماری کامیابی و کامرانی کا سبب بنی۔
سُنا تھا پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ پرہیز میں کامیابی کا راز مضمر ہے۔ کرونا خطرناک اور جان لیوا مرض تھا۔ لیکن احتیاطی تدابیر نے اس کے اثرات کو شکست سے دوچار کردیا۔نتیجے میں جلد اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ قوم کو اس مرض سے جلد مکمل نجات حاصل ہو جائے گی۔ حالات معمول پر آتے ہی صحت و تندرستی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ اربوں روپے کا نقصان بھی پورا ہو جائے گا۔ ادارے نئے سرے سے اپنا کام شروع کردیں گے۔ ہر کام میں درپیش رکاوٹ دور ہو گی۔ قوم کے بچوں، نونہالوں اور طلباء کا تعلیمی نقصان بھی بطریقِ احسن پورا ہو جائے گا۔
علم و آگہی کے نئے چراغ روشن ہوں گے۔ کاروباری حلقوں کے لئے نیا پیکیج جاری ہوگا۔گزرے وقت کو بھول جائو مستقبل پر نظر رکھو! بچائو کی صورت حال کو ذہن میں رکھو!  محنت اور جفاکشی سے کام لو۔ اﷲ کی مدد طلب کرتے رہو۔ ایک دوسرے کے کام آتے رہو۔
اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
دکھی انسانیت کی مدد کرو
اپنی تووہ مثال ہو جیسے کوئی درخت 
اوروں کو سایہ بخش کر خود دھوپ میں جلے
معزز قارئین !  اس مشکل گھڑی میں میںنے بھی کچھ قابلِ عمل احتیاطی تجاویز میڈیا کو دی تھیں۔ اپنی94 سالہ زندگی میں میں بھی بڑے بڑے بحرانوں سے گزرا ہوں۔ اس موقع پر تجربات میرے پاس موجود تھے۔
تحریکِ پاکستان کا کارکن رہا، دوسری عالمی جنگ کا چشم دید گواہ ہوں۔ ہجرت 1947 کا مرحلہ آگ اور خون کا دریا عبور کرکے طے کیا۔ قائداعظم کے ساتھ مجھے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہے۔ 94 سال کی عمر میں بھی زندہ و سلامت ہوں۔ گورنمٹ سروس سے ریٹائرمنٹ لئے مجھے 35 سال گزرگئے، کامیابی سے اپنی بقایا زندگی کے دن گزار رہا ہوں۔
کرونا کے لئے چند قابلِ عمل احتیاطی تدابیر

  •     بار بار صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں
  •     صاف پانی پیا جائے
  •     بازاری کھانوں سے پرہیز کریں
  •     ڈاکٹری نسخے کے بغیر کوئی دوائی استعمال نہ کی جائے
  •     غیر ضروری سوچنے سے پرہیز کیا جائے
  •     زیادہ وقت گھر پر گزارا جائے
  •     آنے والے مہمانوں سے مصافحہ نہ کریں
  •     بچوں کو پارکوں میں نہ جانے دیا جائے        
  •     ماسک ضرور ی استعمال کیا جائے
  •    بچوں کو علیحدہ علیحدہ بستروں میں سلایاجائے
  •     چھینک آنے پر رومال سے منہ ڈھانپ لیا جائے
  •    طبی عملہ سے مکمل تعاون کیاجائے
  •     مریض کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا جائے
  •    انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کیا جائے
  •     گھروں کے فرش پر پانی جمع نہ ہونے دیا جائے
  •     صاف ستھرا لباس پہناجائے
  •     عوامی اجتماعات میں جانے سے پرہیز کیاجائے
  •     بازاروں ، سڑکوںمیں بار بار نہ جائیں
  •    تازہ سبزیاں استعمال کریں
  •     پرہیز علاج سے بہتر ہے
  •    ہمت اور حوصلے کا دامن نہ چھوڑا جائے

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP