قومی و بین الاقوامی ایشوز

پرچم کے رکھوالے

یہ تیرا پاکستان ہے‘ یہ میرا پاکستان ہے‘ یہ سب کا پاکستان ہے۔ رنگ بکھر رہے ہیں‘ خوشبوئیں پھیل رہی ہے۔ بابِ آزادی سے روشنی پھوٹ رہی ہے۔ یہ واہگہ ہے۔ ایک طرف وہ ملک ہے جہاں سے ہم اپنے آباء و اجداد کے بستے گھر اور اجڑی قبریں چھوڑنے پر مجبور کردیئے گئے تھے۔ جہاں ہم پر زندگی تنگ کردی گئی تھی۔ ایک طرف وہ سرسبز زمین جس نے ہمیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ پناہ دی‘ نام دیا‘ اور وہ جو پہلے سے یہاں رہتے تھے‘ انہیں اس سے عزت ملی‘ وقار ملا‘ نئی شناخت پائی‘ رنگ رنگ لباسوں میں بچے ہنستے بولتے چلے آرہے ہیں۔ گیلری کی سیڑھیاں آباد ہورہی ہیں۔ دُور دراز سے آئی ہوئی بہنیں‘ مائیں‘ سہاگنیں‘ تمتماتے چہروں کے ساتھ اس گیٹ کو تک رہی ہیں جہاں سے پاکستان کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ گہری سوچوں سے تھکی آنکھیں لئے بزرگ پاکستانی دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھ کر گیلری میں پہنچ رہے ہیں۔ جاگ رہا ہے پاکستان اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ادھر سامنے بھی واہگہ کے اُس پار اُس ملک کے شہری بھی بڑی تعداد میں جمع ہورہے ہیں۔ وہ اسٹیڈیم میں پہنچنے کے لئے پاکستان کی سرحد کے بالکل ساتھ سے گزرتے ہیں۔ اُس طرف نظریں اٹھتی ہیں۔ ہاتھ ہلاتے ہیں دونوں طرف لاؤڈ اسپیکروں سے اپنے اپنے نغمے ہوا کے دوش پر بکھر رہے ہیں۔ ایک ملی نغمہ پورا ہوتا ہے تو بچے عورتیں مرد سب مل کر نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہیں۔ اللہ اکبر کی گونج سنائی دیتی ہے۔ پاکستان زندہ باد کی صدائیں سرحد پار کرجاتی ہیں۔ بابِ آزادی پر بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر یاد دلارہی ہے کہ ایک متوازن‘ متحمل‘ بردبار قیادت میں ایک نئے وطن کا حصول کتنی قربانیوں اور جدوجہد سے ممکن ہوا ۔ سبز ہلالی پرچم اُدھر سے آنے والی ہواؤں کی مزاحمت کررہا ہے۔ نیچے سڑک کے دونوں طرف قد مچے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں غیر ملکی مہمان بھی ہیں۔ ہم وطن بھی ہیں۔ پرچم اتارنے کی تقریب شروع ہورہی ہے۔ 14اگست 1947ء سے جس کا آغاز ہوا تھا اور ہر شام جب سورج ڈوبتا ہے تویہ پرچم بہت وقار اور عزت کے ساتھ ایک باقاعدہ تقریب میں اتارا جاتا ہے جس کا ایک ایک لمحہ ایمان پرور‘ ایک ایک منظر روح افزاء ہے‘میں اپنے آپ کو ملامت بھی کررہا ہوں۔ حیران بھی ہوں کہ میں یہاں پہلے کیوں نہیں آسکا۔ میں جو پاکستانیت کے درد میں ادھر اُدھر تڑپتا رہا ہوں۔ مملکت اور شہری کے ایک سے دوسرے عہد کی تجدید کے راستے تلاش کرتا رہا ہوں‘ اس مقام پر کیوں نہیں آیا۔ مملکت سے وابستگی کا یہی احساس تو یہاں ملتا ہے۔ سبزپرچم سے وفا تو یہاں پختہ ہوتی ہے۔ تلاوت کلام پاک‘ احترام‘ خاموشی‘ دور تک ہریالی‘ کھیت‘ پیڑ‘ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی حدود کے اندر کیا کچھ نہیں دیا۔ سونا اُگلتی زمینیں‘ میدان‘ کھیت‘ گندم‘کپاس‘ چاول۔ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ آیات ربانی اس فضا میں کچھ اور ہی طرح دل میں اتررہی ہیں۔ آزادی کی نعمت کی قدر یہاں محسوس ہورہی ہے۔ یہ سرحد ایک طرف کشمیر کی جنت تک جارہی ہے‘ دوسری طرف کراچی تک۔ ہماری سرحدیں چین سے بھی ملتی ہے۔ ایک طویل حصہ افغانستان سے ملا ہوا ہے۔ پھر ایران ہے۔ ان سرحدوں پر کبھی کوئی جنگ نہیں لڑی گئی۔ لیکن بھارت سے ملی ہوئی سرحدیں تو کئی بار پاکستانیوں کے خون سے سرخ ہوئی ہیں۔ پاکستان بن رہا تھا تو میرے اپنے بزرگوں سمیت لاکھوں خاندانوں کے پیارے اس مقدس مقام تک پہنچتے پہنچتے اپنا لہو اس کی نذر کرگئے۔ پھر ہمارے بہادر‘ جری جوانوں نے 1948‘ 1965‘1971میں اپنا گرم تازہ لہو اِن سرحدوں کی حرمت پر قربان کردیا۔ ان کی بنیادوں میں شامل تیرا لہو۔ میرا لہو۔ ملیشیا کی شلوار قمیص‘ بلند دستار رینجرز کا ایک سپوت اپنے کمانڈر سے پریڈ شروع کرنے کی اجازت لے رہا ہے۔ چوڑے سینے‘ بلند قامت‘ ہر لمحہ‘ ہر سُونگراں آنکھیں ’’سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی۔‘‘ قدم بڑھ رہے ہیں۔ زمین لرز رہی ہے۔ ’’ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے۔‘‘ آفریں ہے ان ماؤں پر جو یہ دلیر فرزند جنتی ہیں اور ناز ہے اس دھرتی پر جوان گھبروؤں کی پرورش کرتی ہے‘ پھاٹک کھلتے ہیں‘ آزادی کا باب وا ہوتا ہے‘ دونوں طرف کے افسر ہاتھ ملاتے ہیں‘ تیزی سے مارچ کرتے‘ پاؤں کو سر کی بلندی تک لے جاتے‘ اِدھر اُدھر مستعدی سے دیکھتے‘ جسم کو حرکت میں لاتے نوجوان اپنی پوزیشنز سنبھال رہے ہیں‘ ایک جوان اسی رفتار سے مارچ کرتے‘ ٹانگ کو سر کی بلندی تک اُٹھاتے سبز پرچم کے پاس پہنچتا ہے۔ چند ثانیوں میں پول سے لپٹی ہوئی رسی کو ایک آہنگ کے ساتھ کھولتا ہے۔ پھر ایک اور جوان دوسرے سرے کو سنبھالنے اسی انداز سے آتا ہے۔ دوسری طرف بھی یہی عمل جاری ہے۔ تالیاں بج رہی ہیں‘ نعرے بلند ہورہے ہیں‘ تاریخ کے اوراق کھلتے جارہے ہیں۔ پاکستانی پرچم کے رنگوں کی قمیض جس پر آگے پیچھے پاکستان زندہ باد لکھا ہے۔ سفید دھوتی‘ کھّسا‘ سفید داڑھی‘ کپڑے کی ٹوپی‘ ایک بڑا سبز ہلالی جھنڈا ہاتھوں میں۔ یہ بزرگ ہر شام کتنے ہی سال سے آرہے ہیں۔ پریڈ سے پہلے وہ تنہا اپنی پریڈ کرتے ہیں۔ پاکستان کی سرحد تک آتے ہیں۔ بھارت کی طرف رُخ کرکے پرچم لہراتے ہیں اسی طرح جانے کتنے چکر لگاتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں بہت گہرا درد ہے۔ پریڈ کے دوران وہ نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔ بگل بج رہا ہے‘ پرچم اتر رہا ہے‘ ہولے ہولے‘ متانت کے ساتھ‘ احترام‘ عقیدت‘ محبتیں دونوں طرف ہزاروں لوگ مگر سب خاموش۔ دونوں طرف کے جھنڈے اتر گئے ہیں۔ پول خالی ہوگئے ہیں۔ پرچموں کو عزّت کے ساتھ تہہ کیا جارہا ہے۔ دودو جوان پرچم کو بھرپور پیار سے

دونوں ہاتھوں پر دھرے اپنی اپنی پوسٹوں کی طرف روانہ ہیں۔ پریڈ شروع کرنے والا افسر پھر اپنے افسر کو پریڈ ختم ہونے کی آگاہی دے رہا ہے۔ 25 منٹ گزرگئے ہیں۔ جن میں نہ جانے کتنے برسوں کا سفر کرچکا ہوں۔ اب تو یہاں بابِ آزادی ہے گیلریاں ہیں۔ جب یہاں ہزاروں لاشیں گررہی تھیں۔ اس وقت تو یہ بھی پتا نہیں تھا کہ غلامی کہاں ختم ہورہی ہے۔ آزادی کہاں سے شروع ہورہی ہے۔ بس یہ تھا کہ ایک نیا ملک بن رہا ہے جو ہمیں تحفظ دے گا۔ جہاں ہم اپنے خوابوں کی تعبیر پاسکیں گے۔ پھر کیا ہوا‘ کتنے سپنے ٹوٹے‘ کتنے سورج ڈوبے‘ کتنی آزادی ملی‘ کتنی پابندیاں‘ ملک دولخت ہوگیا‘ اپنے پرائے ہوگئے‘ کس کی غلطی تھی‘ کون سچا تھا‘ اتنی گرد اُڑی‘ اتنا غبار پھیلا کہ ہم ایک دوسرے کی شناخت بھول گئے۔ حکومتیں بدلتی رہیں‘ حالات نہیں بدلے‘ لیکن ان قربانیوں‘ مشکلوں کے نتیجے میں آج اظہار کی آزادی ہے۔ جمہوریت کی طرف سفر جاری ہے۔ پارلیمنٹ ہے‘ صوبائی اسمبلیاں ہیں‘ ایک ملک ہے‘ جہاں اللہ نے سب نعمتیں دے رکھی ہیں۔ سب سے بڑی نعمت آزادی ہے۔ اب اسے مستحکم کرنا ہے۔ ملک کو سب تعصبات سے پاک کرنا ہے۔ حکومت سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ مملکت سے نہیں۔ جہاں مملکت کا سوال ہو وہاں سب ایک ہوتے ہیں۔ صدر‘ وزیراعظم‘اپوزیشن لیڈر‘ مذہب کوئی بھی ہو‘ فرقہ کچھ بھی ہو‘ سب پاکستانی ہیں۔ ان 25 منٹ میں سب پاکستانی تھے۔ ہم کراچی سے آئے ہیں۔ کچھ خاندان صوبہ سرحد سے آئے ہوئے تھے۔ کچھ بلوچستان کے نظر آرہے تھے۔ پنجاب سے تو زیادہ تعداد آتی ہے۔ قریب بھی ہیں۔ دوسری طرف بھی اسی طرح مختلف چہرے مختلف لباس نظر آرہے تھے۔ وہ سب بھارتی تھے۔ ادھر سب پاکستانی۔ حقیقت یہی ہے۔ ان 25 منٹ کے مناظر‘ صدائیں‘ اُٹھتے قدم‘ چوکنی آنکھیں‘ پرچم کے لئے عقیدتیں‘ محبتیں اور پریڈ سے پہلے پاکستان کے عشق میں ڈوبے ملّی نغمے‘ ہمارے دلوں میں سوئے ہوئے پاکستانی کو جگا دیتے ہیں۔ قومی گیتوں کا ایک لفظ‘اپنے بھرپور مفہوم کے ساتھ ذہن میں اترتا ہے۔ مملکت کی عظمت‘ اہمیت اور اس سے وابستگی کا احساس اپنی پوری شدت سے ابھرتا ہے۔ اس منظر نامے میں اتحاد بھی ہے‘ تنظیم بھی‘ ایمان بھی‘ رنگ بھی ہیں خوشبوئیں بھی‘ عقیدت بھی ہے احترام بھی‘ روشن خیالی بھی اعتدال بھی‘ ہٹ دھرمی کے باوجود ہماری طرف سے اب بھی امن کی بات ہوتی ہے۔ ’’محبت امن ہے اور امن کا پیغام پاکستان‘‘ کا گیت ہوا کے دوش پر سرحد سے اس پار بھی جاتا ہے۔ کیا یہ مناظر پورے پاکستان کو ٹیلی ویژن سے ہر شام براہِ راست نہیں دکھائے جاسکتے۔ یہ جذبہ‘ یہ احساس جو یہاں موجود پاکستانیوں کے دلوں کو تڑپا دیتا ہے‘ روح کو گرما دیتا ہے‘ یہ پوری مملکت میں پھیل سکتا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ یہاں باری باری سال میں ایک بار ضرور آئیں ۔ حکومت والے بھی‘ اپوزیشن بھی‘ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کو ساتھ لے کر آئیں۔ ملک بھر سے اسکولوں کالجوں کے نمائندہ وفود یہاں آئیں۔ طلبہ و طالبات سے اس منظر پر مضامین لکھوائے جائیں۔ ہر دردمند پاکستانی کو سال میں ایک بار ضرور آنا چاہئے۔ یہاں بیٹری کی ری چار جنگ ہوگی۔ پھر سگنل کلیئر ملیں گے۔ پیغام اپنے مفہوم کے ساتھ دل میں اترے گا۔ کیپٹن ریحان بتارہے ہیں کہ گیلریوں میں توسیع کی جانے والی ہے۔ پھر مزید لوگوں کے لیے گنجائش نکل آئے گی۔ جیوے جیوے پاکستان کی گونج اور بڑھ جائے گی۔ اپنی قوت اپنی جان۔ ’’لاالہٰ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔ ہر پل ہر ساعت ہر آن جاگ رہا ہے پاکستان۔‘‘

یہ تحریر 86مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP