شعر و ادب

پروین شاکر

بعد مدت اُسے دیکھا، لوگو

بعد مدت اُسے دیکھا لوگو
وہ ذرا بھی نہیں بدلا لوگو

خوش نہ تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
اُس کے چہرے پر لکھا تھا، لوگو

اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
رات بھر وہ بھی نہ سویا، لوگو

اجبنی بن کے جو گزرا ہے ابھی 
تھا کسی وقت میں اپنا، لوگو

دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا، لوگو

رات وہ دَرد میرے دل میں اُٹھا
صبح تک چَین نہ آیا، لوگو

پیاس صحرائوں کی پھر تیز ہوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا، لوگو
(پروین شاکر)

 

محبت پانے والا کبھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوتا کہ اسے ایک دن کے لئے مکمل محبت حاصل ہوئی ہے۔ محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے، روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا، جس روز محبت کا آفتاب طلوع نہ ہو، رات رہتی ہے، یہ دل اور جسم بڑے بیری ہیں، ایک دوسرے کے، جسم روندا جائے تو یہ دل کو بسنے نہیں دیتا، دل مٹھی بند رہے تو یہ جسم کی نگری تباہ کردیتا ہے۔
ان دونوں کو کبھی آزادی نصیب نہیں ہوتی۔
(بانوقدسیہ کے ناول ''راجہ گدھ'' سے اقتباس)

*****

یہ تحریر 57مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP