علم و دانش

پردے میں رہنے دو

اس سے پہلے کہ اﷲ ہم سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کا حساب کتاب لے ہم نے سوچا کہ اس امتحان کی تیاری کر لینی چاہیئے۔
یوں تو ہم اﷲ کا ان نعمتوں کے لئے ہر وقت شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں مفت ہوا، پانی اور آگ عطا کئے ورنہ یہ چیزیں اگر آج کے انسان کے کنٹرول میں ہوتیں تو انسان انکا ٹیکس بھرتے بھرتے کب کا اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہوتا۔ہم گیس، بجلی، پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بوکھلا جاتے ہیں اگر زندہ رہنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی تو ہمارا کیابنتا؟، اسی ضمن میں ہم نے اﷲ کی دی ہوئی چند نعمتوں کا تجزیہ کیا ہے جو کامیاب رہا تو آئندہ مزید نعمتوں کا ذکر کریں گے۔ آج ہم آنکھ پہ سے پردہ اٹھانے یعنی اپنی آنکھ کو ایکسپوز کرنے کی کوشش کی ہے اور اﷲ کی دی ہوئی نعمت یعنی آنکھ کے بارے میں اپنے ہمزاد انکل سرگم سے سوالات کئے ہیں جوآپ سے شیئر کرتے ہیں۔     
سوال: انکل یہ بتایئے کہ ہمارے معاشرے میں انسانی آنکھ کتنے قسم کی پائی جا تی ہے اور کیا کیا کام کرتی ہے؟
 جواب :ہمارے معاشرے میں آنکھ بھی تین قسم کی پائی جاتی ہے۔ایک امیر آنکھ، دوسری غریب آنکھ اور تیسری دوغلی آنکھ۔
 تشریح امیر آنکھ: امیر آنکھ وہ ہوتی ہے جس پہ پردہ ڈالنے کے لئے اس پر ہر وقت تصنع کا چشمہ چڑھارہتا ہے۔ اسکے علاوہ اس پہ کانٹیکٹ لینز پڑے رہنے سے اس کا اصل رنگ کبھی ظاہر نہیں ہوتا بلکہ اس کی اصلیت سب سے مخفی رہتی ہے۔امیر آنکھ چونکہ بچپن سے ہی امیر گھرانے میں کھلتی ہے اس لئے اس میں بچپن ہی سے اچھے اورانگریزی سکول کی تعلیم ڈال دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ امیر آنکھ امریکہ، برطانیہ اور یورپ کا ماحول اور بڑے بڑے شاپنگ پلازوں کے ساتھ ساتھ انگریزی فلمیں دیکھنے کی عادی ہوتی ہے اس لئے اُسے اپنے ملک کی ہر چیز گھٹیا، حقیر اور چھوٹی نظر آتی ہے۔
 غریب آنکھ ۔غریب آنکھ گندے اور تاریک ماحول میں کھلتی ہے اوراسے بنیادی سہولتیں میسر نہ ہونے کی وجہ سے یہ وقت سے پہلے ہی بند ہوجاتی ہے یعنی سر شام ہی سو جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواب دیکھ سکے۔
 دوغلی آنکھ :دوغلی آنکھ زیادہ تر مڈل کلاس یعنی درمیانے طبقے میں پائی جاتی ہے اسے ٹیڑی آنکھ بھی کہتے ہیں اور وہ اس لئے کہ اسے دیکھنے سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ کسے دیکھ رہی ہے۔دوغلی یعنی ٹیڑھی آنکھ زیادہ تر اُس طرف دیکھتی ہے جس طرف اسے کوئی لالچ نظر آرہی ہو۔یاد رہے کہ ہمارے ہاں دوغلی آنکھ زیادہ تر کاروباری سیاستدانوں میںپائی جاتی ہے۔
 آنکھ کی بیماریاں :امیرآنکھ کی بیماریوں میں سر فہرست آنکھیں پھیر لینا، آنکھوں کا پانی مر جانا ، آنکھ میں بال آجانا، آنکھ پر چربی چڑھ جانا ہیں جبکہ دیگر بیماریوں میں آنکھ سے مگر مچھ کے آنسو بہانا اور ٹریفک سگنل نظر نہ آنا، عوام کی دولت پہ آنکھ ٹکی رہناقابل ذکر بیماریاں ہیں۔ اسی طرح غریب آنکھ کی بیماریوں میں کسی دوسرے کے دکھ پہ آنسو بھر آنا،آنکھوں میں دھول پڑ جانا، سبز باغ نظر آنا اور معاشی کمزوری سے آنکھ جھکی رہنا قابل ذکر ہیں۔ دوغلی آنکھ کی بیماریوں میں آنکھ پر پردہ پڑنا،آنکھ میں لالچ کی چمک پیدا ہونا،اپنا گھر بنانے، بچوں کی فرمائش پوری کرنے کے سنہرے خواب دیکھنا قابل ذکر ہے۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہمارے ہاں غریب کی آنکھ جب کمزور پڑ جاتی ہے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ غریب کو اب مہنگائی بھی کمزور دکھائی دے گی چنانچہ اس کی پروا نہیں کی جاتی حتیٰ کہ وہ ضائع ہو جاتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک غریب آنکھ عینک کیوں نہیں لگاتی؟تو انکل سرگم نے اس کا جواب یہ دیاہے کہ ایک تو عینکیں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ ایک غریب آنکھ والا اسے اب افورڈ ہی نہیں کرپاتا۔اور دوسرایہ کہ عینک لگانے سے غریب آنکھ والا پڑھا لکھا نظر آنے لگتا ہے۔ویسے تو غریب کا پڑھا لکھا نظر آنا اچھی نشانی ہے مگرغریب آنکھ عینک اس لئے نہیں لگواتی کہ اگر کسی نے اسے پڑھا لکھا سمجھ کر اس سے خط پڑھوا لیا تو کیا ہوگا؟ غریب خوامخواہ عینک لگا کر پکڑا جائے گا۔غریب کی آنکھ کی بیماریوں کا ہمارے ہاں کوئی خاطر خواہ علاج ابھی تک جان بوجھ کر دریافت نہیں کیا گیا۔ پہلے زمانے میں اگر کوئی غریب آنکھ خراب ہوتی تھی یعنی اس کی آنکھ میں اس کی اوقات سے بڑھ کر کچھ نظر آنے لگتا تھا تو بادشاہ یا حاکم وقت کے حکم پہ اُس کی آنکھیں نکلوا دی جاتی تھیں تا کہ نہ رہے آنکھ اور نہ نظر آئے سبز باغ۔آج کل چونکہ عدالتیں آزاد ہونے سے غریب کی آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا ہورہی ہے چنانچہ آج کل غریب آنکھ کا آپریشن کر کے اس میں سے حسرت کا موتیا اور ناامیدی کے ککرے نکال کر اس میں امیدوں کے سہانے سپنے اور خوشحالی کے ڈراپس ڈالے جارہے ہیں جس کی وجہ سے غریب کی آنکھ عارضی طور پہ ٹھہری ہوئی نظر آتی ہے۔
آخر میں ہم آپکو کانٹیکٹ لینز کا استعمال بتاتے چلیں۔
بقول انکل سرگم ہمارے ہاں ایک غریب بندے کا چونکہ کسی بڑے اور امیر بندے سے کانٹیکٹ ممکن نہیں اس لئے اسے یہ سہولت میسر بھی نہیں ہوتی چنانچہ ہمارے ہاںغریب کو شروع سے ہی کانٹیکٹ لینز کے بجائے سبز رنگ کے کاغذی شیشوں والی پلاسٹک کی عینک لگانے کا عادی بنایا جاتا ہے جسے لگا کر غریب کو ہر طرف خوشحالی والاسبزہ ہی سبزہ دکھائی دیتا ہے جس سے اس کا دل بہلا رہتا ہے۔تو جناب ہمارے ہاں'' کانٹیک'' لینز صرف امیر آنکھ ہی استعمال کرتی ہے۔ چنانچہ جوں جوں کسی امیر آنکھ کے کسی بڑے آدمی سے کانٹیکٹ بڑھتے ہیں توں توں اس کی آنکھوں میں حرص اور قرضہ ہڑپ کرنے کی چمک  بڑھتی جاتی ہے اور اُسے دور دورتک اپنا مفادصاف و شفاف دکھائی دینے لگ جاتاہے۔تو جناب اﷲ کی دی ہوئی مفت میں ٍاس قیمتی نعمت کی قدر کرنی چاہیئے، برائی اور ظلم دیکھ کر اسے بند نہیں کرنا چاہیئے ورنہ ہمارے دل میں یہی سوال اٹھتا رہے گا اور جس کا جواب شائد انکل سرگم کے پاس بھی نہ ہومیرے اس شعر کی طرح کہ۔
 میرے پیارے اﷲ میاں میری آنکھ کیوں چھوٹی ہے
اُن کی آنکھ میں بنگلہ ہے اور میری آنکھ میں روٹی ہے
یا
  میرے پیارے اﷲ میاں تیرا کرم نرالا ہے
اُن کی آنکھ میں قیمتی لینز اور میری آنکھ میں جا لا ہے ||


 مضمون نگار پاکستان کے مشہور ٹی وی آرٹسٹ اور پروگرام ڈائریکٹر ہیں۔ معروف Puppet ٹی وی شو 'کلیاں' ان کی وجہ شہرت بنا۔ آپ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 16مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP