قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک چین معاہدے،وسیع تر امکانات

چین کے صدر جناب شی چن پنگ نے 20 اپریل کو پاکستان کا تاریخی دورہ کیا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے51 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے جن کی مالیّت 46 ارب ڈالرہے۔ زبردست اہمیّت کے حامل ان معاہدوں کو عملی شکل دینے کی صورت میں نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعلقات میں گہرائی آئے گی بلکہ اس کے خطے پر بھی دور رس اثرات مرتّب ہوں گے ۔یہی وجہ ہے کہ اگر معروف امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس دورے کو گیم چینجر قرار دیا ہے،تو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس دورے اور اس دورے کے دوران ہونے والے معاہدوں کو نئی سپر ہائی وے کا نام دیا ہے،جبکہ بھارتی میڈیا نے اسے پاکستانی سرزمین پر ڈریگن کی چال قرار دے کر اپنے جلے ہوئے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ زیرنظر تحریر میں ہم چین کے صدر شی چن پنگ کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے ان معاہدوں کی اہمیّت،خطے پر اس کے پڑنے والے اثرات اوران معاہدوں کو عملی شکل دینے کی راہ میں درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیں گے۔

دراصل ان معاہدوں کی رو سے چین پاکستان میں توانائی کی کمی پوری کرنے کے لئے شروع کئے جانے والے نئے منصوبوں میں تقریباََ 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا ، جبکہ 12 ارب ڈالرریلوے لائنوں،شاہراہوں اور پائپ لائنوں پر خرچ کئے جائیں گے جو سنکیانگ کو گوادر سے ملائیں گی، چین کے تعاون سے سب سے پہلے تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کئے جائیں گے جن سے 6600 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، صحرائے تھر کے نو ہزار مربع کلومیٹر کے رقبہ میں 175 ارب ڈالر کا کوئلہ موجود ہے جس سے پہلی بار چینی کمپنی بجلی پیدا کرے گی۔چینی ماہرین کے مطابق کوئلے سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور روایتی قرضوں کی ادائیگی کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت میں پچاس فیصد کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ چین پن بجلی ،شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے مختلف منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ سارے منصوبے مجموعی طور پر 17000میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں گوادر کی بندرگاہ کو بہتر بنایا جائے گا،تیسرے مرحلے میں ریلوے لائنز،شاہراہیں اور ایکسپریس ویز تعمیر کی جائیں گی اور چوتھے مرحلے میں صنعتی تعاون میں اضافہ ہوگاجس کے تحت ملک میں جہاں جہاں سے یہ راہداری گزرے گی، ان علاقوں میں اقتصادی زون قائم کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ تمام میگا پراجیکٹ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذیلی حصے ہیں جن کی تکمیل میں ہی مطلوبہ مقاصد کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔اگر ہم مذکورہ اقتصادی راہداری کے نقشے پر غور کریں تو یہ کچھ اس طرح سے ہے۔

گوادر کی بندرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہے، اور یہ تیل کے وسائل سے مالامال مشرق وسطیٰ کے لئے داخلی دروازے کا کام دیتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کے صوبے بلوچستان میں گوادر بندرگاہ سے شروع ہو کر پاکستان کے چاروں صوبوں سے گزر کر ہمالیہ کی پہاڑیوں سے نکلتی ہوئی چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں کاشغر سے ملے گی ،جس کی لمبائی تقریباً  3,000 کلومیٹر ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ریل،روڈ اور پائپ لائنوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کو حسب ذیل فوائد حاصل ہوں گے۔

 -1 ملک میں کاروبار و روزگار کے وسیع امکانات پیدا ہوں گے۔

 -2صنعتی ترقی کے مواقع بڑھیں گے جس سے قومی شرح نمو میں بہتری پیدا ہوگی۔

 -3گوادر بندرگاہ میں بہتری آنے سے پاکستان کی بحری تجارت میں تین گنا اضافہ ہوگا۔

 -4ملک میں وسیع پیمانے پر اعلیٰ کوالٹی کے انفراسٹرکچر کی تعمیر ہوگی۔

 -5توانائی کی قلّت دور ہونے سے موجودہ کارخانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس کی بدولت شرح نمو میں تقریباََ 2فیصد اضافہ ہوگا۔

 -6بڑی تعداد میں ہنرمند انفرادی قوت کی تشکیل ہوگی۔

 -7افواج پاکستان کے جری سپاہیوں کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو مہمیز ملے گی کیونکہ اقتصادی راہداری کو زیادہ تر ان علاقوں سے گزارا جائے گا جو دہشت گردی کا شکار ہیں۔یہاں امن قائم کرنے کے لئے دونوں ملکوں کی حکومتیں اب مزید یکسوئی کا مظاہرہ کریں گی۔

 -8پاکستان کو ٹرانزٹ فیس کی مد میں ایک بڑا اور مستقل ذریعہ ملے گا۔

 -9ذرائع آمدورفت میں بہتری آنے سے اندرونی و بیرونی تجارت میں اضافہ ہوگا۔

 -10چین کی شمولیت کے باعث پاکستان کا بین الاقوامی حلقوں، بالخصوص تجارتی شعبے، کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

-11مجموعی طور پر یہ منصوبے پاکستان کے استحکام میں اضافے کا باعث ہوں گے۔ اس راہداری سے چین کوملنے والے فوائد یہ ہیں۔ 

 -1پاک چین اقتصادی راہداری کے باعث چین کو آبنائے ملاکا کے ذریعے پانچ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے شرق اوسط سے تیل لانے کے بجائے گوادر کی پورٹ کے ذریعے آبنائے ہرمز کے راستے محض 1800 کلو میٹر دور مغربی چین کی بندرگاہ کاشغرتک تیل پہنچنے سے اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا۔

 -2اس راہداری کے باعث چینی مصنوعات کی بیرونی منڈیوں تک رسائی بڑھے گی۔

 -3اس منصوبے کی بدولت چین کے مغربی علاقوں کی پسماندگی کم ہوگی۔

 -4چین کی مارکیٹس یوریشیا،(Eurasia) مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ساتھ مربوط ہوجائیں گی۔

 -5چین کا خطے میں اثرورسوخ مزید بڑھے گااور یہ اس کے سپر پاور بننے کے خواب ا ورتعبیر کے درمیان فاصلہ گھٹا دے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری خطّے کی سیاست،اقتصادی زندگی اور معاشرت  پر بھی دور رس اثرات مرتب کرے گی۔

 

ان منصوبوں کی بدولت خطے میں بہترین ذرائع آمدورفت کی وجہ سے معاشرتی ہم آہنگی بڑھے گی۔یہ منصوبہ خطے میں تجارت کو نئی جہتیں دے گا۔ عالمی سرمائے کا بڑا حصّہ اس خطے میں آجائے گا اور یہ اقتصادی راہداری جس جس ملک سے بھی گزرے گی وہاں پر زبردست معاشی منڈیوں کو جنم دے گی۔ بلاشبہ یہ منصوبہ معاشی لحاظ سے خطّے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیّت رکھتا ہے۔ سیاسی ماہرین کی ایک تعداد 21ویں صدی کو ایشیا کی صدی قرار دے رہی ہے۔ اگر ہم چین کے قائم کردہ ایشیا انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک،ون بیلٹ ،ون روٹ پالیسی اور شنگھائی تعاون کونسل کے بڑھتے ہوئے کردار کا جائزہ لیں تو ایسا لگ رہا ہے کہ یہ مستقبل میں ایشیا میں مغرب کے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ڈبلیو ٹی او کے بہترین متبادل ہوسکتے ہیں۔ طاقت کا مرکز یورپ سے ایشیا کومنتقل کرنے کے لئے یہ آگے چل کر زبردست کر ادا کر سکتے ہیں۔

کچھ ماہرین کی رائے کے مطابق پاک چین معاہدوں کے ساتھ ہی عالمی طاقتیں اس خطے میں نئے محاذوں پرآپس میں متحرک ہوجائیں گی۔ چینی صدر کے دورے سے صرف دو دن قبل ماسکو میں پاکستان اور روس کے وزرائے دفاع کا پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان فوجی مشقوں کا معاہدہ، دورے کے دوران پاک چین کا گوادر بندرگاہ کو ترقی یافتہ بنانااور اس دورے کے دوران چین کے ساتھ مستقبل میں گوادر میں بحری جہازوں کی مرمت کرنے کا چینی سٹیشن قائم کرنے کے امکان کا پیدا ہونا بھارت کے لئے تشویش کا باعث ثابت ہو سکتا ہے،کیونکہ امکان ہے کہ امریکہ اس ڈویلپمنٹ کو خطّے میں اپنے اثرورسوخ کے خلاف روس-چین-پاکستان گٹھ جوڑ سمجھے گا،ایران گوادر کے مقابلے میں اپنی چابہار بندرگاہ کو مقابلے کی دوڑ میں شامل کرنا چاہے گا اور بھارت بحر ہند میں چینی بیڑوں کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ سمجھے گااور یوں یہ تینوں ممالک مل کر یہاں پر ایک نیا محاذ قائم کر سکتے ہیں۔

بلاشبہ ہمارے پیارے ملک پاکستان کے لئے یہ تمام منصوبے نہایت ہی مفید اور خوش کن ہیں،ان کی تفصیلات پڑھ کر یقیناًہمیں خیال آتا ہے کہ ہم کچھ ہی سالوں میں'میڈان چائنا' چین کی بانسری بجانا شروع کردیں گے اور ہر طرف چین ہی چین ہوگا۔لیکن بحیثیت قوم ہمارا جو رویّہ ہے ہم جب تک اس کو تبدیل نہیں کریں گے،جب تک ہم اپنی اصلاح نہیں کریں گے، تب تک یہ تمام منصوبے ،منصوبے ہی رہیں گے اور ہم ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ یاد رہے ان تمام منصوبوں پر پوری دلجمعی،حوصلہ مندی اور حب الوطنی کے جذبے سے بھر پور ہوکر کام کرنا ہوگا۔ اقتصادی راہداری کے نقشے پر ملک میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔ اس مسئلے پرصوبوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لئے قومی مفادات کونسل کو بہت پہلے ہی متحرک کیا جانا چاہئے تھا،ہمیں کرپشن کی روک تھام کر نی ہوگی،ملک میں مکمل امن وامان قائم کرنا ہوگا ،قوم کے سپوت جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں ہماری بہادر افواج اور سکیورٹی فورسز اس سلسلے میں زبردست کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں،جس کا اعتراف چین کے صدر شی چن پنگ نے بھی کیا ہے،چین کا ہمارے ملک میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں تسلسل کے ساتھ حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ حکومت کو بھی اس سلسلے میں مزید سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ہمیں غیر ملکی دشمن طاقتو ں کی ریشہ دوانیوں سے باخبر رہنا ہوگا کہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں پاکستان کو پسماندہ رکھنے کے لئے ان کی تمام تر کوششوں کو ناکام بناکر اقوام عالم میں سرخرو ہو جائیں۔


[email protected]

یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP