قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک چین سفارتی تعلقات،لازوال دوستی کے 70سال

''ہمالیہ سے اونچی،سمندروں سے گہری اورشہد سے میٹھی دوستی --پاک چین دوستی''
 پاکستان اور چین سال 2021کو اپنے سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے طور پر منارہے ہیں۔ 21مئی 1951کو دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے،جس نے آگے چل کر نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر اثرات مرتب کئے۔ چین نے اگر اس عرصے میں پاکستان کو بڑے پیمانے پر اقتصادی، فوجی اور تکنیکی تعاون فراہم کیاہے تو جواب میں پاکستان نے اس کے لئے سپرپاور امریکہ اور مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔ اور یوں یہ دو طرفہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جنھیں اب ''ہمالیہ سے اونچی، سمندروں سے گہری اورشہد سے میٹھی دوستی '' قرار دیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے گہرے سفارتی، تجارتی، فوجی اور ثقافتی تعلقات قائم ہیں اور اب یہ'' اسٹریٹجک اتحادی ''اور'' آہنی برادرز '' بن چکے ہیں۔دوطرفہ تعلقات کے 70سال پورے ہونے پر مختصر جائزہ لیا جارہا ہے:



محمد علی بوگرہ-چُو این لائی ملاقات،بنڈونگ کانفرس(Bandung Conference,1955)
 50کی دہائی تھی جب دنیا امریکہ اور روس کے زیر اثر دو بلاکس میں منقسم ہو رہی تھی۔ یہ دونوں سپرپاورز ہزاروں کلو ٹن جوہری ہتھیاروں، میگاٹن ہائیڈروجن بموں اور میزائل ڈیلیوری نظاموں سے لیس ہوا ہے اور ایک دوسرے کو ہرقیمت پر تباہ کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ دوسری طرف جنگ عظیم دوم کے بعد ایشیا اور افریقہ میں مختلف خطوں میں آزادی کی تحریکیں عروج پر تھیں۔ جن ممالک نے نئی نئی آزادیاں حاصل کی تھیں وہ دنیا میں خود کو مستحکم کرنے کی تگ ودو کر رہے تھے۔ اس مقصد کے لئے انڈونیشیاکے شہر بنڈونگ میں   18-24اپریل 1955کوپہلی ایشیائی افریقی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں 29ممالک کے رہنماؤں اور سربراہان نے شرکت کی۔ کانفرنس کی سائیڈلائنز پر چین کے وزیراعظم چُو این لائی اور پاکستانی وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں محمد علی بوگرہ نے سیٹو کا رُکن ہونے کے باوجود چُو این لائی کو یقین دلایا کہ ان کا ملک چین کے خلاف کسی بھی حملے میں فریق نہیں بنے گا، اگرچہ چین اس تنظیم کو اپنے خلاف ایک جارحانہ اتحاد سمجھتا تھا۔ بوگرہ کی اس یقین دہانی نے چینی قیادت کے ذہن میں پاکستان پر اعتماد کے بیچ بودئیے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات کی جانب سفر کا آغاز ہوگیا۔اس ملاقات کے بعد پاکستانی وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے چین اور چینی وزیراعظم چو این لائی نے پاکستان کا دورہ کیااور تعلقات کی ٹرین پٹڑی پر چڑھنے لگی۔
سرحدی تنازعے کا تصفیہ ہوتا ہے( 1963) 
1959میں پہلی مرتبہ پاکستان میں یہ تشویش لاحق ہوگئی کہ چین اپنے نقشوں میں کچھ پاکستانی علاقوں کو اپنا حصہ ظاہر کر رہا ہے۔ 1961 میں پاکستانی صدر محمد ایوب خان نے اس سلسلے میں چین کوایک باضابطہ نوٹ بھیجا جس کا پہلے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔لیکن ایوب حکومت کی مسلسل کوششوں سے چین اگلے سال ان متنازع نقشوں سے دستبردار ہوگیا اور اس تنازعے کے حل کے لئے دونوں ممالک کے درمیان 13اکتوبر 1962میں باقاعدہ مذاکرات شروع ہوگئے۔ 2مارچ 1963کوپاکستانی وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے چینی ہم منصب چن ژی نے ایک معاہدے پر دستخط کئے۔ اس معاہدے کے تحت چین نے تقریباً 1,942 مربع کلومیٹر کا علاقہ پاکستان کو دے دیا جبکہ پاکستان نے چند علاقوں پر چین کی خودمختاری تسلیم کرلی۔ یہ معاہدہ پاکستان کے لئے اقتصادی طور پر مفید رہا کیونکہ اس کے تحت اسے سرسبز زمینیں ملیں۔ جبکہ سیاسی طور پر اس سے دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کی راہ میں حائل واحد رکاوٹ بھی دورہوگئی ،بلکہ یہی وہ معاہدہ ہے جس نے دونوں ممالک کے تزویراتی تعلقات کے لئے ایک مضبوط بنیاد فرہم کی ۔
پی آئی اے کی چین کے لئے پروازیں(1964)
60ء کی دہائی میں جب امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ عروج پر تھی اور چین کمیونسٹ ملک ہونے کی وجہ سے امریکہ کے زیراثر غیرکمیونسٹ ممالک سے کٹا ہوا تھا تو پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز(پی آئی اے) نے 1964میں چین کے لئے اپنی پروازیں شروع کردیں اور یوں پاکستان چین کے ساتھ پروازیں شروع کرنے والا پہلا غیرکمیونسٹ ملک بن گیا۔ پاکستان کے اس اقدام کے نتیجے میں چین کی کمیونسٹ بلاک سے باہر دیگر ممالک کے ساتھ روابط کا آغاز ہوگیا اور اس کی تنہائی کم ہونے لگی۔
 1965کی پاک بھارت جنگ اور چین 
1965میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو چین نے اسے ''ننگی جارحیت'' قرار دے کر بھارت پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ۔اس نے بھارت کو متنبہ کیاکہ اگر اس نے اپنی مجرمانہ جارحیت نہیں روکی تو اسے اس کی بھرپور قیمت چکانی ہوگی۔ چین نے بھارت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے تین دن کے اندر اندر بھارت-چین سرحد کو فوجی تنصیبات کے لئے استعمال کرنا ترک نہیں کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس دوران چین نے بھارت کے ساتھ مشترکہ سرحد پر ڈوکلام اور سکم کے مقامات پر اپنی فوجی قوت میں بھی اضافہ کیا جس سے بھارت کو یہ خوف لاحق ہوگیا کہ ایک ایسے وقت میں جب وہ ایک سرحد پر پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہے ،دوسری طرف سے چین کہیں اس پر حملہ آور نہ ہوجائے۔ اس طرح اس کی توجہ لائن آف کنٹرول سے کسی حد تک بٹ گئی۔چین کے اس دباؤ نے بھارت کو جنگ بندی پر مجبور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔جنگ میں بڑے اخراجات ہونے کے بعد چین نے پاکستان کو 60ملین امریکی ڈالر دئیے ۔ جبکہ اس نے اپنے دوست ملک کو ٹینکوں اور طیاروں سمیت فوجی سازوسامان بھی فراہم کیا۔1965 کی جنگ ہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان چین اور امریکہ سے دوستی کے معاملے پر گومگو کی کیفیت سے نکل آیا اور اس نے امریکہ سے خوشگوار تعلقات رکھنے کے باوجود زیادہ ترجیح چین کو دینا شروع کردی۔ ہوا یہ کہ امریکہ نے سیٹو اور سینٹو کا رُکن ہونے کے باجود اس جنگ کے دوران پاکستان کو اسلحے کی فروخت روک دی اور یوں بھارت ،جسے اسلحے کے شعبے میں پہلے سے ہی پاکستان پر برتری حاصل تھی ، کو اس پابندی سے فائدہ ملا۔ جبکہ چین نے پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا۔ پاک آرمی اور بحریہ کے سربراہان نے چین کے متعدد دورے کئے اور چین نے 1968میں ٹیکسلا میں ہیوی مکینیکل کمپلیکس کے لئے 15 ملین روپے مالیت کی مشینری فراہم کی۔چین نے پاکستان کو انفراسٹرکچر اور چھوٹی صنعتوں کے فروغ کے لئے لاکھوں ڈالرز کے بلاسود قرضے بھی فراہم کئے۔ اس دوران پاکستان نے ہر فورم پر چین کی سفارتی حمایت جاری رکھی اور1971میں اقوام متحدہ میں چین کو مستقل رکنیت دینے کے حق میں ووٹ دیا۔
ہنری کسنجر کا خفیہ دورہ چین(1971)
1970کی دہائی کے آغاز میں امریکی پالیسی سازوں نے محسوس کیا کہ دو بڑے کمیونسٹ ممالک روس اور چین کے درمیان تعلقات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ اپنے بولڈ فیصلوں کے لئے مشہور امریکی صدر رچرڈ نکسن کو سرد جنگ میں اپنے حریف روس کو تنہا کرنے کا موقع نظر آیا اور انھوں نے چین کے ساتھ روابط استوار کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ امریکہ اور چین کے ان تعلقات کے لئے پاکستان نے ایک گیٹ وے کا کردار ادا کیا۔ وائٹ ہاوس نے پاکستانی صدر یحییٰ خان کے ذریعے چینی قیادت کو پیغام بھیجا اور ماوزے تنگ اور چو این لائی کی جانب سے مثبت جواب ملنے کے بعد صدرنکسن کے قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر نے پاکستان کا دورہ کیا اور یہاں سے خفیہ طور پر چین چلے گئے۔ کسنجر نے امریکی صدر کے دورے کے لئے زمین تیار کی اور پھر12 فروری 1972کو صدر نکسن اپنی اہلیہ اور وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر روانہ ہوگئے۔نکسن نے ایک ہفتے پر محیط اس دورے میں چینی وزیراعظم چو این لائی سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ امریکی صدر کے اس دورے سے قبل چیئرمین ماؤزے تنگ شدید علیل تھے اور وہ صرف 9روز پہلے کئی ہفتے تک ہسپتال میں رہنے کے بعد ڈسچارج ہوئے تھے، جس کا امریکی وفد کو چین پہنچنے تک کوئی علم نہیں تھا۔ تاہم ماؤ نے ان سے ملاقات کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ا ور عالمی معاملات پر بات چیت ہوئی۔ شنگھائی میں نکسن نے کہا،''یہ وہ ہفتہ ہے جس نے دنیا کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔'' دونوں رہنماؤں نے فاصلے ختم کرنے اور گزشتہ 22سال سے جاری مخاصمت ختم کرنے کا عزم کیا۔ یہی وہ موقع تھا جب چین نے سرد جنگ کی تنہائی سے باہر نکلنا شروع کیااور سپر پاور امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرکے ترقی کی جانب اپنے سفر پر تیزی سے گامزن ہوگیا اور اس میں اس کے دیرینہ دوست اور اتحادی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔
پاک چین تجارت، سی پیک معاہدہ  
پاکستان اور چین کے درمیان اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً24ارب امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے چین کے، تین براعظموں تک پھیلے، بڑے منصوبے بیلٹ اینڈروڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کا اہم حصہ ہے۔ اور اس منصوبے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مزید مضبوطی آئی ہے۔64ارب ڈالر مالیت کے سی پیک معاہدے پر 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کے موقع پر باقاعدہ دستخط ہوئے تھے اور تب سے اس منصوبے پر کام جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین کے تزویراتی اہمیت رکھنے والے صوبے سنکیانگ کو پاکستانی بندرگاہ گوادر سے جوڑا جارہا ہے جس میں سڑکوں، ریل نیٹ ورک اور پائپ لائنز کا جال بچھایا جارہا ہے۔واضح رہے کہ اس بی آر آئی پراجیکٹ کے ساتھ چین ایک حقیقی سپر پاور کی حیثیت سے سامنے آرہا ہے اورپاکستان اس کی وجہ سے سی پیک کے ذریعے بڑی اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
سلامتی ودفاع کے شعبوں میں مثالی تعلقات
 دونوں ممالک علاقائی تنازعات میں ایک دوسرے کو ہر فورم پر سپورٹ کرتے ہیں۔ چین مسئلہ کشمیرپر پاکستان اور پاکستان تائیوان، تبت اور سنکیانگ کے معاملات پر چین کی حمایت کرتا ہے۔ نومبر2020میں چین کے وزیردفاع جنرل وائی فینگی نے راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں دونوں ممالک کی افواج کے سربراہان نے دفاعی تعاون اور دوستی کو مثالی قرار دیا اور دوطرفہ دفاعی تعلقات مزید بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ دفاعی تعاون پاک چین تعلقات میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں مسلسل اعلیٰ سطح کے فوجی دورے، مشترکہ مشقیں، فوجیوں کی ٹریننگ ، دفاعی و سکیورٹی بات چیت ، مشترکہ دفاعی پیداوار اور دفاعی تجارت شامل ہیں۔ دونوں ممالک کی دفاعی شراکت داری بالخصوص طیاروں، آبدوزوں، ٹینکوں اور دیگر فوجی سازوسامان کی تیاری  بے مثل ہے۔ پاکستان کے الخالد ٹینکوںاور جے ایف تھنڈر لڑاکا طیاروں کی پیداوار میں چین کا اشتراک اس کی واضح مثال ہے۔  
1950,60کی دہائیوں کی دوقطبی دنیا ہو، 1990اور2000کی دہائیوں کی یک قطبی اور یا آج کی کثیرقطبی دنیا ہو، پاک چین دوستی ہمیشہ مثالی رہی ہے اور اس میں ہر طرح کے جیوپولیٹیکل حالات میں کوئی دراڑ نہیں آئی ہے، بلکہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ سچ ہی کہتے ہیں کہ یہ ایک ''آل ویدر(All Weather)'' دوستی ہے۔ یہ ہمالیہ سے اونچی، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی ہے۔ ||


مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[email protected]


 

یہ تحریر 113مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP