قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک چین دوستی زندہ باد

پاکستان۔ چین تعلقات گزشتہ چھ دہائیوں پر محیط لازوال تعلقات کی ایک بہت شاندار داستان ہے۔ جسے دونوں ممالک کے عوام کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے۔ پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین کو جنوری 1950میں تسلیم کر لیا۔ یہ حقیقت چین کی آزادی کے صرف چار ماہ بعد عیاں ہوئی۔ چین نے یکم اکتوبر 1949کو عوامی انقلاب کی بدولت آزادی حاصل کی۔ اگرچہ پاکستان ایک سرمایہ داری نظام کے تحت قائم ہوا تھا اور عوامی جمہوریہ چین ایک اشتراکی نظام کے تحت ایک انقلابی ملک تھا۔ تاہم نظریاتی اختلافات باہمی دوستی اور تعلقات پر بالکل اثر انداز نہ ہوئے اور دونوں ممالک وقت کے ساتھ ساتھ اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے گئے۔ دونوں ممالک نے مئی 1951میں ایک دوسرے کے ملک میں سفیروں کے تبادلے کر لئے۔ سرد جنگ کے دوران ان تعلقات کو استوار کرنا ایک دشوار مگر اہم ترین امر تھا۔ پاکستان کی فضائی کمپنی دنیا کی واحد فضائی ایئرلائن تھی جسے پیکنگ تک رسائی حاصل تھی۔ پاکستان ان معاہدوں کا حصہ رہا ہے جو امریکہ اور مغربی ممالک نے اشتراکیت کے خلاف قائم کئے تھے۔ ان معاہدوں میں جنوب مشرقی ایشیاء معاہدہ (سیٹو) اور مشرق وسطیٰ معاہدہ (سنٹو) شامل ہیں۔ چین بظاہر ان معاہدوں سے خائف تھا مگر پاکستان کی شمولیت کی پیچیدگیوں سے خوب واقف تھا اور پاکستان نے چین کو باور کرایا تھا کہ چین کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ پاکستان کی دفاعی مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے چین نے ان معاہدوں میں پاکسان کی شمولیت پر اعتراض نہ کیا اور یوں دونوں ممالک کے تعلقات بغیر تعطل کے پروان چڑھتے رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعلیٰ سطحی دوروں کی ایک شاندار روایت رہی ہے جن کا آغاز پچاس کی دہائی کے آخر میں ہوا۔ اکتوبر 1956میں وزیراعظم حسین شہید سہروردی چین کے دورے پر تشریف لے گئے۔ اسی دوران آنجہانی چواین لائی دسمبر 1956 میں پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ اور یوں باہمی اعلیٰ سطحی دوروں کا آغاز ہو گیا جو اب تک جاری ہے۔ پاکستان میں موجودہ حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد چینی وزیراعظم لی کیکیانگLi Keqiang نے مئی 2013میں پاکستان کا دورہ کیا۔ فروری 2014 میں صدر پاکستان مامون حسین نے چین کا دورہ کیا۔ وہ اپریل 2014میں بھی چین کے دورے پر تشریف لے گئے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف جولائی 2013اور اپریل 2014میں چین کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں۔ اعلیٰ سطحی دوروں میں تیزی کا رحجان دونوں ممالک کی قربت کی نشاندہی کرتا ہے۔ امید ہے آنے والوں دنوں میں یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری ایک اہم ترین منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے عوام کو ملا دے گا۔ اقتصادی ترقی کی نئی راہیں متعین ہوں گی۔ یہ منصوبہ گوادر کے گہرے پانیوں والی بندرگاہ سے شروع ہو کر چین کے صوبے سینکیانگ کے شہر کا شغر تک دو ہزار پانچ سو کلومیٹر کا سفر طے کر تے ہوئے پہنچے گا۔ یہ دنیا میں اقتصادی راہداری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ ویسے بھی دنیا میں اقتصادی راہداری کے نو بڑے منصوبے چین میں ہیں جس کی بدولت ترقی کی نئی منزلیں متعین ہوں گی۔ اب تک دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور 30کے قریب منصوبوں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ جن میں دس ہزار چار سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ موٹرویز‘ میٹرو اور تیز رفتار انجن ٹرینیں بھی شامل ہیں جو پاکستان کو چین اور جاپان کی سطح پر لاکھڑا کریں گی۔ مختصراً اس منصوبے سے علاقے کی تین ارب کے قریب آبادی استفادہ کر سکے گی۔ تجارت کے میدان میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کی باہمی تجارت تیرہ ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جو اگلے دو سالوں میں پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ تجارت میں مزید وسعت کی توقع ہے جو کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے سے حاصل ہو سکے گی۔ دونوں ممالک کو تجارت کی نئی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔ 2007کے آزاد تجارتی معاہدہ کے بعد دونوں ممالک نے تجارت کو خاصا مضبوط کیااور وسعت دی ہے۔ حالیہ دنوں میں چین پاکستان کے ایک اہم سرمایہ کار کے طور پر ابھرا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ چین جلد ہی پاکستان میں پینتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جو ترقی میں ایک مثال قائم ہو گی۔ پاک چین دفاعی تعلقات ایک لمبے عرصے پر محیط ہیں ۔جن کاآغاز1959- 60 میں ہوا۔جلدہی چین نے پاکستان کو ایف 6طیارے فراہم کئے اس کے بعد ایسے طیاروں کی فراہمی کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا اور پاکستان کو ایف ٹی فائیو‘ اے فائیو‘ ایف سیون پی‘ ایف سیون پی جی اور قراقرم ہشتم طیارے ملے۔ واضح رہے کہ 1965کے آخر میں پاکستان کو ملٹری ہارڈویئر میں بہت مشکل صورت حال کا سامنا تھا۔ جب امریکہ نے پاکستان کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر پابندی لگادی تھی۔ ان حالات میں عوامی جمہوریہ چین نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے مدد کی اور پاکستان ایئر فورس نے صرف ایک ذریعہ سپلائی پر انحصارکرنا چھوڑ دیا بلکہ 1972میں حکومت نے طیاروں کی مرمت اور اوورہالنگ کی سہولت کے لئے چین کی مدد بھی حاصل کر لی اس سال نومبر میں چین کی ٹیکنیکل ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا اور اس طرح موجودہ ایف 6ری بلڈ فیکٹری کا پراجیکٹ شروع ہوا۔ اس پراجیکٹ کی امداد 1970میں منظور کردہ اکنامک اینڈ ٹیکنیکل کوآپریشن سے ہوئی۔ درجنوں چینی انجینئروں اور ورکروں نے کامرہ میں اس پراجیکٹ پر کام کیا اور اس علاقے کو ایک بڑے صنعتی کمپلیکس میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح چین کے تعاون سے قائم ری بلڈ فیکٹری نے پی اے ایف کے اثاثے میں بہت اضافہ کیا اور بنیادی طور پر پی اے ایف کو اپنی ضروریات کے لئے استعمال کئے جانے والے چینی ساخت کے طیاروں کے لئے سہولیات میسر ہیں۔ ملٹری ایوی ایشن کے شعبے میں پاک چین تعاون کا ایک اور اہم پراجیکٹ قراقرم ہشتم طیارہ ہے۔ اس پراجیکٹ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب دونوں ملکوں نے ایک جیٹ ٹرینر ایئرکرافٹ بنانے کے معاہدے پر دستخط کئے۔ پاکستان میں ائیر کرافٹ مینو فیکچرننگ فیکٹری کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ پاکستان کے انجینئروں کے ایک گروپ نے طویل عرصہ تک چین میں قیام کیا اور قراقرم ہشتم طیارے ڈیزائن کرنے میں حصہ لیا۔اس کے بعد دونوں ملکوں میں فوجی تعاون مستحکم ہوتا چلا گیا۔ جے ایف 17تھنڈر طیارے کی اندرون ملک تیاری اس کی روشن مثال ہے۔ یہ دفاعی تعاون دونوں ملکوں کے سٹریٹجک تعلقات کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔ طیارے کے جدید ڈیزائن اور سٹیٹ آف دی آرٹ مینو فیکچرنگ ٹیکنالوجی نے جے ایف 17کی لڑاکا صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیاہے۔ اس کا شمار دنیا کے جدید لڑاکا طیاروں میں ہوتا ہے۔ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے ایئر کرافٹ مینو فیکچرنگ فیکٹری پی اے سی کامرہ میں دسمبر 2013میں اس

سلسلے کا 50واں جے ایف 17طیارہ باضابطہ طور پر پاکستان ایئرفورس کے حوالے کیا۔ یہ طیارے پی اے ایف کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ڈیزائن کئے گئے ہیں اوران کی پاک فضائیہ میں شمولیت سے ایئرفورس کی حربی صلاحیت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور 2005میں چین نے پاکستان کو نیوی کے لئے ایف 22پی فریگیٹس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ساتھ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا۔ یہ فریگیٹ ہر طرح کے پُرخطر ماحول میں آپریٹ کئے جا سکتے ہیں اور سطح آب سے سطح آب پر دور تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہیں۔ ان چھوٹے بحری جنگی جہازوں کے ذریعے بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ جنوری 2008 میں چین نے پاکستان کے لئے پہلے ایف 22پی فریگیٹ کی تیاری کے لئے پراجیکٹ کا اجرا کیا۔ معاہدے کے تحت چار میں سے تین فریگیٹ چین میں بنائے جانے تھے جبکہ چوتھا فریگیٹ کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں مکمل ہونا تھا۔ پہلا ایف 22فریگیٹ 2008میں پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ یہ جنگی بحری جہاز میزائلوں کے علاوہ ڈیپتھ چارجز‘ تارپیڈوز‘ 76ایم ایم کی جدید ترین گنوں‘ کلوز اِن ویپنز سسٹم (CIWS) سنسر‘ الیکٹرانک وار فیئر اور ایڈوانسڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور آبدوز شکن 29ECہیلی کاپٹروں سے لیس ہے۔ چین جو پاکستان کی دفاعی صنعت کی قوت کا ایک اہم بازو رہا ہے اس نے پاکستان کی مسلح افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں حتی الامکان فنی معاونت فراہم کی ہے۔ چین دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہے اور اس نے اس ضمن میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہا ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں امن و سلامتی کے لئے دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ ضروری ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج اپنی عسکری صلاحیتوں کو جانچنے کے لئے مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد بھی کرتی رہتی ہیں۔ ان مشترکہ جنگی مشقوں میں جدید جنگی تصورات کو آزمایا جاتا ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاک چین تعلقات صرف دو طرفہ حیثیت نہیں رکھتے بلکہ جنوبی ایشیااور پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لئے بہت اہم ہیں۔ اس دوستی میں باہمی اعتماد اور خود انحصاری کا پہلو قابل رشک حد تک نمایاں ہے۔ امن ہویا جنگ اہل پاکستان نے اپنے چینی بھائیوں کو ہمیشہ اپنے شانہ بشانہ پایا ہے اور پاکستان نے بھی چین کے لئے پوری دنیا کے ساتھ رابطے کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ اس پختہ دوستی کا اعجاز ہے کہ عالمی اور علاقائی سطح پر حالات و واقعات کی تبدیلیاں ان دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد اور تعاون کے ناقابل شکست رشتوں پر کبھی اثر انداز نہیں ہوئیں۔ پاکستان چین تعلقات کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ‘ چین تعلقات قائم کرنے میں پاکستان نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے 1970میں پاکستان کے ذریعے چین کا خفیہ دورہ کیا اوریوں دونوں ممالک کے تعلقات استوار ہوئے۔ دفاعی تعلقات میں دونوں ممالک نے کئی مثالیں قائم کی ہیں۔ آخر میں چینی وزیراعظم لی کیکیانگ کے وہ الفاظ دہراتے ہیں جو انہوں نے کہے تھے کہ اگر آپ چین سے محبت کرتے ہو تو پاکستان سے محبت کرو۔ یہی وہ پاکستان چین تعلقات ہیں جو سمندروں سے گہرے‘ ہمالیہ سے اونچے اور شہد سے میٹھے ہیں۔ پاکستان چین دوستی زندہ باد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصنف انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڑیٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں۔

’’انگریزی شنگریزی‘ اُردو شردو‘‘

کرنل ضیاء الاسلام

جب سے دنیا گلوبل ویلج بنی ہے ہمارے معاشرے نے بھی ترقی کے چکر میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کی ایسی ٹانگیں کھینچی ہیں کہ الامان۔ گویا مغرب کے انگریزی شنگریزی کے چکر میں اپنی اُردو شُردو بھی خراب کر بیٹھے ہیں۔ میرا بڑا بیٹا کلاس 7th میں پڑھتا ہے۔ درجہ ہفتم میں اس لئے نہیں لکھ رہا کہ اگر وہ یہ پڑھ لے (یعنی ’’اگر‘‘ وہ پڑھ لے)تو کہے گا کہ میں نے تو یہ ابھی تک نہیں پڑھا۔ خیر وہ ساتویں کلاس میں پڑھتا ہے۔ اس کی ماں جو اردو میں ماسٹر ہے‘ اسے اردو پڑھاتی ہے۔ اکثر مجھے بھی زبردستی بچوں کو پڑھانے بٹھاتی ہے۔ تب یہ شاہکار مجھ پر آشکار ہوتے ہیں۔ ایک دن اس نے بچے سے مستورات کا مطلب پوچھا۔ بچے نے کہا کہ جملے میں استعمال کر کے بتائیں تب میں معنی بتا سکوں گا۔ ماں نے جملہ بنایا۔ ’’ہمارے گھر میں مستورات کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔‘‘ محترم نے بڑی معصومیت سے مستورات کا معنی بتایا ’’فرنیچر‘‘۔ اس نے سوچا ہو گا کی میری ماں گھر میں سب سے زیادہ خیال کس کا رکھتی ہے۔ ذہن میں لازماً فرنیچر ہی آتا ہے۔ اب وہ مستورات کا معنی ’’ابو جی‘‘ بتانے سے تو رہا۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ شایانِ شان کا مطلب بتاؤ؟ معنی بتانے کے لئے وہ حربہ ایک ہی استعمال کرتا ہے کہ جملے میں استعمال کر کے بتائیں۔‘‘ میں نے جملہ بنایا ’’یہ میرے شایان شان نہیں ہے۔‘‘ صاحب نے جواب دیا کہ شایان شان کا مطلب ہے ’’کار‘‘۔ وہ ’’اقرار‘‘ کو ’’اکرار‘‘ ’’فرصت‘‘ کو ’’فراست‘‘ لکھتا ہے۔’’نگہداشت‘‘ لکھنا وہ سیکھ گیا ہے۔ جملہ بناتا ہے۔ ’’میرے دوست کی نگہداشت میں چوروں کو جیل بھجوایا گیا۔‘‘ اب ہم بچوں کی جس طرح نگہداشت کرتے ہیں‘ بے چاروں کو نگرانی ہی معلوم ہوتی ہو گی۔ یہ مت سمجھئے گا کہ میرا چھوٹا بیٹا کوئی فاضل اردو ہے۔ وہ اردو لکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے رسم الخط تبدیل ہو گیا ہے۔ اور اب اردو بائیں طرف لکھی جاتی ہے۔ خیر وہ تو بولتا بھی فرنگی اردو ہے۔ خ کو کھ بولتا ہے اور کھ کو خ۔ لہٰذا لکھتا بھی اسی طرح ہے۔ اس کے ہاں خالہ ’’کھالا‘‘ ہے کھانا ’’خانہ‘‘ ہے۔ خانہ خراب‘ ’’کھانا کھراب‘‘ ہے۔ خط کو ’’کھت‘‘ لکھتا ہے اور خطائی کو ’’کھتائی‘‘۔ محترم لکھتے ہیں ’’میرے کھالہ نے میرا خانہ کھراب کر دیا۔‘‘ اب پتا نہیں اس کی خالہ نے اس کا خانہ خراب کیا تھا یا کھانا خراب کیا تھا؟ بڑا ہو گا تو خود ہی معاملہ سمجھ میں آئے گا۔ خیر اب سب قصور بچوں کا بھی نہیں ۔ میں نے منگنی کے بعد اپنی منگیتر (جو اب میری نصف بہتر ہے) کو ایک خط لکھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ میں ایک بہت امیر آدمی نہ تھا اور میری ’’مسروقہ اور غیر مسروقہ جائیداد‘‘ میں چند ہی قابل بیان اشیا تھیں۔ فاضلہ اردو نے شادی کے بعد ہنس ہنس کر بتایا کہ میرے مجازی خدا میں تو آپ کو چور سمجھ بیٹھی تھی۔ وہ بھلا ہو مجھے وقت پر سمجھ آ گئی کہ آپ کا مقصد اپنی ’’متروکہ و غیرمتروکہ‘‘ جائیداد گنوانے کا تھا۔ اب یاد آتا ہے تو شکر ادا کرتا ہوں ورنہ ایک نقطہ کے فرق سے ’’محرم‘‘ سے’’ مجرم‘‘ والا معاملہ ہو جانا تھا۔ قصہ مختصر ہم اپنی مادری زبان کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں‘ یہ ہماری بول چال اور تحریر سے واضح ہے۔ کاش ہمیں معلوم ہو جائے کہ ہم نے اپنے بچوں کو کیا اور کس زبان میں پڑھانا ہے۔

یہ تحریر 48مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP