قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک چین دوستی زندہ باد

پاک چین دوستی زندہ باد

ba-Zhong You yi Wan Sui

چین کے یوم آزادی اور پاک چین دوستی کے حوالے سے ایک سروے رپورٹ

 

پڑوسی ملک چین کے یوم آزادی کی مناسبت سے ہر سال یکم اکتوبر کو نیشنل ڈے آف پیوپلز ریپبلک آف چائینہ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ پاکستان کی سرحد کے ساتھ قراقرم کی

چوٹیوں کے اس پار موجود یہ ملک اس روز 1949 کی ایک عظیم تبدیلی کی یاد تازہ کرتا ہے جب ماؤزے تنگ نے کائیگوؤ ڈاڈئین یعنی پیوپلز ریپبلک کے قیام کی جدوجہدکو حقیقی شکل دی۔

پاک چین دوستی کا آغاز 1950 میں ہوا جب پاکستان نے باقاعدہ سرکاری طور پر چین کی پیپلز جمہوریہ سے سفارتی تعلقات کی ابتداء کی۔ مگر آج کئی مراحل طے پا کر یہ دوستی نہ صرف تمام موسموں کی یاراں ہے بلکہ سمندروں سے بھی گہری ہے۔ حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان کئی ایسے ترقیاتی منصوبے طے پائے جن میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور اور صدیوں سے موجود شاہراہ ریشم کی شاخ شاہراہ قراقرم کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔

 

یہ دوستی صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں بہت سے چینی افراد روزمرہ کے کاروبار کے سلسلوں میں مصروف نظر آتے ہیں جن میں اکثر ریسٹورنٹ‘ ڈینٹسٹ‘ جوتوں کے کاروبار‘ بیوٹی پارلرز وغیرہ سے وابستہ ہیں۔ غرض اسی برادرانہ احساس کو عام فرد کی نظر سے سمجھنے کے لئے چند سوالات پر مشتمل پاکستانیوں اور چینیوں کے تاثرات اس رپورٹ میں قلمبند کئے گئے ہیں۔

 

’’ فرانسز وانگ ‘‘ بوٹ ہاؤس کے مالک بچپن سے اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہیں۔ اپنی آبائی جڑیں چین سے منسلک ہونے کے باوجود ان سے بات چیت کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وطن کے لئے ان کے احساسات کسی عام پاکستانی سے مختلف نہیں۔ وہ پاک فوج کی سرگرمیوں کی قدرافزائی کرتے ہیں کہ پاکستان آرمی کی جدوجہد پاک چین دوستی کو بہتر سے بہترین مقام تک پہنچا سکتی ہے۔ دونوں ملکوں میں برادرانہ تعاون کو فروغ دینے کے لئے ان کا خیال ہے کہ اچھا تعاون اور مضبوط تعلق ضروری ہے۔ انہوں نے مزیدکہا ہماری کاٹیج صنعتوں کے سامان کی چین میں تجارت کی جائے تاکہ دونوں طرف عوام ایک دوسرے کی ثقافتی اشیاء سے بخوبی متعارف ہو سکیں۔

 

مس سنتھیا کم عمری سے ہی اپنے گھر والوں کا دکان میں ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ پاک چین دوستی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’دونوں ملکوں کے طلبا کو پڑھائی کے لئے یوتھ ایکسچینج پروگرام میں ہمسایہ ملک کو ترجیح دینی چاہئے۔ عجب نہیں کہ ایک دوسرے کے رسم و رواج کو سمجھ کر بہت سی دوستیاں خاندانی رشتہ داریوں میں تبدیل ہو جائیں۔ میں نے ایسی بہت مثالیں دیکھی ہیں اور میں دونوں ملکوں کی یکجہتی اور خوشحالی کے لئے دعاگو ہوں۔‘‘

 

اویس جو چینی زبان سیکھ رہے ہیں اور کہتے ہیں پاک چین تعلقات جو ہمیشہ اچھے رہے ہیں مستقبل میں بھی دونوں ملکوں کی سلامتی و ترقی کے لئے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ دونوں ملکوں میں طے پانے والے منصوبوں سے اس خطے میں یہ دوستی ضرب الامثال کی شکل اختیار کر لے گی۔‘‘

 

پاک چین دوستی کا شہد سے بھی زیادہ مٹھاس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب مس لیوئی جیسے لوگوں سے ملاقات ہو۔ جو خود پاکستانی تہذیب و تمدن سیکھنے اور یہاں بچوں کو چینی زبان سے روشناس کرنے کے لئے ہماری سرحدوں کے اندر گھر والوں کی طرح ہم سے گھل مل جاتے ہیں۔ میں بچپن ہی سے پاکستان کی عظیم تاریخ کے بارے میں سنتی آ رہی ہوں۔ یہی تجسس مجھے یہاں کھینچ لایا ہے۔ آنے والا کل تو خود اس دوستی کی چمکتی روشنی کو پھیلائے گا لیکن مجھے مسلسل بڑھتے ہوئے تعاون اور اعتماد پر کوئی شک نہیں۔وہ اپنے خیالات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’میرے وطن میں عام کہاوت ہے کہ پاکستان اور چین سورج کی دھوپ میں ایک دوسرے کے ہمقدم (بھائی) ہیں۔‘‘

 

لیفٹیننٹ کرنل شبیر الدین کا کہنا تھا کہ پاک چین برادرانہ تعلقات پُرعزم سوچ اور جذبے کے عکاس ہیں اور دونوں ممالک گزشتہ تین دہائیوں میں بہت سے مراحل میں ایک دوسرے کی لاج رکھے ہوئے ہیں۔ چینیوں کے لئے پاکستان دوسرا دیس ہے۔ پاک چین کوریڈورجیسے منصوبے ایسے قدم ہیں جو تجارتی فروغ کے ساتھ اعتماد کو مزید پختہ کریں گے۔ ان کی رائے ہے پاکستان میں چینی زبان لازماً سکھانی چاہئے تاکہ دونوں کے درمیان لسانیت کا پل قائم ہو۔ نمل یونیورسٹی کے سید

محمد ارشد چینی زبان کے ایک ماہر استاد ہیں۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے وقت انہوں نے کہا کہ ہم ماضی سے ہی دیکھتے آ رہے ہیں کہ ہر محاذ پر چین نےپاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ چائنا۔ پاکستان اکنامک کوریڈور کا منصوبہ ہماری آئندہ نسلوں کے لئے بے حد مفید ثابت ہو گا۔

 

 

چینی زبان کے لیکچرر ساجد حسین پاک چین دوستی میں خود کو دونوں زبانوں کے درمیان پل سے مشابہت دیتے ہیں۔ آج کے دور میں چین سے تعلقات اول اہمیت کے حامل ہیں اور قراقرم جیسے ترقیاتی منصوبے اس بات کا عملی ثبوت ہیں لیکن مستقبل میں قریب ہونے کے لئے ایک دوسرے کی تہذیب و تمدن سے ناآشنا رہنے کی گنجائش نہیں۔

یقیناًاساتذہ ان دو قوموں میں نوجوان نسل کے درمیان دوستی کے بہترین احساس کو اجاگر کرکے پروان چڑھا سکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں پچھلے ستمبر چین سے تشریف لانے والے

 

استاد مسٹر فو جان کا کہنا ہے کہ میں نے پاکستان کو صرف پڑوسی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے چنا کیونکہ دنیا کا خوبصورت ترین جغرافیہ اس کا نقش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری آئندہ نسلوں کو ایک دوسرے کے رہن سہن سے عادی ہو کر مقامی سطح پر تجارت کو فروغ دینا ہو گا تاکہ دونوں طرف کے باشندے زندگی کو سنوارنے کے بہترین مواقع حاصل کر کے بے تکلفی سے گھل مل سکیں۔ کیونکہ میں خود پاکستانی تہذیب کو ایسے ہی سیکھنا چاہتا ہوں۔

 

 

کنزہ یونیورسٹی کی طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ ’بیدار‘ این جی او میں سوشل ورکر کا کام بھی سرانجام دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ای سی سے منسلک

منصوبوں سے انفرا اسٹرکچر بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ یقیناًبے روزگاری جیسے مسائل میں بھی کمی ہو گی۔ انہیں کچھ عرصہ پہلے چینی زبان سیکھتے وقت چند چینیوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ اس پر انہوں نے مزید کہا کہ ’’ان کے برادرانہ جذبات ہم سے مختلف نہیں اور بارڈر کی دونوں جانب آئندہ نسلیں اس پراعتماد اور

پختہ یقین رکھیں گی۔‘‘

 

پاک چین دوستی پر بہت لوگوں سے بات کرنے کے بعد ’ادیب‘ سے ملاقات ہوئی چین میں کچھ عرصہ قیام کے تجربے کا ذکر کرتے وقت انہوں نے بتایا کہ مجھے

پاک چین دوستی کے برادارنہ تعلقات کا احساس تب ہوا جب چین میں خود کو پاکستانی بتانے پر لوگ مجھے بے ساختہ گلے لگا لیتے۔ ہمیں بطور پاکستانی چین سے بہت قریبی سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ جوپہلے ہی اعتماد اور اخلاص کی بنیاد پر استوار ہیں۔

پاک چین دوستی زندہ باد

ba-Zhong Youyi WanSui

یہ تحریر 24مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP