متفرقات

پاک ٹی ہاؤس کا دوبارہ احیاء

مال روڈ، بارش، شدید سردی اور نئے پاک ٹی ہاؤس کی جگمگاتی عمارت لاہور کی مشہور شاہراہ پر چوک نیلا گنبد کے قریب واقع چائے خانہ بے حد دلکش دکھائی دے رہا تھا۔ یہ چائے خانہ لاہور میں انارکلی بازار سے چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے لیکن اپنے یورپی طرز تعمیر کے ساتھ پیرس کے کسی کیفے کا منظر پیش کرتا تھا۔ بالخصوص اس کا ماتھا جس پر جلی حروف میں ’’ٖPAK TEA HOUSE‘‘ لکھا تھا ‘ اپنے مخصوص وکٹورین طرز کے دروازے ، کھڑکیوں او ر چھجوں کے ساتھ پہلی نظر میں کوئی یورپی عمارت ہی معلوم ہوتا تھا ۔عمارت کا ماتھا اس پرڈالی جانے والی روشنی کی وجہ سے بڑے رومانوی انداز میں منور تھا۔ راقم پاک ٹی ہاؤس میں داخل ہوا تو ایک خوشگوار احساس نے اسے گھیرلیا۔ باہر شدید ٹھنڈ کے باوجود اندر کا ماحول حرارت سے بھرپور تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی ایک سال قبل اس چائے خانے کے دوبارہ آغاز کے بعد میں پہلی بار یہا ں آیا تھا۔ اندرونی حصے میں وائٹ اور کریم کلر پینٹ کیا گیا تھا۔فرش ماربل کی بڑی بڑی چوکور ٹائلوں پر مشتمل تھا اورمرکزی دروازے کے ساتھ دونوں گوشوں میں رکھے گئے لیمپ اور دیواروں پر موجود قمقمے ماحول میں ایک نفیس دودھیا روشنی بکھیر رہے تھے۔ مرکزی دروازے کے بالکل سامنے کچن تھا جہاں سے چائے اور کھانے کی فراہمی جاری تھی۔ ڈارک براؤن کرسیاں اور میزیں ادیبوں، شاعروں، طالب علموں اور دیگر ادب دوست لوگوں سے پُر تھیں۔ فضا میں سگریٹوں کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔ پورا چائے خانہ اہل فکر کی گفتگو اور چائے اور کھانے کے برتنوں کی کھنک سے گونج رہا تھا۔یہ چائے خانے کے نچلے حصے کا منظر تھا۔

لکڑی کے خوبصورت جنگلوں اور نفیس قدمچوں والا زینہ واحد بالائی فلور کی طرف جاتا تھا اور وہاں بھی کرسیاں میزیں مکمل طورپر بھری ہوئی تھیں۔یہ اوپری فلور جو پرانے پاک ٹی ہاؤس میں عنقا تھا، نوتعمیر شدہ چائے خانے کی دلکشی کو چارچاند لگا رہا تھا ۔راقم جب اوپر پہنچا تو یہاں پرمعروف ادبی تنظیم انجمن ترقی پسند مصنفین کا بھرپور اجلاس جاری تھا۔اور کیوں نہ ہوتا، پاک ٹی ہاؤس اصل میں ترقی پسند ادیبوں کا ہی مرکز تھا اور یہیں سے ہی نوآزاد مملکت پاکستان میں ترقی پسند ادب کی لہر چلی تھی۔معلوم ہوا کہ اجلاس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے تین طالب علموں کی تخلیقات موضوع بحث تھیں۔اس وقت عبدالباسط کے افسانے ’’فریبی امید‘‘ پر گرما گرم تنقیدی بحث جاری تھی۔راقم بھی اس فکر انگیز بحث کو دلچسپی اور عقیدت سے سننے لگا ۔سینیئر ادیب اور نقاد خاصی دیر تک افسانہ نگار کی تخلیقی اٹھان او ر کردار نگاری کو ہدف تنقید یا مرکز تحسین بنائے رہے۔کچھ نقاد اس کے پلاٹ کی خامیوں پرتبصرہ فرمارہے تھے اور کچھ اس کے نظریاتی مثبت پہلوؤں کو اجاگر کررہے تھے۔ وہ افسانہ نگار کی تحریر میں سے ایسی دور دور کی کوڑیاں لا رہے تھے کہ شاید افسانہ نگار کو بھی اپنی تخلیق کی اس گہرائی کا علم نہ تھا۔اس کے بعد طالب علم جنید رضا کے مضمون پر بحث کی گئی۔سب سے آخر میں عدنان فرخ کی شاعرانہ تخلیق کو سناگیا او ر اس پر بھی طویل تنقید پیش کی گئی۔اجلاس کی صدارت عابد حسین عابد کررہے تھے جبکہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے سیکریٹری عبدالوحید بھی موجود تھے۔شرکاء میں تنظیم کے سرگرم ارکان رشید مصباح ، حسنین جمیل ، زاہد مسعود سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔خاصی دیر بعد اجلاس ختم ہوا تو راقم نے سینئر ادیبوں اور دیگر شرکاء سے مصافحہ کیا۔اس کے بعد سب لوگ غیررسمی گفتگو اور بحث مباحثے میں مشغول ہوگئے یا چائے نوش فرمانے لگے۔

خود کلامی

منیر نیازی

مر بھی جاؤں تو مت رونا

اپنا ساتھ نہ چھوٹے گا

تیری میری چاہ کا بندھن

موت سے بھی نہ ٹوٹے گا

میں بادل کا بھیس بدل کر

تجھ سے ملنے آؤں گا

تیرے گھر کی سونی چھت پر

غم کے پھول اگاؤں گا

جب تو اکیلی بیٹھی ہوگی

تجھ کو خوب رلاؤں گا

راقم الحروف بھی ایک نشست پر بیٹھ کر چائے پینے لگا۔کچھ دیر بعد شرکاء کی بڑی تعداد وہاں سے چلی گئی اور ماحول پر نسبتاً سکوت چھاگیا۔راقم نے بغور ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ چائے خانے کی مرکزی دیواروں پر نامور ادیبوں اور شاعروں کی خوبصورت فریم شدہ بلیک اینڈ وائٹ تصاویر آویزاں تھیں ۔راقم اپنی نشست سے کھڑا ہوکر ایک ایک تصویر کو بغور دیکھنے لگا۔یہ تصاویر اسے یاد ماضی میں مبتلا کررہی تھیں۔ ان میں کچھ تصاویر پاک ٹی ہاؤس میں ہی لی گئی تھیں جبکہ کچھ تصاویر پورٹریٹس پر مشتمل تھیں اور قیام پاکستان سے پہلے اور بعد دونوں زمانوں کی تھیں۔ایک تصویر میں فیض احمد فیض اپنے مخصوص انداز میں سگریٹ سلگائے احباب سے محو گفتگو تھے اور ایک تصویر میں ناصرکاظمی کا استخوانی چہرہ نمایاں تھا۔ایک تصویر منٹو کے پورٹریٹ پر مبنی تھی جس میں وہ اپنا مخصوص کرتا پہنے کسی گہری سوچ میں غرق دکھائی دیتے تھے۔اس طرح کہیں کسی تصویر میں اشفاق احمد دکھائی دے رہے تھے او ر کہیں میرا جی ، جوش ملیح آبادی اور ساحر لدھیانوی کے چہرے جگمگا رہے تھے ۔اسی طرح امرتا پریتم ، ایم ڈی تاثیر ، منشی پریم چند اور کرشن چندر جیسے نابغہ روزگار اہل قلم کے رخ روشن بھی تصاویر میں موجود تھے ۔یہ محض تصاویر نہ تھیں بلکہ اس امر کی گواہی تھی کہ یہ سب نامور ادیب اور شعراء کسی زمانے میں پاک ٹی ہاؤس کو رونق بخشا کرتے تھے۔

پاک ٹی ہاؤس کی وجہ شہرت ترقی پسند ادبی تحریک اور ترقی پسند ادیبوں سے ہی منسلک ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس تحریک کا جنم یہیں سے ہوا۔ترقی پسند ادیبوں ، شاعروں اور اہل قلم کے علاوہ قدامت پسند ، دائیں بازو اور غیرجانبدار حلقے کے اہل قلم بھی یہاں آیا کرتے تھے لیکن اس پر غلبہ اور چھاپ بہرحال ہمیشہ ترقی پسند ادبی تحریک کی رہی۔ یہاں پر جو اہل قلم تواتر سے آیا کرتے تھے ان میں فیض احمد فیض ، آغا شورش کشمیر ی ، ابن انشاء ، احمد فراز ، سعادت حسن منٹو ، منیر نیازی ، میرا جی، کمال رضوی ، ناصر کاظمی، پروفیسر سجاد رضوی، ڈاکٹر محمد باقر، مجروح سلطان پوری، کرشن چندر، سید قاسم محمود، راجندر سنگھ بیدی، فراق گورکھپوری ، حبیب جالب اور دیگر نامور اہل قلم شامل تھے۔ برصغیر میں ترقی پسند ادبی تحریک کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں۔لکھنؤ میں دس اپریل 1936 میںآل انڈیا رائٹرز ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی گئی جبکہ جولائی 1936 میں کلکتہ میں ترقی پسند رائٹرتحریک کی داغ بیل پڑگئی۔ اس سے صرف ایک سال پہلے 1935 میں لندن میں انڈین پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی جاچکی تھی۔تاہم پاکستان میں ترقی پسند ادبی تحریک آل پاکستان پروگریسو رائٹرزایسوسی ایشن کا قیام دسمبر 1947 میں ہوا ۔پاکستان میں فیض احمد فیض ، حمید اختر اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دیگر اہل قلم اس تحریک کے سرخیلوں میں شامل رہے۔ پاک ٹی ہاؤس کے وجود نے اس کو دامے‘ درمے‘ سخنے آگے بڑھایا جہاں نہ صرف ترقی پسند ادیب چائے نوشی کے نام پر جمع ہوتے تھے بلکہ ان میں مختلف موضوعات پر پرمغزمباحثے اور اجلاس بھی ہوا کرتے تھے ۔

1932 میں جب ایک سکھ خاندان نے اس چائے خانے کی بنیاد ڈالی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ چائے خانہ اس قدرمشہور ہوگا۔کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ کس طرح یہ معمولی چائے خانہ برصغیر پاک وہند میں ترقی پسند ادبی تحریک کا مرکز بن جائے گا جہاں ہر وقت نامور اہل قلم کا جمگھٹا رہے گا اور وہ ہمہ وقت ادبی گتھیاں سلجھاتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اس زمانے میں یہ ’’انڈیا ٹی ہاؤس ‘‘ کہلاتا تھا اور تقسیم برصغیر سے قبل ہی اہل قلم کا ڈیرہ بن گیا تھا۔ اس زمانے میں اس چائے خانے میں ہر مذہب و فرقہ سے تعلق رکھنے والے اہل قلم چائے نوشی کے لئے آیا کرتے تھے ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی اس کا یہی معمول رہا لیکن اب اس کو ’’پاک ٹی ہاؤس ‘‘ کا نیا نام دیا جاچکا تھا اور اب اس کا مالک بھی سکھ خاندان کے بجائے ایک مسلمان پاکستانی خاندان تھا۔ معلومات کے مطابق 1940 میں اس چائے خانے کو مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی عالمی تنظیم ’’وائی ایم سی اے‘‘ نے لے لیا۔قیام پاکستان کے بعد لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے وائی ایم سی اے سے اس کو کرائے پر لے لیا اور یہاں پر’’ انڈیا ٹی ہاؤس‘‘ کی جگہ ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ کی بنیاد ڈالی ۔ممتاز اہل قلم کی آمد کے نتیجے میں اس کی شہرت پاکستان بھر میں پھیلتی چلی گئی ۔ پاک ٹی ہاؤس جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ ترقی پسند ادبی تحریک اور اس سے وابستہ اہل قلم کی آماجگاہ تھا۔ اب یہ ایک بار پھر ترقی پسند ادیبوں کا پسندیدہ ٹھکانہ بن گیا ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین جس کے اجلاس پہلے ناصرباغ میں واقع چوپال میں ہوا کرتے تھے ، اب پاک ٹی ہاؤس میں بھی منعقد ہورہے ہیں۔ اس پیش رفت نے ترقی پسند ادیبوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

ایک وقت ایسا آیا کہ پاک ٹی ہاؤس کے مالکان نے کاروباری طورپر فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے اس مشہور چائے خانے کو بند کردیا اور یہاں پر ٹائروں کی دکان کھول دی گئی ۔طویل عرصے تک ٹی ہاؤس بند رہا اور اہل قلم ایک عظیم ثقافتی ورثے کو ٹائروں کی دکان کے روپ میں دیکھ کر کڑھتے رہے۔پاک ٹی ہاؤس کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے اہل قلم اور مالکان کے درمیان سالہاسال کشمکش چلتی رہی اور معاملہ عدالتوں میں بھی چلتا رہا۔چائے خانہ لگ بھگ تیرہ سال تک بند رہا۔ تاہم آخر کار اہل قلم کی جدوجہد رنگ لائی اور 2012 میں پنجاب حکومت نے چائے خانے کو دوبارہ کھولنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس سلسلے میں عطاالحق قاسمی جیسے بارسوخ ادیبوں اور حکام کی کاوشیں نمایاں طورپر قابل قدر ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومت کو قائل کیا۔ انہوں نے حکمرانوں کو قائل کیا کہ پاک ٹی ہاؤس ایک ثقافتی ورثہ ہے اور اس کو یونہی ضائع ہونے دینا کسی بھی طر ح دانش مندی نہیں۔ان کی کوششیں رنگ لائیں ۔ چائے خانے کو نئے سرے سے جدید انداز میں دوبارہ تعمیر کیا گیا اوردوبارہ اسے اہل قلم اور عام عوام کے لئے کھول دیا گیا۔معلومات کے مطابق پرانا پاک ٹی ہاؤس محض ایک ہال نما کمرے اور سستی قسم کی کرسیوں میزوں پر مشتمل تھا لیکن نیا پاک ٹی ہاؤس جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے جس کا فرنیچر‘ کراکری اور طرز تعمیر سب کچھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے ۔

پاک ٹی ہاؤس اب پہلے سے بھی زیادہ شہرت اختیار کرچکا ہے ۔نہ صرف عصر حاضر کے نامور ادیب ، شاعر ، طالب علم ، اہل ذوق اور عام لوگ اس کی زیارت کو آتے ہیں بلکہ غیرملکی سیاح بھی اس کی شہرت سے متاثر ہوکر اس ثقافتی ورثے کو دیکھنے آتے ہیں۔ نوتعمیر شدہ پاک ٹی ہاؤس کا افتتاح خود وزیراعظم نوازشریف نے کیا۔ امید کی جاتی ہے کہ جس طرح پاک ٹی ہاؤس نے ماضی میں ترقی پسند ادبی تحریک کو جلا بخشی اوربڑی تعداد میں ترقی پسند اہل قلم کی تخلیقات کو فروغ دے کر ان کو نمایاں کیا ۔ اس طرح یہ ایک بار پھر اس تحریک میں جان پیدا کرے گا اور آنے والے دور میں اس کی دیواروں پر موجود اہل قلم کی تصاویر میں نئی تصاویر کا اضافہ ہوگا۔

یہ تحریر 106مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP