متفرقات

پاک فوج اور سرسبز و شاداب پاکستان

پاکستان آرمی، حکومت پاکستان کے کلین گرین پاکستان (پانچ سالوں میں 10بلین درخت لگانے کی) مہم میں پیش پیش ہے۔ گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی اس مہم میں شامل ہوتے ہوئے درخت لگایا۔ 2018ء میں پاک فوج نے ''سرسبز و شاداب پاکستان '' کے نام سے اس مہم میں شمولیت اختیار کی اورافواجِ پاکستان کی مختلف فارمیشنز نے2018 سے اب تک تقریباً 29 ملین درخت لگائے جبکہ5ملین درخت صرف اس سال مون سون میں لگائے گئے۔آرمی چیف نے فورٹ عباس میں جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی ماحول کی بہتری کے لئے پاک فوج نے نہ صرف مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم میں حصہ لیا بلکہ جنگلات کو بے دریغ کٹائی سے بچانے میں دیگر قانون فافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور مدد بھی کی۔



وزیرِاعظم عمران خان نے ملک بھر کے لوگوںکو ''کلین گرین پاکستان''  کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو کہا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کوماحولیاتی خطرات سے مکمل آگاہی ہے اور وہ اس میں ملک بھر کے تمام شعبہ جات سے وابستہ افراد مثلاً لیڈرز، طالب علم، مزدوراورعام عوام کو اپنا کردار ادا کرنے پر زور دے رہی ہے۔
قرآن و احادیث میں بھی پودوں اور درختوں کا مفصل ذکر ہوا ہے کچھ پھل دار درختوں کا ذکرقرآنِ مجید میں بار بار کیاگیا جیسا کہ انجیر ، زیتوں ، انار ، انگور وغیرہ۔ درخت لگانا سنتِ رسولۖ بھی ہے۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ۖ نے ارشاد فرمایا'' جو مسلمان کوئی پودا یا کھیتی بوتا ہے اور اس سے کوئی پرندہ یا انسان کھاتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ بن جاتا ہے۔'' ہم میں سے کون ایسا ہوگا جو اپنے لئے صدقہ جاریہ کا اہتمام نہ کرنا چاہتا ہو۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں بار ہا لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ آئو اور سوچو کہ میری پیدا کردہ  چیزوں میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ ان چیزوں میں درخت اور پودے بھی شامل ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی تیسری دنیا کے ممالک کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ نہ صرف لوگوں کی صحت کے لئے مضرہے بلکہ اس کرئہ ارض کے لئے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ شہروں کو صاف رکھنا، صفائی کی عادت اپنانا، مناسب نکاسیِ آب کا انتظام کرنا اور درخت لگانا ہمارے ملک کو سرسبز اور خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ ہمارا دین ''اسلام'' بھی ہمیں صفائی کی تلقین کرتا ہے اور اس کی ترغیب دینے کے لئے صفائی کو نصف ایمان بتایاگیا ہے۔ صفائی کے ساتھ ساتھ پودوں اور درختوں کا اضافہ نہ صرف ہمارے ماحول کو خوشگوار بناسکتا ہے بلکہ بنی نوع انسان اور اس خطۂ زمین کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔ اس کے علاوہ درخت اور جنگلات جانوروں اور پرندوں کا مسکن بھی ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں جنگلات تقریباً 80 فیصد جانوروں اور پرندوں کو اپنے اندر سمو ئے ہوئے ہیں اور ان پرندوں اور جانوروں سے تقریباً 13 ملین انسانوں کا روزگاربھی منسلک ہے۔
پاکستان فورسٹری آؤٹ لک کی ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان کے تقریباً 4.34 ملین ہیکٹرز علاقے پر جنگلات ہیں جو کہ ملک کا تقریبا پانچ فیصد ہے جب کہ کسی بھی ملک کی معتدل آب و ہوا کے لئے ملک کے 25 فیصدحصے پر جنگلات ہونے چاہئیں۔ مالاکنڈ، خیبر پختونخوا اور ہزارہ میں کافی زیادہ رقبے پر جنگلات ہیں لیکن انتظامی بدحالی اور کرپشن کے باعث اربوں روپے مالیت کے درخت کاٹے جاچکے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کا نقصان ماحولیاتی آلودگی، زمینی کٹائو، بارشوں میں کمی، سیلاب، گلوبل وارمنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ درخت فصلوں کو بھی موسم کی سختیوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔



درخت انسان کا قیمتی سرمایہ ہیں دیکھا جائے تو درخت ہمارے ماحول کو سنوارنے میں اہم کردار ادا رکرتے ہیں۔ انہی کی بدولت ہم صاف ہوا، غذا ، پانی، ایندھن ، پھل ، میوہ جات حاصل کرتے ہیں اس کے علاوہ بہت سے درختوں سے ہمیںادویات بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں درخت لگانے سے زیادہ ان کو کاٹنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے (2018-19) میں بتایا گیا کہ ٹمبر اور فیول کی مد میںسالانہ تقریباً44 ملین کیوبک میٹر لکڑی استعمال ہوتی ہے جبکہ یہاں قدرتی جنگلوں کی سالانہ پیدوار تقریباً14.4 ملین کیوبک میٹر ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں جنگلات میں مزید کمی آتی جارہی ہے جو ہمارے ماحول کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ اگر درختوں کو کاٹنا ضروری ہے تو ہمیں چاہئے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پودے اور درخت لگائیں۔ وزیراعظم پاکستان کے کلین گرین پاکستان پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہر شہری پر فرض ہے کہ بہتر ماحول ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن بہتر ماحول کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنے گھروں میں پودے اور درخت لگائیں۔ دیہاتوں میں تو یہ سب اتنا مشکل نہیں کیونکہ وہاں جگہ میسر ہوتی ہے لیکن شہروں میں درخت لگانا کافی محنت طلب کام ہے پاکستان میں شہری آبادی کی اکثریت لوئر اور مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے ان کے لئے درخت اور پودے لگانا مشکل ہے۔ اس میں سب سے بہترین کام جو کیا جاسکتا ہے وہ کچن گارڈننگ  ہے۔ آپ اپنے گھر میں آسانی سے چھوٹے چھوٹے پوٹس میں روز مرہ استعمال ہونے والے جڑی بوٹیاں اور پودے لگا سکتے ہیں۔ جن سے گھر کا ماحول بھی اچھا رہے گا اور آپ کو سہولت بھی رہے گی۔آج کل گھروںکی چھتوں پر بھی لان بنانے کا رجحان نظر آرہا ہے جو دیکھنے میں خوبصورت بھی لگتے ہیں اور ماحول کو  بھی خوشگوار بناتے ہیں۔ لیکن چھت پر لان بنانے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ کسی آرکیٹیکٹ یا انجینیئر کو بلا کر اس سے مشورہ کرلیں کہ آپ کے گھر کی چھت اس سیٹنگ کی متحمل ہو سکتی ہے یا نہیں۔اس کے علاوہ جو لوگ نئی ہائوسنگ سوسائٹیز بنا رہے ہیں انہیں چاہئے کہ اس میں گرین بیلٹس لازمی رکھیں جہاں درخت بھی لگائے جاسکیں۔
اگر آپ اپنے علاقے میں درخت لگانا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
٭ہمیشہ درخت ایسی جگہ پر لگائیں جہاں دھوپ ، ہوا اور روشنی کا مناسب انتظام ہو اور ایسے درخت کا انتخاب کریں جو آپ کے علاقے میں بہتر انداز میں نشو ونما پاسکے۔
٭جب درخت لگانے کے لئے جگہ کی کھدائی کریں تو پہلے اس بات کا یقین کرلیں کہ وہ جگہ پاور لائنز یا گھر کی یوٹیلٹی وائرز کے بہت پاس نہ ہو۔
٭جب درخت لگ جائے تو اسے مناسب مقدار میں پانی دیں، اگر کچھ ہفتوں تک بارش نہیں ہوتی تو درخت کو ضرور دیکھیں کہ اسے پانی کی ضرورت تو نہیں۔ عام طور پر درختوں کو ہفتے میںایک انچ پانی کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ نئے درخت کو ہر ہفتے 4 سے 10 گیلن پانی چاہئے ہوتا ہے۔
٭ درختوں کے لئے گوڈی بھی بہت ضروری ہے۔ یہ مٹی کو نرم رکھتی ہے اور خشک ہونے سے بچاتی ہے۔ اس لئے کوشش کریں کہ درخت کی وقتاً فوقتاً  گوڈی کرتے رہیں۔ تقریباً دو سے چار انچ تک درخت کی گوڈی کریں۔ 
٭درختوں کی کانٹ چھانٹ بھی باقاعدگی سے کرنی چاہئے۔ اس سے درخت کے بڑھنے کی رفتار بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ درخت کے ارد گرد سے گھاس اور خطرناک جڑی بوٹیوں کوبھی صاف کرتے رہنا چاہئے۔
٭درختوںکو بڑھوتری دینے کے لئے ان کی خوارک میں کھاد بھی لازمی شامل کریں اس سے ان کو مناسب غذائی اجزاء ملتے ہیں۔ کوشش کریں کہ درختوں کو باقاعدگی سے کھاد ڈالیں۔
٭سردی میں درختوں کو موسم کی شدت سے بچانے کے لئے درخت کو شیٹ، ٹاٹ یا موٹے کپڑے سے اس طرح ڈھانپ کر رکھیں کہ زمین کی گرمائش پودے تک پہنچے۔
٭اپنے درخت کو باقاعدگی سے چیک کریں۔ اکثر درخت کی لکڑی کو کیڑا لگنے کا خدشہ ہوتا ہے جو درخت کو بڑھنے نہیں دیتا اور لکڑی کو بھی کھوکھلا کردیتا ہے۔ اس لئے جیسے ہی کوئی ایسے نشانات ظاہر ہوں فوراً اس کا تدارک کریں۔
٭درخت کی مٹی کو بھی وقتاً فوقتاً چیک کروانا ضروری ہے۔ تاکہ اس کی زرخیزی چیک ہوتی رہے۔
یاد رکھیں کہ درخت بڑھنے میں وقت لیتے ہیںاس لئے ان کی مناسب دیکھ بھال کرتے رہیں وقت پر پانی دینا اور کھاد ڈالنا بہت ضروری ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور آلودگی سے پاک ماحول ہم صرف درخت لگا کر ہی حاصل کرسکتے ہیں۔درخت لگانا صدقہ جاریہ بھی ہے اور آنے والی نسلوں کی بقا بھی۔ کوشش کریں کہ درخت لگانے کے لئے گھروں سے باہر بھی نکلیں، اپنے ارد گرد کے لوگوں میں درختوں کی اہمیت کو اُجاگر کریں اور ان کے ساتھ مل کر اپنے اطراف میں درخت لگائیں خاص طور پر نوجوان طالب علموں کو متحرک کریں اور ان کے گروپس بنا کر انہیں درخت لگانے کا ٹاسک دیں اور ان کی رہنمائی کریں۔ ||
 

یہ تحریر 78مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP