قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاک روس تعلقات۔بدلتے ہوئے تناظر میں

آج پوری دنیا کی نظریں جنوبی ایشیا پر مرکوز ہیں جہاں جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے دواہم ممالک پاکستان اوربھارت واقع ہیں۔ اگر بھارت کی بات کی جائے تو جب سے نریندر سنگھ مودی نے وزارت عظمٰی کا قلمدان سنبھالا ہے تب سے لے کر اب تک بھارتی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح خطے میں عدم توازن پیدا کرنا ہے چاہے وہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرنے سے ہو یا بلوچستان میں ’را‘ کے ذریعے بغاوت کی تحریکوں کو جنم دینے سے ہو، بہرحال جو ریاست اپنی حدود کے اندر مذہب ، لسانیت یہاں تک کہ انسانیت کا بنیادی توازن بھی برقرار نہ رکھ سکے اس سے خیر کی امید رکھنا محال ہے۔


اگر پاکستان کی بات کی جائے تو 2008ء کے بعد سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہوچکاہے جوکہ ایک حدتک درست بھی تھا اور اس کی وجوہات ما ضی میں ہماری ناکام سیاسی پالیسیاں اور اندرونی دہشت گردی کا بڑھتا ہوا رجحان تھا۔ لیکن پچھلے دو سالوں سے حالات قدرے مختلف ہیں جس کی ایک وجہ خارجہ و قومی سلامتی کے امور پر تمام قومی اداروں کا ایک پیج پر ہونا ہے اور دوسری وجہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے منظور شدہ قومی ایکشن پلان ہے جس کے تحت پاک فوج نے ملک کے چپے چپے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور اب جبکہ وہ آپریشن کامیابی کے حتمی مراحل میں ہے تو ملک کے طول و عرض میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی سرکوبی کے لئے بلا امتیاز کومبنگ آپریشن بھی شروع کیا جا چکا ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ کی بطور مشیر قومی سلامتی تقرری بھی ایک کامیاب فیصلہ ثابت ہوا ہے جن کی عسکری و سفارتی کامیابیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

 

دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر پاکستان نے نہ صرف اپنے اندرونی حالات کی بہتری میں بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بھی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سے ایک قدم خطے کے ایک مضبوط ملک روس کے ساتھ تعلقات کو سفارتی سطح پر نیا موڑ دینا ہے۔ یوں پاکستان کی خارجہ پالیسی علاقائی طاقتوں سے بہتر تعلقات کے قیام کی جانب گامزن ہے جس کا نتیجہ سی پیک کی صورت میں ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ اور روس کے ساتھ تاریخی مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد ہے۔ بھارت کے متعدد بار درخواست کرنے کے باوجود روس نے اپنے فوجی جنگی مشقوں میں حصہ لینے کے لئے پاکستان بھیجے ہیں جس کا سہرا پاکستان کی کامیاب فارن پالیسی کو جاتا ہے۔ ان فوجی مشقوں کو سلواکیہ زبان کے لفظ ’’دروزھبا 2016ء‘‘ یعنی ’دوستی 2016 ء‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔


روس اور پاکستان کے تعلقات پچھلی کئی دہائیوں سے سرد مہری کا شکار تھے جس کی ایک بڑی وجہ افغان جنگ اور دوسرا پاکستان کی امریکہ سے ریاستی قربت تھی لیکن حالات نے اس وقت نازک صورت حال اختیار کی جب جون 2015ء میں امریکہ اور بھارت نے دس سالہ دفاعی معاہدے پردستخط کئے اور حالات نے پلٹا اس وقت کھایا جب 2016ء کے آغاز میں امریکی کانگرس نے پاکستان کو ایف۔16 جنگی طیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد پاس کی اور یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کو تشویش ہے کہ پاکستان یہ جنگی طیارے بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خارجہ پالیسی کا رخ علاقائی طاقتوں بالخصوص روس کی جانب کر دیا۔
پاکستان اور روس کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں جہاں ماضی میں تعلقات پیچیدہ رہے ہیں تو وہاں دونوں ممالک نے خوشحال سفارتی دور کاتجربہ بھی کیا ہواہے۔1991ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلی بار روس نے پاکستان کی جنوبی ایشیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی قرار داد کی مخالفت نہیں کی تھی۔اس کے علاوہ 1993ء میں جموں و کشمیرکی تحصیل بجبھرا میں بھارتی افواج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام پر روس نے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے باعث بھارتی حکام کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔2003ء میں سابق صدر پاکستان جنر ل پرویز مشرف نے روسی صدر کی دعوت پر روس کا ایک کامیاب سرکاری دورہ کیا تھاجس میں دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر کامیاب بات چیت ہوئی اور بہت سے معاشی و تجارتی معاہدوں اور یاد داشتوں پر دستخط بھی ہوئے تھے۔ اس کے علا وہ کچھ عرصہ قبل 2014ء میں پاکستان اور روس نے باہمی فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت 2015ء میں پاکستان نے مشرقی روس میں منعقد ہونے والی روسی وار گیمز میں بھی حصہ لیا تھا اور دوستی 2016 ء جنگی مشقیں بھی اسی معاہدے کا نتیجہ ہیں جبکہ روسی کمپنی ’’روسٹیک کارپوریشن‘‘ 2017 ء میں پاکستان میں ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے 680 میل لمبی گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔


اس تمام صورت حال کو دیکھ کر بھارتی و امریکی صفوں میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان اور روس کے ایک دوسرے کے ساتھ وسیع تر مشترکہ سیاسی و عسکری مفادات جڑے ہوئے ہیں۔یوکرائن اور کریمیا کے مسئلے کی وجہ سے روس کے مغرب سے تعلقات میں بگاڑ چل رہا ہے جس کی وجہ سے اسے خطے میں نئے دوستوں کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کو خطے میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت کو روکنے کے لئے نئی بین الا قوامی دوستیاں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ نیز بین الاقوامی برادری میں پاکستان، روس اور چین کی صورت میں ایک نیا بلاک بنتا دکھائی دے رہا ہے جس کی د و اہم وجوہات ہیں ایک تو بحر ہند اور بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک براہ راست رسائی اور دوسرے روس کی وسطی ایشیا سے ہوتے ہوئے واخان بارڈر کے ذریعے افغانستان تک رسائی ہے۔ اس کے علاوہ اگر روس کو اکنامک کوریڈور سے منسلک کر دیا جائے تو پاکستان کو وسطی ایشیا ئی ممالک اور روسی منڈیوں تک براہ راست رسائی ملنا ممکن ہے ۔ اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے آئے روز پاکستان کی عسکری امداد روک دی جاتی ہے یا کبھی عسکری تجارتی معاہدے معطل کر دیے جاتے ہیں تو اس صورت میں روس کوعسکری ٹیکنالوجی کے حوالے سے مغرب کے متبادل کے طورپر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دنیا میں قیام امن کے لئے پاکستان نے بے تحاشہ قربانیاں دی ہیں اور مزید بھی دینے کے لئے تیار ہے لیکن اب پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت سمجھ چکی ہے کہ ہمیں 
Proactive
سفارتکاری کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کی سفارتکاری میں پچھلے چند برسوں میں ایک سیاسی پختگی رونما ہوئی ہے۔ روس کے ساتھ حیرت انگیز طور پر چند سالوں میں اتنے قریبی عسکری تعلقات پیدا کرنا ہماری عسکری پالیسی کی کامیابیوں کا ایک اہم سنگ میل ہے ۔ پاکستان، چین اور روس کا اتحاد اس خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں بے حد مددگار ثابت ہوگا۔ سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعدسے دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ گیا تھا اور امریکہ واحد سپر پاور بن کر ابھرا تھا جس کے باعث ایک خلا پیدا ہوگیا تھا جو آج تک پُر نہیں ہو سکا۔ چین ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے اور روس بھی بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے جبکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے لیکن یہ تینوں تن تنہا اس عدم توازن کے خلا کو پُر نہیں کر سکتے اگرچہ تینوں مل کر کام کریں اور ایک بلاک کی شکل اختیار کر لیں تو یہ خلا پُر ہوسکتا ہے اور یہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لئے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔


[email protected]

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP