خصوصی فوکس

پاک افغان بادینی ٹریڈ ٹرمینل، علاقائی تجارتی سرگرمیوں میںاہم پیش رفت 

صوبہ  بلوچستان کو دو ممالک افغانستان اور ایران کی سرحدیں لگتی ہیں۔یہ دونوں ممالک تجارتی طور پر وطن عزیز کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک سے تجارتی معاملات میں افغانستان اور ایران سے ترکی و یورپ تک رسائی ممکن ہے۔ صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا ایک بڑا حصہ ہے ، وطن عزیز کے سینتالیس فیصد رقبے پر مشتمل صوبہ بلوچستان ایک بڑی سرحدی پٹی رکھتا ہے جو کہ افغانستان اور ایران پر مشتمل ہے۔



یہ دونوں سرحدی ممالک علاقے کے بڑے پیمانے پر تجارتی لین دین کا مرکز ہیں۔ جیسا کہ پاکستان کے چاول ، آم ، گندم او ر سیمنٹ سمیت دیگر اشیاء کی مانگ ہمسایہ ممالک سے وسطی ایشیائی ممالک تک ہے۔ اسی طرح پاکستانی اشیاء کی رسائی اور دیگر ممالک سے اشیاء کی درآمد کے لئے ٹریڈٹرمینل کا قیام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی سوچ کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان میں پاک افغان بارڈر بادینی کے مقام پر ایک ٹریڈ ٹرمینل کا قیام عمل میںلایا گیا ہے جو کہ خوش آئند اقدام ہے۔اعلیٰ حکام کی مشترکہ کوششوں سے اس کا قیام علاقائی اور تجارتی حوالے سے بڑا کارآمد ثابت ہو گا۔ بادینی ٹریڈ ٹرمینل کا افتتاح باقاعدہ طور پر کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے وہاں ایک تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا۔افتتاحی تقریب فرنیٹر کور بلوچستان کی جانب سے منعقد کی گئی۔تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد وسیم اشرف، آئی جی ایف سی میجر جنرل فیاض حسین شاہ، صوبائی وزراء اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذکورہ ٹریڈٹرمینل کوملکی مفادات کے حق میں ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔اسی طرح کے فیصلے بلوچستان میںکارگر ثابت ہوںگے، یہ امر حقیقی ہے کہ مسائل صرف نعروں سے حل نہیں ہوتے بلکہ ان کے لئے واضح سمت متعین کرکے عملی اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے باہمی اعتماد ضروری ہے،ایسے اقدامات کے ذریعے ترقیاتی عمل پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔ بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ ذرائع مواصلات کی کمی ہے جو ترقیاتی عمل میں رکاوٹ ہے،تاہم صوبے میں سڑکوں کی تعمیر، توسیع اور مرمت کے منصوبوں کی جانب بھرپور توجہ دے کراس کے لئے خطیر فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں،جیسا کہ گزشتہ سال اڑھائی ہزار کلومیٹر سڑکیں تعمیر ہوئیں جبکہ اس سال تین ہزار کلومیٹر سڑکیں تعمیر کئے جانے کا امکان ہے ، سڑکوں کی تعمیر سے علاقے میں تجارت سے وابستہ لوگوں کوبڑا فائدہ ہوگا۔بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ٹریڈ ٹرمینل اور سرحدی مارکیٹوں کے قیام کے منصوبوں پر عملدرآمد سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ ساتھ پاک فوج اورفرنیٹر کور کو بھی جاتا ہے جنہوں نے امن کے قیام کو یقینی بناکر ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے میں معاونت فراہم کی، جس کے لئے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مسلح افواج کے اقدامات لائق تحسین ہیں ، تاہم بلوچستان کی ترقی کے لئے مشترکہ طور پر کردار ادا کیا جا رہا ہے، اس کی زندہ مثال سی پیک کے مغربی روٹ کا قیام ہے جسے عملی شکل موجودہ وفاقی حکومت نے دی ہے۔جب 400ارب روپے کی لاگت کا مغربی روٹ کا منصوبہ ژوب، کوئٹہ، چمن سے ہوتا ہوا گوادر اور کراچی تک جائے گا تو اپنے ساتھ ترقی اور خوشحالی بھی لے کر آئے گا، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے بہت سے منصوبوں پر کام مکمل ہوں گے توان کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے اور وہ ایک مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔
 اگر دیکھا جائے تو بادینی میں سرحدی باڑ لگنے کے بعد بارڈر سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں ذریعہ معاش کے حصول کی کمی کو شدت سے محسوس کیا گیا تو اہل علاقہ کی دیرینہ خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے بادینی ٹریڈ ٹرمینل کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ،جس کے لئے ایف سی بلوچستان نارتھ نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا اور اس منصوبے کو بادینی ٹرمینل کی صورت میں عملی جامہ پہنایا گیا ، تاہم ا س حوالے سے وزیراعلیٰ جام کمال خان بھی پرعزم ہیں کہ صوبائی حکومت اس منصوبے کی کامیابی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور انتظامی سطح پر متعلقہ اداروں کو مکمل معاونت فراہم کی جائے گی، اس حوالے سے پاک فوج اور ایف سی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے کہ ان کی دن رات کی انتھک محنت سے ملکی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے حالیہ جاری فینسنگ کا آغاز کیا گیا اور کافی حد تک اس منصوبے پر کام مکمل کرلیاگیا ہے، باڑ کی تنصیب سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے، پہلے کی طرح تمام سکیورٹی ادارے مل کر صوبے اور ملکی سرحد کا دفاع کریں گے اور ملک میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ٹریڈ ٹرمینل کے قیام سے عوام کو تجارت کے وسیع مواقع بھی میسر ہوں گے، تاہم اس حوالے سے افغانستان کے تاجروں سے اچھے روابط قائم کرتے ہوئے افغان عوام کو تجارت کی طرف راغب کیا جائے تو وہ اس تجارتی راہداری سے پوری طرح مستفید ہوسکیں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے جامع منصوبہ بندی کررہی ہے اور رواں مالی سال کے بجٹ میں بہت سے ایسے منصوبے شامل ہیں جن کی تکمیل سے روزگار کے مواقعوں میں اضافہ ہوگا اور عوام ایک مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں قبول کرنا ہوگا کہ بلوچستان کی پسماندگی کے ذمہ دار ہم سب ہیں، ماضی کی ناقص منصوبہ بندی اور مناسب حکمت عملی کے فقدان سے بلوچستان ترقی کی منازل طے نہ کرسکا، اگر وسائل کو صحیح معنوں میں بروئے کار لایا جاتا تو آج صوبے کی حالت یقینابہت بہتر ہوتی۔
 بلوچستان تجارت کے حوالے سے اپنی ایک الگ اہمیت رکھتا ہے ، صوبے کو علاقائی سطح پر جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیاجا رہا ہے، جس کا مقصد وطن عزیز سمیت صوبائی ترقی میں ایک نئی تبدیلی کاتعین ہے۔دوسری طرف بادینی ٹریڈٹرمینل جس جگہ واقع ہے ،وہاں تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لئے سب سے پہلے انفراسٹرکچر کی تعمیر انتہائی ضروری ہے ، جسے ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جانا چاہئے، چونکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے یہ علاقہ انتہائی طویل فاصلے (تقریباًگیارہ گھنٹے) کی مسافت پر ہے اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر سڑکوں کی تعمیر بھی اس طرح نہیں کہ فوری طور پر تجارتی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔ تجارتی سرگرمیوں کا انحصار اس کی لوازمات پر ہوتا ہے، افغانستان سے منسلک یہ سرحدی علاقہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے میں واقع ہے اور اس پوائنٹ سے افغانستان چمن سرحدی علاقے سے قریب پڑتا ہے، تاہم ضروری لوازمات کے بغیر تجارتی سرگرمیوں کی بحالی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس تجارتی ٹرمینل کے روٹ کے لئے ایک خطیر رقم جلد فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی تمام متعلقہ اداروں کو آن بورڈ لیتے ہوئے اس پر ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرنے اور اِن فیصلوں پر عمل درآمد کویقینی بنایا جائے تو یقینا دونوں ممالک کے مابین تجارت کو نہ صرف فروغ ملے گا بلکہ اس علاقے سے جڑے ہوئے لوگوں کی زندگی میں بھی بڑی تبدیلی آئے گی۔ ||



 

یہ تحریر 65مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP