قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان

میں ہوں پاکستان، میں سب کے دل میں زندہ ہوں
میں ماضی میں، حال میں، مستقبل میں زندہ ہوں
مجھ کو نمو سے روک نہیں سکتی ہے کوئی رُت
میں جو سدا بہار ہوں، آب و گِل میں زندہ ہوں
میں ہر پھول میں‘ ہر پتے‘ ہر ڈالی میں رقصاں
میں ہوں جانِ محفل، ہر محفل میں زندہ ہوں
حُسن و عشق کی گھاتوں میں بھی، میرا نور ظہور
گورے گورے مکھڑوں کے ہر تِل میں زندہ ہوں
میرے مصور، میرے شاعر، میرے موسیقار
وہ میرے ہیں اور میں ان کے دل میں زندہ ہوں
میرے فیضؔ ، ندیمؔ ، حفیظؔ ، فرازؔ ، منیر ؔ نیازی
میں اقبالؔ کے پیاروں کی محفل میں زندہ ہوں
پیار کی میٹھی تانیں میرے کانوں میں ہر دم
میں گیتوں سنگیتوں کے ساحل میں زندہ ہوں
تن آسانی چھوڑو عطاؔ جی! مجھ سے ملنے آؤ

میں ہمت کی، عزم کی ہر منزل میں زندہ ہوں

یہ تحریر 30مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP