متفرقات

پاکستان کے نیشنل پارک

اﷲتعالیٰ نے ہماری زمین کو نہایت ہی خوبصورت اور دلفریب انداز میں سجایا ہے۔ جہاں ان گنت جھیلیں‘ آبشاریں‘ دریا‘ وادیاں اور طویل ترین صحرا اپنے پورے جوبن کے ساتھ موجود ہیں۔ سمندروں کا نیلا پانی اور بلند و بالا برف پوش چوٹیاں اس کی شان کی ادنیٰ مثال ہیں۔
بے پناہ صنعتی ترقی‘ کیمیائی فضلوں کا دریاؤں اور سمندروں میں گر کر صاف و شفاف پانی کے ذخیروں کو زہر آلود کرنا‘ لاتعداد گاڑیوں کے دھوئیں کا فضا کو کثیف بنانا‘ نظام قدرت سے لڑنے کے مترادف ہے۔ جس سے نہ صرف انسان خود متاثر ہو رہا ہے بلکہ اس سے آبی جانور‘ چرند‘ پرند‘ شجر و ہجر‘ پہاڑ‘ دریا‘ سمندر‘ الغرض نہ صرف اس کرہ ارض کی تمام چیزیں بلکہ دوسرے جہانوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔


ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے ضرورت محسوس کی گئی کہ کیوں نہ ایسی جگہوں کو جو قدرتی حسن جنگلی حیات اور فطرت کی رعنائیوں سے مالا مال ہوں‘ ان کے اصل رنگ کے ساتھ محفوظ بنایا جائے اور یہاں بسنے والے جانوروں‘ پہاڑوں‘ دریاؤں‘ صحراؤں‘ سبزہ زاروں اور سمندروں کو انسان کی بے جا مداخلت سے باز رکھنے کے لئے قانون سازی کی جائے۔
چنانچہ اس ضمن میں نیشنل پارک کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ دنیا میں نیشنل پارک کا خاکہ سب سے پہلے ولیم ورڈز ورتھ نے 1810میں دیا اور پہلے نیشنل پارک 
(Yellow Stone National Park)
کا قیام 1872 میں عمل میں آیا جس کی منظوری امریکی صدر ابراہام لنکن نے دی۔

paknationpark.jpg
اس وقت دنیا بھر میں 6555 نیشنل پارک موجود ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا نیشنل پارک گرین لینڈ نیشنل پارک جس کا رقبہ 972000مربع کلومیٹر ہے۔ جب ہم اپنے ملک پاکستان کی بات کرتے ہیں تو پاکستان کے پاس تقریباً 28 نیشنل پارکس موجود ہیں۔ سب سے بڑا نیشنل پارک ہنگول نیشنل پارک ہے جو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ‘ آواران اور گوادر میں واقع ہے۔ جس کا رقبہ 1650 مربعکلومیٹر ہے۔ ایوب نیشنل پارک پاکستان کا سب سے چھوٹا نیشنل پارک ہے جو کہ ایبٹ آباد‘ خیبرپختونخوا میں واقع ہے۔ پاکستان کے 22نیشنل پارک صوبوں کے زیر کنٹرول ہیں جبکہ باقی پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے 10نیشنل پارک 1993سے 2005کے درمیانی عرصے میں قائم ہوئے۔
دنیا کا سب سے منفرد نیشنل پارک دیوسائی نیشنل پارک ہے جہاں نایاب بھورے ریچھ کی نسل کو بچانے کے لئے انتھک محنت کی جا رہی ہے۔


ہنگول نیشنل پارک
ہنگول نیشنل پارک صوبہ بلوچستان کے تین اضلاع آواران‘ لسبیلہ اور گوادر میں واقع ہے۔ کراچی سے اس پارک کا فاصلہ تقریباً 190کلومیٹر ہے۔ ہنگول نیشنل پارک مکران کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ہی واقع ہے۔ پارک کا ایک کنارا بحیرہ عرب سے ملتا ہے۔ ہنگول نیشنل پارک رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا پارک ہے۔ ہنگول نیشنل پارک کا قیام 1988 میں عمل میں لایا گیا۔ پارک کا ٹوٹل ایریا 1650مربع کلومیٹر ہے۔ ہنگول نیشنل پارک جنگلی حیات اور رینگنے والے جانوروں کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ اس پارک میں بہت سے رینگنے والے جاندار ایسے بھی ہیں جو پانی اور خشکی دونوں میں رہتے ہیں۔ دریائے ہنگول پارک کے درمیان سے ہی گزرتا ہے۔ جو اس پارک کی خوبصورتی میں مزید اضافے کا باعث ہے۔


ہنگول نیشنل پارک کی حدود میں موجودپہاڑی سلسلے اور ان میں موجود بے شمار غار پاکستان کے کسی اور نیشنل پارک میں موجود نہیں ہیں جو کہ اس پارک کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ شماریات کے سروے کے مطابق پارک میں 3000 کے قریب آئی بیکس، 1500کے لگ بھگ اڑیال اور 1200کے قریب لومڑیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سندھی چیتے‘ انڈین لومڑی‘ جنگلی بلی اور دوسرے جانور بھی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔دریائے ہنگول میں مچھلیوں اور دوسرے آبی جانوروں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں خاص کر مہاشیر‘ نیلا پیا اور کوی مچھلی مشہور ہے۔ مگر مچھوں کی بھی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہاں کا ہرا کچھوا نایاب تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چھپکلیوں کی بھی کئی اقسام یہاں موجود ہیں۔پارک میں ہر طرف جنگلی درختوں کی بہتات ہے جو کہ پارک کی خوبصورتی میں چارچاند لگاتے ہیں۔ دسمبر سے مارچ تک پارک میں جنگلی حیات دیکھنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔


دیوسائی نیشنل پارک 
دیوسائی نیشنل پارک کا قیام 1993میں عمل میں لایا گیا۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً 13497 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک گلگت بلتستان کے شہر سکردو کے قریب واقع ہے۔ دیوسائی کو دنیا کا سب سے اونچا سطح مرتفع ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک پہنچنے کا سب سے آسان اور قریب ترین راستہ سکردو شہر سے ہے یہاں سے دیوسائی نیشنل پارک کا فاصلہ تقریباً 30کلومیٹر ہے۔ آپ استور شہر سے بھی براستہ چلم یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ دیوسائی نیشنل پارک کے قیام کا مقصد دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ نایاب ہمالین بھورے ریچھ کی نسل اور اس کے مسکن کو بچانا ہے۔ چنانچہ دیوسائی نیشنل پارک کے قیام کے وقت اس نسل کے ریچھوں کی تعداد تقریباً 19کے لگ بھگ تھی لیکن انتھک محنت اور جانفشاں کوششوں اور اس کو نیشنل پارک کا علاقہ قرار دیئے جانے کے بعد اب ان ریچھوں کی تعداد تقریباً 55کے قریب پہنچ چکی ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک میں پائے جانے والے قابل ذکر جانوروں میں ہمالیائی بھورے ریچھ‘ ہمالین آئی بیکس‘ لال لومڑی‘ گولڈن مارموٹ جو کہ مقامی زبان میں پھیا کہلاتی ہے، اس کے علاوہ لداخ اڑیال ‘ برفانی چیتا قابل ذکر ہے۔ کثیر تعداد میں رنگ برنگے پرندوں کی آماجگاہ ہے۔
دیوسائی نیشنل پارک میں نوع بہ نوع جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں جو کہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ دیوسائی نیشنل پارک کی ایک خصوصیت جو اسے دوسرے پارکس سے منفرد مقام دلاتی ہے وہ شیوسر جھیل ہے جس کے لفظی معنی اندھی جھیل کے ہیں۔ یہ جھیل سطح سمندر سے تقریباً 13589 فٹ بلند ہے دنیا کی بلندترین جھیل تصور کی جاتی ہے۔ اس جھیل کی لمبائی 2.3کلومیٹر چوڑائی 1.8کلومیٹر اور گہرائی تقریباً 130فٹ ہے۔ سردیوں میں شدید برفباری کی وجہ سے دیوسائی نیشنل پارک تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ کیونکہ پارک تک پہنچنے والے تمام راستے بند ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایسے موسم میں بھورے ریچھ اور دوسرے جاندار دنیا کے ہنگاموں سے دور پرسکون ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جب موسم قدرے بہتر ہوتا ہے تو پارک کے تمام جاندار اور اس میں کھلنے والے پھول گرمجوشی سے ان سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ اس سہانے موسم میں مارموٹ اٹکھیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ الغرض ساری دنیا میں دیوسائی سب سے خوبصورت پارک تصور کیا جاتا ہے۔


کیرتھر نیشنل پارک
کیرتھر نیشنل پارک کا قیام 1974میں عمل میں لایا گیا۔ جو کہ سندھ کے ضلع دادو کی حدود میں واقع ہے۔یہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا پارک ہے۔ کراچی کے شمال میںیہ 80کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس پارک کا آخری سرا سندھ اور بلوچستان کے پہاڑی سلسلے کیرتھر سے جا کر ملتا ہے۔ کیرتھر نیشنل پارک کا مرکزی حصہ کرچاٹ کراچی سے تقریباً 160کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کیرتھر نیشنل پارک تفریح‘ معلومات‘ شماریات اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے لئے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہاں شکار کرنا ممنوع ہے۔ کیرتھر نیشنل پارک میں شامل کیرتھر کی پہاڑیاں اڑیال‘ آئی بیکس‘ جنگلی بلیوں‘ لومڑیوں کے لئے جنت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نیشنل پارک کے بعض حصوں میں جنگلی بھیڑیے اور چیتے بھی پائے جاتے ہیں۔ مختلف اقسام کے سانپ‘ نیولے‘ چھپکلیاں اور دوسرے رینگنے والے جانور بھی اس پارک کا حصہ ہیں۔کیرتھر نیشنل پارک کا ایک حصہ حب ڈیم پر مشتمل ہے اور جس کی وجہ یہ نیشنل پارک دوسرے پارکوں سے جداگانہ مقام رکھتا ہے۔ ڈیم کے نیلگوں پانی پر اڑنے والے قیمتی پرندے اور پانی پر بیٹھے سفید بگلے تیرتی ہوئی بطخیں اس کے پانی سے سیراب ہونے والے کھیت منظر و دلکش و دلفریب بناتے ہیں۔


سینٹرل قراقرم نیشنل پارک
سینٹرل قراقرم نیشنل پارک دنیا کا بلند ترین نیشنل پارک ہے۔ اس پارک کی خصوصیت جو کہ دنیا کے دوسرے نیشنل پارکوں سے اسے منفرد مقام دلاتی ہے وہ یہاں پر موجود دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے اور گلیشیئر ہیں۔
دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K-2 اس پارک کا حصہ ہے اور پارک کو منفرد و اعلیٰ مقام دلاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ تین 8000میٹر سے زائد بلند چوٹیاں بھی یہیں موجود ہیں۔ جن میں گیشر بروم‘ براڈ پیک شامل ہیں۔ کے ٹو کا بیس کیمپ بھی اسی پارک میں واقع ہے۔ سینٹرل قراقرم نیشنل پارک کو دنیا کے تین بڑے گلیشیئرز رکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ جس میں سیاچن گلیشیئر بلتوروگلیشیئر اور ہسپر بیافوگلیشیئر اپنی پوری سج دھج کے ساتھ اس پارک اور پاکستان کے لئے فخر کا باعث ہیں۔ پاکستان کے لئے سب سے زیادہ صاف و شفاف پانی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی یہی پارک ہے۔ پارک میں مارکو پولو بھیڑیے‘ مارخور‘ لداخ اڑیال‘ لال لومڑی اور ایشیائی سیاہ ریچھ قدرتی ماحول میں خوش باش زندگی گزار رہے ہیں۔ سینٹرل قراقرم نیشنل پارک میں طرح طرح کے رنگ برنگے پرندوں کی بہتات ہے جو سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ موسم کے لحاظ سے پارک انتہائی سرد تصور کیا جاتا ہے۔ الغرض قدرتی حیات اور قدرتی مناظر اس پارک کا طرہ امتیاز ہیں۔


لال سوہانرا نیشنل پارک
لال سوہانرا نیشنل پارک پنجاب کے شہر بہاولپور سے تقریباً 35کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ لال سوہانرا نیشنل پارک کا قیام 1972 میں عمل میں لایا گیا۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا نیشنل پارک ہے۔
لال سوہانرا نیشنل پارک کا ایک حصہ چھانگامانگا طرز کا ہے۔ برطانوی دور حکومت میں یہاں کئی نسل کے جنگلات لگائے گئے تاکہ ریلوے لائن بچھانے کے لئے اس کی لکڑی استعمال کی جا سکے۔ یہ اپنی نوعیت کا پاکستان میں واحد پارک ہے جہاں ریگستان بھی ہے، جھیلیں بھی، اور سرسبز و شاداب علاقے بھی۔ پارک میں کثیر تعداد میں جانور پائے جاتے ہیں۔ جن میں خرگوش‘ جنگلی بلی‘ لومڑی اور ہرن قابل ذکر ہیں۔ رینگنے والے جانوروں میں انڈین کوبرا‘ سانپ‘ چھپکلیاں اور نیولے پائے جاتے ہیں۔اس پارک کی جھیلوں اور جنگلات میں لاتعداد پرندے پائے جاتے ہیں۔ جن کی چہچہاہٹ سے سارا پارک گونجتا رہتا ہے۔ موسم سرما میں دوردراز سے پرندے ان جھیلوں کو اپنی آماجگاہ بناتے ہیں سفید مرغابیاں جابجا نظر آتی ہیں۔ حکومت پنجاب نے اس پارک کو وائلڈ لائف سفاری میں تبدیل کر دیا ہے۔ جس میں خصوصی طور پر شیر کو بھی اس پارک کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ہمارے یہ نیشنل پارک دنیا بھر میں اپنی انفرادیت اور محل وقوع کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے قدرتی مناظر اور حیات کو اپنی اصل حالت میں برقرار رکھنے کے لئے ہم سب مل جل کر اپنے اپنے شعبے میں کام کریں تاکہ ہماری یہ خوبصورت وادیاں‘ پہاڑ‘ دریا‘ چشمے‘ صحرا اور سمندر قدرتی رنگ بکھیرتے رہیں۔


[email protected]

یہ تحریر 19مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP