ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ

پاکستان کے خلاف بھارتی سازش بے نقاب

دنیامیں آج تک اتنے منظم اوربڑے پروپیگنڈا نیٹ ورک کاراز فاش نہیں ہوا۔یہ اپنی نوعیت کامنفرد واقعہ ہے جس پرپوری دنیاحیران ہے۔اسے ففتھ جنریشن وار فیئربھی کہہ سکتے ہیں۔پاکستان کے خلاف عالمی سطح پریہ پروپیگنڈا چند ہفتوں اورمہینوں سے نہیں بلکہ پچھلے پندرہ سال سے کیاجارہاہے۔یورپی یونین میں جعلی خبروں پرکام کرنے والے تحقیقاتی ادارے ''ای یو ڈس انفولیب '' (EU DisinfoLab)نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت کے چہرے سے نقاب اُتار دیا ہے۔ 

پاکستان کے خلاف اقدامات کرنے کے لئے بھارت کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے خلاف بھارتی جھوٹے پروپیگنڈے کا راز منظر عام پر آیا ہے۔
دنیامیں آج تک اتنے منظم اوربڑے پروپیگنڈا نیٹ ورک کاراز فاش نہیں ہوا۔یہ اپنی نوعیت کامنفرد واقعہ ہے جس پرپوری دنیاحیران ہے۔اسے ففتھ جنریشن وار فیئربھی کہہ سکتے ہیں۔پاکستان کے خلاف عالمی سطح پریہ پروپیگنڈا چند ہفتوں اورمہینوں سے نہیں بلکہ پچھلے پندرہ سال سے کیاجارہاہے۔یورپی یونین میں جعلی خبروں پرکام کرنے والے تحقیقاتی ادارے ''ای یو ڈس انفولیب ''(EU DisinfoLab) نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت کے چہرے سے نقاب اُتار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سری واستوگروپ اورانڈین کرونیکلزبرسوں سے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے تھے۔یہ انڈیا نوازنیٹ ورک تھا۔یہ نیٹ ورک جعلی NGOs کے علاوہ کچھ متروک شدہ  NGOs جوکہ اقوامِ متحدہ سے accredited تھیں کے علاوہ مردہ شخصیات، جعلی افراد اور750 جعلی نیوزویب سائٹس کے ذریعے پاکستان کے خلاف نہایت منظم انداز میں پروپیگنڈا کررہا تھا۔اتنی منصوبہ بندی کے ساتھ کہ بہت سے لوگ ان جعلی خبروں کوسچ سمجھنا شروع ہوگئے ۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پروپیگنڈے کے لئے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک آنجہانی پروفیسرکوبھی زندہ کردیاگیا۔ ویب سائٹس کے لئے ڈومین (ان کے نام ) بھی ایسے حاصل کئے گئے جو مشہور نیوز ویب سائٹس اورمیڈیاہاؤسز سے ملتے جلتے تھے ۔ بھارتی نیوزایجنسی اے این آئی کے ذریعے پاکستان کے خلاف جھوٹی خبروں اور رپورٹس کو بین الاقوامی سطح پربھی فراہم کیاجاتارہا۔کسی نے ان منفی خبروں کی تصدیق کرنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ اس پروپیگنڈے کے ذریعے بھارت کوفائدہ اور پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا۔ بھارت نے ڈیجیٹل میڈیا کوپاکستان کے خلاف بھرپورطریقے سے استعمال کیا۔پاکستان کے بعض دوست ممالک کو بھی بھارت یہ من گھڑت اورخودساختہ رپورٹس فراہم کرتارہاجوپہلے اس کے نیٹ ورک کے ذریعے دنیابھرمیں پھیلائی جاتیں، اس کے بعد اپنی ان جعلی رپورٹس کوہی ثبوت کے طورپرپاکستان کے خلاف استعمال کرتا۔
 تحقیقاتی ادارے ''ای یو ڈس انفولیب ''کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ سری واستو گروپ اورانڈین کرونیکلز گمراہ کن خبروں کابھارتی نیٹ ورک ہے،جوپندرہ سال سے اقوام متحدہ اوریورپی یونین کی آنکھوں میں دھول جھونک رہاہے ۔یہ نیٹ ورک پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا اورلابنگ کرتارہاہے۔ لیکن آخرکار اس نیٹ ورک کاپتہ چلالیاگیا۔ بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی ۔مغربی دنیا کے غیرجانب دار میڈیا نے بھی اس بھارتی مہم کی بھرپور مذمت کی ۔یہ سوال بھی اٹھاکہ مستقبل میں اس طرح کے منفی پروپیگنڈے کوروکنے کے لئے بھی انتظامات کرنے ضروری ہیں۔دنیا بھرکے اخبارات، نیوزچینلز اورویب سائٹس نے خصوصی رپورٹس شائع کیں کہ کس طرح بھارت انتہائی چالاکی کے ساتھ دنیا کوبے وقوف بناتارہااورپاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتارہا۔ای یو کرونیکلز پرچلنے والی پاکستان مخالف خبروںاورمضامین کوشائع کرکے دنیابھرمیں پھیلایاجاتاتھا۔ بھارتی لابی کی کوشش ہوتی تھی کہ ان رپورٹس کے ذریعے پاکستان کوبدنام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کی جائیں-  برسیلز میں یورپی یونین کی پارلیمان میں اس گروپ سے وابستہ ادارے اورافراد انسانی حقوق کی آڑمیں یورپی یونین کے کسی ممبرکی ہمدردیاں حاصل کرتے ۔اس کے بعد منصوبہ بندی کے تحت ان ممبران کے ذریعے یورپی یونین میں آوازاٹھائی جاتی ۔ان سب کامقصد ایک ہی تھا کہ پاکستان کے بارے میں دنیا بھرمیں شکوک وشبہات پیدا کئے جائیں اورپاکستان کوبدنام کیاجائے۔
  اگرای یو ڈس انفولیب اپنی رپورٹ میں اس خفیہ بھارتی نیٹ ورک سے پردہ نہ اٹھاتاتوپاکستان کے خلاف پروپیگنڈا جاری رہتا۔ اس رپورٹ نے نہ صرف یورپی یونین بلکہ اقوام متحدہ کے اداروں ،امریکی اراکین کانگریس اوربرطانوی دارالعوام کوبھی حیران کردیاہے۔اس نیٹ ورک نے ایک برطانوی وزیر کوبھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ بھارت ،پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتارہااورجھوٹ کوسچ بناکرپیش کرتارہا ۔ 
یہ سائبر وار ہی کانتیجہ ہے کہ بھارت میں اقلیتوں بشمول مسلمانوں،مسیحیوں اورسکھوں کو تعصب اورنفرت کانشانہ بنایاجارہاہے لیکن مذہبی آزاد ی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک میں بھارت کانام شامل نہیں، جبکہ اس وقت بھارت میں اقلیتوں پرریاستی سطح پرظلم ہورہاہے۔اقلیتوں کے لئے مخصوص قوانین بنائے جارہے ہیں ،ان کے لئے بھارت کی زمین تنگ کردی گئی ہے۔ انھیں دونمبرشہری بنادیاگیاہے ۔سچ تویہی ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی اوربھارتی اسٹیبلشمنٹ نہ صرف اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں بلکہ پوری دنیاکے لئے خطرہ بن چکی ہے،لیکن سری واستواگروپ بھارت سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کوبدنام کررہاہے ۔
ای یو ڈس انفولیب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلیگزینڈرالافلپ (Alexandre Alaphilippe) نے بی بی سی سے گفتگوکرتے ہوئے اس بات کااعتراف کیاکہ '' انہوں نے ڈس انفارمیشن پھیلانے کی غرض سے مختلف سٹیک ہولڈرزپرمشتمل کسی نیٹ ورک میں اتنی ہم آہنگی نہیں دیکھی۔اس نوعیت کااتنابڑا نیٹ ورک اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھاگزشتہ سال اس نیٹ ورک کے بارے میں تحقیق سامنے لانے کے باوجوداس نیٹ ورک نے اپنے کام کوجاری رکھاہے،جس سے ظاہرہوتاہے یہ کتنامضبوط اوربااثرنیٹ ورک ہے''۔ بی بی سی نے اس حوالے سے انڈین حکومت کوسوالات بھی بھیجے لیکن بھارتی حکومت نے بی بی سی کواس کے سوالوں کاکوئی جواب نہیں دیا۔ظاہرہے اس کے پاس اب سچ کوچھپانے کاکوئی راستہ نہیں بچا اوراس کی سازش بے نقاب ہوچکی ہے ۔حیرت انگیزبات یہ ہے کہ سری واستو گروپ سے چلائے جانے والے اس نیٹ ورک کادائرہ کار کم ازکم ایک سوسولہ ممالک اورنو خطوں تک پھیلا ہوا ہے۔
غیرجانب دار تجزیہ نگاروں کے مطابق اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس تمام نیٹ ورک کے پیچھے بھارتی ریاستی ادارے اوربھارتی خفیہ ایجنسی '' را'' کاہاتھ ہے۔کوئی فرد یا این جی او تنہا یہ کام کرہی نہیں سکتی ۔اس کے لئے جتنے وسائل فراہم کئے گئے وہ ریاست کی سطح پرہی ممکن ہیں۔یقینی طورپراس تمام ترمنصوبے میں بھارت ملوث ہے۔ بھارت اس سکینڈل کے بعد ایک غیرذمہ دار ریاست کے طورپرسامنے آیاہے۔
دنیا بدل گئی ہے اوردنیامیں جنگ کے اندازبھی بدل گئے ہیں۔اب میزائلوں اورٹینکوں کی جنگوں کے بجائے کمپیوٹراورانٹرنیٹ پرسائبر وار ہورہی ہے۔جس نے دشمن کے خلاف کامیاب پروپیگنڈا کرلیا وہ جیت گیا۔انڈین کرونیکلزچلانے میں انڈین اسٹیبلشمنٹ کاہاتھ ہے ۔بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' روگ ادارہ بن چکی ہے ۔اس غیرذمہ دار خفیہ ایجنسی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، جس نے اقوام متحدہ اوریورپی یونین کوبھی چکر دے دیا ۔
ذرااندازہ لگائیے ایک مرے ہوئے پروفیسرکوبھی نہ بخشاگیااورمرنے کے بعد بھی انھیں زندہ دِکھاکرپاکستان کے خلاف پروپیگنڈاکیاجاتارہا۔آنجہانی پروفیسرلوئیس بی سوہن انسانی حقوق کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ 2006ء میں بانوے سال کی عمرمیں اس دنیا سے کوچ کرگئے ۔لیکن پروپیگنڈے کوزندہ رکھنے کے لئے ان کے نام کواستعمال کیاجاتارہا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی کوشک تک نہیں ہوا کہ پروفیسر لوئیس تواس دنیاسے جا چکے ہیں۔دوسری طرف انڈیا کی نیوزایجنسی ،ایشیانیوزایجنسی (اے این اے )کوبھی بھرپورطریقے سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیاگیا۔اے این آئی ( ایشین نیوزانٹرنیشنل) کے نام سے ایک علیحدہ نیوزایجنسی بھی کام کررہی ہے۔ان دونوں کاکام پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرناہے ۔2019میں تحقیقات کے بعد 265 سے زیادہ جعلی نیوزویب سائٹس بند ہوگئی تھیں۔ان نیوزویب سائٹس کے بند ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی ''ای یو کرونیکلز'' کے نام سے ایک نئی نیوزویب سائٹ بنالی گئی ۔اس ویب سائٹ کی خاص بات یہ ہے کہ تجزیہ نگاروں اورصحافیوں کے ساتھ ساتھ یورپی اراکین پارلیمینٹ سے بھی پاکستان کے خلاف مضامین اوررپورٹس لکھوائی جاتیں ۔جن میں پاکستان کامنفی چہرہ پیش کیاجاتاتھااورعالمی برادری کوپاکستان سے متنفرکرنے کی کوشش کی جاتی ۔جو لوگ انٹرنیٹ،ویب سائٹس،ڈومین اورڈومین نیم سسٹم ٹی ایل ڈی کوجانتے ہیں،وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ جائیں گے کہ اگرآپ انٹرنیٹ پرپروپیگنڈے کے لئے کسی ملتے جلتے نام کوحاصل کرناچاہتے ہیں اوروہ ڈاٹ کام پرموجود نہیں ،پہلے سے کوئی اس نام سے ویب سائٹ چلارہاہے توآپ ڈاٹ کو،ڈاٹ اوآرجی،ڈاٹ ٹی وی، ڈاٹ نیوز یاڈاٹ ایشیاوغیرہ پروہ نام لے سکتے ہیں۔ یالوگوں کودھوکہ دینے کے لئے ملتاجلتانام اورملتاجلتاپیج ڈیزائن استعمال کرسکتے ہیں۔بھارتی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے خلاف یہ سب کچھ کررہی ہے۔
  جوافراد اس پروپیگنڈے کوچلارہے تھے انہوں نے بھارت کے ہمدرد پیشہ ور صحافیوں کی خدمات بھی حاصل کیں۔تاکہ نقل پراصل کاگمان ہو۔جعلی نیوزویب سائٹس کوبھرپورطریقے سے استعمال کیاگیا۔پہلے پاکستان مخالف رپورٹ یاخبرتیارکرائی جاتی اس کے بعد اسے اے این اے کے ذریعے بھارت کے تمام چینلز،اخبارات اورنیوزایجنسیوں کوبھیجاجاتا۔اے این اے کے ذریعے ہی یہ خبراورپروپیگنڈا رپورٹ عالمی خبررساں اداروں کو بھیج دی جاتی۔ چونکہ نیوزایجنسیوں کے درمیان آپس میں خبروں کے تبادلے کامعاہدہ ہوتاہے اوروہ ایک دوسرے کی خبروں پراعتمادکرتے ہیں اس لئے پاکستان کے خلاف پھیلائی جانے والی خبریں ان کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل جاتیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ دنیا بھرمیں بہت سے اخبارات، نیوز ویب سائٹس بھی اسے سچی خبرسمجھ کرشائع کردیتے۔انھیں اس نیٹ ورک کاعلم نہیں تھاجواس ٹیبل سٹوری (جھوٹی پروپیگنڈا خبر)کوگھڑنے سے لے کر اسے پوری دنیامیں پھیلانے کاکام کرتاتھا۔عام آدمی اس خبرکوسچ سمجھتا۔ اس پروپیگنڈا وار نے پاکستان کے مثبت امیج کوتباہ کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی ۔آپ جانتے ہیں انڈیا میں ری پبلک بھارت ٹی وی،نائن نیوز،این ڈی ٹی وی ،زی نیوزسمیت بہت سے نیوزچینلز اوراخبارات جیسے ٹائمز آف نڈیا سمیت سب پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ''عبادت'' سمجھ کرکرتے ہیں۔الیگزینڈر الافلپ بھی اس بات کااعتراف کرتے ہیں کہ ''اس حوالے سے اے این آئی کاکرداراس لئے ضروری تھاکہ انفلوئنس آپریشن پرسے شک کم کیاجائے''۔
آپ کویاد ہوگاگزشتہ سال سوئٹرزلینڈکے دارالحکومت جنیوا میں بلوچستان کی بعض علیحدگی پسند تنظیموں کی خبریں بہت بڑھاچڑھاکرپیش کی گئیں۔  پھران خبروں کوپوری دنیامیں پھیلایاگیا۔پاکستان کے خلاف اس تمام پروپیگنڈے میں سری واستواگروپ سے منسلک تنظیمیں ملوث تھیں اور ان سب کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی '' را'' کا ہاتھ تھا۔جس کاکام ہی پاکستان کے خلاف  دہشت گردی اور پروپیگنڈا کرناہے۔اے این آئی پرشائع ہونیوالی خبریں انڈین میڈیا کے علاوہ بگ نیوزنیٹ ورک اورورلڈ نیوزنیٹ ورک کے ذریعے95 سے زیادہ ممالک میں پانچ سو جعلی ویب سائٹس پربھی شائع ہوتی تھیں۔یہ سب پروپیگنڈا بڑے منظم اورپیشہ وارانہ اندازمیں ماہرصحافیوں کی طرح کیاجاتاتاکہ کسی کوشک نہ ہوکہ اس کے پیچھے کوئی خفیہ ایجنسی یابھارت ہے۔بی بی سی نے اس تمام معاملے کی چھان بین کے لئے اے این آئی کوبھی سوالنامہ بھیجا لیکن ایشین نیوزایجنسی نے بھی ان سوالوں کاکوئی جواب نہیں دیا۔جس کے بعد یہ یقین پختہ ہوگیاہے کہ اس سارے معاملے میں بھارتی ادارے ملوث ہیں۔
ا یشین نیوزایجنسی ڈاٹ کام کی ویب سائٹ اب بھی چل رہی ہے،اس طرح اوربہت سی ویب سائٹس اب بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔اب ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جوادارے ڈومین نیم کی خریدو فروخت کرتے ہیں وہ اس بات کے ذمہ دارنہیں ہوتے کہ کوئی ادارہ یا خریداروہ ڈومین کس مقصدکے لئے استعمال کرتاہے اورکس کے خلاف پروپیگنڈا کرتاہے۔ہرملک کااپناقانون ہے ۔یورپی یونین میں آزادی اظہارکی آڑمیں کسی کے خلاف پروپیگنڈا کرناآسان ہے۔ بھارت اس کافائد ہ اٹھا رہاہے ۔ 
ای یوڈس انفولیب کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سری واستواگروپ کے پورے نیٹ ورک کوچلانے کے لئے سب سے اہم کرداراس گروپ کے نائب چیئرمین انکت سری واستوا کاہے۔وہ 1991 سے نیودہلی ٹائمز کے ایڈیٹرہیں۔وہ چارسوکے قریب ویب سائٹس بھی چلارہے ہیں۔ان ویب سائٹس کے ڈومین ان کے نام پررجسٹرڈ ہیں۔بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ سال اس نے نئی دہلی کے پرتعیش علاقے میں اس گروپ کے دفتررابطہ کیاتوانھیں بتایاگیاکہ اس عمارت میں کوئی دفترنہیں ہے۔اس سال جب بی بی سی کے نمائندے نے دوبارہ اس عمارت میں جانے کی کوشش کی تواسے اندرنہیں جانے دیاگیا اورنہ ہی کسی سوال کاجواب دیاگیا۔جس سے صاف ظاہرہے کہ اس عمارت میں موجود دفاترکوخفیہ طورپرچلایاجارہاہے اورعام آدمی کی یہاں رسائی نہیں ہے۔سری واستواگروپ سے منسلک ایک ٹیکنالوجی کمپنی کابھی پتہ چلاہے جوبہت پراسراراندازمیں چلائی جارہی ہے۔اس ٹیکنالوجی کمپنی ''اگلایا'' کے مالک کانام انکورسری واستواہے۔یہ کمپنی چند برس پہلے تک دنیا بھرمیں ہیکنگ اور جاسوسی کے آلات اورٹیکنالوجی فروخت کرنے کے اشتہارات چلاتی رہی ہے۔
 رپورٹ کے مطابق سر ی واستواگروپ سے منسلک ایک اہم نام ڈاکٹرپرمیلا سری واستوا کاہے۔جوگروپ کے بانی ڈاکٹرگووندنارائن کی اہلیہ، انکنت سری واستوکی والدہ اورگروپ کی چیئرپرسن ہیں۔ای یوڈس انفولیب کی رپورٹ میں ان کاذکر 2009 ء کے ایک واقعے میں اس طرح آیاکہ جنیوامیں ایک تقریب میں انڈین ڈاکٹرہرشند کورنے الزام لگایاکہ انھیں وہاں ڈاکٹرپرمیلا سری واستوانے ڈرایااوردھمکایااورکہاکہ وہ انڈین حکومت کی بہت سینیئر عہدیدار ہیں۔ڈاکٹرہرشندکورنے بعد میں بھی اس کی تصدیق کی کہ انھیں ڈرانے دھمکانے والی کوئی اورنہیں بلکہ پرمیلاسری واستو ہی تھیں ۔یہ بات بھی ریکارڈ پرہے کہ ڈاکٹرہرشند کورجب انڈیا واپس پہنچیں توانھیں سرکاری نوکری سے ہی نکال دیاگیا اوران کاجرم یہ بتایاگیاکہ انہوں نے جنیوامیں انڈیا کے خلاف باتیں کی تھیں۔جبکہ انہوں -نے حقیقت بیان کی تھی۔
 رپورٹ میں کہاگیاہے کہ جنیوامیں سری واستواگروپ سے منسلک اداروں کی حکمت عملی یہ ہے کہ UNHRC (یونائیٹڈ نیشنزہیومن رائٹس کونسل) کے دفترکے باہر مظاہرے کریں۔اورپاکستان کے خلاف جتناپروپیگنڈا ہوسکتاہے کیاجائے ۔برسیلزمیں یورپی پارلیمان میں اس گروپ سے وابستہ ادارے بڑی منصوبہ بندی سے یورپی پارلیمینٹ کے ممبران سے تعلق قائم کرتے ہیں۔انھیں اپنادوست بناتے ہیں اورپھران کے ذریعے یورپی پارلیمینٹ میں پاکستان کے خلاف تقریریں کراتے ہیں۔جعلی میڈیا اداروں میں مضامین شائع کراتے ہیں۔اوریہ سب کچھ بہت منصوبہ بندی کے ساتھ کیاجاتارہاتاکہ کسی کوذرا بھی شک نہ ہو۔گزشتہ سال جنیوا میں یواین ایچ آرسی کے سامنے پاکستان کے خلاف مظاہرہ کیاگیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیااقوام متحدہ اوریورپی پارلیمینٹ کواس بات کاعلم تھاکہ پاکستان کے خلاف یہ جومظاہرے کئے جارہے ہیں اس کے پیچھے کون سا گروپ اورملک ہے؟بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ''جب یہ سوال یواین ایچ آرسی کے ترجمان رولانڈوگومیز سے پوچھا گیا توانہوں نے جواب دیاکہ ان کاادارہ این جی اوزاوران کی حیثیت کاذمہ دارنہیں ہے، اورنہ ہی کوئی ایسے قوانین ہیں جن کے تحت این جی اوز پرلازم ہوکہ وہ صرف مخصوص موضوع پرہی بات کریں،یہ این جی اوز کی اپنی مرضی ہے کہ کسی بھی موضوع پربات کریں۔ ''رپورٹ کے مطابق یورپی پارلیمان کے ادارے برائے خارجہ امورکے ترجمان پیٹرسٹانونے کہاہے کہ ان کے ادارے کی بڑی ذمہ داری اس قسم کے نیٹ ورکس کے بارے میں آگاہی فراہم کرناہے اوروہ انہوں نے پچھلے سال کی تھی جس کے بعد ہی اس نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کاراستہ کھلاتھا۔ڈس انفارمیشن پھیلانے میں جوبھی ملوث ہوتاہے وہ ایک آزاد معاشرے کے قوانین کاہی فائدہ اٹھاتاہے اورہمیں اس بارے میں بہت احتیاط کرنی ہوتی ہے کہ کہیں کسی کی آزادی اظہارپرتوقدغن نہیں لگارہے، ڈس انفارمیشن اوراسے پھیلانے والوں کی حقیقت کوآشکارکرناہی ان کے ادارے کاایجنڈا ہے ا وریہ ہی مرکزی ہتھیارہے جس کی مددسے ڈس انفارمیشن کے خلا ف آگاہی دی جاسکتی ہے۔''اب جبکہ یہ واضح ہوگیاہے کہ ڈس انفارمیشن ایک جرم ہے ،توجوممالک ڈس انفارمیشن پھیلانے میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔یورپی یونین کواس حوالے سے سوچنا ہوگا اورقانون سازی کرنی چاہئے تاکہ بھارت سمیت کوئی بھی ملک دوبارہ یورپ کے آزادی اظہارکے قانون کاغلط استعمال نہ کرسکے ۔ایسے ممالک پراقتصادی وتجارتی پابندی کاکوئی قانون ہوناچاہئے۔
 اگران رپورٹس کابغورجائزہ لیاجائے توسچ یہ ہی ہے کہ یورپی یونین کے پاس ایساکوئی طریقہ کارموجودنہیں جس سے وہ اس بات کاپتا چلاسکیں کہ یورپی پارلیمان یایورپی یونین کی سڑکوں پرکسی دوسرے ملک کے خلاف جومظاہرے کئے جارہے ہیں، ان کے پیچھے کون ہے اوراس کے مقاصد کیاہیں؟بدقسمتی سے  پاکستان کے ساتھ ایساہی ہوتارہا۔بھارت نے بڑے منظم انداز میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیااورپاکستان کے سافٹ امیج کوتباہ کیا،پاکستان کوایک ایسی ریاست بناکرپیش کرنے کی کوشش کی گئی جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔نام نہاد بلوچ علیحدگی پسند رہنماؤں کو جنھیں انگلیوں پرگنا جاسکتاہے ،ان کے انٹرویوزجعلی ویب سائٹس اورانڈین نیوزایجنسی کے ذریعے دنیا بھرمیں پھیلائے گئے۔ان کی یورپی پارلیمان کے ممبران سے ملاقاتیں کرائی گئیں اورانھیں ہیرو بناکرپیش کیاگیا۔این جی اوز کے ذریعے سیمینارز اورورکشاپس کرائی گئیں۔ ان سب کی ڈوریں دلی سے ہلائی جاتی رہیں ۔کسی نے یہ نہیں بتایاکہ آزادی کی بات کرنے والے یہ لوگ بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔اقوام متحدہ اوریورپی یونین کواس حوالے سے حقیقت پسندانہ رویہ اختیارکرناچاہئے ،تاکہ مستقبل میں کوئی بھی ملک جعلی تنظیموں اورمیڈیا آرگنائزیشنز کے ذریعے کسی دوسرے ملک کے خلاف پروپیگنڈا نہ کرسکے۔ ایسی این جی اوز پرپابندی لگانے کی ضرورت ہے جواقوام متحدہ اورانسانی حقوق سے متعلق اس کے ذیلی اداروں کوگمراہ کررہی ہیں۔ایک اخبارکی رپورٹ کے مطابق ''انٹرنیشنل الائنس آف رائٹس اینڈ فریڈمز ''نامی این جی اوکے ایک باضابطہ رکن ورموٹ نے اس سارے معاملے پربھارتی حکومت کے خلاف قانونی دعوے دائر کرنے کامطالبہ کیاہے۔ورموٹ کاکہناتھاکہ'' اگرہم یہ نہیں کریں گے توکل نئی ویب سائٹس بنالی جائیں گی،ہمیں اس پرکارروائی کرنی ہوگی''۔ورموٹ جیسے اوربہت سے غیرجانب دارکارکن چاہتے ہیں کہ بھارت کوانصاف کے کٹہرے میں لایاجائے اوراسے اُس کے کئے کی سزا دی جائے۔ان غیرجانب دارکارکنوں کامطالبہ ہے کہ انٹرنیٹ کواس قسم کی جعلی ویب سائٹس سے صاف کرنے کے لئے بڑے پیمانے پرتحقیقات کی ضرورت ہے۔ایک سال قبل یعنی دسمبر2019 ء میں بھی بی بی سی نے ایک ایسی ہی رپورٹ شائع کی تھی ،جس کاعنوان تھا''فیک نیوزاورجعلی ویب سائٹس: پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والے انڈین نیٹ ورک کاانکشاف۔'' اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد بھارت پرپوری دنیا میں تھوتھو ضرورہوئی لیکن بھارت کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی ،جس کی وجہ سے پاکستان کے خلاف یہ منظم پروپیگنڈا جاری رہا۔اگرایک سال قبل ہی یورپی یونین اوراقوام متحدہ بھارت پرپابندیاں عائد کردیتے توبھارت کودوبارہ ایسامن گھڑت پروپیگنڈا کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔
پاکستان اکیس کروڑ سے زائد انسانوں کی سرزمین ہے ،کسی ملک کے پروپیگنڈے کے زیراثرپاکستان پرلگائی جانے والی کوئی بھی پابندی براہ راست ان اکیس کروڑ سے زائدانسانوں کی زندگی کو متاثرکرتی ہے اُمید ہے کہ یورپی پارلیمان اس حوالے سے ضرور سوچے گی اوراپنے وسائل کاغلط استعمال کرنے والے بھارت جیسے غیرذمہ دار  ملک اوراس کی جعلی این جی اوز کوسزادے گی۔حقیقت یہی ہے کہ مغرب کی زیادہ ترتوجہ روس اورچین پررہی ہے۔یورپی پارلیمان کو اب بھارت پربھی توجہ دینی ہوگی ۔بھارت پوری دنیا خاص طورپرجنوبی ایشیائی ممالک کے لئے ایک بڑا خطرہ بن کرابھررہاہے۔ 
ڈس انفولیب کی رپورٹ نے بھارت کے پندرہ سالہ کالے کرتوتوں کابھانڈا ،بیچ چوراہے پھوڑ دیاہے۔انڈین کرونیکلزکے محققین کے مطابق یہ تحقیقی رپورٹ فیصلہ لینے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے،ایک ایسانظام بنانے کی ضرورت ہے جوبین الاقوامی طورپرایسے کام کرنے والوں کوعالمی فورمز کاناجائزفائدہ اٹھانے سے روکے۔ای یوڈس انفولیب کے الیگزینڈر الافلپ نے اس نیٹ ورک کے خلاف اقوام متحدہ اوریورپی یونین کے اقدامات کی روشنی میں کہاکہ ڈس انفارمیشن پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔پاکستان نے یورپی یونین اوراقوام متحدہ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈے کے سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کانوٹس لیں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کااس حوالے سے دوٹوک مؤقف سامنے آیاہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ یورپی یونین ڈس انفولیب کی حالیہ رپورٹ نے پاکستان مخالف،بھات کے گھناؤنے عزائم کی قلعی کھول دی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ'' اقوام متحدہ اوران کی این جی اوکمیٹی حکومتوں کی سرپرستی میں چلنے والی جعلی این جی اوزکامواخذہ کرے تاکہ آئندہ کوئی فرضی این جی اوزاپنے جعلی اورجھوٹے پروپیگنڈے کے لئے اقوام متحدہ کاپلیٹ فارم استعمال نہ کرسکے''۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بھارت آخرکیاچاہتاہے اورپاکستان کے خلاف اس سارے پروپیگنڈے کامقصد کیاہے؟اس کاسیدھا ساجواب ہے جوہرپاکستانی جانتاہے ،بھارت کامقصد پاکستان کوکمزوراوربدنام کرناہے۔ بھارت ایک عرصے سے کوششیں کررہاہے کہ پاکستان پرمختلف قسم کی پابندیاں لگوائی جائیں ۔کبھی کوئی ایشو کھڑاکیاجاتاہے اورکبھی کوئی ۔ایک طرف پاکستان کے خلاف سائبروارشروع کررکھی ہے تودوسری طرف افغانستان میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ بنارکھے ہیں ،جہاں دہشت گردوں کوتربیت دے کرپاکستان بھیجا جارہاہے۔ ہندوستان نے پاکستان کے خلاف کئی طرح کے محاذ کھولے ہوئے ہیں۔لیکن اسے ہرمحاذ پرشکست کاسامناکرناپڑرہاہے۔یورپی یونین کوبھی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی نے کس طرح جنیوا اوربر سیلز میں اپنانیٹ ورک قائم کررکھاہے ،جوپاکستان سمیت کئی ممالک کے خلاف کام کررہاہے۔
 ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہی جنگ کااندازبھی بدل گیاہے،اب نئی جنگیں ،روایتی جنگوں کی طرح میدان میں نہیں لڑی جارہیں،بلکہ وہ اسکرین پرلڑی جارہی ہیں،نیوزچینلزپر،کمپیوٹرپراورہمارے سیل فون پر۔ اسے آپ آسان لفظوں میں سائبرورلڈ یاانٹرنیٹ کی دنیا بھی کہہ سکتے ہیں۔اس سائبر ورلڈ میں سائبرجنگیں ہورہی ہیں۔ لوگوں کے ذہن بدلے جارہے ہیں۔اگرآپ پروپیگنڈے کے ذریعے کسی قوم یاگروپ کاذہن بدلنے میں کامیاب ہوگئے تواس نئی دنیامیں یہ ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔اسے آپ ففتھ جنریشن وارفیئر بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم آج کل اسی ففتھ جنریشن وار کاشکارہیں جوہم پرمسلط کردی گئی ہے۔آج کی دنیامیں سوشل میڈیا یاڈیجیٹل میڈیاکو ففتھ جنریشن وارفیئرسے علیحدہ نہیں کیاجاسکتا۔یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں،یعنی مقصد ایک ہے۔ سائبروارفیئرکامقصد پاکستان کوکمزورکرنااورپاکستانی قوم کے دلوں میں شکوک وشبہات اورمایوسی پیداکرنااوران کے دل ودماغ کوشکستہ کرناہے۔
فیک نیوز،پروپیگنڈا خبریں ، ان سب کامطلب یہ ہے کہ کوئی آپ کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت جھوٹ پھیلارہاہے ۔یہ سائبر وار کاآغازہے اس کی انتہااورانجام کیاہوگا،اس بارے میں فی الحال کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، لیکن یہ طے ہوگیاہے کہ اب ملکوں کے درمیان پہلامحاذ سائبروار کاہی ہو گا۔ اس ففتھ جنریشن وار میں جوجیتاوہی سکندرہوگا۔جوپروپیگنڈا کی جنگ ہارگیا، وہ معاشی جنگ بھی ہارجائے گا۔معیشت ختم توسب کچھ ختم۔معاشی طور پر کمزور ملک کے لئے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔
آج کی دنیامیں یہ لطیفہ ہی ہوگا کہ کوئی ملک اپنے میزائلوں اورجنگی جہازوں کوتواپ ڈیٹ کرتارہے لیکن ففتھ جنریشن وار پرتوجہ نہ دے،ڈیجیٹل دنیا سے آنکھیں بندکرلے۔دنیا بھر میں اسی فیصدسے زیادہ لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے پروپیگنڈے کاشکارہورہے ہیں۔اس پروپیگنڈے کی ڈوریں کہیں اورسے ہلائی جاتی ہیں۔
  اگرغیرجانب دار این جی اوز اورتحقیقاتی ادارے ذراسی کھوج لگائیں تووہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے خلاف کئے جانیوالے بھارتی پروپیگنڈے کے سرے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔کس طرح پاکستان کوبدنام کرنے کے لئے جعلی رپورٹیں تیارکروائی گئی ہیں۔بھارت کیسے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک رہاہے۔عالمی اداروں کوبھی اب اپنی ذمہ داریوں کوپورا کرناہوگا۔ایک جعلی میڈیاگروپ اتنابڑانیٹ ورک چلارہاہے لیکن کسی کوکانوں کان خبر تک نہ ہوئی ۔یورپی یونین اوراقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کواس تما م معاملے کوسنجیدگی سے لیناہوگا ۔اس سارے پروپیگنڈے میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ دس سے زائد این جی اوزکانام استعمال کیاگیا۔یورپی پارلیمینٹ کے ارکان کو مقبوضہ کشمیر،بنگلہ دیش ،مالدیپ کے سفر اسپانسرکئے گئے۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ سری واستوگروپ ،انڈین کرونیکلز،گھوسٹ این جی اوزاورجعلی نیوزویب سائٹس کے ذریعے پاکستان کے خلاف جوپروپیگنڈا کرتی رہی ہے ،کیاوہ اب بھی جاری رہے گا؟اب تک کتنی جعلی نیوزویب سائٹس کوبند کیاجاچکاہے؟کتنی این جی اوز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ؟کیایورپی یونین اوراقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے مستقبل میں اس قسم کے ہتھکنڈوں کوروکنے کے لئے کوئی اقدامات کررہے ہیں۔ہوناتویہ چاہئے کہ جواین جی اوز،جعلی ویب سائٹس اورشخصیات انڈین اسٹیبلشمنٹ سے پیسے لے کرپاکستان اورکسی بھی دوسرے ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرتی رہی ہیں، ان پرپابندی لگادی جائے ۔ان کے اثاثے ضبط کئے جائیں اورانھیں ہمیشہ کے لئے بلیک لسٹ کردیاجائے۔بعض ممالک نے صرف اس وجہ سے خاموشی اختیارکررکھی ہے کہ ان کے بھارت کے ساتھ کاروباری مفادات وابستہ ہیں اوروہ بھارت کی بڑی منڈی میں اپنامال بیچتے ہیں۔لیکن یہ دوہرامعیارکب تک چلے گا؟دنیاکوآخرکارانسانی خون اوربنیادی انسانی حقوق کوکاروباری مفادات پرترجیح دیناہوگی اوروہ وقت ضرورآئے گا۔ ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کُتب شائع ہو چکی ہیں۔[email protected]

یہ تحریر 18مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP