قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان کے آبی وسائل اور ان کا صحیح انتظام 

کسی بھی ملک کے معاشی، معاشرتی اور ماحولیاتی امور میں تازہ پانی کے نظام کا فعال ہونا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ہمیں اپنے آبی وسائل کو صحیح طور پر سمجھنا ہے تو ان تمام عوامل کو مدنظر رکھنا ہوگا جو اس میں کارفرما ہیں۔ ہم یہاں اپنے آبی وسائل کا جائزہ لیں گے اور ان عوامل کو سمجھیں گے جو ہمارے ملک میں واٹرمینیجمنٹ اور اس سے متصل ملکی ترقی میں مسائل پیدا کر رہے ہیں اور ان کو حل کیسے کر سکتے ہیں۔



ملک کے پانی کے وسائل اور ان کی صورتحال
 ملک پاکستان کا اگر ہم جائزہ لیں تو اس کا شمار نسبتاً خشک ممالک میں ہوتا ہے۔ ملک کے بیشتر علاقے کم بارشوں والے ہیں۔  
اگر ہم اپنے ملک کے نقشے پر غور کریں تو اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا لازم ہوجاتا ہے کہ ہمالیہ اور قراقرم کے عظیم پہاڑی سلسلوں سے برآمد ہونے والے دریائے سندھ اور دیگر بڑے چھوٹے دریائوں کا بہائو ملک کے شمال سے شروع ہو کر جنوب میں ختم ہوتا ہے اس طرح پورے ملک کی لمبائی میں پانی کی ایک قدرتی ترسیل ہو رہی ہے۔ ان دریائوں کی بدولت ہمارے ملک میں تازہ پانی کے وسائل بڑی مقدار میں ہیں اور اوسطاً 150 ملین ایکڑ فٹ (MAF) یا 185 ارب مکعب میٹر (cubic meter) پانی سالانہ بہتا ہے۔مگر جب اس حجم کو 22 کروڑ عوام پر تقسیم کرتے ہیں تو یہ محض 850 مکعب میٹر فی کس رہ جاتا ہے (جو کہ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق 2008 میں  1000 سے متجاوز تھا) جبکہ عالمی معیار کے مطابق پانی کی دستیابی فی کس 1800 مکعب میٹر سالانہ ہونی چاہئے اور جس ملک میں یہ سطح 1000 مکعب میٹر فی کس سالانہ سے کم ہو جائے تو وہ پانی کی کمی والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ 
 پانی کی کمی اور اس کی وجوہات  
مزید براں یہ کہ پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے بڑھتی ہوئی آبی جارحیت کے نتیجے میں پانی کا بہائو ہر گزرتے سال کے ساتھ کم ہوتا جا رہا ہے۔کشمیر پر قابض ہونے کی بدولت بھارت کو یہ اسٹریٹجک فائدہ حاصل ہے کہ وہ ہمارے دریائوں پر ڈیم یا بیراج بنا کر ان کا رخ اپنے ملک کی طرف موڑ رہا ہے۔مثلاً بگلہار ڈیم، کشن گنگا اور رتلے ڈیم جیسے منصوبوں کے ذریعے۔ 1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدہ کی مستقل خلاف ورزی جاری ہے جس کے تحت تین مشرقی دریائوں(دریائے بیاس، راوی اور ستلج)کا پانی بھارت استعمال کرسکتا ہے اورتین مغربی دریائوں (دریائے سندھ، چناب اور جہلم)کا پانی پاکستان استعمال کر سکتا ہے۔ لہٰذا آنے والے وقت میں پاکستان پانی کے شدید بحران کا شکار ہوگا جس سے نہ صرف عام لوگ متاثر ہوںگے بلکہ زراعت پر منحصر ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔  قائداعظم کا یہ  فرمان کہ ''کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے'' ان کی اس دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو انہوں نے اس وقت بھانپ لیا تھا کہ آنے والے وقت میں یہ تنازع ضرور کھڑا ہوگا اور بھارت کی جانب سے ہمارے آبی ذخائر پر ڈاکہ ڈالا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف عالمی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا بھر میں بارشوں اور برفباری کے پیٹرن بدل رہے ہیں لہٰذا مختلف ممالک میں خشک سالی یا بے موسمی بارشیں ہو رہی ہیں جو کہ فصلوں اور قدرتی حیات، جنگلات وغیرہ کے لئے سخت نقصان دہ ہیں۔



 آبی وسائل کا استعمال 
اب اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان میں پانی کا استعمال کس مد میں کتنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے UNDP کی 2016 میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق( (figure2کے خاکے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جس کے مطابق) 91.6% استعمال ایگری کلچر میں ہے۔ جبکہ دیگر شعبوں میں جیساکہ شہری آبادی کا استعمال.5% 2اور صنعتوں میں 3.3 فیصد ہے۔ لہٰذا ہماری آنے والی حکمت عملی اسی کی روشنی میں ہونی چاہئے اور سب سے زیادہ پانی لینے والے شعبے پر سب سے زیادہ روشنی ڈالنی چاہئے۔ 
واٹر پروڈکٹوٹی (Water Productivity) 
ملکی معیشت میں آبی وسائل کے کردار کو اگر صحیح طور پر سمجھنا ہے تو اس کے لئے عالمی بنک کی وضع کردہ اصطلاح واٹر پروڈکٹوٹی کو دیکھنا ہوگا۔ یعنی اگر کل جی ڈی پی کو تازہ پانی کے کل استعمال سے تقسیم کر دیں تو یہ پتہ چل جائے گا کہ فی ڈالر جی ڈی پی پیدا کرنے میں کتنے مکعب میٹر پانی خرچ ہوتا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ واٹر پروڈکٹوٹی  لگزمبرگ کی ہے جو کہ 1308 ڈالر فی مکعب میٹر پانی ہے۔ جبکہ پاکستان صرف 1 ڈالر فی مکعب میٹر پر ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے پڑوسی ممالک بھارت اور ایران بالترتیب 3 اور 4 ڈالر فی مکعب میٹر پر ہیں۔
 زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے ملک میں آبپاشی بہت اہم شعبہ ہے۔ پاکستان دنیا میں سب سے بڑا نہری نظام رکھنے والا ملک ہے۔ اسی کے ساتھ ہی پانی ذخیرہ کرنے کا نظام بھی ہمارے پاس بڑے ڈیموں کی صورت میں موجود ہے جن  میں قابل ذکر تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور دیگر بڑے چھوٹے ڈیم ہیں۔ تاہم آج سے پچاس سال قبل یہ بات یقینا قابل فخر تھی مگر جوں جوں وقت گزرا تو دو عوامل نہایت تیزی سے کام کر گئے جن کو سمجھنا ضروری ہے۔ 
آبی وسائل سے منسلک مسائل اور چلینجز 
پہلی چیز جو سمجھنی ضروری ہے وہ یہ کہ نہری نظام وقت کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہوتا چلا گیا اور ایک مسئلہ خصوصاً یہ آیا کہ کچی نہروں سے جو پانی زمین میں رستا رہا وہ ایک طرف تو پانی کے زیاں کا موجب بنتا رہا تو دوسری طرف سیم اور تھور جیسے مسائل پیدا کرتا رہا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ہوا کہ ڈیموں میں مٹی بھرنے سے ایک طرف تو ان کا حجم کم ہوتا چلا گیا اور دوسری طرف راک سائیکل میں بھی مداخلت ہوتی رہی وہ یوں کہ پہاڑوں کی مٹی جو میدانی علاقوں کو زرخیز کرتی ہوئی سمندر میں جاتی ہے اور سمندری حیات کے لئے ضروری ہے وہ ڈیموں میں رکنے لگی۔
جدید ٹیکنالوجی کا نہ ہونا  
دوسری بات جو اور بھی زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ وقت کہ ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی جدید ہوتی گئی لیکن ہم ابھی تک صدیوں پرانے نظام آبپاشی پرانحصار کئے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں آج کل کم پانی میں زیادہ زمین سیراب کرنے والے جدید ترین آبپاشی کے نظام آچکے ہیں۔جن میں Sprinkler System اور Drip Irrigation  وغیرہ شامل ہیں۔ان ٹیکنالوجیز کو استعمال کرکے80سے90 فیصد پانی بچایا جا سکتا ہے۔
ان مسائل کا حل 
اب اس مسئلہ کے حل کی طرف آتے ہیں۔ اگر ہمیں اپنے ملک کے آبی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے اور ملک کو ترقی دینی ہے تو دو چیزوں کو سمجھنا ہوگا۔ یا تو ہمیں اپنے آبی ذخائر میں اضافہ کرنا ہے یا پھر کھیتوں میں جو بے پناہ پانی ضائع کیا جارہا ہے اس میں کمی کرنی ہے یا پھر دونوں طریقوں پر غور کرنا ہے۔ ان دونوں کاموں کو کرنے کے لئے ہمارے پاس کون سے دستیاب طریقے ہیں۔ ان کی ٹیکنیکل اور معاشی فزیبلٹی کا موازنہ کرنا ضروری ہے۔    



پانی کے ذخائر 
سب سے پہلے ہم پانی کے ذخائر کا جائزہ لیتے ہیں کہ ملک میں کتنا پانی  دستیاب ہے اور پانی کے ذخائر کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس میں کتنے اخراجات آئیںگے۔گزشتہ کچھ دہائیوں کا اگر موازنہ کریں تو سسٹم میں موجود پانی کے حجم کا اندازہ ہو جائے گا۔جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ زمیں کی سطح پر پانی کا کل بہائو اوسطاً150 MAF سالانہ ہے جبکہ ڈیموں میں اس کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف 30 دن کی ہے۔ اس طرح ہم ایک وقت میں محض 17 MAF پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ جبکہ یہ مقدار مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔اس وقت قابلِ ذکر ڈیموں میں تربیلا، منگلا، گومل، خانپور اور شاہپور کے ڈیم ہیں، تاہم ان کے علاوہ 150 چھوٹے بڑے پانی کے ذخیرے (reservoirs) موجود ہیں۔اس ضمن میں 2018 کا سال خاصا کامیاب رہا جس میں نیلم جہلم ڈیم، تربیلا توسیعی منصوبہ اور گولن ڈیم جن سے نہ صرف پانی بلکہ سستی بجلی بھی پیدا ہو رہی ہے۔ ڈیموں اور بیراجوں سے اس پانی کا رخ موڑ کر کھیتوں کی طرف نہری نظام کے ذریعے جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ IRSA کی رپورٹ کے مطابق کوٹری بیراج سے نیچے سمندر کی طرف جانے والا پانی کا بہائو سال میں کوئی ایک سو چالیس سے ایک سو اسی دن تک بالکل صفر ہوتا ہے۔گویا سسٹم میں پانی کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔     
زیر زمین پانی کے وسائل
واضح رہے کہ زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ اس سے کہیں زیادہ ہے تاہم آبی وسائل کے ماہر ڈاکٹر رافع عثمانی کا کہنا ہے اس کا صحیح تخمینہ لگانے کے لئے موجودہ ڈیٹا نامکمل ہے۔لیکن آبی وسائل کے ایک اور ماہر ڈاکٹر حسن عباس کے اندازے کے مطابق یہ تخمینہ تقریباً400 MAF ہے جبکہ UNDP کی رپورٹ کے مطابق قابلِ استعمال زیر زمین آبی وسائل 810 MAF ہے۔(ناقابل استعمال کھارا پانی اس کے علاوہ ہے) جس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ملک بھر میں کوئی دس لاکھ ٹیوب ویل لگے ہوئے ہیں اور ان سے سالانہ 55 MAF پانی حاصل ہوتا ہے۔
مختلف آپشنز کی لاگت کے تخمینے
موجودہ منصوبے
حکومت کے منصوبوں میں کئی نئے ڈیم موجود ہیں اور کچھ پر کام جاری ہے مثلاً داسو ڈیم جس کی تعمیر 2017میں شروع ہوئی،  اس منصوبے کے پہلے حصے کی لاگت 4.28 ارب ڈالر ہے اور اس سے 4320 میگاواٹ بجلی بھی بنے گی۔ اس منصوبے میں  1.1MAFپانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ واپڈا کے نہروں اور پانی کے ذخائر پر پانچ سے چھ چھوٹے بڑے منصوبے چل رہے ہیں۔   
مستقبل کے منصوبے 
نئے یا ملتوی منصوبوں کا اندازہ لگانا ہے تو اس کے لئے 1977 میں بننے والے کالا باغ ڈیم کے منصوبے کی مثال لے لیں۔ جس کی اس وقت کی قیمت کا تخمینہ  6.12 ارب ڈالر تھا، اور اس میں بیک وقت  6MAF پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تھی اور تعمیر کے لئے پانچ سال کی مدت درکار تھی لیکن بعد میں یہ منصوبہ پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر متنازعہ ہوگیا۔ دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت کا 2013 میں لگایا گیا تخمینہ 14 ارب ڈالر کا تھا۔جس میں تقریباً آٹھ MAF پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اور 4800 میگاواٹ بجلی بنے گی۔ 
 اس طرح ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے عظیم  پہاڑوں کہ درمیان درجنوں مقامات پر پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی بنانے کے منصوبے موجود ہیں مگر اس سلسلے کا سب سے دلچسپ منصوبہ سکردو کے کتزرہ ڈیم (Katzarah Dam)کا ہے جو  35MAF پانی روکنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا اور ساتھ ہی 15000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ 2016 میں بننے والے اس منصوبے کا تخمینہ محض سات ارب ڈالر ہے۔  

پانی کے استعمال میں زیاں کی روک تھام    
فصلوں کا غلط انتخاب 
اس پوری صورتحال میں سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں زیادہ پانی مانگنے والی فصلیں جیسا کہ گنا اور چاول وغیرہ کی کاشت بڑھ رہی ہے۔ یہ دونوں فصلیں ٹراپیکل ممالک (جہاں بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں) کی فصلیں ہیں۔ دنیا بھر میں چقندر سے چینی بنائے جانے کا رواج بڑھ رہا ہے جو کم پانی میں اگتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ابھی بھی گنے سے ہی چینی بن رہی ہے۔ اسی طرح کپاس کی فصل جو کم پانی لیتی تھی اب اس کی کاشت میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور اس کی جگہ گنا کی کاشت بڑھ رہی ہے۔ اس طرز عمل کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دیگر فصلیں جیسا کہ سورج مکھی وغیرہ جو کم پانی میں اگ جاتی ہیں اور زیادہ منافع دیتی ہیں ان کی کاشت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دراصل حکومتی سطح پر ایسی پالیسی لانی چاہئے جو فصلوں کی جانب ملک کے کسانوں کی  صحیح رہنمائی کرے۔ 
آبپاشی کے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت۔
ہمارا آبپاشی نظام بوسیدہ ہونے کی وجہ سے مختلف مسائل کھڑے ہو رہے ہیں اور دن بدن ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر سردیوں میں فوگ کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے ماحول میں فصلوں کی ضرورت سے بہت زیادہ پانی ڈال رہے ہیں اور وہ آبی بخارات کی صورت میں فضا میں ضائع ہورہا ہے لیکن سردیوں میں اس کی فوگ بن جاتی ہے جس کے معاشی نقصانات علیحدہ ہیں۔ اسی طرح زیر زمیں پانی اوپر آرہا ہے نتیجتاً سیم اور تھور کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زمینیں تباہ ہورہی ہیں۔  
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ وقت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی آتی رہی اور ہم ابھی تک قدیم طریقوں سے آبپاشی کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈرپ اریگیشن، سپرنکلر سسٹم  وغیرہ۔ ان کی لاگت کو اور استعمال کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔پنجاب ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ڈرپ اریگیشن کو لگانے کی اوسط لاگت ایک لاکھ 25  ہزار سے لے کر دو لاکھ روپے فی ایکڑ آتی ہے۔ اس طرح پانی کی کم سے کم پچاس فیصد بچت کے ساتھ پیداوار میں بھی بیس سے سو فیصد اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
اگر اس کو بڑے پیمانے پر لاگو کرنا ہے تو یوں سمجھ لیں کہ ایک ارب روپے میں پانچ ہزار ایکڑ رقبہ اس ٹیکنالوجی سے لیس ہو سکتا ہے۔ اسی کو ضرب دیں تو دس لاکھ ایکڑ زمین کے لیے دو سو ارب روپے کی ضرورت ہوگی۔ واضح رہے کہ ڈیم کے مقابلے میں یہاں تمام رقم یکمشت لگانے کی ضرورت بھی نہیں اور بتدریج یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ پانی کو بچانے کے لئے دیگر ذرائع بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسا کہ پانی کے نالوں (Watercourses) کو پکا کیا جانا شامل ہے اس طرح بھی کافی پانی بچ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ water pricing  یعنی پانی کا بل لاگو کرنا (جیسا کہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں ہو رہا ہے) کی پالیسی بھی وضع کی جاسکتی ہے۔ جس سے کسان خود پانی کے زیاں کو روکنے کے اقدامات کرتے ہیں۔
خلاصہ  
آبی وسائل کو صحیح طور پر سمجھنا اور اس کے استعمال اور زیاں سے ملکی سطح پر بچنا اور اس کی پالیسیاں وضع کرنے کے لئے ان مسائل اور ان کے تمام عوامل کو صحیح طور پر اور تفصیل سے سمجھنا ضروری ہے۔ آنے والے وقت میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے تیاری کرنی ہوگی اور اس کے لئے  اپنی زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہوگا اور صحیح فصلوں کا انتخاب کرنا ہوگا۔ 
ہمیں اپنے ملک کی Water Productivity کو بڑھانا ہوگا۔اس کے لئے  نہ صرف آبی ماہرین بلکہ ماحولیاتی اور حیاتیاتی ماہرین کی آراء بھی اہم ہیں۔ کیوں کہ آبی وسائل نہ صرف زراعت اور بجلی کے لئے ضروری ہیں بلکہ انسان اور فطرت پر دارومدار رکھنے والی تمام حیاتیاتی انواع جیسے جنگلات، سمندری حیات اور وہ تمام چیزیں جن پر انسان کا دارومدار ہے کے لئے بھی ضروری ہے تاکہ ان کا صحیح حصہ ان کو مل سکے۔     

یہ تحریر 275مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP