متفرقات

پاکستان کی مادری زبانوں کا ادبی میلہ 2022

 اپنی ماں بولی سے کسے پیار نہیں ہوتا، ہر انسان کو اپنی مادری زبان سے محبت ہوتی ہے۔ یہی مادری زبان تو اس کی شناخت کا ذریعہ ہوتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں 80 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بلتی بھی انہی زبانوں میں سے ایک ہے جو پاکستان کے انتہائی شمال میں سلسلہِ کوہ ہمالیہ و قراقرم کے درمیان واقع'' بلتستان'' کے علاوہ معمولی فرق کے ساتھ کارگل و لداخ میں بھی بولی جاتی ہے۔ یہ دراصل سائینو تبتی زبان کی تبت وبرمن شاخ سے تعلق رکھتی ہے۔ گویا یہ قدیم تبتی زبان کی مغربی شاخ ہے۔ تبتی زبان تبت کے علاوہ چین کے صوبہ ینن، ژھینگائی، سیچھوان، بھوٹان، سکم، نیپال کے صوبہ شرپا، لداخ، کارگل اور بلتستان کے وسیع و عریض خطے میں بولی جاتی ہے مگر ایک دوسرے سے مربوط نہ ہونے کے باعث ان کے لہجوں میں بڑا فرق آیا ہے۔ دنیا کی دیگر زبانوں کے برعکس یہ زبان''پھہ سکت''یعنی پدری زبان کہلاتی ہے۔ بلتی گرائمر کے اعتبار سے سادہ مگر لب و لہجہ کے لحاظ سے مشکل زبان ہے۔ آداب و شائستگی میں یہ زبان اپنی مثال آپ ہے۔ بلتی میں ہر فعل کے ساتھ ایک تاکیدی لفظ بھی لایا جاتا ہے اور یہ انفرادیت دنیا کی بہت کم زبانوںکوحاصل ہے۔ یونیسکو  کی تحقیق کے مطابق بلتی ان زبانوں میں سر فہرست ہے جو آنے والی صدی میں ختم ہونے والی ہیں۔ مگر اس زبان کے شعرا ء و اہل قلم اپنی زبان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مختلف اصناف سخن میں شاعری تخلیق ہورہی ہے، افسانے،  ناول اور ڈرامے لکھے جارہے ہیں، قرآن مجید اور دیگر مذہبی کتابوں کے تراجم کیے جا رہے ہیں، لغات مرتب ہورہی ہیں اور داستانیں و کہانیاں محفوظ کی جارہی ہیں لیکن یہ سارے کام انفرادی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ حکومتی سطح پر اب تک یہاں زبان و ادب اور قومی ورثہ کے تحفظ و فروغ کے لیے کوئی ادارہ قائم نہیں ہوا ہے۔
21 فروری کو ہر سال پوری دنیا میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں 2016 سے مادری زبانوں کا عالمی دن انڈس کلچرل فورم کے زیر اہتمام اسلام آ باد میں بڑے پیمانے پر منایا جاتا رہا ہے۔ اس سال انڈس کلچرل فورم نے اکادمی ادبیات پاکستان اور یو این ڈی پی کے اشتراک سے شاندار طریقے سے ادبی میلہ منعقد کیا۔ یہ سہ روزہ ادبی میلہ 18 تا 20 فروری اکادمی ادبیات پاکستان کی عمارت میں انعقاد پذیر ہوا جس میں ملک بھر سے مختلف زبانوں میں لکھنے والے سیکڑوں شعراء  و اہل قلم نے شرکت کی۔ میلے کے منتظمین نے اس میلے میں بطور مہمان مدعو کرنے کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کسی بھی شاعر یا ادیب کی 2021 میں کتاب شائع ہوئی ہو۔
18 فروری کی شام کو پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس کی مہمان خصوصی رکن قومی اسمبلی محترمہ غزالہ نورین تھیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور  اس میلے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے دنیا بھر میں بالخصوص وطن عزیز پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کو درپیش خطرات اور ان خطرات کے تدارک کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان کے وژن اور مشن سے آگاہ کرتے ہوئے سب کو مل کر کام کرنے پر زور دیا۔ اس کے بعد انڈس کلچرل فورم کے چیئرمین جناب منور حسن نے خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے اس میلے کے اغراض و مقاصد پیش کیے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نئیر نے ''کیا ادب و فن کی ترویج لسانی تنوع کے فروغ کے بغیر ممکن ہے؟'' کے موضوع پر کلیدی خطبہ دیا اور پاکستان میں لسانی تنوع کو رنگ برنگے پھولوں سے بھرے گلشن سے تشبیہ دی۔ اس موقع پر یو این ڈی پی ریزیڈنٹ نمائندہ جناب کنوٹ اوسٹبی نے بھی خطاب کرتے ہوئے دنیا میں خطرات سے دوچار زبانوں کے تحفظ و فروغ کے لیے کام کرنے پر زور دیا۔ اس میلے کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی رکن قومی اسمبلی غزالہ نورین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بولی جانے والی تمام زبانوں کی بڑی اہمیت ہے اور ان تمام زبانوں کے خمیر سے ہی ہماری قومی زبان''اردو''نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ساری زبانوں کے ادب و شاعری میں پاکستان کی وحدت و استحکام اور فلاح انسانیت کے پیغامات ملتے ہیں۔ افتتاحی تقریب کے آخر میں پاکستان کی دس مادری زبانوں کی نابغہ روزگار شخصیات کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کو''لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ''سے نوازا گیا جن میں محترمہ زاہدہ حنا)اردو(، جناب درویش درانی)پشتو(، جناب شیراز طاہر )پوٹھوہاری(، جناب غنی پرواز )بلوچی(،  محترمہ پروین ملک )پنجابی(، ڈاکٹر نصراللہ ناصر )سرائیکی(، محترمہ نور الہدیٰ شاہ )سندھی(، جناب آصف ثاقب )ہندکو(، جناب گل بنگلزئی )براہوئی( اور راقم محمد حسن حسرت )بلتی( شامل تھے۔
اس میلے کے دوسرے اور تیسرے روز بیک وقت دو دو علمی نشستیں انعقاد پذیر ہوئیں جن کے موضوعات (1)مادری زبانوں میں لغت نویسی اور لسانیات کے نئے زاویے (2) پاکستان کی مادری زبانوں میں نئے ناول (3)مادری زبانوں میں بچوں کا ادب (4) بین الاقوامی شہرت یافتہ کتاب ''میرا داغستان''کے پاکستانی زبانوں میں تراجم (5) مادری زبانوں میں نئی نسل کے نمائندہ شعراء (6) تانیث ادب میں تحقیق اور تخلیق (7) مادری زبانوں میں لوک ادب اور ورثہ کو محفوظ بنانے کا کام (8) پاکستان کی مادری زبانوں کے ادب کے اردو تراجم (9)کورونا اور تخلیقی ادب (10) مادری زبانوں کے تحفظ اور ترویج کے لیے ریاست اور معاشرے کا مشترکہ کردار (11) مادری زبانوں میں فکشن نگاروں کی تواناآوازیں(12)مادری زبانوںمیں کتابی سلسلے (13) ادبی تحرک اور مادری زبانیں (14) مادری زبانوں میں افسانوں کی نئی کتاب مقرر ہوئے تھے۔ ان موضوعات پر مختلف شاعروں و ادیبوں نے اپنے اپنے انداز میں عالمانہ گفتگو کی جبکہ ان نشستوں کی صدارت علی الترتیب راقم محمد حسن حسرت، نور الہدیٰ شاہ، حفیظ خان، وقار شیرازی، ایاز گل، پروین ملک، شعیب خالق، ڈاکٹر نصراللہ ناصر،  شیراز طاہر، ڈاکٹر فاطمہ حسن، حمید شاہد، اعجاز سمیل،  قدیر انصاری اور آصف ثاقب نے کی۔ اس دن یو این ڈی پی کی طرف سے تیار کردہ دستاویزی فلم '' پاکستان: مقامات، چہرے، آوازیں'' بھی دکھائی گئی۔ شام کو پہلی نشست میں فیض احمد فیض کی بیٹی محترمہ منیزہ ہاشمی کی مرتب کردہ کتاب ''کنورزیشنز ود مائی فادر'' کی رونمائی کی گئی۔ اس دن کی آخری نشست میں مادری زبانوں میں شاعری کی بیس کتب کی رونمائی بھی کی گئی جن میں گلگت بلتستان سے احسان علی دانش کے علامہ اقبال کے کلام کا بلتی منظوم ترجمہ ''سکت بجیس''بھی شامل تھا۔ ان شعرا ء نے اپنی مادری زبانوں میں کلام بھی سنائے۔ اس میلے میں مختلف زبانوں میں چھپی ہوئی کتابوں کے سٹال بھی لگائے گئے تھے۔
اس طرح کے ادبی میلوں اور تقریبات کے انعقاد سے پاکستان کی مادری زبانوں میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کو نہ صرف ایک دوسرے سے تعارف و تعامل کا موقع ملتا ہے بلکہ وہ مختلف زبانوں میں لکھے گئے تخلیقی ادب کی موشگافیوں سے بھی روشناس ہو جاتے ہیں۔ نیز لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی سے احساس محرومی کا ازالہ ہو جاتا ہے اور زبان و ادب کے تحفظ و فروغ کی سرگرمیوں میں مثبت پیش رفت ہوتی ہے۔ انڈس کلچرل فورم اور اکادمی ادبیات پاکستان مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس اہم قومی ضرورت کا ادراک کرکے پاکستان کی مادری زبانوں کا میلہ منعقد کیا جس سے یقینا معاشرے میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ مادری زبانوں کے تحفظ و فروغ کے لیے ہر سطح پر اور ہر زاویے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان زبانوں کو پاکستان کے آئین میں جگہ دے کر ان کو قومی زبان کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ نیز پرائمری سطح پر مادری زبانوں کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا جائے بصورت دیگر یہ زبانیں اپنا وجود کھو بیٹھیں گی۔ ||


مضمون نگار ممتاز ماہرِ تعلیم ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں پرائڈ آپ پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔
 [email protected]

یہ تحریر 84مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP