قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان کی بات

بڑی کسم پرسی کا عالم ہے۔میں کشمکش میں ہوں کہ آپ سے مخاطب ہوں یا نہ ہوں۔ اس دور میں جب ہر سُو مایوسی اور بے چارگی ہے۔ ہرکوئی اپنی بے بسی، کم مائیگی اور محرومیوں کا رونا رو رہا ہے۔ میری آواز کسی پرکیا اثر کرے گی؟ لیکن پھر سوچتا ہوں کہ نہیں! مجھ سے محبتوں کے بہت دعویدار ہیں۔ میری خاطر بہت سوں نے اپنی زندگیاں نچھاور کر دیں۔بہت سے آج بھی مجھ پر کٹ مرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ میں نے اپنے دامن میں کیسے کیسے پھول بھر رکھے ہیں؟ لیکن آج میں نوحہ کناں ہوں! میں آپ سب کا وطن پاکستان ہوں۔ تار تار دامن، زخم زخم جسم اور روح! بس نہ پوچھو اے اہل چمن ! نہ پوچھو! شروع میں میری بڑی شان تھی ۔ باقی ملکوں میں ،میں سب سے بانکا تھا۔ بڑے بڑے، پرانے پرانے ممالک مجھے رشک سے دیکھا کرتے کہ میرا وجود میں آنا ان کے لئے باعثِ حیرت تھا۔ میں ان کی حیران نظروں کو دیکھتا اور زیر لب مسکراتا رہتا کہ میں ایک راز تھا۔ لمحے گزرتے رہے، بہت وقت بیت گیا ۔ کیسے کیسے نا اہل اور مفاد پرست مجھ سے وفا کے نعرے لگاتے آتے اور میرے سینے میں بسنے والے عام لوگوں کو بے وقوف بنا کر اپنا پیٹ اور تجوریاں بھرتے رہے۔میں بہت تڑپا،بہت رویا، جب زمانے کی سازشوں نے مجھ سے میرا آدھا وجود چھین لیا۔ممکن تھا کہ میں سنبھل نہ پاتا لیکن مجھے ایک نیا حوصلہ عطا کیا گیا ،میرے لئے نئے مقاصدکا تعین کیا گیا اور پھر ایک نئے عزم کے ساتھ میں نئے سفر پر چل پڑا،کہ اب میرے وجود میں بسے وفا کے علمدارقرض اتارنے کوتیار تھے۔ ایک بار پھر مجھ سے پیار کے دعوے کر رہے تھے۔ میرے پاکستانیو! میں تمہیں کیا بتاؤں کہ پھر کیسے کیسے میری حسرتیں پامال ہوئیں؟ میرے سینے پر بسنے والوں نے کس کس انداز سے مجھے مایوس کیا؟ تم سب اپنے آپ کو بڑے دل والا کہتے ہو لیکن مجھے دیکھو !مجھ سے بڑا دل کس کا ہو گا؟ آج کی صورتحال تم سب کے لئے الجھی ہوئی ہے لیکن میرے لئے کوئی الجھن نہیں۔اصل میں ،میری نمو وفا سے ہے اوروفادار الجھتے نہیں‘ وہ تو وفا کئے جاتے ہیں اور بس۔آج بھی میرے وفادار جانتے ہیں کہ سیدھا رستہ ہی آسان بھی ہے اور درست بھی۔ آج میری سرزمین پر جنم لینے والے میرے خلاف نعرہ زن ہیں۔ لیکن قائداعظم کے سامنے سب سرنگوں تھے ۔اُن کی زبان نہ سمجھتے مگر پیغام سمجھتے بھی تھے اور مانتے بھی۔ ان کے حق میں نعرے لگاتے ۔ وہ سچا شخص مجھے صرف آزاد ہی کرا سکا۔ کامیاب کرانے کی ذمہ داری وہ آنے والوں پر چھوڑ گیا۔ مگر اب تو میرے اپنے میرے خلاف نعرہ زن ہیں۔ میرے ٹکڑے کرانے کے درپے ہیں۔ کوئی آزاد بلوچستان چاہتا ہے۔ لو پوچھو! بلوچ بھی کبھی غلام ہوسکتاہے؟اور میں کسی کو غلام رکھنے کاکیسے سوچ سکتا ہوں؟جیسی آزادی میں لایا تھا ویسی تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔لیکن کوئی قدر تو کرتا، میرے وجود سے جڑنے تو سب خود آئے تھے،اپنی مرضی سے اور ڈنکے کی چوٹ پر۔ ان کے بڑوں نے(جو سوچ اور سمجھ میں بھی بڑے تھے اور دل کے بھی بڑے ) خود آگے بڑھ کر میرے قائد کے ہاتھ تھامے تھے اور انہیں سونے چاندی میں تول کر رکھ دیا تھا۔ مگر آج اغیار کے اشاروں پر رقصاں کٹھ پتلیاں میرے وجود سے بلوچستان کو الگ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔مُجھ سے جُدا ہو کر غیر کے دامن میں آزادی ڈھونڈنے چلے ہیں۔ ماضی میں سندھو دیش بنانے کے نعرے بھی لگتے رہے ہیں۔میری خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر آنے والے تک میرے بارے میں زہر افشانی کر رہے ہیں۔ زبان، علاقے اور فرقے کے نام پر سب کٹ مرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ دشمن کے عزائم تو صاف ہیں۔وہ آج بھی میرے بارے میں اپنے عزائم کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ میرے وجود کے خاتمے اور میری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے۔سو دشمن سے کیا ڈرنا کہ وہ تو ہے ہی دشمن! مگر میں تو اپنے دامن میں موجود خلفشار سے آزردہ ہوں۔ مجھ سے وفا کے نام پرعوام کو بے وقوف بنانے والے لیڈر میرے لئے باعث اذیت ہیں۔ میرے محافظ آج بہت ہوتے ہوئے بھی تنہا نظر آتے ہیں۔میرے وفادار اکثریت کے باوجود بھی خاموش ہیں۔ میرا خون چوسنے والے مفکر‘ قوم کو فکری انتشار میں مبتلا کر رہے ہیں۔دنیا پر نظر ڈال لو ،میڈیا ریاستوں کا چوتھا ستون کہلاتا ہے،لیکن کچھ لوگ میڈیا کے ذریعے عوام کو الجھا کر اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ میرے اہل چمن ! آزادی حاصل کرنے کے لئے بڑی کوشش کرنی پڑتی ہے لیکن اسے برقرار رکھنا بھی آسان نہیں ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تم آزادی کی قدرو قیمت کا احساس گم کر بیٹھے ہو؟ سوچو،سو چو کیونکہ تمہیں سوچنے کا حکم ہے۔میں سوچتا ہوں مشکل کیا ہے؟میرے سینے پر بسنے والے وفادار کیوں بے بس ہیں؟معاملہ سمجھ کیوں نہیں پا رہے؟ کامیابی ایکے سے ملتی ہے۔ اتحاد سے ہاتھ آتی ہے تو پھریہ سب کے سب اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی زنجیریں توڑ کر متحد کیوں نہیں ہو جاتے۔۔ تمہارے دشمن اپنے مقصد میں یکسو ہیں کہ تمہیں نیست و نابود کرنا ہے تو تم اپنا وجود برقرار رکھنے میں یکسو کیوں نہیں ہو سکتے ۔ساتھ، ہاتھوں میں ہاتھ دے کر ، صادق جذبے کے ساتھ چل پڑو کہ چل پڑنے میں ہی خیر ہوگی، ہر طرف نعرہ لگ رہا ہے کوئی میرے لئے بھی نعرہ لگائے، کوئی مجھے بھی سوچے‘ کوئی فکر کرے‘ کوئی بچائے کہ اس کے بعد شاید موقع نہ ملے، بعد میں افسردہ ہوتے پھروگے تو ابھی سے فکر کر لو۔ یہ نہ ہو کہ تمہاری داستان صرف داستان عبرت بن کر رہ جائے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میرے باسی، میرے وجود میں قائم اٹھارہ کروڑ مجھے اپنی طرح، اپنے کسی عزیز کی طرح گوشت پوست کا ایک انسان ہی سمجھ لیں جسے وہ اپنے دل کے بہت قریب رکھتے ہیں۔آخرتم سب کسی نہ کسی سے توپیار کرتے ہی ہو،تو مجھ سے کیوں نہیں۔دیکھو تو ذرا،کیا میں تمہارے سب سے پیارے سے زیادہ پیارا نہیں۔دیکھو! میں کیسے تمہارے لئے اپنے دیدۂ و دل واکئے بیٹھا ہوں، میری آنکھیں تمہارے پیار، تمہاری توجہ کو ترستی ہیں۔ میں تمہاری عزت، آبرو اور حفاظت کا خواہاں ہوں۔ میں نے اپنے وجود میں پوشیدہ ہر قوت، ہر خزانہ تمہارے لئے پیش کر رکھا ہے۔کون ہے جو تمہیں ایسی چاہت ،ایسی محبت دے سکتا ہے؟ بس میں ہی ہوں۔ میرے بچو!بھائیو، بہنو! تم مجھے عزیز از جان کر دو، مجھے خوش کرنے کی بھی کوئی تدبیر کرلو۔ تم مجھے اپنا محبوب بنا لو!اس سے ہو گا یہ کہ پھرتم کوئی بھی بات،عمل یا بیان دینے سے پہلے یہ تو سوچو گے کہ پاکستان پراس کا کیا اثر پڑے گا؟ کہیں پاکستان مجھ سے یا میرے عمل سے ناراض تو نہیں ہو جائے گا۔ میں پاکستان کو خوش، صحتمند اور توانا کیسے رکھ سکتا ہوں؟ اسے بُری نظروں اور ارادوں سے کیسے بچاسکتا ہوں؟ اس کا تحفظ کیسے کر سکتا ہوں؟ْ کیسے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات پہنچا سکتا ہوں؟ اسے کل عالم میں باعث عزت و شان بناسکتا ہوں۔ میں نے کہا تھا ناکہ میں ایک راز ہوں تو آج کہہ ہی دوں! تم اے اہل چمن! تم میرے لئے اپنا دل کھولو، مجھے محبت دے دو میں تم پر دُنیا و آخرت کی عزت و عظمت نہ کھلوا دوں تو گنہگار! معاملہ اتنا الجھا ہو ا نہیں ہے جتنا تم سمجھتے ہو، اپنی ترجیح ، اپنی Priority مجھے کر لو۔ مجھے مالک نے بہت خاص مقصد کے لئے تخلیق کیا ہے۔ تم مجھے طاقت دو، وہی مالکِ ارض و سماء تمیں طاقت وعزت دے گا۔ نہ در در کی بھیک رہے گی اور نہ دیس دیس کے دھکے۔ یہی راز ہے جو کہہ دیا۔ لیکن یا د رکھنا اُصول مستحکم ہیں، محبت سچی ہوگی تو اثر کرے گی، سچ،اُصول ، قاعدے پر استوار بنیاد مضبوط ہوگی، کردار پر نگاہ رکھنی ہوگی، دھوکے سے، استحصال سے جان چھڑانی ہوگی کہ سچی محبت کا راستہ یہی ہے، آلودگی سے پاک۔ اس آلودگی سے دل و دماغ دونوں کو آزاد کر الینا، ذات کی پسند و ناپسند سے اوپر اُٹھ جانا، اپنے فرقے ، اپنے گروہ، اپنی نمود سے اوپر ۔ ایساکام کرنا جس سے پاکستان کی ، تمہارے محبوب کی عزت ہو، سُبکی نہ ہو۔شخصیت ضرور مضبوط کرو، علم ضرور حاصل کرو لیکن تعمیر کے لئے ،تخریب کے لئے نہیں! فراست، سچ، حق، ایثار، نظم ، اتحاد اور یقین مُجھے بہت پسند ہیں تم بھی اپنا لو! جھوٹ ، دغا، خود غرضی، بے قاعدگی اور تذبذب زہرِقاتل ہیں تم ان سے اپنا دامن بچالو! یہ ہی قاعدہ ہے ، یہی کلیہ ہے اب اس کُلیے کو، اس قاعدے کو کہیں فٹ کردو، تمام مسائل اس مشین میں ڈال لو، حل ہو جائیں گے۔ یہی راز ہے جو کہہ دیا۔

یہ تحریر 18مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP