قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان کی اندرونی دفاعی لائن کو بھی مضبوط کیجئے

ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غربت، بے روزگاری، اخلاقیات و آداب کی پامالی، حکمران طبقوں کی بد دیانتی، زندگی کی معقول سہولتیں نہ ہونے کے سبب مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جس سے نفسیاتی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ سیاستدانوں کی آپس کی چپلقش اور ٹاک شوز میں بے ہنگم شور و غل اوربے نتیجہ بحثوں کی وجہ سے عام شہری اور خاص طور پر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت زیادہ افسردہ ہوجاتے ہیں۔ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں اُمید کی خوشبو‘ روشن مستقبل کی نوید اور ملکی کامیابیوں کی بشارت صرف فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات سے آتی ہے۔ ہر پاکستانی فوج کی طرف دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔


بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کے خلاف جو پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں۔ جس طرح کے بیانات دئیے جارہے ہیں یہ خلاف توقع نہیں ہیں کیونکہ نریندر مودی کی پرورش جس مسلمان دشمن اور ہندو عصبیت کے ماحول میں ہوئی ہے۔اس کے نتیجے میں اسی قسم کا متعصب، انسانیت سے متصادم اور امن و سلامتی کا قاتل کردار ہی تیار ہونا چاہئے تھا۔ میں نے نریندر مودی کے خاندان‘بچپن‘ لڑکپن‘ پنڈتوں‘ سنیاسیوں کے ساتھ گزرے لمحات کے بارے میں کتابیں پڑھی ہیں۔ اس بھیانک ماضی سے اسی قسم کی لڑاکااور شدت پسند پروڈکٹ بننے کی اُمید کی جاسکتی تھی۔ تعجب ہوتا اگر ان غاروں‘ جنگلوں‘ کچی بستیوں اور گندگی بھرے محلوں سے کوئی اچھی اقدار والا انسان برآمد ہوتا۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی شعبہ‘ کوئی ادارہ یا کوئی یونیورسٹی بھارت کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی۔ کیا کسی نے قبل از وقت یہ اندازہ کیا تھا کہ ایک ایسا مسلمان دشمن اور انسانیت سے نفرت کرنے والا ’’ہندوتوا‘‘ کا پر چارک بھارت کا سیاہ و سفید کا مالک بننے والا ہے۔ اس سے خطے میں کتنی وحشتیں رونما ہوں گی‘ طاقت کا توازن بگڑے گا اورانسانیت کی اعلیٰ اقدار خطرے میں پڑیں گی۔ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ کہ وہ ایسے امکانات سے عوام کو، اور متعلقہ اداروں کو با خبر بلکہ خبردار بھی کرتے رہیں۔ بھارت میں الیکشن سے بہت پہلے مودی کے بارے میں کافی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ کچھ اپنے طور پر اور کچھ بی جے پی نے خود غیر ملکی اخبار نویسوں اور مصنفوں سے لکھوائی بھی تھیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت بھارت کی طرف سے جو جارحانہ پالیسی اختیار کی جارہی ہے وہ صرف بھارتی وزیر اعظم کی ذاتی نفرتوں تک محدود ہے یا پورا بھارت اسی خود کش موڈ میں ہے۔ یہ بھی کہ اس اشتعال اور دیوانہ پن کے کیا اسباب ہیں۔

 

بھارت کی فوجی پیش قدمی کا جواب تو پاکستان کی فوج پوری طرح دے سکتی ہے۔ بھارت کے پس پردہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کی سیاسی قیادت‘ یونیورسٹیوں‘ علماء‘ تاجر تنظیموں اور صنعتی اداروں کو سرگرم ہونا ہے۔ وہ سیکٹر نامزد کرنے ہوں گے، جہاں پاکستان بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ سر فہرست دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ قدرتی وسائل مثلاً ریکوڈک وغیرہ سے معدنیات کی دریافت اور برآمد‘ جاگیرداری اور سرداری کا خاتمہ اور زیادہ انتظامی یونٹ یعنی نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے

پاکستان کی طرف سے کامیاب ایٹمی تجربات اور بعد میں میزائلوں کے ایک لا متناہی سلسلے نے پاکستان کو باہ سے محفوظ کردیا تھا۔ اس لیے جنوبی ایشیا میں بھی اور عالمی سطح پر یہ باور کیا جارہا تھا کہ بھارت اب سرحدوں پر کسی چھیڑ چھاڑ کا متحمل نہیں ہوگا۔ لیکن بھارت کا ایک بڑا حصّہ پاکستان کو دل سے ایک الگ وحدت تسلیم نہیں کرتا۔ وہاں باقاعدہ یہ فکر پائی جاتی ہے کہ پاکستان بھارت ماتا کے جسم کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ اس لیے وہ ایک طرف اپنی نئی نسلوں کو مسلمانوں کے بارے میں گمراہ کن خیالات سے متاثر کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کو اپنے لئے ایک مستقل خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس کے لئے مسلسل نئی نئی کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ فلمیں بنائی جاتی ہیں اور ٹی وی ڈرامہ سیریل تخلیق کئے جاتے ہیں۔


پاکستان جب باہر سے محفوظ ہوگیا۔ اس کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجا لانے کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ جنہوں نے آج سے 42سال پہلے یہ یقین کرلیا تھا کہ پاکستان بھی ایٹم بم بناسکتا ہے۔ 1998میں اس کے عملی مظاہرے سے یہ حقیقت پوری دنیا پر اجاگر ہوگئی۔ اب ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمارے سیاسی قائدین تو اس کے بعد ایسے مطمئن ہوئے کہ انہوں نے وطن کی فکر ہی ترک کردی۔ اپنے خزانے بھرنے لگے۔ پاکستان کے عوام کو جو مسائل درپیش تھے۔ بجلی کی کمی‘ پانی کی قلّت‘ بیشتر صنعتوں کا فقدان اور روزگار کے معقول مواقع نہ ملنا وہ ان سب سے بے نیاز‘ اپنے کارخانے بیرون ملک لگاتے رہے۔ اپنے کروڑوں پاؤنڈ بیرونی ملکوں میں جمع کرواتے رہے۔


لیکن دوسری طرف بھارت نے پاکستان کو باہر سے محفوظ ہونے پر پاکستان کو اندر سے غیر محفوظ کرنے کی ٹھان لی۔ جس کے لیے پاکستان میں فرقہ ورانہ تقسیم‘ لسانی تفریق اور علاقائی نا انصافی نے بہت ہی سازگار فضا تعمیر کر رکھی تھی۔ مغربی ملکوں نے وہاں کی یونیورسٹیوں اور میڈیا نے بھی پاکستان کے ایک بڑے حلقے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ بھارت کو پاکستان پر بہت سبقت حاصل ہے کیونکہ وہاں حکومت کی تبدیلی ہمیشہ انتخاب سے ہوتی ہے۔ وہاں فوج کبھی خود اقتدار پر قابض نہیں ہوتی۔ پاکستان میں بہت سی ایسی تنظیمیں، این جی اوز، سامنے آگئیں جو پاکستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار فوجی آمریت کو ٹھہراتی تھیں۔ اس طرح بھارت کو بہت آسانی سے ایسا ماحول مل گیا جس میں وہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرسکتا تھا۔ اس کے لیے افغانستان سے بھی بہت مدد مل گئی۔ افغان عوام اور مہاجرین کے لئے پاکستان کی طرف سے بہت کچھ کرنے کے باوجود افغان شہریوں میں پاکستان کے خلاف نفرتیں پیدا کی گئیں۔ اس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا بھی بہت دخل ہے مذہبی شدت پسندی کو سیاسی اسلام کہا گیا۔ لیکن ان غارت گروں کے پیچھے بھی پاکستان دشمنوں کا پراپیگنڈہ اور مالی تعاون شامل ہے۔

 

بھارت کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بلکہ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘ کتنی سادگی معصومیت ہے۔ انڈیا کی فلمیں تو پاکستان کے سنیما گھروں میں پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں لیکن پاکستانی فلموں کو انڈیا کے سنیما گھروں میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینل پاکستان کی فلمیں نہیں دکھاتے۔

جمہوریت اور آمریت کے درمیان مقابلے کا ذہنی تاثر بہت ہی منطقی‘ سیاسی‘ اور اخلاقی طور پر پھیلایا گیا۔ اس میں میڈیا‘ اینکر پرسنزاور کالم نویسوں سب کا دخل ہے۔ اس بحث میں ہم پاکستان کا تاریخی‘ عمرانی اور سماجی پس منظر بھول جاتے ہیں۔ یہاں کی مختلف وحدتوں کی سرشت اور فطرت کونظر انداز کردیتے ہیں۔ سیاسی حکمرانوں کی ناکامی اور نا اہلی کو فراموش کردیتے ہیں جب انتظامی خلا پیدا ہوتا ہے تو کسی نہ کسی طاقت ور ادارے کے لئے اس خلا کو پُر کرنا عین فطری ہوتا ہے۔ یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ 1947سے اب تک یکے بعد دیگرے بر سر اقتدار آنے والی قومی سیاسی جماعتوں نے مستحکم سیاسی جمہوری معاشرہ تعمیر نہیں کیا۔ خود ان جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ بد ترین قسم کی آمریت ہے۔ تو یہ جماعتیں ملک میں مستحکم جمہوری ماحول کیسے تخلیق کرسکتی ہیں۔ اس طرز استدلال سے میں یہ بتانے کی کوشش کررہا ہوں کہ جمہوریت اور آمریت میں یا سیاسی پارٹیوں اور فوج میں مقابلے کی تکرار نے ہمارے ہاں بھارت کو ایک جمہوری آئیڈیل کے طور پر منوایا۔ وہاں کے میڈیا کو ہم مثالی آزاد میڈیا قرار دینے لگے۔ وہاں کی عدلیہ کو مثالی انصاف گاہیں سمجھنے لگے۔ وہاں کے تعلیمی اداروں کو رول ماڈل خیال کرنے لگے۔ وہاں کی فلمی صنعت کو دُنیا کی کامیاب ترین فلم انڈسٹری ماننے لگے۔


اتنا دھواں پھیلادیا گیا‘ اتنی دُھند بکھیر دی گئی کہ ہم دُنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں غربت کی دلدل میں پھنسے کروڑوں انسانوں کو بھول گئے۔ کشمیر میں اس جمہوریت کے لگائے گئے زخموں‘ بسائے گئے قبرستانوں اور گرائی گئی لاشوں کو جمہوریت اور آمریت کی بحث میں پس پشت ڈالتے گئے۔
میں معافی چاہتا ہوں کہ یہ زخم ہرے کررہا ہوں لیکن یہ حقیقت ہے۔ انہی مباحث میں ہم نے پاکستان کو اندر سے کمزور کیاہے۔ آج کے حقائق یہ ہیں کہ پاکستان پر ہزاروں ارب کے قرضے ہیں۔ ہم ابھی ان قرضوں پر لگے سود کی قسطیں ادا کررہے ہیں۔ اصل زر ہماری آنے والی نسلیں واپس کریں گی۔ غربت کا عالم یہ ہے کہ کئی کروڑ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ کرپشن میں ہم سر فہرست ملکوں میں ہیں۔ بجلی کی قلّت کے باعث صنعتیں دوسرے ملکوں کو منتقل ہورہی ہیں۔ بڑے ڈیم بنانا ہماری ضرورت تھی اسے سیاسی مسئلہ بناکر ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ حالانکہ اربوں روپے اس کی امکانی رپورٹوں پرخرچ کئے گئے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ زوروں پر ہے۔ یہ کون لوگ تھے جو اس شدت پسندی کا شکار ہوئے۔ ہم نے اندازہ نہیں کیا ۔ شروع میں ان کی سرپرستی کی وہ اب ہماری سا لمیت کے در پے ہوگئے۔


شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن ابھی حتمی نتائج کا انتظار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی حکومتوں کو ان علاقوں میں کام کرنا چاہئے تھا۔ جہاں خود کش بمباروں کی فصلیں کاشت کی جارہی ہیں وہاں دل اور دماغ جیتنے چاہئیں تھے لیکن اس حوالے سے بہت کم کام ہورہا ہے۔
بھارت کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بلکہ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘ کتنی سادگی معصومیت ہے۔ انڈیا کی فلمیں تو پاکستان کے سنیما گھروں میں پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں لیکن پاکستانی فلموں کو انڈیا کے سنیما گھروں میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینل پاکستان کی فلمیں نہیں دکھاتے۔ اسی طرح بھارت کے فلمی اداکاراؤں کو تو ہمارے ٹی وی چینلوں پر اشتہارات میں مختلف مصنوعات فروخت کرتے دکھایا جارہا ہے، ہمارے شہروں میں بھی ان کے ہورڈنگز لگے ہوئے ہیں۔ بھارتی اداکار‘ اداکارائیں پاکستان میں مقبول کروائی جارہی ہیں لیکن بھارت کے کسی ٹی وی چینل یا کسی شہر کی دیواروں پر پاکستان کے اداکار و اداکارائیں نظر نہیں آتے ہیں ٹھیک ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن اس طرح فن یک طرفہ بھی نہیں ہوتا۔ کیا پاکستان کی سر زمین، شعر و ادب، افسانہ نویسی اور کردار نگاری کے حوالے سے بانجھ ہوگئی ہے؟کیا ہمارے ہاں حسین ماڈل لڑکے لڑکیاں نہیں ہیں؟


اس طویل تمہید کے ذریعے میں نے اپنا درد اس لیے بکھیرا ہے کہ بھارت کو ہر پہلو سے سمجھنا ضروری ہے۔ یقیناًوہاں بھی انسان بستے ہیں۔ انہیں نیست و نابود کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اللہ کاشکر ہے کہ ہم باہر سے محفوظ ہیں۔ سمجھنا یہ ہے کہ بھارت اب چھیڑ چھاڑ کررہا ہے تو اس کے سیاسی مقاصد کیا ہیں۔ کیا وہ کشمیر میں مزاحمت سے دُنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے؟ کیا وہ بڑھتی ہوئی غربت سے دنیا کی توجہ کسی اور طرف مرکوز کرنا چاہتا ہے؟ بھارت اگر فوجی جارحیت کرے گا تو کیا ہماری فوج اس کے لئے پوری طرح تیار ہے؟ ہمارے پاس جذبے کی کمی ہے نہ اسلحے کی۔ پھر ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں۔ آج کل کے دَور میں دُنیا کسی بھی بین الاقوامی سرحد پر کسی فوجی جھڑپ کے حق میں نہیں ہے۔ یہ بھارت بھی بخوبی جانتا ہے ۔ اس لئے پاکستان پر بھارت کا بڑے پیمانے پر فوجی حملہ اس کا مقصد ہو ہی نہیں سکتا۔


بھارت کا اصل ہدف پاکستان کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی تیز رفتار تعمیر سے روکنا ہے کیونکہ اس کی تعمیر اور اس پر تجارتی آمدورفت سے پاکستان اندر سے بھی محفوظ ہوجائے گا۔بھارت کا مقصد پاکستانی قوم کو مزید تقسیم کرنا ہے۔ ثقافتی یلغار کو جاری رکھنا ہے، پاکستان کے عوام کو یہ احساس دلانا ہے کہ باہر سے محفوظ ہونے کے باوجود آپ اندر سے غیر محفوظ ہیں۔


بھارت کی فوجی پیش قدمی کا جواب تو پاکستان کی فوج پوری طرح دے سکتی ہے۔ بھارت کے پس پردہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کی سیاسی قیادت‘ یونیورسٹیوں‘ علماء‘ تاجر تنظیموں اور صنعتی اداروں کو سرگرم ہونا ہے۔ وہ سیکٹر نامزد کرنے ہوں گے، جہاں پاکستان بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ سر فہرست دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ قدرتی وسائل مثلاً ریکوڈک وغیرہ سے معدنیات کی دریافت اور برآمد‘ جاگیرداری اور سرداری کا خاتمہ اور زیادہ انتظامی یونٹ یعنی نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے۔
باہر سے محفوظ اور مستحکم پاکستان اسی وقت تک دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہ سکتا ہے جب تک اس کی دوسری دفاعی لائن مستحکم ہے۔ دوسری دفاعی لائن کا استحکام سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔ اس طرف جتنی توجہ ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔ زیادہ تر وہ میگا پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں جن میں بہت زیادہ فنڈز لگتے ہیں، اس سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔ ہمارے شہریوں کی اکثریت مایوس اور غیر مطمئن ہے اور نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں یعنی بلدیاتی اداروں کو اختیارات کے ساتھ اقتدار دیا جائے۔ ان کی بہترین کارکردگی شہریوں کو مطمئن کرے گی اور مایوسیوں کو بڑی حد تک ختم کرے گی۔ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں زندگی کو آسان بنایا جائے‘ مفت اور لازمی تعلیم‘ مفت علاج اور اچھی محفوظ سرکاری ٹرانسپورٹ بلدیاتی ادارے فراہم کریں۔


ہماری یونیورسٹیوں کو اپنے اپنے علاقوں کے خام مال‘ فصلوں‘ روایات اور میراث پر تحقیق کرنی چاہئے۔ روزگار کے وسائل پیدا کرنے کی سفارشات دینی چاہئیں۔ تاکہ مختلف علاقوں سے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ کم ہو۔ کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد پر دباؤ نہ بڑھے۔
مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کے لئے سیکورٹی اور طاقت کا استعمال دائمی نہیں ہوسکتا۔ اصل ہدف یہ ہے کہ دل اور دماغ جیت کر شدت پسندی کی طرف جانے کے رُجحانات روکے جائیں۔ سیاسی جماعتوں اور علماء کو مل کر اس ہدف کو حاصل کرنا چاہئے۔


زیادہ صوبے بناکر بہتر انتظامی وحدتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ نا انصافی کے مواقع کم کئے جاسکتے ہیں۔
یہ تاثر دل سے نکال دینا چاہئے کہ ہم انڈیا کے مقابلے میں رقبے میں‘ آبادی میں اور فوجی طاقت میں بہت چھوٹے ہیں۔ دُنیا میں بہت چھوٹی چھوٹی قومیں بڑے ہمسایوں کے برابر زندہ ہیں اور ترقی کررہی ہیں۔ اصل طاقت اکیسویں صدی میں علم ہے‘ ٹیکنالوجی ہے، رقبہ، آبادی اور بڑی فوج نہیں ہے۔ پاکستان جس علاقے میں واقع ہے اس کی اپنی صدیوں پر محیط تاریخ ہے۔ وہ زیادہ دیر بھارت کا حصہ نہیں رہا ہے۔اس حصّے کی اپنی الگ اور خود مختار معیشت رہی ہے۔ ہم اپنے ادب‘ تاریخ‘ ثقافت اور تمدّن کا جائزہ لیں تو ہم مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے زیادہ قریب رہے ہیں۔


ہمارا محل وقوع بھارت سے کہیں بہتر اور حساس ہے۔ پاکستان میں نوجوان آبادی کا تناسب بھارت سمیت کئی ملکوں سے بہتر ہے ۔اپنے اپ کو پہچانیے۔ ترجیحات کے تعین اور اس پر برق رفتاری سے عمل کی ضرورت ہے۔پاکستان، ہماری عظیم سرزمین، صدیوں سے ایک الگ جغرافیائی وحدت ہے جسے انڈس ویلی کہا جاتا ہے۔ 5ہزار برس کی قدیم تہذیبیں ہڑپّہ، ٹیکسلا، موہنجو دڑو، اسی خطّے میں ہیں۔ 8ہزار سال پرانی تہذیب مہرگڑھ بھی اسی علاقے میں ہے۔ ہماری اپنی صدیوں پرانی شناخت ہے۔ آخری دینِ متین، اسلام، سے ہمکنار ہونے کے بعد ہماری یہ تہذیب اور زیادہ مستحکم اور مالا مال ہوگئی ہے۔ اس میں عرب ادب و ثقافت کے رنگ بھی شامل ہوگئے۔ اس لئے ہمیں اپنی تہذیب پر اپنے آپ پر مکمل اعتماد اور فخر ہونا چاہئے۔


مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

[email protected]


لفظ امید ہوتے ہیں


آؤ ایک بات سمجھ لیں
کہ لفظ صرف لکھنے کے نہیں ہوتے
آرائش نہیں ہوتے‘ زیبائش نہیں ہوتے
عمل کی برکتوں سے خالی
فن کی آلائش نہیں ہوتے
لفظ تو مقدس سپوت ہوتے ہیں
زمین پر زندہ وجود ہوتے ہیں
فکر و فقر کے مارے‘ حب الوطنی کے شہ پارے
آسمانوں پر نہیں‘ ہم میں موجود ہوتے ہیں
لفظ امید ہوتے ہیں
وطن کی فصیل ہوتے ہیں
لفظ کی حرمت کی قسم
آؤ کے تن بیچ دیں۔ من بیچ دیں
ایستادہ صلیبوں پر جسم بیچ دیں۔ جاں بیچ دیں
کہ میرے وطن پر کڑا وقت آن پڑا ہے
آؤ کہ سب غرض کی آلائشوں کے انبار
کہیں دور جا کے دفن کر آئیں
اپنی خلوتوں کی آسائشوں اور جسم کی آسانیوں کو
وطن کی خاک وخوں کر آئیں۔ وطن کے نام کر آئیں
آؤ قربان ہو جائیں
کہ میرے وطن پر کڑا وقت آن پڑا ہے

طاہر محمود

***

یہ تحریر 135مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP