قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان کا داخلی استحکام

کسی بھی ریاست کی بنیادی کنجی یا کامیابی کا نقطہ اس کے داخلی استحکام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے ۔ کیونکہ داخلی استحکام ہی عملی طور پر اسے علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود مسائل سے نمٹنے کی حقیقی طاقت فراہم کرتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسیات میں ایک عمومی تھیوری یہ دی جاتی ہے کہ جو بھی ریاست اپنے داخلی مسائل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے وہی اپنے خارجی مسائل سے نمٹ کر بہتری کا محفوظ راستہ تلاش کرنے کی بھی صلاحیت قائم کرسکتی ہے ۔ہمارے فیصلہ ساز افراد یا ادارے اگرچہ داخلی استحکام کی بات تو بڑی شدت سے کرتے ہیں مگر عملی طور پر ان کا طرز عمل یا اقدامات کی نوعیت داخلی مسائل سے نمٹنے میں عدم دلچسپی کی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی پنڈتوں سمیت سب ہی اس نقطہ پر متفق نظر آتے ہیں کہ ہمارا بڑا مسئلہ داخلی مسائل سے جڑے عدم استحکام سے ہے ۔


سیاسی نظام بنیادی طور پر وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر اصلاحات او رتبدیلیوں کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے ۔عملی طور پر سیاسی نظام بڑی طاقت ور اصلاحات چاہتا ہے جو سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں سمیت مجموعی طور پر سیاسی ، جمہوری او رپارلیمانی نظام کو مضبوط بنائے اور لوگوں کے اس نظام پر اعتماد کو بحال کرنے میں کچھ بڑے فیصلے کرسکے۔ادار ہ جاتی سطح پر پولیس، عدلیہ ، بیوروکریسی ، ایف بی آر او رانتظامی اصلاحات کو اپنی قومی ترجیح کا ایجنڈا بنانا ہوگا اور آج ہم ادارہ جاتی سطح پرجو مسائل دیکھ رہے ہیں وہ ہم سے غیر معمولی اقدامات کے متقاضی ہیں۔


داخلی مسائل سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اس کے لیے عملی طور پر ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ ، وژن، سوچ ، فکر ، تدبر ، فہم و فراست ، مضبوط عملی قیادت سمیت ایک واضح اور شفاف روڈ میپ درکار ہے ۔ داخلی مسائل سے نمٹنے کے لیے جو روڈ میپ درکار ہے اس کا براہ راست تعلق قومی سطح پر موجود مسائل کے درست ادراک سے بھی ہے ۔ یعنی ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے داخلی مسائل کیا ہیں او ران مسائل کی وجوہات کیا ہیں اوران کے معاشرتی اثرات سمیت ان سے نمٹنے کا حل کیا ہونا چاہیے ۔ مسائل کی نشاندہی اور اس سے نمٹنے کا مشترکہ حل اگر تمام اہم فریقین کی مدد سے اتفاق رائے پر مبنی ہو تو معاملات سے نمٹنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے ۔ہمیں اپنے داخلی مسائل سے نمٹنے کے لیے پرانے یا فرسودہ خیالات یا روائتی حکمت عملی یا سوچ کے بجائے ایک نیا تدبر اور حکمت عملی درکار ہے ۔ جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں داخلی سطح پر بے شمار چیلنجز ہیں تو ان غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے بھی ہمیں غیر معمولی اقدامات درکار ہیں ۔ ان اقدامات کے لیے ہمیں روائتی انداز سے حکمت عملی کو ترتیب دینے کے بجائے Out of Box جاکر کچھ بڑے ، کڑوے اور سخت فیصلے کرنا ہونگے جو بطور ریاست ہمیں ایک مضبوط، مربوط او رشفاف نظام کی جانب لے کر جاسکیں ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں داخلی سطح پر کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اول بنیادی مسئلہ گورننس یا طرز حکمرانی کے بحران کا ہے او راسی وجہ سے لوگوں کو جہاں بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہیں عام آدمی اور ریاست سمیت حکمرانی کے رشتہ میں دوریاں او رخلیج پیدا ہوتی ہیں ۔یہ ہی عمل ملک میں غیر یقینی صورتحال ، مایوسی اور ریاست پر عام آدمی کے اعتماد سمیت ریاستی ساکھ کو کمزور کرتا ہے ۔ دوئم معاشی بدحالی ، لوگوں کو کم روزگار کے مواقع، معاشی تفریق یا ناہمواریوں سمیت معاشی ترقی کے امکانات کی کمی ،بالخصوص کمزور طبقات میں موجود معاشی پریشانی جیسے مسائل کی موجودگی ، سوئم قومی داخلی سکیورٹی کا نظام جہاں ریاست سمیت مخصوص طبقات کے بجائے تمام شہریوں کی سکیورٹی کو تحفظ دینا ، چہارم عدالتی انصاف پر مبنی نظام میں موجودخرابیاں اور لوگوں کا انصاف یا عدالت کے نظام پر عدم اعتماد، پنجم ادارہ جاتی نظام یا بیوروکریسی کی سطح پر روائتی انداز حکمرانی ،ششم سیاسی ، سماجی ، معاشی اور قانونی اصلاحات کے ایجنڈے سے انحراف پر مبنی پالیسی ،ہفتم معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی یا ریاست کے مقابلے میں متبادل ریاست قائم کرنا یا سیاسی و مذہبی ، لسانی بنیادوں پر طاقت او راسلحے کی بنیاد پر جتھے بنانا ،ہشتم سیاسی عدم استحکام جہاں حکمرانی کے نظام کو عملاً مضبوط کرنے کے بجائے سیاسی جماعتوں او ر قیادت کی جانب سے محض ذاتیات و اقتدار پر مبنی سیاست جیسے مسائلشامل ہیں ۔
سیاسی نظام بنیادی طور پر وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر اصلاحات او رتبدیلیوں کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے ۔عملی طور پر سیاسی نظام بڑی طاقت ور اصلاحات چاہتا ہے جو سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں سمیت مجموعی طور پر سیاسی ، جمہوری او رپارلیمانی نظام کو مضبوط بنائے اور لوگوں کے اس نظام پر اعتماد کو بحال کرنے میں کچھ بڑے فیصلے کرسکے۔ادار ہ جاتی سطح پر پولیس، عدلیہ ، بیوروکریسی ، ایف بی آر او رانتظامی اصلاحات کو اپنی قومی ترجیح کا ایجنڈا بنانا ہوگا اور آج ہم ادارہ جاتی سطح پرجو مسائل دیکھ رہے ہیں وہ ہم سے غیر معمولی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اداروں کی مکمل خودمختاری ، شفافیت اور سیاسی مداخلت کے خاتمے سمیت میرٹ پر عملدرآمد کرکے ہی ہم ریاست کے بحران کو کم کرسکتے ہیں، بالخصوص اگر ہم نے عدالتی او ربیوروکریسی کی سطح پر سخت گیر اور ضروری اصلاحات نہ کیں تو حکمرانی کے نظام کے بہتر ایجنڈے کی موجودگی کے باوجود ہم کچھ بڑے نتائج حاصل نہیں کرسکیں گے ۔
حال ہی میں حکومتی سطح سے ریاستی اداروں کی مدد سے ایک قومی سکیورٹی پالیسی جاری کی گئی ہے جو واقعی ایک اہم ریاستی دستاویز ہے ۔ اس اہم دستاویز میں پہلی بار سکیورٹی کو محض بارڈر سکیورٹی تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ اس میں انسانی ترقی اور اس میں سرمایہ کاری کو بنیاد بنا کر مجموعی طور پر ریاستی نظام او رلوگوں کے مفادات کو تحفظ دیا گیا ہے ۔ اس لیے اس قومی سکیورٹی پالیسی کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنے داخلی معاملات کا درست سطح پر تجزیہ کرنا ہوگا او راسی کو بنیاد بنا کر اپنا قومی ایجنڈا بھی ترتیب دینا ہوگا جو داخلی اور خارجی سکیورٹی سے جڑے معاملات کو بہتر طور پر نمٹنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرسکے ۔یہ جو قومی سطح پر ہمیں مختلف سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، فرقہ وارانہ او رلسانی بنیادوں پر تقسیم نظر آتی ہے او رایک مخصوص سطح پر مبنی ایجنڈا کو بنیاد بنا کر اسے داخلی او رخارجی فریقین خراب کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف ہمیں ایک متبادل بیانیہ کو طاقت دینا ہوگی ۔ یہ جو مختلف حوالوں سے سیاسی او رمیڈیا سمیت رائے عامہ کی سطح پر تقسیم کا جو کھیل ہے وہ عملی طور پر ریاست کے مفاد کے خلاف ہے ۔ اس میں کچھ افراد یا ادارے جان بوجھ کر ریاستی نظام کو کمزور کرنے کے کھیل کا حصہ ہیں اور اس کا براہ راست فائدہ وہ قوتیں اٹھارہی ہیں جو ہمیں ہر محاذ پر کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتی ہیں ۔ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اگر ہم نے لوگوں یا انفرادی سطح پرموجود لوگوں کے بجائے قانون او راداروں کی سطح پر حکمرانی کے نظام کو مؤثر او رمضبوط نہ بنایا تو داخلی چیلنجز سے نمٹنا او رزیادہ مشکل عمل ہوجائے گاکیونکہ خاص طو رپر نوجوانوں کو خا ص ٹارگٹ کرکے ان میں تقسیم کی شدت کو ابھارا جارہا ہے جو عملی طور پر انتہا پسندی یا شدت پسندی کو طاقت دیتا ہے ۔
معاشی صورتحال کا براہ راست تعلق اگرچہ عالمی حالات او رمنڈی سے بھی جڑا ہوا ہے لیکن جو کچھ ہم داخلی محاذ پر معاشی صورتحال کی بہتری میں کرسکتے ہیں وہ ہمیں ضرور کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے بیشترمسائل جن پر لوگوں کے تحفظات ہیں جن میں مہنگائی جیسے امور بھی شامل ہیں، ان کا براہ راست تعلق ہماری کمزور انتظامی مشینری کا بھی ہے۔ انتظامی سطح پر نگرانی ، شفافیت اور جوابدہی کا نظام یا لوگوں کو معاشی ریلیف دینا جیسے امور پر نئے اقدامات درکار ہیں ۔ہمارے پاس معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملی طور شارٹ ٹرم ، مڈٹرم اور لانگ ٹرم پالیسی یا بڑا معاشی روڈ میپ درکار ہے جو تسلسل کے ساتھ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاسکے ۔نئے روزگارکے مواقع پیدا کرکے ، معاشی انصاف سمیت داخلی و خارجی سرمایہ کاری کے ماحول کو تقویت دے کر ہی ہم معاشی مواقعوں کو پیدا کرسکتے ہیں ۔
سیاسی سطح پر ہمیں ایک مضبوط سیاسی نظام کی ضرورت ہے ۔ ایسا نظام جو سیاسی بھی ہو اور جمہوری بھی، جہاں عوامی مفادات کو سب سے بڑی طاقت حاصل ہو او ریہ نظام جوابدہی پر مبنی ہو۔ ہمیں سیاسی رواداری کی ضرورت ہے جہاں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر سیاسی دشمنی یا سیاسی محاذآرائی کو ہمارا ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے ۔سیاست کو عوامی مفادات سے جوڑنا اور لوگوں کی تقسیم کو ختم کرکے اسے سیاسی سطح پر ملکی ترقی ، سلامتی او رخودمختاری کے لیے جوڑنا ہی ہمارا سیاسی ایجنڈا ہونا چاہیے ۔
اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام جو ہمارے داخلی مسائل سے جڑا ہوا ہے اس سے نمٹنے کے لیے ہم سب فریقین میں کیسے اتفاق رائے پیدا ہوگا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی بنیادوں پر بہت زیادہ تقسیم ہو وہاں ایک ایجنڈے پر متفق ہونا ایک بڑا چیلنج بھی ہے ۔ اس وقت قومی سطح پر ہمیں تمام فریقین کی سطح پر ایک بڑے''مکالمہ اور مفاہمت '' کی ضرورت ہے ۔ ایک ایسا مکالمہ او رمفاہمت جو ریاستی نظام کو جدید بنیادوں پر مضبوط کرسکے ۔
 ملک کی ترقی ، سلامتی اور خودمختاری پوری قوم کا مسئلہ ہے اور ہمیں یہ سبق اجتماعی طور پر سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے اپنی ماضی او رحال کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر یا دنیا کے تجربات سے سیکھ کر اپنے قومی ایجنڈے کو ایک نئی جہت دیں۔ اس کے لیے ہمیں داخلی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ ایجنڈا درکار ہے اور یہ ہی ہماری قومی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے جہاں سب  فریقین اپنے اپنے سیاسی اور قانونی یا آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے پاکستان کے مفاد کی جنگ لڑیں او ریہ ہی جنگ ہم سب کی اپنی جنگ ہونی چاہیے ۔ ||


مضمون نگار معروف تجزیہ نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں ۔ ایک معروف روزنامہ میں کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 80مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP