قومی و بین الاقوامی ایشوز

پاکستان کا حُریّت پسند کالم نگار

’’یار ان دنوں کالم نگاروں کا کیا ہوگا؟‘‘
’’کیا ہوا ہے ؟اتنے اچھے کالم تو لکھ رہے ہیں!‘‘
’’میں کب کہتا ہوں کہ اچھے کالم نہیں لکھے جارہے ہیں؟‘‘
’’تو پھر کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘
’’یہی کہ ہر کوئی خود کو حریت پسند ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے!‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘
’’ان دنوں جو کالم بھی پڑھتا ہوں وہ شروع یہیں سے ہوتا کہ گزشتہ آمریتوں کے دوران آمر حضرات اگر کسی کالم نگار سے تنگ تھے تو وہ میں تھا۔‘‘
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے‘ ان میں سے مرحوم ضیاء الحق کے تعلقات کالم نگاروں سے تو انتہائی خوشگوار تھے اور وہ دو چار مہینے میں ایک آدھ بار کالم نگاروں کو کھانے پر مدعو کرتے تھے‘ ان سے بے تکلفانہ گپ شپ کرتے تھے‘ انہیں غیر ملکی دوروں میں اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ انہیں مراعات دیتے تھے۔‘‘
’’یہ سب درست ہے مگر ان کالم نگاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مرحوم کے خلاف صفحے کے صفحے سیاہ کردیئے۔‘‘
’’لکھے ہوئے لفظ سے انکار ممکن نہیں ہوتا‘ جو لوگ ان کے خلاف لکھتے رہے ہیں یقیناً وہ سب کچھ ریکارڈ پر ہوگا!‘‘
’’یقیناً وہ ریکارڈ پر ہے میں نے کئی کالم نگاروں کو دیکھا ہے کہ ان دنوں اپنی سابقہ تحریروں کے حوالے بار بار دیتے ہیں!‘‘
’’کیا ان تحریروں سے ماضی میں انہیں کسی قسم کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے؟‘‘
’’نہیں!‘‘
’’ان کی مراعات پر کوئی زد پڑی؟‘‘
’’نہیں!‘‘
’’ان کی مراعات میں اضافہ ہوا؟‘‘
’’ہاں‘ یہ بات میں ذاتی طور پر جانتا ہوں‘‘
’’تو پھراس کے نتیجے میں دو میں سے ایک بات ضرور سچ ثابت ہوتی ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘
’’یا تو اِن کالم نگاروں کے سچ میں کھوٹ تھا اوریا پھر ضیاء الحق آمر نہیں تھے!‘‘
’’ہاں یار‘ یہ تو تم ٹھیک کہتے ہو‘ لیکن ایک بات تو بتاؤ‘‘
’’کیا؟‘‘
’’ان دنوں بہت سے کالموں میں بین السطور درخواستیں کیوں چھپی ہوتی ہیں؟‘‘
’’کیسی درخواستیں؟‘‘
’’ملاقات کی‘ نوکری کی‘ مفادات کی۔‘‘
’’یہ کالم نگاروں کی مجبوری ہے‘ ورنہ اِس قسم کی درخواستیں کالموں میں نہیں‘ ملاقات کے موقع پر پیش کی جاتی ہیں۔‘‘
’’تو تمہارے دوست ملاقات میں اپنے مسائل کیوں پیش نہیں کرتے؟‘‘
’’ملاقات ہو نہیں رہی!‘‘
’’وہ کیوں ؟‘‘
’’وزیرِاعظم کے پاس اس قسم کے لوگوں کے لئے وقت نہیں ہے۔‘‘
’’جنرل پرویز مشرف تو ایسے افراد کے لئے وقت نکال لیتے تھے۔‘‘
’’ان کے لئے یہ آسان کام تھا کیونکہ ان کا حلقہ نیابت‘‘ انگریزی کالم نگار تھے‘ جو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں!‘‘
’’ان کی درجہ بدرجہ اہمیت اور قیمت سے بھی واقف تھے جبکہ وزیرِاعظم تو اردو میڈیم ہیں اور اس کے ساتھ ان کا تعارف غیر ملکی اخبار نویسوں سے بھی ہے۔‘‘
’’تمہاری باتوں سے خاص مایوسی ٹپک رہی ہے‘ لگتا ہے تم اپنے طبقے کی دیانت کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے۔‘‘
’’خیرایسی بھی کوئی بات نہیں‘ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں!‘‘
’’مثلاً کون سی انگلی ایسی ہے جو برابر نہیں ہے؟‘‘
’’کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہ بات خود بتانا پڑتی ہے!‘‘
’’کیا مطلب ہے؟‘‘
’’مطلب یہی کہ سارے صحافی چور ہیں‘ صرف میں ہوں جو حق کا پرچم اٹھائے ہوئے ہوں۔ مگر یہ تم دانت کیوں نکال رہے ہو؟‘‘
’’معافی چاہتا ہوں ویسے تم کیا کہہ رہے تھے؟‘‘
’’کہنا مجھے کیا ہے تم جانتے ہی ہو کہ میں نے ہر دور میں کلمہ حق کہا ہے۔ حکمرانوں کی خوشنودی یا ناراضی کی کبھی پروا نہیں کی۔ چنانچہ کبھی ان کی گڈبکس میں نہیں رہا۔ تم میرا پورا ریکارڈ دیکھ سکتے ہو‘ میں نے کسی حکومت سے پلاٹ نہیں لیا‘ کسی حکمران کے ساتھ غیر ملکی دورے پر نہیں گیا۔ کبھی ملازمت کے حصول کی کوشش نہیں کی‘ محکمہ اطلاعات اور دوسرے محکموں کے خفیہ فنڈز میں سے کبھی ایک پیسہ تک وصول نہیں کیا مگر یہ تم ہنس کیوں رہے ہو؟‘‘
’’تمہیں ایسے ہی وہم ہوگیا ہے‘ میں ہنس نہیں رہا بلکہ میں تو پوری سنجیدگی سے ایک بات سوچ رہا ہوں‘‘
’’وہ کیا؟‘‘
’’یہی کہ ہر انسان کی کچھ ضرورتیں ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صاحبِ کردار لوگ ان ضرورتوں کو پسِ پشت ڈال کر ملک و قوم کی خدمت میں مگن رہتے ہیں‘ لیکن آخر ملک و قوم کی بھی تو کچھ ذمہ داریاں ہیں؟‘‘
’’ہاں یہ تو ہے مگر تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں‘وزیرِاعظم صاحب سے گزشتہ ہفتے ملاقات ہوئی تھی۔ انہیں علم ہے کہ تم میرے دوست ہو چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ۔۔۔ تمہارے کالم پسند ہیں لیکن انہیں گلہ ہے کہ جب سے وہ برسرِاقتدار آئے ہیں تم اُن پر تنقید کرنے لگے ہو۔‘‘
’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں‘ تم نے انہیں بتایا نہیں کہ میں ان کی ذہانتوں کا بے حد قائل ہوں اور میرے خیال میں ملک و قوم کو اس وقت جتنے بھی بحرانوں کا سامنا ہے‘ میرے نزدیک صرف وزیرِاعظم ہی قوم کو ان میں سے نکال سکتے ہیں۔‘‘
’’میں نے یہ سب کچھ تو نہیں کہا اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ پھر پتہ چلا کہ وزیرِ اعظم صاحب کو تم ایسے لوگوں کی ضرورت ہے۔‘‘
’’سچ؟ مگر تم یہ ہنس کیوں رہے ہوں؟‘‘
’’یار میں کب ہنس رہا ہوں‘ تم یہ بتاؤ کہ تم ان کی حکومت کے لئے کیا کرسکتے ہو؟‘‘
’’یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے‘میرا کالم ان کی امانت ہے‘ وہ اپنی کسی ایجنسی کو ہدایت کردیں کہ مجھے بریف کردیا کرے۔ مگر یار تم ہنس کیوں رہے ہو؟‘‘
’’اس دفعہ تو میں صرف اپنی بے خبری پر ہنساہوں؟‘‘
’’کیسی بے خبری؟‘‘
’’میں اتنے عرصے سے تمہارا دوست ہوں‘ میں سمجھتا تھا کہ تم نے جو چیزیں آج تک حاصل نہیں کیں تم نے ان کے لئے انکار کیا۔ اب پتہ چلا کہ تمہیں کبھی ایسی پیش کش ہی نہیں ہوئی تھی چنانچہ میں صرف اپنی بے خبری پر ہنس رہاہوں۔ ویسے میرا دوستانہ مشورہ ہے کہ لائن بدلنے کے باوجود کچھ ایسے کالم بھی لکھنا جو آئندہ کی حکومت میں بطور سند کام آئیں‘ حکومتیں عوام کو بے وقوف بناتی ہیں اور حکومتوں کو صرف آج کے حریت پسند اخبار نویس بے وقوف بنا سکتے ہیں اچھا اب میں چلتا ہوں۔ خدا حافظ‘‘

یہ تحریر 51مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP